دنیا کے تمام براعظموں میں فضائی آلودگی اور مضرِ صحت گیسوں کا اخراج کم ہوا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پوری دنیا اس وقت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مگر کیا یہ سب عارضی ہے یا مضر صحت گیسوں کے اخراج میں کمی دیرپا ہو گی؟

گذشتہ چند ہی مہینوں میں دنیا بدل گئی ہے۔ ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مزید کئی لاکھ افراد کورونا وائرس کی لپیٹ میں آ کر بیمار پڑے ہیں۔ کورونا ایک ایسا مہلک وائرس ہے جس کے بارے میں دسمبر 2019 سے پہلے دنیا کو کچھ معلوم نہ تھا۔

کروڑوں افراد ایسے ہیں جو اگرچہ اس کی لپیٹ میں آنے سے بچے ہوئے ہیں مگر اس کے باعث ان کے معمولات زندگی یکسر بدل گئے ہیں۔

چین کے شہر ووہان کی گلیاں اور شاہراہیں اس وقت سنسان ہو گئیں جب حکام کی جانب سے وہاں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا۔ اٹلی میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سے کبھی اتنے وسیع پیمانے پر سفری پابندی نہیں لگائی گئیں جتنی اس وقت عائد ہیں۔

لندن میں جہاں عام طور پر شراب خانے، کلب اور تھیٹر لوگوں سے بھرے رہتے ہیں، اب بند ہیں اور لوگوں کو گھر پر رہنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔ دنیا بھر میں فضائی سفر معطل ہے اور شہری ہوا بازی کی صنعت سخت دباؤ کا شکار ہے۔

کورونا وائرس چین میں فضائی آلودگی میں کمی کا باعث؟

کورونا وائرس: ان چھ جعلی طبی مشوروں سے بچ کر رہیں

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

ان سب اقدامات کا مقصد کووِڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنا ہے اور اموات کی تعداد کو کم سے کم سطح پر رکھنا۔ لیکن ان اقدامات کے کچھ غیر معمولی نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔

چونکہ صنعتیں، ذرائع نقل و حمل اور کاروبار بند ہیں، اسی وجہ سے فضا میں کاربن کے اخراج میں ایک دم کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر موجودہ وقت کا گذشتہ برس کے انھی مہینوں سے موازنہ کیا جائے تو نیویارک میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی وجہ سے فضائی آلودگی میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے۔

چین میں رواں برس کے آغاز پر گیسوں کے اخراج میں 25 فیصد کمی ہوئی کیونکہ لوگوں کو گھروں میں رہنے کا پابند کر دیا گیا تھا، فیکٹریوں کے دروازے بند کر دیے گئے تھے اور سنہ 2019 کی آخری سہ ماہی کے مقابلے میں ملک کے بجلی بنانے والے چھ بڑے کارخانوں میں کوئلے کا استعمال 40 فیصد کم رہا۔

چین کی ماحولیات کی وزارت کے مطابق ملک کے 337 شہروں میں لوگوں کو جن دنوں سانس لینے کے لیے اعلیٰ معیار کی ہوا میسر آئی ان کا تناسب گذشتہ سال کے مقابلے میں 11.4 فیصد زیادہ رہا۔ یورپ میں سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نائٹروجن آکسائیڈ گیس کے اخراج کا اثر شمالی اٹلی پر کم ہو رہا ہے۔ سپین اور برطانیہ کا بھی یہ ہی حال ہے۔

کووڈ 19 جیسا انسانی بقا کو درپیش فوری اور سنگین خطرہ ہی اس طرح کی ڈرامائی تبدیلی کا موجب بن سکتا تھا۔

اس عالمی وبا کی وجہ سے بے وقت اموات کے علاوہ، لاکھوں لوگوں کو بے روزگاری کا سامنا ہے کیونکہ بے شمار کاروباری ادارے کورونا وائرس کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں کے باعث شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

معاشی سرگرمیاں معطل ہیں اور بازارِ حصص تیزی سے گِر رہے ہیں اور ان سب کے ساتھ فضائی آلودگی کی سطح بھی کم ہو رہی ہے۔ یہ صورت حال کاربن سے پاک پائیدار معیشت کے تصویر سے بالکل برعکس ہے جس پر دنیا کو قائل کرنے کے لیے کئی دہائیوں سے کوششیں جاری تھیں۔

ایک عالمی وبا جو انسانی جانوں کے نقصان کا باعث بنی رہی ہے اس کو یقیناً فضائی آلودگی کے حل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

