امریکہ سمیت دنیا بھر میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد نسلی امتیاز اور پولیس تشدد کے خلاف بڑے مظاہرے 12ویں روز بھی جاری ہیں۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہزاروں افراد نے شہر میں اب تک کے سب بڑے مظاہرے میں شرکت کی۔ اس دوران سکیورٹی فورسز نے وائٹ ہاؤس کی جانب جانے والے تمام راستوں کو بند کر رکھا تھا۔

اسی سلسلے میں نیویارک، شکاگو، لاس اینجلس اور سین فرانسسکو سمیت دیگر امریکی ریاستوں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کی مذمت میں ڈی سی کی میئر نے پلازے کا نام ’بلیک لائیوز میٹر‘ رکھ دیا

جارج فلائیڈ ہلاکت: احتجاج اور کرفیو کے دوران پولیس کی بربریت کی مزید ویڈیوز

سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد امریکہ بھر میں مظاہرے، انصاف کا مطالبہ

اس دوران متعدد افراد نے جارج فلائیڈ کی جائے پیدائش شمالی کیرولائنا میں ان کی یاد میں منعقدہ تقریب کے دوران انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔

یاد رہے کہ رواں برس 25 مئی کو امریکہ میں سیاہ فام نہتے شہری جارج فلائیڈ پولیس کی تحویل میں ہلاک ہوئے تھے۔ عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک سفید فام پولیس افسر نے انھیں زمین پر دبوچا ہوا ہے اور وہ ان کی گردن کو تقریباً نو منٹ تک اپنے گھٹنے سے دباتے رہے۔

پولیس افسر ڈیرک شوون کو برطرف کر دیا گیا تھا اور ان پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر تین پولیس اہلکاروں پر بھی اس قتل میں مدد کرنے اور قتل کی حوصلہ افزائی کرنے کے الزامات عائد کیےگئے ہیں۔

دیگر ممالک میں بھی نسل پرستی کے خلاف بڑے مظاہرے کیے گئے۔ برطانیہ میں وسطی لندن متعدد افراد نے پارلیمنٹ سکوائر میں حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے باعث مظاہرے نہ کرنے کے تنبیہ کے باوجود اکھٹے ہوئے۔

اس کے علاوہ آ سٹریلیا، جرمنی، سپین اور فرانس میں بھی نسلی امتیاز اور پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کیے گئے۔

برطانیہ میں مظاہرین نے ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ گرا دیا

برطانیہ میں مظاہرین نے 17 ویں صدی میں غلاموں کی خرید و فروخت کرنے والے ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ اکھاڑ کر دریا میں پھینک دیا۔ یہ برطانیہ میں نسلی امتیاز کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا دوسرا دن تھا۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب سنیچر کے روز لندن میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق کم از کم 27 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔

میٹروپولیٹن پولیس کمشنر کریسیڈا ڈک نے مظاہرین سے کہا کہ وہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے کوئی دوسرا طریقہ اپنائیں۔

تاہم ہزاروں مظاہرین دوسرے روز بھی لندن میں امریکی سفارت خانے کے باہر جمع ہوئے جس کے بعد انھوں نے وائٹ ہال کی جانب ریلی نکالی۔

اس کے علاوہ مانچسٹر، وولورہیمپٹن، ناٹنگھم، گلاسگو اور ایڈنبرا میں بھی مظاہرے ہوئے۔

برسٹل میں مظاہرین نے رسیوں کے ذریعے پیتل سے بنے ایڈورڈ کولسٹن کے مجسمے کو گرا دیا۔ ان کا مجسمہ اس سے قبل بھی شہر میں تنازعات کی وجہ بنا ہے۔

کولسٹن دراصل رائل افریقی کمپنی کے رکن تھے جو افریقہ سے امریکہ کو 80 ہزار مرد خواتین اور بچے غلامی کے لیے پہنچایا کرتی تھی۔

سنہ 1721 میں ان کی وفات پر انھوں نے اپنی تمام دولت فلاحی اداروں میں تقسیم کر دی اور یہی وجہ ہے کہ یہاں متعدد سڑکیں ان کے نام سے منسوب ہیں۔

جب یہ مجسمہ گر گیا تو مظاہرین میں سے ایک شخص نے اس کی گردن پر گھٹنا رکھا، جیسے جارج فلائیڈ کی گردن پر رکھا گیا تھا، اور تصویر کھنچوائی۔

