شمالی کوریا نے کہا ہے کہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ تمام مواصلاتی رابطے ختم کرنے جا رہا ہے، جس میں دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان ہاٹ لائن بھی شامل ہے۔

جنوبی کوریا کو ’دشمن‘ قرار دیتے ہوئے شمالی کوریا نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ اس کی جانب سے پہلی کارروائی ہے۔

منگل کے روز شمالی کوریا کے سرحدی شہر کیوسانگ میں قائم رابطے کا دفتر بھی بند رہے گا۔ سنہ 2018 میں بات چیت کے بعد دونوں ممالک نے تناؤ کو کم کرنے کے لیے یہ دفتر قائم کیا۔

سنہ 1953 میں کوریائی جنگ کے خاتمے کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین کوئی امن معاہدہ نہیں ہوا لہذا تکنیکی طور پر دونوں ملک ابھی تک حالت جنگ میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’شمالی کوریا کے خلاف طاقت کا استعمال ہو سکتا ہے‘

جنوبی کوریا کے وفد کی شمالی کوریا میں ضیافت

شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کی جگہ کون لے سکتا ہے؟

شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان رابطے کی لائن

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کا کہنا ہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان قائم کی جانے والی رابطہ لائن کو شمالی کوریا منقطع اور بند کر رہا ہے۔

اسے شمالی و جنوبی کوریا کے مشترکہ رابطہ دفتر کے ذریعے برقرار رکھا جا رہا تھا۔ اب اسے نو جون سنہ 2020 کو دوپہر 12 بجے سے بند کر دیا جائے گا۔

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ فوجی مواصلات کے چینلز بھی اب بند کر دیے جائیں گے۔

کووڈ 19 کی وبا کی وجہ سے عائد پابندیوں کی وجہ سے رابطہ دفتر جنوری میں عارضی طور پر بند کردیا گیا تھا تاہم فون کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین رابطے جاری تھے۔

دونوں ممالک کے درمیان قائم دفاتر سے صبح نو بجے اور شام پانچ بجے فون کالز کی جاتی تھیں۔

پیر کے روز جنوبی کوریا نے کہا کہ 21 ماہ میں پہلی بار صبح کی کال کا جواب نہیں دیا گیا تاہم پھر سہ پہر کے وقت رابطہ کیا گیا۔

کم جونگ ان کی بہن نے دھمکی دی تھی

کے سی این اے نے کہا ہے کہ ’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جنوبی کوریائی انتظامیہ کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھنے اور کسی بھی مسئلے پر بات کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ انھوں نے ہمیں صرف مایوس کیا ہے۔'

شمالی کوریا کے رہنما کی بہن کم یو جونگ نے گذشتہ ہفتے دھمکی دی تھی کہ جب تک جنوبی کوریا مفرور گروپوں کے پمفلٹ شمالی کوریا میں بھیجنا نہیں روکتا، تب تک وہ رابطہ دفتر بند رکھیں گے۔

انھوں نے کہا تھا پمفلٹ کی مہم ایک اشتعال انگیز فعل ہے جو سنہ 2018 میں جنوبی کوریا کے مون جے ان اور کم جونگ ان کے مابین امن معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

سیول میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا بیکر کا تجزیہ

ایسا لگتا ہے کہ اس طرح کے تمام رابطوں کو بند کرنا صرف سرحد سے پمفلٹ کے آنے کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ یہ شمالی کوریا کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔

شمالی کوریا شاید مستقبل کے مذاکرات سے پہلے ایک بحران پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اس سے پیدا ہونے والے تناؤ کا فائدہ اٹھا سکے۔ مختصر الفاظ میں کہیں تو یہ توجہ کو مبذول کروانے کے لیے شروع کی گئی جنگ ہے تاکہ اپنے پڑوسی سے کچھ اور مدد لی جا سکے۔

وہ یہ کھیل سنہ 2013 سے پہلے بھی کھیل چکے ہیں تاکہ وہ جنوبی کوریا سے مزید مراعات لے سکیں۔

مقامی سطح پر بھی یہ توجہ ہٹانے کے لیے اچھا قدم ہے۔ کم جونگ ان ملک میں معاشی خوشحالی لانے میں ناکام رہے ہیں اور یہ افواہیں بھی ہیں کہ کووڈ 19 نے ملک کے بہت سے حصوں کو متاثر کیا ہے۔

قوم کو ایک دشمن دینے کے بعد عام طور پر لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

خیال رہے کہ کم کی بہن اس پالیسی پر عمل پیرا نظر آ رہی ہیں۔ کم یو جونگ نے سیئول سے تعلقات توڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے انھیں ایک پلیٹ فارم بھی ملتا ہے اور اس قیاس آرائی کو بھی تقویت ملتی ہے کہ وہ ملک کی ممکنہ رہنما کی حیثیت سے تیار ہو رہی ہیں۔

لیکن یہ مون انتظامیہ کے لیے بہت مایوس کن ہے۔ دو سال قبل ملک نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کا جشن منایا تھا اور فون لائن کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔ اب شمالی کوریا جانے والی تمام فون کالز نہیں اٹھائی جائیں گی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ شمالی کوریا کا منصوبہ ہے تو پھر آگے کیا ہو گا؟

مفرور کیا کرتے ہیں؟

شمالی کوریا کے مفرور افراد عام طور پر شمالی کوریا پر تنقید کرتے ہوئے غباروں سے پمفلیٹ بھیجتے ہیں۔ شمالی کوریا کے لوگ اسے اٹھائیں اس لیے کئی بار ان میں سامان بھی ہوتا ہے۔

شمالی کوریا میں صرف حکومت کے زیر کنٹرول میڈیا کی نشریات ہے اور بہت سے لوگوں کے پاس انٹرنیٹ بھی نہیں ہے۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین تعلقات سنہ 2018 ٹھیک ہونے لگے تھے۔ اس وقت دونوں ممالک کے رہنماؤں نے تین بار ملاقات کی۔ اس طرح کے اعلی سطحی اجلاس ایک دہائی میں اس سے قبل نہیں ہوئے۔

گذشتہ سال ہنوئی میں کم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ملاقات اور جوہری ہتھیار پر بات کے بعد شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ کئی قسم کے تعلقات منقطع کر لیے تھے۔

دونوں کوریائی ممالک تکنیکی طور پر ابھی بھی حالت جنگ میں ہیں کیونکہ 1950-53 کی کورین جنگ کے بعد دونوں ممالک نے امن معاہدے کی جگہ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