عام طور پر جنگ کے وقت کے لیے موزوں زبان کو کووڈ 19 کے وبائی امراض کے لیے زندہ کیا جا رہا ہے لیکن کیا ہم کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ماضی کے معرکوں سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟

جنوری 1941 میں ونسٹن چرچل نے برطانیہ کی پارلیمنٹ کے دارالعوام سے ایک بہت ہی اداس کرنے والا خطاب کیا۔

انھوں نے دوسری جنگ عظیم کے ایک انتہائی تاریک دور میں کہا: 'ہماری سلطنت اور در حقیت انگریزی بولنے والی دنیا ایک انتہائی تاریک اور مہلک وادی سے گزر رہی ہے۔ لیکن میں اپنے فرض کی ادائیگی میں ناکام رہوں گا اگر میں آپ کو صحیح صورتحال سے آگاہ نہ کر سکوں کہ ایک عظیم قوم کو جنگ کا سامنا ہے۔'

دوسری جنگ عظیم اور موجودہ کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے مابین ان دنوں بہت موازنہ ہو رہا ہے۔

نیویارک کے گورنر اینڈریو کوومو، جنھیں جنگ کے وقت کے صدر سے موازنہ کیا گیا ہے، نے اپنی روزانہ کی بریفنگ کو جنگی زبان میں تیار کیا ہے۔ جس میں انھوں نے بیماری کے گراف کے خط کو 'پہاڑ کی چوٹی پر اگلی جنگ' کہا ہے جبکہ 'وینٹیلیٹرز کی اہمیت کو دوسری جنگ عظیم کے دوران بم کی اہیمت' کے مترادف قرار دیا ہے۔

دریں اثنا یورپی رہنما ایک ناگزیر 'ڈی ڈے' کی بات کر رہے ہیں جبکہ وبائی مرض کے سامنے ہسپتال بے بس نظر آئیں گے اور اس کے خلاف جنگ کو ایک نہ نظر آنے والے دشمن کے خلاف جنگ کہا ہے۔

صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکن محاذوں پر ہیں، سائنس دان نئے جرنیل ہیں، ماہرین معاشیات جنگی منصوبے تیار کر رہے ہیں، سیاست دان موبیلائیزیشن کی اپیل کر رہے ہیں۔

ابھی چند ہفتے پہلے ملکہ الزبتھ دوم نے برطانوی عوام سے وہی نظم و ضبط اپنانے اور اسی جذبے کی تاکید کی جو لوگوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران دکھایا تھا۔ ملکہ نے ایک نادر ٹیلی ویژن خطاب کے دوران یاد کرتے ہوئے کہا: 'اس سے مجھے میری پہلی براڈکاسٹ یاد آ رہی ہے جو میں نے اپنی بہن کی مدد سے سنہ 1940 میں کی تھی۔'

مشکل وقت میں خوش رہنے کے چند کارگر نسخے

لاک ڈاؤن میں ایک حاملہ خاتون پر کیا گزرتی ہے؟

کورونا وائرس: ٹیلی کلینک آپ کے لیے کیسے مددگار؟

کووڈ 19 کے مردوں اور عورتوں پر اثرات مختلف کیوں؟

آن لائن ڈیٹنگ اور چھت پر ڈِنر، لاک ڈاؤن میں ڈیٹنگ کی کہانیاں

اپنے پیاروں کی آخری رسومات میں شرکت نہ کرنے والوں کا دکھ

کیا لاک ڈاؤن کے دوران کھانے پینے کی عادات تبدیل ہونے پر پریشان ہونا چاہیے؟

اگر چہ کورونا وبائی مرض بہت سے اہم معاملات میں جنگ سے مختلف ہے لیکن یہ انھی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں جو کہ کسی عالمی ہنگامی صورتحال کے دوران استعمال کیے جاتے ہیں۔

پیداوار میں اضافے سے لے کر وسائل کی تیز بحالی، سرکاری نگرانی میں اضافے کے ساتھ ترغیبی منصوبوں یہاں تک کہ راشننگ وغیرہ جیسے اقدامات سنہ 2020 میں وائرس کے خلاف جنگ میں بڑے ملکوں کو ایک بار پھر سے جنگی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