اس کے بعد اس مجسمے کو برسٹل کی گلیوں میں گھسیٹا گیا اور پھر دریا میں پھینک دیا گیا۔ اس مجسمے کے اکھڑنے کے باعث خالی ہونے والی جگہ کو سٹیج کے طور پر استعمال کیا گیا۔

برطانیہ کی سیکریٹری داخلہ پریتی پٹیل نے اس واقعے کو 'ذلت آمیز' قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس طرح کے مظاہرین کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اصل مقصد سے توجہ ہٹا دیں گے۔

ایوون اینڈ سمرسیٹ پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی۔

امریکہ میں مظاہروں میں کیا ہوا؟

واشنگٹن ڈی سی میں اس حوالے سے سب سے بڑا مظاہرہ ہوا اور 'بلیک لائیوز میٹر' یعنی (سیاہ فام زندگیاں اہم ہیں) کے بینر اٹھائے مظاہرین کیپیٹول، لنکن میموریئل اور وائٹ ہاؤس کے نزدیک واقع لفاییٹ پارک کے باہر بلیک لائیوز میٹر پلازہ کے سامنے جمع ہوئے۔

ڈی سی کی میئر موریئل باؤسر نے لوگوں کو خوش آمدید کہا اور مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس مظاہرے کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیغام پہنچ گیا ہے۔

گذشتہ پیر کو، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین پر آنسو گیس فائر کی گئی تھی کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس علاقے میں ایک گرجہ گھر کے دورے پر جانا تھا۔

اس موقع پر میئر کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ (صدر ٹرمپ) واشنگٹن ڈی سی کا انتظام سنبھال سکتے ہیں تو پھر وہ کسی بھی دوسری ریاست کے امور میں مداخلت کر سکتے ہیں اور پھر ہم میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ہمارے فوجیوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں ہونا چاہیے، انھیں امریکی شہریوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم نہیں دینا چاہیے۔‘

باؤسر نے پہلے ہی تمام وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نیشنل گارڈ کے دستوں سے شہر چھوڑنے کی درخواست کر دی تھی اور کہا تھا کہ ان کی موجودگی غیر ضروری ہے۔

مظاہرے میں شریک 35 سالہ ایرک ووڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں یہاں اس لیے ہوں کیوںکہ یہاں میری موجودگی ناگزیر ہے۔ نسلی امتیاز ایک عرصے سے امریکہ کا حصہ رہا ہے۔‘

46 سالہ کرسٹل بالنگر کا کہنا تھا کہ وہ اس مرتبہ اس تحریک کے حوالے سے پرامید ہیں۔

'مجھے اس مظاہرے کے حوالے سے مختلف محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ مجھے امید ہے کہ اس کے باعث یکجہتی اور مساوات کا پیغام لوگوں تک پہنچ رہا ہے۔'

متعدد شہروں میں مظاہروں کے نتیجے میں لگائے جانے والے کرفیو اب اٹھا لیے گئے ہیں۔ پابندیوں میں نرمی کے بعد گرفتاریاں بھی کم ہو گئی ہیں۔

تاہم سنیچر کی شب ریاست اوریگن کے شہر پورٹلینڈ میں پولیس کی جانب سے غیرقانونی طور پر ایک جگہ جمع ہونے اور املاک کو نقصان پہنچانے پر پچاس کے قریب گرفتاریاں کی گئی تھیں۔

سیئیٹل پولیس کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے ان پر آتش گیر مواد پھینکا گیا جس سے متعدد افسران زخمی بھی ہوئے ہیں۔

نیویارک میں مظاہرین نے بروکلن برج پار کیا جبکہ سین فرانسسکو میں گولڈن برج کو مختصر دورانیے کے لیے بند کیا گیا۔ شکاگو میں 30 ہزار کے قریب افراد نے یونین پارک میں ریلی نکالی جبکہ لاس اینجلس میں بھی کچھ مقامات کو بند کیا گیا۔

امریکی ریاست ورجینیا کے شہر رچمنڈ میں میں کنفیڈریٹ جنرل کا مجسمہ گرا دیا گیا۔

ریاستوں ایٹلانٹا اور فلاڈیلفیا میں بھی مظاہرے ہوئے اور ’ہمیں انصاف چاہیے، ہمیں محبت چاہیے‘ کے نعرے لگائے گئے۔

