روس میں آرکٹک سرکل یعنی دائرہ قطب شمالی کے علاقے میں بڑے پیمانے پر تیل کے بہہ جانے سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ماحول کو بے مثال نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مئی کے اواخر میں آرکٹک سرکل میں 20 ہزار ٹن ڈیزل دریا میں بہہ گیا تھا جس کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

تیل پھیلنے کی وجہ سے مقامی دریا آلودہ ہو گئے ہیں جبکہ یہ تیل زیر زمین بھی پہنچ گیا ہے۔ روسی حکام اور ماحولیات کی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق اس کے اثرات ’دہائیوں تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔‘

روس میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے والے ادارے اس کے اثرات کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں لیکن اس کا اثر ماحولیات سے بھی کہیں آگے پہنچ سکتا ہے۔

روسی نجی کاروبار، مستقبل کی تعمیرات اور صدر پوتن کی حمایت سب اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ لیکن کیسے؟

یہ بھی پڑھیے

قطبِ شمالی: ہزاروں ٹن تیل بہہ گیا، صدر پوتن کا ہنگامی حالت کا اعلان

جہاں فضائی آلودگی وہاں جرائم زیادہ

صدر ٹرمپ: ’ماہرینِ ماحولیات تباہی کے پیغمبر ہیں‘

ماحولیاتی تباہی

29 مئی کو سائبیریا کے روسی علاقے کراسنویارسک کے ایک پاور سٹیشن پر ایک ریزرو ایندھن کا ایک بڑا ٹینک تباہ ہو گیا جس کے سبب 20 ہزار ٹن ڈیزل پھیل گیا۔

ایسا لگتا ہے کہ ٹینک کو جس زیر زمین منجمد سطح پر ڈرل کرکے بنائی جانے والی عمارت پر رکھا گیا تھا وہ عمارت دھنس گئی۔

موسم کی تبدیلی اور موسم کے رواں سال غیر معمولی طور پر گرم رہنے کی وجہ سے مٹی کی ایک موٹی سطح جو سال بھر منجمد رہتی ہے یعنی پرما فروسٹ وہ پگھل رہی ہے۔

پاور پلانٹ کی انتظامیہ نے کہا کہ ٹیک کو سہارا دینے والی عمارت 30 برسوں سے بہتر حالت میں تھی اور اس کے خراب ہونے کے آثار نہیں نظر آئے۔ ذیلی کمپنی کے نائب صدر نے کہا کہ ٹینک کا ہمیشہ ’انتہائی احتیاط کے ساتھ‘ کے ساتھ خیال رکھا جاتا تھا اور اس کے زمین دوز ہو جانے کا سبب غیر معلومی طور پر ہلکا درجہ حرارت ہو سکتا ہے۔

پہلے پہل ڈیزل مقامی سڑک پر پھیل گیا اور پھر یہ چند گھنٹوں کے اندر اندر دالڈیکان اور امبرنیا دریاؤں تک جا پہنچا اور پھر دریا کے راستے کارا سمندر کی طرف بڑھنے لگا۔

دریا سرخ ہو گیا

یہ پاور پلانٹ سائبیریا کے ایک بڑے صنعتی مرکز نورلسک شہر کو بجلی فراہم کرتا ہے اور یہ دنیا کی معروف نکل اور پیلاڈیم دھات تیار کرنے والی کمپنی نورلسک نکل کے ماتحت ادارہ کی ملکیت ہے۔

نورلسک نکل کمپنی کے بڑے شیئر ہولڈرز میں روس کے امیر ترین شخص ولادیمیر پوتنن کے ساتھ ایک دوسرے روسی ارب پتی اولیگ ڈیرپاسکا شامل ہیں۔

نورلسک نکل اس سے قبل بھی تیل کے بہنے کے واقعے سے دو چار ہو چکا ہے۔ چار سال قبل بھی ڈالڈیکن ندی اسی قسم کے ایک حادثے کے بعد سرخ ہو گئی تھی۔

سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تازہ ترین تیل کے پھیلاؤ نے 350 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے کو آلودہ کردیا ہے۔