کیا دوسری جنگ عظیم کے دوران نظر آنے والے اجتماعی اضطراب، ہنگامی اقدامات، قومی ہم آہنگی کی ضرورتوں اور معاشرے میں آنے والی ڈرامائی تبدیلیوں سے اس ضمن میں کوئی سبق حاصل کر سکتے ہیں؟

کیا 'متحدہ محاذ' کے جدید تصور میں کوئی غلط فہمی ہے؟ یعنی ایک ایسی غلط فہمی جو وبائی امراض کے پس منظر کے خلاف کام کرے گی؟ مشترکہ قربانی کیسی ہوگی اور اس بار یہ ہمارے مستقبل کی تشکیل کیسے کرے گی؟

جنگ کے وقت کی نفسیات کی طرح کورونا وائرس وبائی امراض کے بارے میں جتنی ہماری سمجھ ہے یعنی جس طرح اس بیماری کی اپنے آپ میں سمت و رفتار ہے جو کہ غیر واضح ہے اور تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

جب سیاست دان (یا صحافی) وبائی مرض اور جنگ کے درمیان آسان مماثلت تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ خطرناک مفروضے قائم کر سکتے ہیں۔

وہ موازنے جو عسکریت پسندی، منظم تشدد یا سویلین کے بے قابو ہونے کے خطرے پر منبی ہیں وہ کارآمد نہیں ہیں۔ یہ توجہیات نقصان دہ بھی ہوسکتی ہیں بطور خاص ایسی صورت حال میں جب ہر لمحے نئی معلومات آ رہی ہیں اور ڈیٹا میں مسلسل تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

نارتھ کیرولینا یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر مارک آر ولسن کا کہنا ہے کہ 'مثال کے طور کورونا وائرس کے خلاف جنگ سے ہماری صحت کا نظام یا عالمی تجارت میں بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔ ہم اپنے تخیل کو قلیل مدت تک جاری رہنے والی سرگرمی تک محدود کر دیتے ہیں۔'

سازوسامان کی کمی، صحت کی دیکھ بھال میں عدم مساوات، ہنگامی پروٹوکول کی غیر موجودگی، وفاقی اور مقامی پالیسیوں کے درمیان ٹکراؤ، غربت اور معاشرتی عدم مساوات جیسے بڑے عالمی سطح کے مسائل کووڈ کے خلاف جنگ سے حل نہیں ہوتے اگرچہ یہ جنگ مجازی یا استعاری ہی کیوں نہ ہو۔

ولسن کا مزید کہنا ہے کہ 'بحران کے دوران اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے اس کے لیے کوئی خودکار فارمولا موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کو ماضی میں دلچسپی لینا چاہیے اور وہ ماضی میں دلچسپی لے سکتے ہیں۔'

دوسری جنگ عظیم کے دوران جہازوں، ٹینکوں اور بمباروں جیسی اشیا کی پیداوار میں اچانک تیز رفتاری لانے کی اشد ضرورت کی وجہ سے ایک متحرک معاشی نظام کی صورت پیدا ہوئی۔

امریکہ اور عظیم برطانیہ نے بطور خاص سویلین مصنوعات بنانے والی اپنی فیکٹریوں کو جنگی سازوسامان بنانے والی فیکٹریوں میں تبدیل کر دیا۔

کار بنانے والوں نے اس کے بجائے فوجی ٹرک بنانا شروع کر دیا۔ گھڑی ساز کمپنیاں اور پلمبنگ صنعت کاروں نے گولہ بارود کارتوس ڈیزائن کرنا شروع کردیا۔ ریشمی موزوں کو پیراشوٹ بنانے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

پچھلے مہینے سے ہم ایک بار پھر تبدیلی کے اس رجحان کو دیکھ رہے کہ پوری دنیا میں کمپنیاں اس وبا کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش میں اپنی صنعت کو تبدیل کر رہی ہیں۔

