جوں جوں براعظم افریقہ کے ممالک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، وائرس سے متعلق سوشل میڈیا اور آن لائن پر غلط معلومات کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ کچھ کہانیاں جو حالیہ دنوں میں افریقی ممالک میں شیئر کی گئیں۔

1) افریقہ کو اپنی دوا بنانے سے روکنے کی سازش

میڈاگاسکر کے صدر آندری راجولینا کے حوالے سے ایک بے بنیاد سازشی نظریہ گردش کر رہا ہے۔ صدر راجولینا جڑی بوٹیوں سے بنی ایک مقامی دوا جسے ’کووڈ آرگینکس‘ کا نام دیا گیا ہے، کی تشہیر کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پیغامات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے میڈاگاسکر کے صدر کو اس دوا میں زہر ملانے کے لیے ایک مخصوص رقم کی پیشکش کی ہے۔

اس بے بنیاد سازشی نظریے کے مطابق عالمی ادارہ صحت یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ افریقی ممالک خود انحصاری کے قابل نہیں ہیں اور وہ اپنے طور پر کووڈ 19 کی دوا بنانے کے قابل نہیں ہیں۔

اس نظریے کو صدر راجولینا کے فرانس 24 چینل کو دیے گئے انٹرویو سے جوڑا گیا ہے۔ فرانسیسی زبان میں لکھی گئی ایک پوسٹ کو فیس بک پر شیئر کیا گیا۔ فیس بک کے اس اکاؤنٹ کو انگولا اور ڈی آر کانگو سے چلایا جا رہا تھا۔

فیس بک پر چھپنے والے ان دعوؤں کو 14 مئی کو تنزانیہ کے دو اخباروں میں بھی شائع کیا گیا۔ تنزانیہ کے ایک اخبار میں الزام عائد کیا گیا کہ میڈاگاسکر کے صدر نے چینل 24 کے ساتھ انٹرویو میں تسلیم کیا کہ انھیں رقم کی پیشکش ہوئی ہے۔

اخبار میں چھپنے کے بعد اس خبر کو افریقہ میں بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔

اس میں کوئی شک نھیں کہ 11 مئی کو صدر راجولینا کا چینل 24 پر انٹرویو نشر ہوا لیکن اس میں کسی مقام پر بھی انھوں نے ایسا کوئی الزام عائد نہیں کیا کہ انھیں کورونا وائرس کی مقامی دوا کو ناکام بنانے کے لیے کی رقم کی پیشکش کی گئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ جھوٹی خبر ہے۔ اس کے علاوہ میڈاگاسکر کی حکومت نے بھی ان الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔

میڈاگاسکر کی حکومت کے ایک ترجمان لووا رینورامورو نے کہا کہ جب سے 'کووڈ آرگینکس' کو متعارف کروایا گیا ہے، اس وقت سے صدر آندری راجولینا سے کچھ ایسے الفاظ منسوب کیے گئے ہیں جو انھوں نے کبھی نہیں کہے۔

کوڈ آرگینکس نامی جڑی بوٹیوں سے تیار مشروب اب میڈاگاسکر میں تیار کیا جا رہا ہے اور کئی افریقی ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے۔ البتہ اس بات کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے کہ یہ مشروب کورونا وائرس کے مرض پر قابو پانے میں کارآمد ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ وہ روایتی علاج کی قدر کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ ایسی دوا لینے سے گریز کریں جس کا ابھی ٹیسٹ نہیں کیا گیا ہے۔

2) تنزانیہ کی وزیر صحت کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی جھوٹی خبر

تنزانیہ کی وزیر صحت اومے موالیمو کے بارے میں سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکی ہیں۔ اس خبر کو ایک ممتاز صحافی نے بھی ٹوئٹر پر شیئر کیا۔

یہ خبر درست نہیں ہے۔

اس خبر کی بنیاد ایک سکرین شاٹ تھا جس میں خبر کا خالق دعویٰ کر رہا ہے کہ وزیر صحت نے اپنا کورونا ٹیسٹ کے مثبت آنے کے بعد اسے پوسٹ کیا تھا۔

