ناول 'روڈھم' میں حقیقت کے قریب کی ایک ایسی دنیا کا تصور کیا جاتا ہے جہاں سب کچھ مختلف ہوتا۔ کیرِن جیمز سوال کرتی ہیں کہ کیا تصوراتی دنیا ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے؟

سنہ 2016 میں امریکہ نے قریب قریب ہِیلری کلنٹن کو صدر منتخب کر لیا تھا جب کہ برطانیہ نے قریب قریب بریگزٹ کو مسترد کردیا تھا۔ فرض کریں اگر بعد کے واقعات مختلف رخ اختیار کر لیتے؟

حالیہ دنوں میں کافی مقبول ہونے والے ناولوں اور ٹیلی ویژن سیریز کے تخلیق کاروں نے تاریخ کے تصوراتی متبادل 'فرض کریں اگر' کے دلکش مفروضے کی بنیاد پر لکھے ہیں۔ کرٹس سِٹنفلڈ کے بہت ہی جرات مندانہ ناول 'روڈھم' میں یہ تصور کیا گیا ہے کہ فرض کریں اگر ہیلری روڈھم بل کلنٹن سے شادی نہ کرتیں تو ان کی زندگی کیا ہوتی (ایک اشارہ یہ ہے کہ ان کے سیاسی عزائم کی جد و جہد کا آغاز کافی پہلے شروع ہو چکا ہوتا)۔

سائنس فکشن لکھنے پر شہرت پانے والے ولیم گِبسن کا ناول 'ایجینسی' ایک ایسی تصوراتی دنیا میں لکھا گیا ہے جس میں ہیلری کلنٹن منتخب ہو چکی ہیں اور بریگزٹ نہیں ہوا۔

'دی گُڈ فائیٹ' نامی سیاسی ڈرامے کی اس سیزن کی پہلی قسط ایک ایسے ماحول کو پیش کر رہی ہے، جس میں ہیلری کلنٹن امریکی صدر ہیں۔ ایک کردار اس ماحول کو ایک اپنے خواب میں دیکھتا ہے، لیکن جتنی دیر بھی یہ خواب جاری رہتا ہے یہ بہت اچھا لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’غیر معمولی داستانِ محبت‘ پر مبنی ڈرامہ بند

کیا ترکی کے ڈراموں سے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو کوئی خطرہ ہے؟

کیا یہ ڈرامہ ’پاکستانی ففٹی شیڈز آف گرے‘ ہے؟

ان کے علاوہ دیگر حقیقی دنیا کے برعکس بننے والے ڈرامے یا فکشن میں بھی نسوانی امنگوں کی برتری دکھائی گئی ہے۔

ایپل ٹی وی پلس کی سیریز جس کی زیادہ تعریف نہیں ہوئی ہے، اس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ فرض کری کہ آج کی دنیا کیسی ہوتی اگر روس چاند پر مرد کی جگہ عورت کو امریکہ سے پہلے اتار دیتا۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن، جن کے بارے معلوم نہیں ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق کا کتنا خیال رکھتے، اچانک یہ اعلان کرتے ہیں کہ امریکہ نے بھی ایسا ہی کر دکھایا ہے۔

اور اس وقت مارگریٹ اٹن وُوڈ کے ناول 'دی ٹیسٹامنٹ' سے زیادہ کاٹ والا کوئی اور ناول نہیں ہے۔ یہ 'دی ہینڈ میڈز ٹیل' کے تسلسل کا حصہ ہے جس میں عورتوں کے خلاف ایک ریاست 'گِیلیڈ' کا زوال دکھایا گیا ہے۔

پڑھنے والے اور ٹیلی ویژن سیریز دیکھنے والے اس قسم کے ناانصافی کے ماحول کو پیش کرنے والے ناول یا ٹی وی سیریز دیکھ کر اب تھک گئے ہوں کیونکہ اب حقیقت اور افسانوی زندگی کے درمیان سرحد مندمل ہو چکی ہے اور افسانہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔

یہ نئی تخلیقات افسانوی زندگی کے متبادل کے طور پر ایسی تصوراتی دنیا پیش کر رہے ہیں جس کی جڑیں حقیقی دنیا میں ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے کہ ایسی تخلیقات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ساری دنیا وبا سے دوچار ہے، لیکن حقیقت کے برعکس یہ کہانیاں ایک لحاظ سے اس بات کی بھی یاددہانی کراتی ہیں کہ یہ دنیا کس طرح مختلف ہو سکتی تھی۔

افسانوی انداز میں متبادل تاریخ اب تک تاریک اور آمرانہ ماحول کے متعلق احتیاطی اور انتباہی کہانیوں کے طور پر سامنے آئی ہیں، جن میں سے زیادہ تر کے موضوعات دوسری عالمی جنگ سے جڑے ہوئے ہیں۔

'ایچ بی او' کی سیریز 'دی پلاٹ اگینسٹ امیریکا' میں چارلز لِنڈ برگ ایک فسطائییت پسند امریکی صدر دکھایا گیا ہے۔ 'ایمیزون' کی سیریز 'ہنٹر' میں 'الپچینو' نامی شخص جو امریکی یہودیوں کا رہنما ہے، سنہ 1970 میں نازیوں کی امریکی شہر نیویارک میں دوبارہ سے منظم ہونے کی کوششیں کرتا دکھایا گیا ہے۔ اور 'ایمیزون' کی ایک اور سیریز 'دی مین' میں یہ دکھایا گیا ہے کہ جرمنی اور جاپان دوسری عالمی جنگ جیت گئے ہیں۔ یہ سیریز ہمارے سیاسی ماحول کے بارے میں ایک قسم کا ایک انتباہ کا کردار ادا کرتی ہیں۔

لیکن سنہ 2016 نے نئے قسم کے تخیلات کو جِلا بخشی شاید اس لیے کہ ایک بریگزٹ کے بغیر کی دنیا اور ہیلری کلنٹن کی صدارت والا امریکہ، دونوں ہی قریب قریب ہوتے ہوتے رہ گئے لیکن ان کے نتائج نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔

شاید نازیوں کی فتح کو دکھانا تخیل کے زیادہ پھیلاؤ کو ظاہر کرتی ہو لیکن بریگزٹ کی ناکامی اور کلنٹن کی کامیابی کے حالات پر تو تصوراتی طور پر سوچا جا سکتا ہے، جس سے یہ متبادل تاریخ تقریباً حقیقت بنتے بنتے رہ گئی۔

سِٹنفلڈ کا ناول 'روڈھم' ایک بہت ہی جرات مندانہ کام ہے، جو ہمیں افسانوی ہیلری کے دماغ میں لے جاتا ہے اور ساری کہانی ہیلری کے اپنے کلام میں بیان کی گئی ہے۔ کسی زندہ شخص کے ذہن میں ہوتے ہوئے بات کرنا شاید بہت زیادہ غلط خیال ہو سکتا ہے، لیکن سِٹنفلڈ نے اسے ایسے قائل کرنے والے انداز میں اس کردار کو تشکیل دیا ہے کہ جیسا کہ انھوں نے سنہ 2008 میں سابق خاتونِ اول لارا بُش کی زندگی سے ماخوذ ناول 'امیریکن وائف' کے ایک کردار کو تشکیل دیتے ہوئے کیا تھا۔

ناول 'روڈھم' کے پہلے حصہ میں حقائق سے کسی قسم کی کوئی رو گردانی نہیں کی گئی ہے لیکن ایک افسانوی کردار کو بھی اسی طرح تشکیل دیا جیسے کہ وہ حقیقت میں ہیلری کلنٹن کی ایک سوانح عمری لکھ رہی ہوں۔ فکشن میں ہمیں کرداروں کی تشکیل دیتے وقت وہ گنجائش ملتی ہے جو حقیقی کرداروں کے بارے میں لکھتے ہوئے نہیں ملتی ہے۔

جب ہیلری اور بل اپنے وقت کے بلند خیالات رکھنے والے طلبا کے انداز میں ییل یونیورسٹی کے کیمپس میں پہلی ملاقات کرتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ دو نوجوان جنسی اور دانشورانہ باہمی کشش کے ساتھ ایک دوسرے کی طرف راغب ہو رہے ہیں، جسے افسانوی ہیلری اپنے ناول کے اگلے دور میں 'غشی' والا رومانس قرار دیتی ہے۔