لیکن اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ گیسوں کے اخراج میں یہ کمی کتنی دیر چل سکتی ہے۔ آخر کار جب یہ وبا دم توڑ دے گی تو کاربن اور آلودگی کا باعث بننے والی گیسوں کا اخراج دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ کیا صاف اور شفاف فضا کا یہ دورانیہ ایسا ہی ہو جائے گا جیسے کبھی آیا ہی نہیں تھا؟ یا یہ تبدیلی جو آج ہم دیکھ رہے ہیں وہ دیرپا ثابت ہو گی؟

سویڈن کی لُنڈ یونیورسٹی کی تحقیق کار کمربلی نکلوس کا کہنا ہے کہ پہلی چیز جو قابل غور ہے وہ چند مختلف عوامل ہیں جن کی وجہ سے گیسوں کے اخراج میں کمی ہوئی ہے۔

یہ اخراج ان ملکوں میں کم ہوئے ہیں جہاں صحت عامہ کے پیش نظر وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لوگوں کو گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے اور غیر ضروری نقل و حرکت ختم ہو گئی ہے، کیونکہ فضائی اور سٹرکوں پر سفر کے دوران خارج ہونے والی گیسوں کا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بالترتیب 11 فیصد اور 72 فیصد حصہ ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ عالمی وبا کے دوران نقل و حمل محدود رکھنے تک ہی یہ اخراج کم رہیں گے۔ لیکن اس وقت کیا ہو گا جب یہ پابندیاں اٹھا لی جائیں گی؟

نکولس کا کہنا ہے کہ جو وقت ہم عام زندگی میں دن میں دو مرتبہ کام پر جانے اور آنے میں صرف کرتے ہیں وہ تو کبھی واپس نہیں آئیں گے لیکن دوسرے مقاصد کے لیے کیے جانے والے سفر کا کیا ہو گا؟ مثال کے طور گھروں میں بند رہنے کے بعد جب لوگوں کو دوبارہ سفر کرنے کی اجازت حاصل ہو گی تو کیا وہ زیادہ سفر نہیں کریں گے۔

نکولس نے کہا کہ وہ دونوں طرف کے دلائل کو سمجھ سکتے ہیں۔ ’ہو سکتا ہے جو لوگ سفر کرنے سے گریز کر رہے ہیں اور زیادہ وقت اپنے خاندانوں کے ساتھ گزارنے کو پسند کر رہے ہیں اور اپنی زندگی کی اہم ترجیحات پر توجہ دے رہے ہیں۔ امتحان کے اِن لمحات میں اُن میں یہ احساس اجاگر ہو جائے کہ یہ ترجیحات کتنی اہم ہیں اور اِن کی بدولت انھیں اپنے اہلخانہ، رشتہ داروں، دوستوں اور برادری کی صحت اور فلاح و بہبود پر توجہ دینے میں کتنی مدد ملی ہے۔‘

نکولس کا کہنا ہے کہ اگر عالمی وبا کی وجہ سے لوگوں میں آنے والی یہ تبدیلی قائم رہتی ہے تو آلودہ گیسوں کا اخراج بھی کم رہے گا۔

لیکن اس کے الٹ بھی ہو سکتا ہے۔ ’لوگ دور دراز مقامات پر جانے کے اپنے پروگرام مؤخر کر رہے ہیں اور یہ بعد میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ جو لوگوں طویل فضائی سفر کثرت سے کرتے ہیں وہ کاربن کے اخراج کا زیادہ سبب بنتے ہیں لہٰذا گیسوں کا اخراج، سفری پابندی اٹھائے جانے کے بعد جب لوگ اپنے معمولات کی طرف لوٹیں گے تو واپس اپنی معمول کی سطح پر آ جائے گا۔‘

تاریخی وبا

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایک عالمی وبا نے فضا میں پائی جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ پر اپنا اثر نہ چھوڑا ہو۔ انسانی تاریخ میں ہمیشہ بیماریوں کے پھیلنے سے گیسوں کا اخراج کم ہوا ہے حتیٰ کہ جدید صنعتی دور سے پہلے بھی۔

جرمنی کی میونخ یونیورسٹی میں شعبہ جغرافیہ کے پروفیسر جولیا پونگراٹس کا کہنا ہے کہ 14ویں صدی میں جب یورپ میں طاعون یا ’بلیک ڈیتھ‘ کی وبا پھیلی تھی اور 16ویں صدی میں جب جنوبی امریکہ پر سپین نے قبضہ کیا تھا اور اپنے ساتھ خسرے کی وبا لے کر گئے تھے تو دونوں وباؤں نے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی سطح پر معمولی سا فرق ڈالا تھا۔