ماحولیاتی ایجنسی گرینپیس کی روسی شاخ کا کہنا ہے کہ تیل کے پھیل جانے کا یہ حادثہ 30 برسوں میں آرکٹک علاقے میں ہونے والی بدترین ماحولیاتی تباہی ہے۔

ماہرین ماحولیات نے اس کا موازنہ سنہ 1989 میں الاسکا کے ساحل پر ہونے والے ایکسون والڈیز آئل ٹینکر کے حادثے سے کیا ہے جب ٹینکر کے زمین اندر چلے جانے کی وجہ سے بحر الکاہل میں تقریبا 37 ہزار ٹن خام تیل پھیل گیا تھا۔

پوتن کیوں ناراض ہیں؟

پاور پلانٹ مینجمنٹ نے اس حادثے سے پہلے اپنے وسائل کے ذریعے مقامی طور پر نمٹنے کی کوشش کی اور پھر بعد میں مقامی ایمرجنسی سروسز کو اس میں شامل کیا۔

اس کے نتیجے میں روسی تحقیقاتی کمیٹی (ایس کے) نے مبینہ غفلت برتنے پر فوجداری مقدمہ شروع کیا ہے اور ان کا یہ کہنا ہے کہ ماسکو میں حکام کو حادثے کی سنگینی سے آگاہ کرنے میں دو دن کی تاخیر ہوئی ہے۔

صدر پوتن نے بھی گذشتہ ہفتے ایک خصوصی حکومتی اجلاس کے دوران اس حادثے پر اپنے غصے کا اظہار کیا تھا۔

جب کراسنویارسک خطے کے گورنر الیگزنڈر اس نے اپنی رپورٹ کو یہ کہتے ہوئے ختم کیا کہ ’بس یہی تھا، میری بات ختم!‘ تو مسٹر پوتن نے فورا ہی کہا: 'آپ کا کیا مطلب ہے، بس ہی ہے؟ آپ واقعتاً اس کے بارے میں کیا کرنے رہے ہیں؟'

نورلسک نکل کا کہنا ہے کہ حادثے کی اطلاع دینے میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی تھی اور کمپنی نے ہنگامی صورتحال کے پروٹوکول کے مطابق عمل کیا ہے۔

پاور پلانٹ کے ڈائریکٹر ویاچیسلاو اسٹاروسٹین کو 31 جولائی تک تحویل میں لے لیا گیا ہے لیکن ان پر کسی جرم کا الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔

اس معاملے میں سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ پانی اور مٹی کی سطح سے جس تیل کو جمع کیا جا رہا ہے اسے کیسے ٹھکانے لگایا جائے گا۔

کراسنویارسک کے گورنر نے اسے جلانے کا مشورہ دیا ہے جبکہ وزیر برائے ماحولیات دیمتری کوبلکن نے کہا کہ یہ غیر حقیقت پسندانہ حل ہے۔

وزیر نے کہا: ’میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ہم آرکٹک کے علاقے میں ایندھن کی اس مقدار کو کیسے جلاسکتے ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر اس علاقے میں آگ کا بھڑکانا خود ایک پریشانی ہو گی۔‘

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس طرح بڑی مقدار میں (سیکڑوں ٹن تیل اور آلودہ مٹی) کو قابو میں رکھتے ہوئے جلانا ناممکن ہو گا۔

ہفتے کے روز اس علاقے میں ڈیزل، مٹی اور پانی کے آلودہ مرکب کو ذخیرہ کرنے کے لیے کئی کنٹینر پہنچائے گئے تاکہ تیل کو اس وقت تک رکھا جا سکے جب تک کہ طویل مدت میں اس سے نمٹنے کے طریقے پر کوئی فیصلہ نہ لیا جا سکے۔

کوئی ماحول دوست منصوبہ؟

روس میں ماحول کے تحفظ کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ واقعے کے بعد مقامی دریاؤں میں آلودگی کی سطح کافی زیادہ بڑھ چکی ہے یعنی اگر پہلے یہ سطح دس سے زیادہ تھی تو اب یہ ہزاروں میں جاچکی ہے۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ایک نمائندے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ روس کی جدید تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا بدترین واقعہ ہے۔

لیکن آلودگی بڑھنے کے خدشات کو کم کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ تیل کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