سواہیلی زبان میں ٹویٹ کیے گئے پیغام میں کہا گیا : ’بدقسمتی سے میرا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے لیکن میں دور بیٹھ کر بھی اپنے ملک کی ایسے ہی خدمت جاری رکھوں گی جیسے میں فرنٹ لائن سے کر رہی تھی جب تک میں بہتر نہیں ہو جاتی۔‘

یہ خبر وزیر صحت کی ٹوئٹر ٹائم لائن پر موجود نہیں ہے۔ متعلقہ وزیر اور وزارت صحت نے ان خبروں کو من گھڑت قرار دیا ہے۔

3) جنوبی سوڈان کا وائرس کے خلاف نقلی کارڈز کا استعمال

جنوبی سوڈان کے صدر سالوا کیر اور دوسرے سینیئر اہلکار کورونا وائرس کو دور بھگانے کے لیے ’حفاظتی‘ کارڈ اپنے جسم پر لگائے پھر رہے ہیں۔

صدر سلوا کے پریس یونٹ نے فیس بک پر ایسی تصاویر شیئر کی ہیں جس میں صدر سالوا اور دوسرے اعلیٰ عہدیدار تمغہ نما کارڈ سینے پر لگائے نظر آ رہے ہیں جو ’ایئر ڈاکٹر‘ اور ’وائرس شٹ آؤٹ‘ کے نام سے آن لائن فروخت کیے جا رہے ہیں۔

کوئی ایسی شہادت موجود نہیں ہے کہ یہ کارڈ پہننے والے کورونا وائرس سے محفوظ رہتے ہیں۔

جب بی بی سی نے جنوبی سوڈان کی حکومت کے ترجمان سے ان کارڈوں کے حوالے سے بات کی تو انھیں بتایا گیا کہ انھیں ’کسی نے‘ جاپانی حکومت کی طرف سے یہ تحفے میں دیے ہیں۔

حکومتی ترجمان نے کہا کہ ان کارڈز کے استعمال کو روک دیا گیا ہے کیونکہ وہ عالمی ادارہ صحت سے منظور شدہ نہیں ہیں۔

جنوبی سوڈان میں جاپانی سفارت خانے نے ان تمغہ نما کارڈز سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

اسی طرزکی چیزیں انٹرنیٹ پر فروخت کی جا رہی ہیں اور روسی پارلیمنٹ کے کچھ اراکین کو بھی ایسے کارڈ پہنے دیکھا گیا ہے۔

ان کارڈز سے کلورین ڈائی آکسائیڈ جاری ہوتا ہے جو صحت کے لیے مضر ہے۔ امریکی ریگولیٹر نے اس کے استعمال کے حوالے سے وارننگ جاری کر رکھی ہے۔

4) صدر مگوفلی نے ماسک کیوں نہیں پہنا؟

سوشل میڈیا پر ایسے گمراہ کن پیغامات شیئر کیے جا رہے ہیں کہ تنزانیہ کے صدر مگوفلی نے عوامی مقامات پر ماسک پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ان پیغامات میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر مگوفلی نے کہا ہے کہ ماسک پہننے سے خوف پیدا ہو گا اور غیر ملکی سیاح ملک میں آنے سے گھبرائیں گے۔

ان دعوؤں کی بنیاد بھی ایک سکرین شاٹ کو بنایا گیا ہے جو مبینہ طور پر صدر مگوفلی کے ایک پیغام کے حوالے سے تھا لیکن یہ سکرین شاٹ بھی جعلی تھا۔

صدر مگوفلی کے ترجمان نے لوگوں سے کہا کہ وہ ان جھوٹے دعوؤں کو نظر انداز کریں۔ تنزانیہ کی حکومت اپنے شہریوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ عوامی مقامات پر ماسک پہنیں اور سماجی فاصلوں کی ہدایت پر مکمل عمل درآمد کریں۔

البتہ تنزانیہ کی حکومت کورونا وائرس کے مریضوں کے بارے میں اعداد و شمار کو تواتر کے ساتھ جاری نہیں کر رہی جس سے ایسے خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ صدر مگلوفلی وائرس کے اثرات کو کم بتانے کی کوشش کررہے ہیں۔