کینیڈا میں پتھریلے پہاڑیوں سے ایک صندوق ملا ہے جو دس لاکھ امریکی ڈالر کی مالیت کے سونے اور جواہرات سے بھرا ہوا تھا۔

نوادرات اکھٹا کرنے والے فروس فن نے تانبے کا یہ صندوق ایک دہائی قبل جنگلوں میں چھپا دیا تھا اور خزانوں کی تلاش میں رہنے والوں کے لیے ایک مہم کا انتظام کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

رام پور کے سٹرانگ روم کا خزانہ کہاں گیا

پومپے کے کھنڈرات سے ’قیمتی خزانہ‘ برآمد

ڈوبی ہوئی کشتیوں کے خزانے کا مالک کون؟

لاکھوں لوگ اس خزانے کی تلاش میں سرگرداں رہے اور بہت سے لوگوں نے اپنی زندگی کی جمع پونجی اس کی تلاش میں صرف کر دی۔ خزانے کی تلاش کرتے ہوئے کم از کم چار افراد کی موت بھی واقع ہو گئی تھی۔

اب فن کا کہنا ہے کہ انتہائی مشرق میں رہنے والے ایک شخص نے اس کی کھوج لگا لی ہے۔

نیو میکسیکو سے تعلق رکھنے والے 89 سالہ ارب پتی سرمایہ دار فن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'میں نے جس جگہ اس خزانے کو دفن کیا تھا وہ دس برس سے اس جگہ سے ہلا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ کس کو یہ خزانہ ملا ہے لیکن چوبیس سطروں کی ایک نظم جو سنہ 2010 میں ان کی سوانح حیات میں 'دی تھرل آف دی چیز' کے عنوان سے شائع ہوئی تھی اس سے یہ شخص خزانے کی جگہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

نیو میکسیکو میں سانتا فے سے شائع ہونے والے ایک مقامی اخبار کو اس ارب پتی سرمایہ دار نے بتایا کہ خزانے کا کھوج لگانے میں کامیاب ہونے والا شخص اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا لیکن اس نے اس کا کھوج نکالنے میں کامیابی کی تصدیق کے لیے خزانے کی تصویر انھیں بھیجی ہے۔

مسٹر فن نے کہا کہ اس کے علاوہ نایاب سونے کے سکّوں اور نادر زیورات جو انھوں نے نو کلو گرام وزنی ایک صندوق ہے جس پر کولمیبہ کے زمانے سے پہلے کے جانوروں کی تصاویر اور سونے کے شیشے لگے ہوئے تھے۔

خزانے کے تلاش ختم ہو جانے پر انھیں کیسا لگا اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ انھیں خوشی بھی ہے اور افسوس بھی کہ ایک طویل عرصے سے جاری تلاش ختم ہو گئی۔