پانی کی سطح پر تیرتی باڑیں لگائی گئی ہیں جنھیں اکثر سمندروں یا دریاؤں میں تیل بہنے کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے تیل کا پھیلاؤ روکا جاتا ہے جو پانی کے مقابلے وزن میں بھاری ہوتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف نے اس حکمت عملی کی حمایت کی ہے۔ ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنان نے دریائے امبرنیا کو روک دیا ہے اور پیاسینو نامی بڑی جھیل تک تیل کو پھیلنے سے وقتی طور پر روک دیا ہے۔

لیکن گرین پیس ان باڑوں کی حکمت عملی کے بارے میں اتنے پُر اعتماد نہیں ہیں۔ روسی پروگرامز کے سربراہ اِیوان بلوکوو کہتے ہیں کہ ڈیزل خام تیل سے زیادہ آلودہ ہوتے ہیں اور اس میں ایسے کیمیائی مادے ہوتے ہیں جنھیں باڑیں روک نہیں پائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیزل کا کچھ حصہ پانی میں مل جائے گا اور کئی برسوں تک کیمیائی مادے اس میں شامل رہیں گے۔

’یہ زہریلے مادے دریا اور جھیل میں حیات کو نقصان پہنچائیں گے۔ کچھ ایندھن بخارات میں تبدیل ہوجائے گا اور اس ہوا میں مل جائے گا جس میں مقامی لوگ سانس لیتے ہیں۔

وزارت ماحولیات کے مطابق مقامی سطح پر جنگلی حیات کے قدرتی مسکن کی بحالی میں دہائی سے زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔

کاروبار کے لیے مشکلات

صدر پوتن کی تنقید سے نارلسک نیکل کے حصص کی قیمت پر اثر پڑا ہے۔

ٹی وی پر ایک گفتگو کے دوران صدر پوتن نے ایک کمپنی پر تنقید کی کہ انھوں نے حادثہ ہونے کے بعد اطلاع دینے میں تاخیر کی۔ اس طرح نارلسک نیکل کے حصص کی قیمت 9.5 فیصد سے زیادہ گِر گئی لیکن پھر یہ واپس بحال ہوگئی۔

حادثے نے روسی ذرائع ابلاغ پر یہ بحث بھی چھیڑ دی کہ 1990 کی دہائی میں نجکاری کے عمل میں ترمیم کی ضرورت ہے۔

اس نجکاری میں تاجروں کے ایک چھوٹے سے گروہ نے ملک کی سب سے منافع بخش صنعتوں کو خرید لیا تھا اور اس سے وہ اشرافیہ بن گئے تھے۔

فوربز میگزین کے مطابق نارلسک نیکل کے شریک بانی ولادیمیر پوتینن روس کے امیر ترین شخص ہیں۔ انھیں اشرافیہ کا اہم رکن خیال کیا جاتا ہے۔

پوتینن کے ساتھی ارب پتی اور کمپنی کے شریک بانی میخائل پروخرف نے کہا ہے کہ روس میں نجی اداروں کو سرکاری سرپرستی میں لینے کی نئی بحث تمام نجی کاروباروں کے لیے خطرناک ہوگی، چاہے بات چھوٹے ریستورانوں کی ہو یا بڑی صنعتوں کی۔

میخائل پروخرف نے اس کمپنی میں اپنے حصص 2007 میں 7.5 ارب ڈالر میں فروخت کر دیے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سرکاری سرپرستی کا مطالبہ تمام معیشت کے لیے خطرناک ہوگا۔ ملکی معیشت نے نجی کاروباروں کی بدولت گذشتہ 20 برسوں میں کافی ترقی کی ہے۔‘

یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تیل پھیلنے سے نجی کمپنیاں سرکاری سرپرستی میں چلی جائیں گی۔ یا روسی معیشت میں یہ بڑی تبدیلی کا سبب بن جائے گا۔

لیکن یہ کریملن کے لیے ایک موقع ہوگا کہ بڑی کمپنیوں اور ان کے امیر سربراہان کو جانچ سکیں۔

مستقل منجمد علاقے میں برف پگھلنے کا خدشہ

نوسلک کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے جہاں کارخانے اور فیکٹریاں مقامی طور پر نکالی جانے والی دہاتوں کی صفائی کرتی ہیں اور زہریلی سلفر ڈائی آکسائڈ فضا میں خارج کرتی ہیں۔ روس دنیا بھر میں پلاڈینیم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کی قیمت علاقے کے ماحول کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