پروفیسر پونگراٹس نے اس کا اندازہ برف کی قدیم تہوں میں منجمد ننھے ننھے ہوا کے بلبلوں سے لگایا ہے۔

یہ تبدیلیاں بیماریوں کی وجہ سے اموات کی شرح میں اضافہ اور جنوبی امریکہ پر ہسپانیوی قبضے کے دوران بڑے پیمانے پر مقامی لوگوں کے قتل عام کے نتیجے میں رونما ہوئی تھیں۔ دوسری تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں اموات کی وجہ سے وسیع زیر کاشت علاقے خالی ہو گئے تھے اور وہاں خود رو پودے آ آئے تھے اور یہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس بڑی مقدار میں جذب ہونے لگی تھی۔

موجودہ وبا سے اتنی بڑی تعداد میں اموات متوقع نہیں ہیں اور نہ ہی اس سے زمین کے استعمال پر کوئی فرق پڑنے والا ہے۔ ماحولیات پر اس کے اثرات کی نوعیت موجودہ دور میں دوسرے واقعات کے مطابق ہو گی مثلاً سنہ 2008 اور 2009 میں آنے والے مالی بحران کی طرح۔

پروفیسر پوگراٹس کے مطابق اس وقت بھی عالمی اخراج میں بہت زیادہ کمی ہوئی تھی۔

اس وقت اخراج میں کمی صنعتی سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کا موازنہ ٹرانسپورٹ یا ذرائع نقل و حمل سے کیا جا سکتا ہے۔

صنعتی سرگرمیوں، پیداوار اور تعمیرات کا انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی مجموعی عالمی آلودگی میں حصہ 18.4 فیصد بنتا ہے۔

سنہ 2008 اور سنہ 2009 کے مالی بحران سے اخراج میں 1.3 فیصد کمی ہوئی تھی۔ لیکن سنہ 2010 میں معیشت کی بحالی کے ساتھ یہ دوبارہ اپنی انتہائی سطح پر پہنچ گئی۔

پروفیسر پونگراٹس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اشارے ملے ہیں کہ کورونا وائرس بھی اس طرح اثر انداز ہو گا۔ مثال کے طور پر اس وقت تیل، سٹیل اور دوسری دھاتوں کی مانگ دوسری چیزوں کے مقابلے میں کم ہے۔ لیکن خام مال کے ذخائر بلند ترین سطح پر ہیں اس لیے پیداوار بڑی تیزی سے بحال ہو جائے گی۔

ایک عنصر جس کا تعلق اس بات سے ہے کہ اخراج اپنی سطح پر کب واپس آئیں گے اور وہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کی یہ وبا کب ختم ہو گی۔

پروفیسر پونگراٹس کے مطابق فی الحال یہ پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے۔ ’لیکن ہو سکتا ہے ہم زیادہ طویل عرصے تک اور زیادہ گہرے اثرات دیکھیں۔ اگر کورونا وائرس کی وبا اس سال کے آخر تک چلتی ہے تو صارفین کی کم آمدن کی وجہ سے اشیا کی طلب کم رہے گی اور تیل کی مانگ اتنی تیزی سے نہیں بڑھے گی، گو کہ پیداواری صلاحیت اپنی جگہ برقرار رہے گی۔‘

معاشی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) نے پیش گوئی ہے کہ سنہ 2020 میں ان سب باتوں کے باوجود عالمی معیشت میں ترقی ہوگی گو کہ شرح نمو میں کورونا وائرس کی وجہ سے نصف کمی متوقع ہے۔

اوسلو میں بین الاقوامی موسم اور ماحولیاتی ریسرچ کے مرکز سے منسلک محقق گلین پیٹرز کا کہنا ہے بحالی کے باوجود اس سال عالمی اخراج میں 0.3 فیصد کمی ہو گی جو کہ 10 سال قبل آنے والے معاشی بحران کے مقابلے میں کم ہے۔ لیکن اس مرتبہ اگر شفاف توانائی کے ذرائع استعمال کرنے پر توجہ برقرار رہی تو اخراج میں یہ کمی معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے بعد بھی کم رہے۔

’عادتوں کی پختگی‘

کورونا وائرس کی وجہ سے پڑنے والے اثرات کے زیادہ طویل عرصے تک قائم رہنے کے کئی اور بلاواسطہ طریقے بھی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ لوگوں کے ذہنوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کا خیال نکال دیا جائے اس لیے کہ انسانوں کی زندگیوں کو بچانے کا سنگین مسئلہ زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