بل اس وقت کے ہیلری کے ارد گرد کے ماحول میں کوئی وفادار یا ایماندار جوان نہیں تھا، لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہ بل کے ساتھ آرکنسا میں اپنی زندگی کا آغاز کیوں کرنا چاہتی ہے، جہاں اس کی سیاسی زندگی شروع ہوتی ہے۔

اس مقام پر ناول حقیقی زندگی سے رستہ تبدیل کرتا ہے۔

اس مقام پر ناول میں اس بات پر زیادہ وقت صرف نہیں کیا جاتا ہے کہ وہ بل کلنٹن پر اعتماد کھو چکی ہوتی ہیں اور الانوئیس چلی جاتی ہے اور وہاں تیزی سے سیاسی رفعتوں پر جانے والی اپنی زندگی کا آغاز کرتی ہیں۔

اس مقام پر بھی سِٹنفلڈ اپنی کردار سازی میں ہیلری کی زندگی کے اصل واقعات کا سہارا لیتی ہے لیکن ان میں کچھ رد و بدل کرتی ہے۔

سِٹنفلڈ کے ناول کی ہیلری ایک جگہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کہتی ہے 'میرا خیال ہے کہ میں گھر پر ٹھہری رہ سکتی تھی، بسکٹ وغیرہ بناتی، چائے پیتی۔' ناول نگار نے حقیقی ہیلری کے اس فقرے میں تھوڑی سے تبدیلی کی جس پر بہت زیادہ رد عمل ہوا تھا۔

ناول میں اس کے سیاسی مخالفین اسی کے جلسے میں نعرے لگاتے ہیں 'اس کی بکواس بند کرو' جو کہ حقیقی نعرے 'اسے جیل میں بند کرو' کا متبادل ہے۔ جیسا کہ حالیہ متبادل تاریخی بیانیے میں ہوتا ہے، یہ سب کچھ قابل یقین سمجھا جا سکتا ہے۔

سِٹنفلڈ صرف ایک عجیب سا ایک بڑا سا افسانوی تصور متعارف کراتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی امیدوار کے طور پر متعارف نہیں کراتی ہے بلکہ اسے ایک بے ضرر سے مسخرے کے طور پر پیش کرتی ہے۔

ولیم گِبسن اسی طرح کا ایک سیاسی منظر 'دی ایجینسی' میں بھی دو مختلف افسانوی اوقات میں پیش کرتا ہے۔

اس کی کہانی کا ایک حصہ بائیسویں صدی کی قیامت خیز تباہی کے بعد کے لندن کا ایک منظر ہے، جہاں لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے گینگز بنا لیتے ہیں، جو کہ ایک متبادل حقیقت ہے۔ کہانی کے دوسرے حصے میں جو کہ سان فرانسسکو شہر میں سنہ 2017 میں دکھایا گیا ہے، جب بریگزٹ اور امریکہ کے صدارتی انتخابات میں 'روس کے سوشل میڈیا پر کم اثر ہوجانے یا کنٹرول کم ہوجانے کی وجہ سے' حقیقت سے مختلف نتائج آچکے ہیں۔

سائنس فکشن کے ادب کی صنف کی طرح، 'دی ایجینسی' بنیادی طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجینس اور ویریٹی نامی ایک نوجوان عورت کے بارے میں ایک کہانی ہے۔ ویریٹی سنہ 2017 میں آرٹیفیشل انٹیلیجینس کی ایپ کی ٹیسٹنگ پر کام کر رہی ہے۔ لیکن 'نان سائنس فکشن' کے پرستاروں کے لیے اس کہانی کے سماجی اور سیاسی پہلو زیادہ پیچیدہ ہیں۔

گِبسن کا فکشن اب ایک واضح یاد دہانی پیش کرتا ہے کہ سائنس دانوں کی زیادہ تعداد مستقبل میں تباہی آتے دیکھ رہی ہے

