امریکہ میں ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

آئیے آپ کو بتاتے ہیں اس وقت امریکہ میں تازہ ترین صورتحال کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کی مذمت، ڈی سی کی میئر نے پلازہ کا نام ’بلیک لائیوز میٹر‘ رکھ دیا

واشنگٹن ڈی سی کی میئر نے صدر ٹرمپ کی مذمت کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے باہر پلازہ کا نام تبدیل کرکے ’بلیک لائیوز میٹر پلازہ‘ رکھ دیا ہے۔

ڈیموکریٹ میئر موریل باؤسر نے وائٹ ہاؤس کی طرف جانے والی سٹریٹ میں دو بلاکس تک لمبی پینٹنگ کا افتتاح کیا جس پر’بلیک لائیوز میٹر‘ لکھا گیا تھا۔

میئر نے صدر ٹرمپ سے واشنگٹن سے فوجیوں کو ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

وکیل: جارج فلائیڈ کو ’سوچ سمجھ کر قتل کیا گیا‘

قتل بڑا مسئلہ یا اس کے خلاف احتجاج، امریکہ میں بحث

کیا صدر ٹرمپ امریکی ریاستوں میں فوج تعینات کر سکتے ہیں؟

جارج فلائیڈ کی موت پر امریکہ میں کالے گورے کی سیاست گرم

جارج فلائیڈ ہلاکت: احتجاج اور کرفیو کے دوران پولیس کی بربریت کی مزید ویڈیوز

بڑی حد تک میئر کی سرکشی والی حرکات ایسے وقت میں سامنے آتی ہیں جب ہفتے کے روز واشنگٹن ڈی سی میں ایک بہت بڑا احتجاج متوقع ہے۔

یہ مظاہرہ پولیس کی بربریت اور نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے جو 25 مئی کو مینیپولیس میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد پورے امریکہ میں شروع کیے گئے۔

بلیک لائیوز میٹر

فلائیڈ کی موت سے پہلے پیش آنے والے واقعات میں ریاست مزوری کے شہر فرگوسن میں مائیکل براؤن اور نیویارک شہر میں ایرک گارنر کی ہلاکت کے واقعات شامل ہیں۔ ان واقعات کی وجہ سے حالیہ برسوں میں 'بلیک لائف میٹر' یعنی سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی اہم ہیں، نامی تحریک نے زور پکڑا تھا۔

بہت سے لوگوں کے خیال میں فلائیڈ کی موت پر شدید عوامی رد عمل کی ایک وجہ سالہا سال سے امریکی معاشرے میں پائے جانے والا 'معاشی عدم مساوات اور نسلی امتیاز' ہے۔

بفلو پولیس کے پورے یونٹ نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا

دوسری جانب امریکی پولیس کے پورے ٹیکٹیکل یونٹ نے بربریت کے الزام میں دو افسران کو بغیر تنخواہ کے معطل کرنے کے بعد احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق جمعرات کے روز وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں نیویارک کی ریاست کے علاقے بفیلو میں دو پولیس اہلکاروں کو اس وقت برطرف کر دیا گیا جب انھیں ایک عمر رسیدہ شخص کو زمین پر گراتے ہوئے دیکھا گیا۔

بفیلو نیوز کے مطابق یہ اہلکار ایمرجنسی رسپانس ٹیم سے الگ ہوئے ہیں لیکن انھوں نے پولیس کا محکمہ نہیں چھوڑا۔

ویڈیوز میں کیا ہے؟

بفلو میں پیش آنے والے واقعہ کی ویڈیو میں کرفیو پر عمل کرانے والے پولیس اہلکاروں کی طرف ایک 75 سالہ شخص آتا ہے۔ پولیس اہلکار اپنی طرف آتے ہوئے اس شخص کے قریب جا کر اس کو دھکا دیتے ہیں جس سے وہ گر جاتا ہے اور اس کا سر زمین سے ٹکراتا ہے۔

زمین پر گرے اس شخص کے کانوں سے خون رستا نظر آتا ہے۔ بعد میں اس شخص کو ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں یہ معلوم ہوا کہ انھیں سر میں شدید چوٹ آئی ہے۔

’ماضی میں کھلاڑیوں کو احتجاج سے روک کر غلطی کی‘

امریکہ کی نیشنل فٹ بال لیگ کا کہنا ہے کہ قومی ترانے کے دوران کھلاڑیوں کو احتجاج کی اجازت دی جانی چاہیے۔

این ایف ایل کے کمشنر راجر گوڈیل کا کہنا تھا ’پہلے ہی این ایف ایل کے کھلاڑیوں کی بات نہ مان کر ہم نے غلطی لی۔ ہم آواز اٹھانے اور پر امن طور پر احتجاج کے لیے سب کی حوصلے افزائی کرتے ہیں۔‘

یاد رہے اس سے قبل این ایف ایل نے کھلاڑیوں کے ایک گھٹنے پر کھڑے ہونے پر پابندی عائد کردی تھی ، اس پریکٹس کا آغاز کولن کیپرنک نے سنہ 2016 میں کیا تھا۔

مائیکل جارڈن: نسلی مساوات کے خاتمے کے لیے 100 ملین ڈالر دینے کا اعلان

مائیکل جارڈن کا کہنا ہے کہ وہ نسلی مساوات اور معاشرتی انصاف کے لیے جدوجہد کرنے والے گروپوں کو 10 کروڑ ڈالر عطیہ کریں گے۔

این بی اے لیجنڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اور ان کا جارڈن برانڈ یہ رقم 10 سالوں کے دوران رقم تقسیم کریں گے۔

اس رقم کے ذریعے متعدد تنظیموں کی ’فرقہ وارانہ نسل پرستی‘ سے نمٹنے کے لیے مدد کی جائے گی۔

جارڈن کی طرف سے یہ بیان، جارج فلائیڈ کی موت کے بعد امریکہ اور پوری دنیا میں مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔

گذشتہ ہفتے جارڈن نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’سخت غمزدہ، واقعی تکلیف دہ اور رنجیدہ ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا ’مجھے ہر ایک کے درد، غم و غصے اور مایوسی کا احساس ہے۔ اور میں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں جو ہمارے ملک میں رنگ، نسل پرستی اور تشدد کا مطالبہ کررہے ہیں۔‘

’بس ہم نے بہت برداشت کر لیا۔‘

ان بیانات و واقعات کا پس منظر کیا ہے

یہ بیانات و واقعات جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد سامنے آئے ہیں۔

فلائیڈ جن کی عمر 46 سال تھی وہ مینیاپولس شہر میں 25 مئی کو مبینہ طور پر جعلی نوٹوں سے سگریٹ خریدنے کی ایک شکایت کے بعد تحقیق کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعہ کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کو گرفتار کرنے کے لیے ایک پولیس اہلکار ان کی گردن پر اپنا گھٹنا ٹیکے بیٹھا ہے جبکہ وہ کراہ رہے ہیں کہ ان کا دم گھٹ رہا ہے۔

اس واقعہ کے بعد سے امریکہ میں ملک گیر سطح پر عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے علاوہ دنیا کے دیگر ملکوں مثلاً آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ میں بھی احتجاجی اجتماعات ہوئے ہیں۔ لندن شہر میں ہونے والے ایک مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شہر کے مرکزی حصہ میں مظاہرہ کیا۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں کورونا وائرس کی وبا کے خوف سے ایک عدالت نے شہر میں عوامی اجتماع کی اجازت نہیں دی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی اس مظاہرے میں شرکت کی توقع تھی۔