اس کا دوسرا طریقہ ماحولیات پر ہونے والی بحث کو زیادہ مشکل بنا دینا ہے کیونکہ عوامی اجتماعات کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔

ماحولیاتی کارکن گریٹا تھونبرگ نے زور دیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مظاہروں کے بجائے ڈیجیٹل ایکٹیوازم کیا جائے گو کہ عالمی ماحول کے بارے میں سال کا سب سے بڑا اجتماع ’سی او پی 26‘ اس سال نومبر میں گلاسگو میں منعقد کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

سی او پی 26 میں دنیا بھر سے 30 ہزار مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔ کانفرنس کے منتظمین اس کانفرنس کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں اور سی او پی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور سی او پی کے موجودہ صدر اور دوسرے شراکت داروں سے مستقل رابطے میں ہیں۔

ایک طریقہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں لوگوں کے معمولات میں جو تبدیلی آئی ہے وہ کورونا وائرس کی وبا پر قابو پائے جانے کے لیے بعد بھی برقرار رہے۔

پروفیسر نکولس کا کہنا ہے کہ ’ہم سوشل سائنس کی تحقیق سے یہ جانتے ہیں کہ نازک دور میں کی جانے والی تبدیلیاں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔‘

سوئٹزر لینڈ کی زیورخ یونیورسٹی میں سنہ 2018 میں کی جانے والی ایک تحقیق میں، جس کی قیادت کورینی موزر نے کی تھی، یہ ثابت ہوا کہ جب لوگوں کو گاڑیاں چلانے نہیں دی گئیں اور انھیں سائیکلیں مہیا کی گئیں۔ اور پھر جب انھیں گاڑیاں واپس مل گئیں تب بھی وہ گاڑیاں کم استعمال کرتے تھے۔

جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق جس کی سربراہی ستوشی فیوجی کر رہے تھے اس میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ جب ایک موٹر وے کو بند کر دیا گیا اور لوگ گاڑیوں کے بجائے ریل کا سفر اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ سڑک کھل جانے کے بعد بھی جو لوگ پہلے ڈرائیو کرنے کے عادی تھے وہ پبلک ٹرانسپورٹ یا ریل گاڑیوں پر ہی سفر کرنے کو ترجیح دینے لگے۔

بدلتے وقت کے ساتھ لوگوں میں ایسی عادات ڈالی جا سکتی ہیں جو چھوڑی نہ جا سکیں اور پختہ ہو جائیں۔

کمیونٹی کی سطح پر اقدامات

کورونا وائرس پر لوگوں کا ایک رد عمل جس پر ماحولیاتی سائنسدانوں نے ملے جلے خیالات کا اظہار کیا ہے وہ کمیونٹیز میں ایک دوسرے کی صحت کے لیے اٹھائے جانے والے اجتماعی اقدامات ہیں۔

جس رفتار اور جس پیمانے پر کورونا وائرس کی وبا کے خلاف اقدامات کیے گئے ہیں اس سے یہ امید پیدا ہو چلی ہے کہ اگر ماحولیاتی تبدیلیوں سے سنگین خطرات لاحق ہو گئے تو تیز رفتاری سے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

نیوزی لینڈ میں نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈونا گرین نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اگر ہمیں کچھ کرنا پڑے تو ہم کر سکتے ہیں۔

لیکن پروفیسر نکولس کی طرح دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ کمیونٹی اقدامات سے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی مستقبل میں امید پیدا ہوئی ہے۔ پروفیسر پونگراٹس کا کہنا ہے کہ خود ساختہ تنہائی سے لوگوں کو جو موقع ملا ہے اس میں انھیں اشیا کے استعمال اور صرف کرنے کی اپنی عادات اور طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے۔

یہ کہنا بالکل درست ہے کہ دنیا بھر میں کوئی بھی گیسوں کے اخراج میں کمی اس طریقے سے نہیں چاہتا تھا۔ کووڈ 19 کا عالمی اموات، صحت کی سہولیات، روزگار اور لوگوں کی ذہنی حالت پر بُرا اثر پڑا ہے۔

لیکن ایک سبق جو اس سے ملا ہے کہ اگر انسان ایک دوسرے کا خیال کریں تو وہ بہت کچھ تبدیل کر سکتے ہیں اور یہ ہی سبق ماحولیات کے مسئلہ کے حل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