گِبسن کے بائیسویں صدی کے کردار امریکی صدارتی انتخابات اور بریگزٹ کے متبادل نتائج کو مثبت پیش رفت سمجھ رہے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ حیرت کی بات نہیں ہے۔ اس ناول کے ماحول کے لحاظ سے پارلیمنٹ کا وجود نہیں ہے اور وہ لوگ وبا سے بھی بچ گئے ہیں جسے سنہ 2017 کے کرداروں نے نہیں دیکھا تھا، کم از کم اب تک کی کہانی کے مطابق۔

جنوری میں شائع ہونے والا ناول 'دی ایجینسی' ظاہر ہے اس وبا سے پہلے کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔

گِبسن کا فکشن اب ایک واضح یاددہانی پیش کرتا ہے کہ سائنس دانوں کی زیادہ تعداد مستقبل میں تباہی آتے دیکھ رہی ہے۔ 'دی ایجینسی' میں ہیلری کلنٹن کا نام نہیں ہے، لیکن ایک خاتون صدر کے ذکر سے مراد وہی ہے، یہاں تک کے 'اسے جیل میں بند کرو' جیسے نعرے کی گرافیٹی بھی ایک ٹائیلیٹ میں لکھی ہوئی بتائی گئی ہے۔

ویریٹی اس مقام پر ایک صدارتی مباحثہ یاد دلاتی ہے جس میں اس (خاتون صدر) کے انتخابات میں مخالف امیدوار اس کے 'پیچھے پڑے ہوئے ہوتے ہیں'۔ اور پھر ویریٹی یاد کرتی ہے کہ خاتون صدر' اپنے مخالف مرد امیدوار' کی جسمانی حرکات و سکنات پر یقین نہیں کر پاتی ہے، جو کہ ایک مرد کی جانب سے ایک سیاسی فاصلے کے مروجہ اصولوں کی دانستہ خلاف ورزی ہے۔' ویریٹی کی یادداشت ایک لحاظ سے ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کے درمیان صدرتی انتخابات سے ایک ماہ پہلے کے ایک مباحثے کا ایک خلاصہ ہے۔

حقیقی واقعات والی افسانوی کہانیوں میں ظلم و جبر سے بھری دنیا میں مثالی دنیا والی تبدیلی کو نہیں دکھایا جاتا ہے، البتہ موجودہ حالات سے کچھ بہتر حالات پیش کیے جاتے ہیں۔ 'دی ایجینسی' کی افسانوی صدر مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیتی ہے۔

'دی گڈ فائیٹ' میں ڈایان کا کردار جو کہ ہیلری کلنٹن کی اٹارنی جنرل کا ہے، وہ ہیلری کی حامی ہے اور ٹرمپ سے نفرت کرتی ہے، اس کے خواب میں کسی مثالی ریاست کا ذکر تک نہیں ہے۔ کلنٹن کی افسانوی حکومت میں صرف یہ کامیابی دکھائی گئی ہے کہ کینسر کا علاج دریافت ہوجاتا ہے۔ تاہم کیونکہ ٹرمپ صدر منتخب نہیں ہوتا ہے اس لیے اس افسانوی کہانی میں عورتوں کے احتجاجی جلوس نہیں نکلتے ہیں اور نہ ہی کوئی 'می ٹو' کی تحریک چلتی ہے۔

چھوٹے سے واقعے سے بڑا طوفان

ایک چھوٹا سا واقعہ کئی بار بہت بڑی تبدیلیوں کا پیش خمہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت برپا ہوسکتی ہے جب ایک بہتر تاریخ اصل واقعات سے بدل جاتی ہے۔ اس سیریز میں خلائی سفر کے زبردست منصوبوں کا ذکر ہے، جس میں چاند پر ایک اور ڈرامائی قدم رکھنے کا بھی واقعہ بھی شامل ہے۔

یہ ایک لحاظ سےایک جذباتی قسم کی تمثیل بھی بن جاتی ہے، جب تاریخ کے حقیقی کردار اس افسانوی کہانی کے خلانوردوں کے ہمراہ موجود ہوتے ہیں۔ اس سے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہم نیل آرم سٹرونگ کی حقائق پر مبنی اصل فلم 'فرسٹ مین' کی طرح یہ سیریز دیکھ رہے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ سیریز جس کا ٹائیٹل 'فار آل مین کائینڈ' ہے، پہلی خلائی نورد عورت کا ذکر کرتی ہے، جو سنہ ستر کی دہائی کے اوائل میں خلا کا سفر کرتی ہے، جبکہ اصل میں پہلی عورت نے خلائی سفر اس سیریز کے وقت کی نسبت ایک دہائی بعد کیا تھا۔