پرتعیش برانڈ لوئس ووٹن نے صرف 72 گھنٹوں میں اپنی پرفیوم ڈسٹلری میں عام طور پر استعمال ہونے والے الکحل سے ہینڈ سینیٹائزرز تیار کرنا شروع کر دیا اور اس کے بعد اسے فرانس بھر کے ہسپتالوں میں تقسیم کیا۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر جنگی ٹینک تیار کرنے والی امریکی آٹو موبل کمپنی ایک بار پھر سامنے آئی ہے اور اس بار وہ ہزاروں وینٹیلیٹرز تیار کر رہی ہے جبکہ برطانیہ میں لباس کے تاجروں نے فیشن کی دنیا سے رخ موڑ کر این 95 ماسک بنانے شروع کر دیے ہیں جس کی دنیا بھر میں طلب بڑھ گئی ہے۔

دنیا بھر کی ایئر لائنز نے بیرون ملک پھنسے ہوئے شہریوں کی وطن واپسی اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور طبی سازو سامان کو شدید طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچانے کے لیے چارٹرڈ پروازیں شروع کردی ہیں۔

یو ایس این ایس کمفرٹ جیسے بحری ہسپتال جو کہ جنگ میں زخمی ہونے والوں کے علاج کے لیے تھے اب وہ دوسرے ہسپتالوں کے لیے امدادی کام کر رہے ہیں جو کہ کووڈ 19 کے مریضوں سے بھر گئے ہیں۔

از سر نو تعیناتی کا یہ حساب کتاب صرف سازوسامان اور خدمات پر ہی نہیں بلکہ انسانی سرمائے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

نیورو سرجنز، دل کے امراض کے ماہرین، طبی طالبہ و طالبات سبھی کو ہنگامی علاج کے وراڈز اور انتہائی نگہداشت والے وارڈز میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

استقبالیہ پر عام طور پر بِلنگ کا معاملہ دیکھنے والوں کو اچانک کورونا وائرس کے مریضوں کی اسکریننگ کرنے کا کام سونپ دیا گیا ہے تاکہ کام کرنے والوں کی شدید قلت کو کسی حد تک پورا کیا جائے۔

ریستوران کے کارکنان ہنگامی دیکھ بھال کرنے والی نرسوں کے لیے بڑے پیمانے پر کھانا بنانے پر مامور ہیں جبکہ والدین اپنے بچوں کے کل وقتی اساتذہ بن چکے ہیں، جب کہ ہوٹل کے مینیجر کو صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کے طور پر تربیت دی جا رہی ہے کہ وہ کس طرح ہیلتھ کیئر سے منسلک لوگوں کے دروازے کھولیں۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران پیداوار میں اضافے کے لیے طے کیے جانے والے اقدامات پر عمل درآمد میں مہینوں لگ جاتے تھے۔ لیکن آج ہمیں یہ لگتا ہے کہ ہمارے پاس مہینے نہیں بلکہ ہفتے ہی ہیں۔

اور ہماری موجودہ کوششیں بس پیوندکاری ہی لگ رہی ہیں۔

اس کے برعکس دوسری عالمی جنگ کی موبیلائیزیشن کی بے مثال کوششوں مثلاً اس کی ڈرامائی پیداوار، منافع پر قابو پانے اور وفاقی ضابطہ بندی وغیرہ سے کورونا وائرس کے اگلے مرحلے کے متعلق سبق لیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ انھوں نے جنگ کے دوران کیا اسی طرح اہلکار بالکل نئی فیکٹریوں کو فنڈ دینے اور انھیں مشینری اور اوزار (اس معاملے میں، وینٹیلیٹرز یا ذاتی حفاظتی پوشاک) سے آراستہ کرسکتے ہیں۔

موجودہ نظام کو تبدیل کرنے کے بجائے کووڈ 19 کے لیے نئی مختص سہولیات کے قیام سے حکومتیں صلاحیت میں اضافہ کر سکتی ہیں اور اس سے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

آئندہ کئی مہینوں تک یہ فیکٹریاں اینٹی باڈی ٹیسٹ اور ایک ویکسین بنانے میں تیزی لانے کا کام کر سکتی ہیں اور حکام بحران کے معیار کی مزید ضابطہ بندیاں کر سکتے ہیں جیسے کہ خاص مریض کے لیے کسی علاج کی تفویض یا پھر طبی آلات یہاں تک کہ کھانے کے معاملے میں راشننگ بھی کر سکتے ہیں۔