نارلسک دنیا کے دو شہروں میں سے ایک ہے جن کی آبادی ایک لاکھ نفوس سے کم ہے اور جو مستقل منجمد رہنے والے علاقے میں واقع ہے۔

دوسرا شہر یاکوٹسک ہے اور وہ بھی روس ہی میں ہے۔ ملک کے پورے شمالی علاقے میں بہت سے چھوٹے چھوٹے قصبے اور دیہات ہیں جہاں بہت سے صنعتی ادارے قائم ہیں۔

مستقل طور پر منجمد انتہائی سرد علاقوں میں برف پگھلنے سے براہ راست لوگوں کا روزگار متاثر ہو گا اور اس سے زیادہ ماحولیاتی تباہی ہوگی۔

گرین پیس نے کہا ہے کہ وزیر اعظم میخائیل مسہوشتن قطب شمالی کے علاقے میں قائم تمام صنعتی اداروں کی عمارتوں کا معائنہ کروانے کا نظام وضع کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں تمام صنعتی اداروں کے ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کا اندازہ لگایا جانا چاہیے۔

اس وقت صنعتی اداروں کے غیر طے شدہ معائنوں کی اجازت حکومت سے لینی پڑتی ہے۔

گرین پیس کا کہنا ہے کہ ماحولیات پر نظر رکھنے والے اداروں کو ماحول اور مقامی آبادیوں پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کی جیسے ہی کوئی شکایت موصول ہو انھیں اسی وقت ان کا جائزہ لینے کی آزادی ہونی چاہیے۔

پوتن اور ان کا مستقبل

ولادیمیر پوتن نے اپنے مخصوص انداز میں ذاتی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے اس کے واقعے کے بعد حکومت کے ہنگامی اجلاسوں میں شرکت کی جس کی براہ راست سرکاری نشریاتی اداروں میں تشہیر بھی کی گئی۔

ان اجلاس کے دوران صدر کا رویہ بہت سخت نظر آیا اور وہ ان سرکاری اہلکاروں کی سرزنش کرتے رہے جنھوں نے ان کے خیال میں اس واقع کی تفصیلات سے آگاہ کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کیا۔

گزشتہ جمعہ کے روز صدر نے کریملن میں اپنے دفتر سے ارب پتی صنعت کار پوتن سے فون پر بات کی۔ فون پر ہونے والی بات چیت کو سرکاری ٹی وی براہ راست نشر بھی کیا گیا۔ اس بات چیت میں صدر پوتن نے ارب پتی صنعت کار سے دریافت کیا کہ تیل کو صاف کرنے پر کتنی لاگت آئے گی۔

پوتن نے جواب دیا کہ اس پر اربوں روبل (روس کی کرنسی) خرچ ہوں گے لیکن جتنا بھی خرچہ آئے وہ اسے اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

صدر پوتن نے تیل کو ذخیرہ کرنے والے ٹینک کے ڈھانچے کو مضبوط نہ کرنے پر پوتن پر خوب تنقید کی اور کہا کہ ایسا کر کے اتنے بڑے نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔

پوتن کی مقبولیت اپنی کم ترین سطح پر ہے اور یہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ہوئی ہے جس سے روس کی اکثریت کی زندگیوں پر براہ راست اثر پڑا ہے۔

روس میں آئینی اصلاحات کے ریفرنڈم سے قبل جن کے منظور ہو جانے کی صورت میں صدر پوتن کے دوبارہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے اور سنہ 2036 تک اقتدار میں رہنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا، صدر پوتن کے لیے عوام میں اپنی مقبولیت کا گراف برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ وہ عوام کو یہ باور کرنا چاہتے ہیں کہ ملک اہل اور قابل ہاتھوں میں ہے۔

ماحولیاتی مسائل سے نمٹنا کافی مشکل ثابت ہو سکتا ہے خاص طور پر ایسے ملک میں جس کا انحصار قدرتی وسائل پر ہو۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آئندہ کئی دہائیوں تک اس کے بارے سوچنا ہو گا۔