لیکن اس سیریز میں ان کی کامیابی کے پیچھے جو مشکلات تھیں ان پر زیادہ بات کی گئی ہے۔

اس میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ قابلِ غور ہیں۔ یہ عورتیں عدم تحفظ کا اپنی قابلیت سے مقابلہ کرتی ہیں اور اس سے ان کے اپنے اپنے پارٹنرز کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس بات کا تو ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ اس وقت کے جنسی تعصب والے رویوں کی بھر مار ہے۔

اس متبادل افسانوی تاریخ میں رچرڈ نکسن دوسری مرتبہ کے صدارتی انتخاب میں شکست کھا جاتا ہے اور ٹیڈ کینیڈی صدر بن جاتا ہے۔ لیکن جیسا کہ سیریز 'دی گُڈ فائیٹ' میں دکھایا جاتا ہے، صدارت کا یہ دور آسانی کے ساتھ نہیں گزرتا ہے۔ اور سیریز میں مسلسل ہلاکتوں کے واقعات جاری رہتے ہیں کچھ خلائی حادثات کی وجہ سے اور کچھ دنیا کے اپنے واقعات کی وجہ سے۔

نسوانی حقوق کے رجحان والی تخلیقات میں 'دی ٹیسٹامنٹ' ہے جو پچھلے برس ستمبر میں شائع ہوا تھا۔ اٹوُوڈ ایک آرٹسٹ کے طور پر ظلم و جبر کی ریاست کی جگہ ایک مثالی ریاست قائم کرنے کی علامت کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

آخر انھوں نے سنہ 1985 میں ایک ظلم و جبر والی بدترین ریاست 'دی ہینڈمیڈز ٹیل' میں تخلیق کیا تھا۔ جمہوریہ گیلیڈ میں 'ہینڈ میڈز' یعنی کنیزوں کو ایک جنسی غلام اور کمانڈروں کے بچے پیدا کرنے کی فیکٹریوں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

سنہ 2017 میں آکر ہُولُو کے زمانے یہ عمل اور بھی زیادہ واضح ہوجاتا ہے، جب حقوقِ نسواں کے لیے کام کرنے والی خواتین رہنماؤں پر حملے ہوتے ہیں۔ مارگریٹ اٹوُوڈ کا نظریہ اس حد تک پریشان کن ہے کہ سیریز کے افسانوی وقت یعنی سنہ 2195 میں جمہوریہ گیلیڈ کے بارے میں عقدہ کھلتا ہے کہ وہ ماضی کی باقیات میں سے ہے۔

یہ اس لمحے اور بھی زیادہ سمجھ میں آنے والا نظریہ لگتا ہے کہ اٹوُوڈ 'دی ٹیسٹامنٹ' میں واقعات کے تسلسل کی ترتیب سے امید کی ایک کرن دکھاتی ہے۔

پہلا معرکہ ناول کے پندرہ برسوں کے بعد دکھایا ہے جب جمہوریہ گیلیڈ اپنے سقوط کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس ناول میں تین افراد کہانی سنانے والے ہیں۔ ایک خوفناک آنٹی لیڈیا ہیں جو کہ مرد لیڈر کے ظلم و زیادتی کے کاموں میں اس کی خوشی کے ساتھ آلہِ کار بننے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اپنی ماضی کی کہانی خفیہ طور پر لکھ رہی ہے، جس میں ایک مکمل تاسف ہے، اور دوسری دو مدد کرنے کی سازش کر رہی ہیں، جس میں ایک نوجوان خاتون ہے جس کی گیلیڈ میں پرورش ہوئی اور جو خطرے کے وقت مزاحمت کرتی ہے اور گیلیڈ میں جرائم اور کرپشن کے شواہد کے ساتھ کینیڈا بھاگ جاتی ہے۔