ان اقدامات کی قلیل مدتی مالی لاگت بہت زیادہ ہوگی لیکن اس کا فائدہ بھی ہوگا ہے۔

در حقیقت کورونا وائرس پھیلاؤ کے بعد کے مہینوں میں تیز حکومتی اقدامات کے بہتر نتائج بھی نظر آئے ہیں۔ مثال کے طور پر چین میں ہزاروں کارکنوں نے سرکاری احکامات پر فیلڈ ہسپتال بنایا۔ ماڈیولر تعمیر اور تیز موبیلائیزیشن کا مطلب تھا کہ کچھ ہی دنوں میں ہزاروں مزید کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج کیا جاسکتا ہے۔

وفاقی طور پر نافذ کی جانے والی سماجی دوری نے بھی ٹائم لائن کو کم کرنے کا کام کیا ہے۔

یہ ایک طرح کی انفرادی قربانی ہے جو گھر کی سطح پر جنگ کے وقت کے تناؤ کی یاد دلاتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے 'قربانی میں برابری' کے پیغام پر مزدور رہنماؤں اور یونین کے عہدیداروں نے زور دیا جبکہ زیادہ ترقی پسند ٹیکسوں اور حکومتی ضابطوں کے ذریعہ اس کو پھیلایا گیا۔ لیکن یہ آج کے سیاسی اور مالی تناظر میں ناقابل عمل ہے۔ لیکن حالیہ ہفتوں میں لوگوں نے تعمیل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

یہاں تک کہ زیادہ بھلائی کے لیے ذاتی قربانیاں بھی دیں۔

امریکی تاریخ میں جنگ کے وقت کے تصور پر وسیع پیمانے پر لکھنے والی ایموری یونیورسٹی میں قانون کی پروفیسر میری ایل ڈڈزیاک کا کہنا ہے کہ 'جنگ کے موبیلائیزیشن کے پہلوؤں کی وجہ سے لوگ جنگ کو ایک استعارے کے طور پر لے رہے ہیں۔

لیکن 'وبائی مرض' کوئی 'جنگ' نہیں ہے۔

کوئی ملک جنگ کا جواب لوگوں کو ہلاک کر کے دیتا ہے۔ لیکن کسی وبا میں رد عمل دوسرے لوگوں کو مارنا نہیں بلکہ ان کی زندگی کو بچانا ہے۔'

تعمیل کرنے کی خواہش، ذاتی قربانیاں دینا یہ سب چیزیں اس وبا کی تناظر میں تباہی کے مقصد کے لیے نہیں ہیں بلکہ اس بڑی اچھائی کے لیے ہیں جو کہ واقعی اچھائی ہے یعنی مختلف ملکوں کے درمیان آپسی تعاون اور انسانی زندگی کا تحفظ۔

ولسن کا کہنا ہے کہ 'بحران کے لمحے اصلاح کے مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔'

دوسری جنگ عظیم کے سبب قومی صحت کی دیکھ بھال میں اصلاحات آئیں اور اقوام متحدہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسی بین الاقوامی تنظیمیں وجود میں آئیں۔ اور امریکہ میں اس کے سبب جی آئی بل متعارف ہوا جس میں جنگ سے واپس آنے والے فوجیوں کے لیے اہم فوائد کا ذکر تھا۔

کورونا کی وبا کے بعد معمول پر واپسی نہیں ہوگی

اس وقت کی جانے والی تمام اصلاحات اپنے دائرہ کار میں عمومی نہیں ہیں۔ہر چند کہ برطانیہ کا صحت کا آفاقی نظام نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) دوسری عالمی جنگ کے بطن سے پیدا ہوا لیکن امریکہ کا کم مضبوط طبی نظام سامنے آیا جس میں سب کا بیمہ نہیں تھا۔

