دنیا بھر کے کروڑوں لوگ کورونا کے وبائی مرض سے نجات پانے کے لیے اس کی ویکسین کے منتظر ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ویکسین بنانے کے عمل پر کتنی تیز رفتاری سے کام کیوں نہ کیا جائے اس میں وقت لگ سکتا ہے اور اگر بہت خراب صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی ویکسین دریافت نہیں بھی ہو سکتی۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ہیلتھ ایمرجنسی کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا: ’اس وائرس کے ساتھ ہمیں رہنا پڑ سکتا ہے۔‘

بہرحال اس وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے کا امکان تباہ کن ہو سکتا ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اب تک تقریبا 70 لاکھ افراد اس کی زد میں آ چکے ہیں اور انفیکشن سے چار لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ویکسین کی تلاش برسوں یا عشروں تک جاری رہ سکتی ہے۔

یہ کوششیں ضائع بھی ہو سکتی ہیں اور اچھے نتائج بھی آ سکتے ہیں جیسا کہ ایبولا کی صورت میں دیکھا گیا۔

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

کورونا وائرس کی وبا سارس سے بڑی مگر کم مہلک

کورونا:جانوروں سے انسانوں میں منتقلی کی کڑیاں شاید کبھی نہ ملیں

سنہ 1976 میں پہلی بار ایبولا کے بارے میں پتا چلا تھا۔ اس وقت اس سے مرنے والوں کی اموات کی شرح 50 فیصد تھی۔ رواں سال کے آغاز تک اس کی کوئی ویکسین تیار نہیں کی جا سکی تھی۔ عالمی ادارہ صحت اور کچھ دوسرے ممالک نے آخرکار اس کی روک تھام کے لیے ایک ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔

لیکن ہم یہاں ایسے چار دوسرے مہلک وائرس کا ذکر کر رہے ہیں جن کی ویکسین ابھی تک تیار نہیں کی جا سکی ہے۔

ایچ آئی وی

ایچ آئی وی وائرس کے بارے میں پتا چلے تیس برس سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ایچ آئی وی وائرس کی وجہ سے ایڈز ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں اب تک تین کروڑ 20 لاکھ افراد کی ایڈز کے مرض کی وجہ سے جان جا چکی ہے۔

ایچ آئی وی نے لوگوں کے طرز زندگی پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔ لوگ اپنی جنسی عادتوں کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے کیونکہ ایچ آئی وی انفیکشن کی بنیادی وجہ جنسی تعلق ہے۔

ایڈز کے ابتدائی کیسز ہم جنس پرست لوگوں میں پائے گئے تھے۔ اسی وجہ سے اس بیماری سے بدنامی کا ایک احساس منسلک ہو گیا تھا۔ میڈیا کے کچھ حصوں میں اسے ’ہم جنس پرستوں کا کینسر‘ بھی کہا گیا۔

آج تقریبا چار دہائیوں کے بعد بھی اس کی کوئی دوا نہیں بنائی جا سکی ہے۔ پوری دنیا میں چار کروڑ افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

وائرس کے خاتمے کی بات ابھی دور کی بات لگتی ہے۔

تاہم احتیاط کے ذریعے اس سے بچا جا سکتا ہے اور علاج سے اس کے اثر کو کم کیا جا سکتا ہے تاکہ متاثرہ شخص معمول کی زندگی گزار سکے۔

حال ہی میں دو ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کا علاج سٹیم سیل کی مدد سے کیا گیا لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ علاج خطرناک ہو سکتا ہے اور یہ ایچ آئی وی انفیکشن کے تمام معاملات میں نہیں آزمایا جا سکتا ہے۔

ایویئن انفلوئنزا

نوے کی دہائی کے آخر سے لے کر اب تک دو قسم کے ایویئن انفلوئنزا سامنے آ چکے ہیں اور بہت سے لوگ اس کے انفکشن سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ وائرس پرندوں کے فضلے سے انسانوں میں پھیلتا ہے۔ ایچ فائیو این ون وائرس کا پہلی بار سنہ 1997 میں ہانگ کانگ میں پتا چلا تھا۔ اس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر وہاں مرغیوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

اب تک یہ وائرس افریقہ، ایشیا اور یورپ کے پچاس سے زیادہ ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ اس وائرس کی وجہ سے اموات کی شرح 60 فیصد ہے۔ مئی سنہ 2013 میں چین میں ایچ سیون این نائن وائرس کا پتا چلا تھا جہاں اس وائرس کے انفیکشن کے متفرق واقعات سامنے آئے تھے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق سنہ 2013 سے 2017 کے درمیان مجموعی طور پر 1565 انفیکشن کی اطلاعات ملیں جن میں سے 39 فیصد کی موت ہو گئی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق انسانوں سے انسانوں میں اس وائرس کا پھیلنا غیر معمولی ہے۔ ایک بار ثابت ہو جانے پر اسے روکنا آسان ہوتا ہے۔

سارس

سارس کووی ایک قسم کا کورونا وائرس ہی ہے۔ اس کے بارے میں پہلی بار سنہ 2003 میں انکشاف ہوا تھا۔ اب تک کی دریافت کی بنیاد پر یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ چمگادڑوں سے انسان میں آیا ہے۔

سنہ 2002 میں چین کے صوبہ گوانگجو میں اس انفیکشن کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔ یہ وائرس سانس لینے میں شدید دشواری کا باعث ہے۔ سنہ 2003 میں 26 ممالک میں 8000 سے زیادہ افراد اس سے متاثر ہوئے تھے۔

اس کے بعد سے اس سے انفیکشن کے کم ہی کیس سامنے آئے ہیں۔

ایویئن انفلوئنزا کے برعکس اس وائرس کا انفیکشن بنیادی طور پر انسانوں سے ہی انسانوں میں ہوتا ہے اور درحقیقت صحت کے مراکز میں ہی اس کی وجہ سے انفیکشن کے زیادہ واقعات رونما ہوتے ہیں کیونکہ اس کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ احتیاطی تدابیر نہیں کی گئی تھیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق جیسے ہی انفیکشن کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں ویسے ہی جولائی سنہ 2003 میں اس کا انفیکشن رک گیا۔

اس وائرس کے 8400 سے زیادہ کیس سامنے آئے، جن میں 916 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اموات کی شرح 11 فیصد ہے۔

مارس

مارس کووی بھی ایک قسم کا کورونا وائرس ہے۔ اس کا انکشاف پہلی بار سنہ 2012 میں ہوا تھا۔ اس کی وجہ سے مارس نامی بیماری ہوتی ہے۔ اس بیماری میں اموات کی شرح زیادہ ہے۔ نومبر سنہ 2019 تک پوری دنیا میں 2494 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے تھے اور ان میں سے 858 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس وائرس کے بارے میں پہلے سعودی عرب میں پتا چلا تھا لیکن اس کے بعد سے یہ وائرس 27 ممالک میں پایا گیا۔ ان میں مشرق وسطیٰ کے 12 ممالک شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق مشرق وسطیٰ سے باہر کے ممالک، جہاں انفیکشن کے یہ واقعات پائے گئے ہیں وہ بھی دراصل اسی خطے سے آئے ہیں۔

بنیادی طور پر یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں پھیلتا ہے۔ عربی اونٹ کو اس وائرس کا بنیادی ماخذ سمجھا جاتا ہے۔

انسانوں سے انسانوں میں انفیکشن کا معاملہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔ مارس اور سارس دونوں معاملات میں صورتحال قابو میں آنے کے بعد ویکسین بنانے کی کوششیں ملتوی کر دی گئیں۔