لیڈیا کو اب احساس ہوتا ہے کہ گیلیڈ ریاست کا وجود ممکن کیسے ہوتا ہے۔

اس نے اور ملک کی باقی آبادی نے ماحول اور معاشرے کے زوال کے اشاروں کو نظرانداز کیا۔ وہ کہتی ہے کہ 'سیلاب، آگ لگنے کے واقعات، آندھیوں اور سمندری طوفانوں، پھولتی ہوئی اقتصادیات اور بے روزگاری کے اشاروں پر ہمیں توجہ دینی چاہئیے تھی۔' یہ کتنا جانا پہچانا سا لگتا ہے؟ اٹنوُوڈ اس واضح غفلت کو تسلیم کرتے ہوئے مخلتف کرداروں کی دی ہوئی قربانیوں اور ان کی صعوبتوں کے بعد ایک بہتر مستقبل کی نوید دیتی ہے۔

یہ فکشن ایک خوش آئیند لمحے کا اشارہ دیتے ہیں

اگرچہ صرف پُر امید ہونا کافی نہیں ہے۔

ریان مرفی کی نیٹ فلِکس پر سیریز 'ہالی وُوڈ' جو اسی طرح کی متبادل تاریخ کے موضوع پر بنائی گئی ہے۔ اس کے مطابق فرض کریں اگر امریکہ کی فلم انڈسٹری میں سنہ 1940 کی دہائی میں نسلی تعصبات، جنسی تعصبات اور ہم جنسی سے نفرت کے رجحانات پر قابو پالیا گیا ہوتا تو کیسا ہوتا۔

یہ سیریز اصل میں یہ بتاتی ہے کہ کس طرح متبادل تاریخ پر سیریز نہ بنائی جائے۔ یہ شاندار پروڈکشن والی سیریز لازمی طور پر دیکھے جانے کے قابل ہے، باوجود اس کے کہ اس کے مکالمے بہت ہی بے کار ہیں اگرچہ اداکاری اچھی ہے۔ لیکن اس کا ناگوار ہونا شاید اس کے مسائل میں سے سب سے چھوٹا معاملہ ہے۔

اس بچگانہ انداز میں بنائی گئی فلم میں ماضی کو اس طرح دکھایا گیا ہے کہ ایک سیاہ فام عورت آسکر ایوارڈ جیت لیتی ہے۔ ایک فلم کے ہم جنس پرست سیاہ فام سکرین رائیٹر بھی ایک انعام حاصل کر لیتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایشیائی نژاد امریکی بھی ایوارڈ حاصل کر لیتا ہے۔

ایسے جس طرح مرفی کے ہاتھ میں کوئی جادو کی چھڑی ہو، اور نسلی رکاوٹیں اور جنسی تعصبات خود بخود غائب ہو گئے ہوں۔ 'ہالی وُوڈ' ایک خواب جیسی فلم ہے۔ لیکن اس کا جنوں اور پریوں کی کہانیوں کی طرح حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ حقیقت میں تو ہیرو کو مشکلات پر قابو پانے کے لیے بہت جد و جہد کرنا پڑتی ہے۔

جرات مندانہ انداز میں کی جانے والی متبادل تاریخ پیش کرنے کی کوششیں یہ پیغام نہیں دے رہی ہیں کہ ہم مڑ کر ماضی کی طرف سفر کرسکتے ہیں اور ماضی میں جا کر وائرس کو روک سکتے ہیں، تعصبات ختم کرسکتے ہیں، یا بریگزٹ کا نتیجہ بدل سکتے ہیں۔ ’ورن ہر وون برون‘، جو کہ حقیقی زندگی میں ایک سائنسدان ہے، 'فار آل مین کائینڈ' کے ایک افسانوی منظر میں کہتا ہے کہ 'ہر سیاسی نظام میں نقائص ہیں اور ہر نوکرشاہی بدعنوان ہے۔'

یہ فکشن بہت ہی ٹھوس انداز میں حقیقت بیان کرتے ہیں۔ یہ آج کے دور میں پُرمسرت لمحات پیش کرتے ہیں۔ اگر ہم ماضی کا متبادل انداز میں تصور کرسکتے ہیں، چاہے اس میں نقائص ہی کیوں نہ ہوں، تو ہم ایک بہتر مستقبل تخلیق کرنے کے قریب ہو سکتے ہیں۔