کورونا وائرس کے بحران میں ایسی ہی اصلاحات آ سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں یا گروسری اسٹور پر کام کرنے والے عملے کے لیے معاوضے کے پیکیجز، یا اس سے پوری طرح سے معیشت کی تنظیم نو کو فروغ مل سکتا ہے، جس کے نتیجے میں آفاقی صحت کی دیکھ بھال یا ملازمت کے تحفظ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ایسے میں ہم توقع کرسکتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں سیاسی قائدین اور مفکرین کی ایک نئی نسل سامنے آئے گی۔

سائنسی ماہرین کو آپ پیش پیش دیکھ سکتے ہیں۔

جس طرح جرنیل جنگ کے وقت میں روزانہ بریفنگ دینے میں آگے آگے ہوتے تھے اب انتھونی فوکی جیسے طبی ماہرین مائکروفون پر وبائی خطوط کے اتار چڑھاؤ، سماجی فاصلے اور دواؤں کے دوسرے استعمال جیسے پیچیدہ نظریات کی وضاحت کرتے نظر آتے ہیں۔ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور شاید جنگ کے نئے جرنیل ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ اور ایشیا کا بیشتر حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا تھا۔ ان اعداد و شمار پر یقین کرنا بھی مشکل ہے کہ تقریبا چھ کروڑ افراد کی موت ہوئی تھی۔ در حقیقت سنہ 1945 کو اکثر صفر کے سال کے نام سے جانا جاتا ہے یعنی جنگ کی تباہی سے پہلے اور بعد کی مدت کو بیان کرنے کے نئے طریقے کے طور پر۔

دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا جس پر دنیا بھر کے لوگوں میں تنازع رہا۔ اسے محرومیوں کے ساتھ امید کے طور پر بھی دیکھا گیا۔ حکومتی اخراجات نے کاروبار کو سنبھالنے میں مدد دی جس نے صدر روزویلٹ کی نئی ڈیل کو دور ہی رکھا۔

پورے امریکہ اور یورپ میں جنگ کے وقت کے موبیلائیزیشن اور اختراع پسندی نے روزگار کو تحفظ فراہم کیا اور آمدنی کی منصفانہ تقسیم کو فروغ دیا جبکہ انسانی ہنر سے منسلک بالکل ہی نئی ٹیکنالوجی اور صنعت کو پیدا کیا۔

پرانی نظریاتی رکاوٹیں منہدم ہو گئیں لیکن سرمایہ، کاروبار اور معاشرتی تعلقات کے نئے خیالات سامنے آئے۔ شہری اور وفاقی، ملک و بیرون ملک جیسی غیر معمولی اور حوصلہ مند کوششوں کا مطلب یہ تھا کہ قومیں بالآخر سنبھل سکتی ہیں۔

جنگ کے بعد کے ایک امریکی صدارتی امیدوار کے بیان کو غلط تناظر میں پیش کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کورونا وائرس وبائی امراض کے بعد 'معمول کی طرف لوٹنا' نہیں ہو سکے گا۔ اپنے گھروں کی آرام و آسائش میں بیٹھ کر تاریخ کے صفحات پلٹتے ہوئے ہم اس سے کئی قسم کے سبق حاصل کرنے پر غور کر سکتے ہیں لیکن ہم یقین سے صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ کچھ بھی یقینی نہیں ہے۔

تاہم اس بحران نے بین الاقوامی سطح پر موبیلائز کیا ہے جو کہ جنگ کے بعد کے 80 سال میں نظر نہیں آیا ہے۔

اس وبا کا تقاضا ہے کہ زیادہ خطرات والی تیز اور فوری کوششیں کی جائیں۔ اس وبا نے دنیا کے لوگوں کو متحد کر دیا ہے، زلزلہ کی صورت میں پیدا ہونے والی عالمی تبدیلی کو مہمیز لگا دی ہے جو کہ آنے والے کئی سالوں تک رہے گا۔

پہلے کی طرح ہم آج بھی ملکہ برطانیہ کے جنگ کے زمانے کے عہد سے کچھ ہمت حاصل کر سکتے ہیں کہ 'ہم پھر سے اپنے دوستوں کے ساتھ ہوں گے۔ ہم پھر سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہوں گے۔ ہم پھر ملیں گے۔'