نیو یارک ٹائمز کے تجزیے شائع کرنے والے ایڈیٹر نے رپبلکن سینیٹر کے ایک تجزیاتی مضمون کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا ہے جس میں ان شہروں میں فوج بھیجنے کی حمایت کی گئی تھی جہاں نسلی امتیاز کے مخالف مظاہرے پر تشدد ہو گئے تھے۔

سینیٹر ٹام کاٹن کے تجزیاتی مضمون 'سینڈ ان دا ٹروپس' کی وجہ سے نیوز روم میں پیدا ہونے والے تنازعے کے بعد نیو یارک ٹائمز کے تجزیہ شائع کرنے والے ایڈیٹر جیمس بینیٹ نے استعفیٰ دے دیا۔ اس آرٹیکل میں ٹرمپ کی اس دھمکی کی حمایت کی گئی تھی جس میں انھوں نے مظاہروں کے سبب ہونے والی بدامنی پر قابو پانے کے لیے فوج کے استعمال کی بات کی تھی۔

آغاز میں اخبار نے اس مضمون کی حمایت کی تھی۔ لیکن بعد میں کہا گیا کہ یہ تجزیاتی مضمون ان کے معیار پر پورا نہیں اتر رہا۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کی مخالفت: واشنگٹن کے میئر نے وائٹ ہاؤس جانے والی سڑک کا نام تبدیل کر دیا

جارج فلائیڈ ہلاکت: احتجاج اور کرفیو کے دوران پولیس کی بربریت کی مزید ویڈیوز

سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد امریکہ بھر میں مظاہرے، انصاف کا مطالبہ

گذشتہ بدھ کو اخبار کی ویب سائٹ پر آرٹیکل شائع ہونے کے بعد اخبار کے سٹاف اور عوام کی جانب سے مخالفت کا اظہار ہوا تھا۔ مخالفت کے اظہار میں چند صحافی جمعرات کو کام پر نہیں گئے۔

جیمز بینیٹ 2016 سے نیو یارک ٹائمز کے اوپینین ایڈیٹر کے عہدے پر تھے۔ انھوں نے قبول کیا کہ آرٹیکل شائع ہونے سے قبل انھوں نے اسے پڑھ لیا تھا۔ سینیٹر نے فوج کے طاقت کے استعمال کے بارے میں جو کچھ لکھا وہ ان گروپز کے خلاف ہے جنھیں آرٹیکل میں 'فسادی' کہا گیا ہے۔

یہ آرٹیکل ایک ایسے وقت شائع ہوا ہے جب گزشتہ چند ہفتوں میں امریکہ کے مختلف شہروں میں نسل پرستی اور پولیس کی جانب سے ہونے والے تشدد کی مخالفت میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔

مظاہرین گزشتہ ماہ پولیس کی حراست میں ایک سیاہ فام امریکی شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت سے ناراص ہیں۔ اس واقعے کی ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ انھیں زمین پر گرا کر ایک پولیس والے نے ان کی گردن پر پیر رکھا اور نو منٹ تک نہیں ہٹایا۔ آرٹیکل کی مخالفت میں تقریباً آٹھ سو سے زائد کارکنان نے ایک خط پر دستخت کیے جس میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل میں جو کچھ لکھا گیا وہ گمراہ کن ہے۔

پولیتزر انعام یافتہ صحافی نکول ہینا جونس نے ٹوئٹر پر لکھا 'بحیثیت ایک سیاہ فام خاتون، بطور ایک صحافی، میں بے حد شرمندہ ہوں کہ ہم نے یہ آرٹیکل شائع کیا۔'

اس سے قبل آرٹیکل کا دفاع کیا گیا تھا

اتوار کو سٹاف کے لیے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں نیو یارک ٹائمز کے چیئرمین اے جی سالزبرگ نے کہا 'گزشتہ ہفتے ایڈیٹوریئل عمل میں ہمیں ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا رہا۔ یہ حالیہ چند برسوں سے مختلف تجربہ ہے۔'

نوٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جیمز بینیٹ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور وہ آنے والے دنوں میں محکمے کی ایک دیگر ٹیم کی سربراہی کریں گے۔ حالانکہ اس بیان میں کہیں بھی کاٹن کے آرٹیکل کا ذکر نہیں تھا۔

نیو یارک ٹائمز نے آغاز میں اس آرٹیکل کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ ایڈیٹوریئل صفحے پر مختلف نظریات شائع کیے جانے کی ضرورت تھی۔ لیکن گذشتہ جمع کو ایک ایڈیٹر کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک طویل نوٹ میں کہا گیا کہ ’یہ آرٹیکل ہمارے معیاروں پر پورا نہیں اترتا۔ اسے شائع نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔‘

ان کے اس نوٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ایڈیٹنگ میں جلد بازی اور غلطیاں کی گئیں۔ اس آرٹیکل میں فسطایئت مخالف گروپ اینٹی فا کے کردار کے بارے میں الزامات حقیقت کے طور پر پیش کیے گئے۔ اصل میں ان الزامات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے اور بڑی سطح پر سوال کھڑے کیے گئے ہیں۔'

اخبار نے یہ بھی کہا ہے کہ سینیٹر کا وہ بیان جس میں کہا گیا ہے کہ چند شہروں میں بھڑکنے والے تشدد کا نقصان پولیس کو بھگتنا پڑا ہے، بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، جسے چیلینج کیا جانا چاہیے۔ نوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرٹیکل کی ہیڈلائن جسے سینیٹر کاٹن نے خود نہیں لکھا، وہ صحیح نہیں تھی، اور اس کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔‘

سالزبرگ نے اپنی ای میل میں اعلان کیا ہے کہ جم ڈاوٴ، جو فی الحال اوپینین سیکشن میں بطور ڈپٹی اوپینین ایڈیٹر کام کرتے ہیں، انہیں نئی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ جبکہ کیٹی کنگزبری قائم مقام اوپینین ایڈیٹر کے طور پر کام کریں گی۔

ایک اور ایڈیٹر کا استعفیٰ

جمع کو فیلاڈیلفیا اینکوائرر نامی اخبار کے چیف ایڈیٹر سٹین وسنوسکی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا کیوں کہ وہاں شائع ہوئی ایک ہیڈلائن میں مظاہروں کے دوران ہونے والے نقصان اور ہلاک ہونے والے سیاہ فام افراد کا موازنہ کیا گیا تھا۔

اس وجہ سے اخبار کے سٹاف سمیت عوام میں بھی غصہ تھا۔ وسنوسکی نے معافی مانگی اور کہا بد امنی کے بارے میں لکھے جانے والے اس آرٹیکل میں 'بلڈنگز میٹر ٹو' جیسی ہیڈ لائن لگانے کا فیصلہ ایک 'بڑی غلطی' ہے۔