اخبار فلاڈیلفیا انکوائرر کے سینیئر مدیر کو اس لیے استعفیٰ دینا پڑا کیونکہ انھوں نے ایک شہ سرخی میں املاک کو ہونے والے نقصان کا موازنہ سیاہ فام افراد کی اموات سے کیا جس کے باعث اخبار کے سٹاف کی جانب سے اس شہ سرخی کی شدید مذمت کی گئی۔

سٹین وشنووسکی نے معافی مانگی اور کہا کہ امریکہ میں پرتشدد مظاہروں کے حوالے سے ’عمارتیں بھی اہم ہیں‘ کی شہ سرخی لگانا ’بالکل غلط‘ فیصلہ تھا۔

بفلو میں دو پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان افسران کو ایک ویڈیو میں مظاہرین میں سے ایک 75 سالہ بزرگ کو دھکا دیتے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد یہ عمر رسید شخص شدید زخمی بھی ہوئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رات گئے کی جانے والی ٹویٹس میں پولیس، خفیہ ادراوں اور نیشنل گارڈ کا ’بہترین کارکردگی‘ پر شکریہ ادا کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ واشنگٹن میں جمع ہونے والے مظاہرین ’توقع سے کافی کم تھے۔‘

ابھی تو تحریک کا آغاز ہوا ہے

واشنگٹن ڈی سی سے بی بی سی نیوز کی ہیلیئر شیونگ نے بتایا کہ یہاں ہونے والے مظاہرے میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد، خاندان اور بچے بھی موجود تھے جس سے ایک پرعزم اور خوشگوار ماحول پیدا ہو گیا تھا۔

وہاں موسیقی کا انتظام بھی تھا اور کھانے پینے کی اشیا، ہینڈ سیناٹائزر بھی لوگوں کو فراہم کیے جا رہے تھے۔ یہاں لوگ ’جارج فلائیڈ‘ اور ’بریونا ٹیلر‘ کے نعرے لگارہے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ ’انصاف نہیں تو امن نہیں‘۔

مظاہرین میں موجود دو بہنیں 20 سالہ سیرینا لیکروئے اور 16 برس کی گریس نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ کسی مظاہرے میں شریک ہو رہی ہیں اور انھیں یقین ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر عوامی غم و غصے اور ملک گیر احتجاجوں کے باعث پولیس کے نظام میں اصلاحات ہو سکتی ہیں۔

سیرینا نے کہا کہ ’ابھی تو اس تحریک کا آغاز ہے لیکن اس میں اس سے قبل ہونے والے مظاہروں کی نسبت زیادہ یکجہتی نظر آتی ہے۔‘

کچھ بینرز پلیکارڈز پر یہ بھی لکھا تھا کہ سفید فام افراد کو بھی ان مظاہروں میں شریک ہونا چاہیے۔ مظاہرین میں سے ایک شخص کی جانب سے اٹھائے گئے پلیکارڈ پر درج تھا، ’میں شاید کبھی نہ سمجھ پاؤں، لیکن میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں۔‘

مظاہرین چاہتے کیا ہیں؟

سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بھی جو افراد اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں انھوں نے منتخب نمائندوں کی توجہ منظم نسلی امتیاز اور پولیس تشدد کے جانب دلوائی ہے۔

این اے اے سی پی کے مطابق سفید فام شہریوں کی نسبت پانچ گنا زیادہ سیاہ فام امریکی شہریوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے جبکہ چھ گنا زیادہ سیاہ فام شہریوں کو منشیات کے الزام میں سزا دی جاتی ہے۔ حالانکہ دونوں میں ہی منشیات کا استعمال تقریباً یکساں ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سفید فام ماؤں کی نسبت دو گنا زیادہ سیاہ فام مائیں حمل کے دوران ہلاک ہو جاتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے دہائیوں سے برتے جانے والے امتیازی سلوک کے باعث سکولوں کے نظام، ہاؤسنگ اور دیگر عوامی حوالہ جات میں عدم مساوات نظر آتی ہے۔

سنہ 2019 میں تحقیقی مرکز پیو کی جانب سے کی جانب والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہر 10 میں آٹھ سیاہ فام شہری یہ سمجھتے ہیں کہ ماضی میں سیاہ فاموں کو بطور غلام استعمال کرنے کی وراثت آج کے سیاہ فام امریکیوں کے درجے پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ان میں سے نصف کا خیال ہے کہ امریکہ میں شاید کبھی بھی صحیح معنوں میں نسلی امتیاز نہیں دیکھا جائے گا۔