اگر آپ کسی جذباتی فلم پر اکثر خاموشی سے یا زور سے رو پڑتے ہیں تو اس مضمون میں بیان کی گئی فلموں کو دیکھنے سے پہلے ٹشوز کا ایک بڑا ڈبہ اپنے پاس ضرور رکھیں۔

جب امریکی فلم نقاد کیون لی نے گذشتہ ہفتے ٹوئٹر پرلوگوں سے پوچھا کہ وہ انھیں بتائیں کہ ' کون سی فلم یا ٹی وی شونے انہیں سب سے زیادہ رلایا ہے تو انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ لوگوں کے جوابات کا سیلاب امڈ پڑے گا۔

کیون لی کا کہنا تھا کہ 'پہلے چھ گھنٹوں میں جیسا رد عمل آیا ویسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، سچ بتاؤں تو یہ حیران کن تھا۔'

فلم کے مداحوں نے ایسی فلموں کے ناموں کا ڈھیر لگا دیا جنہوں نے انہیں خوب رلایا تھا۔ انہیں اس وقت مزید تعجب ہوا جب کچھ لوگوں نے اپنی زندگی کی کہانیاں بھی سنائیں کہ کوئی مخصوص فلم ان کے لیے کیا اہمیت رکھتی تھی۔

کیون لی کا کہنا تھا کہ لوگوں کا ردِ عمل بہت خوبصورت اور کافی مختلف تھا۔

بی بی سی نے پینتیس ہزار جوابات کا جائزہ لیا۔ سب سے زیادہ رلانے والی سرِ فہرِست دو فلمیں بہت بڑی فلمیں یا ہیوی ویٹ ڈرامہ نہیں تھیں۔ یہ فیملی فلمز تھیں جنہوں نے مداحوں کے دلوں کے تار چھو لیے۔

ڈزنی پکسلز کی آسکر یافتہ اینی میٹڈ فلم 'کوکو' اس میں سرِ فہرست ہے۔ یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی تھی موسیقار بننے کا خواب رکھتا ہے اور اپنے اس خواب کی تکمیل کے راستے میں اپنی فیملی کے راز پر سے پردہ اٹھاتا ہے۔

دوسرے نمبر پر 2008 کی فلم 'مارلی اینڈ می' ہیں۔

کیون لی کو اس بات کی قطعی حیرانی نہیں تھی کہ کوکو سر فہرست رہی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ فلم بہت پسند ہے اور اسے جتنی بار دیکھو اور بہتر لگتی ہے۔

یہ فلم اس بات کا پیغام دیتی ہے کہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش ضرور کرو لیکن اپنے ورثے اور ثقافت کو بھی سمجھو جو آپ کی شخصیت کو سنوارتا ہے آپ ترقی پسند ہوتے ہوئے بھی ان روایات کو کیسے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں۔

'اس فلم کی کہانی بہت جذباتی اور اس کے کردار اصل زندگی سے بہت قریب ہیں اسی لیے لوگوں کو یہ فلم بہت پسند آئی۔ پہلی دس فلموں میں ڈزنی پکسلز کی تین اینیمیشن شامل ہیں جن میں 'ٹوائے سٹوری تھری' بھی شامل ہے۔

کیون لی کہتے ہیں کہ وہ اینیمیٹڈ فلموں کے دیوانے ہیں کیونکہ ان فلموں کی اپنی بنیاد ہوتی ہے اور یہ بنیاد کہانی کو بلند بناتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ سب کچھ بھول کر کہانی میں گم ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹوئٹ کے جواب میں دو طرح کی کہانیوں کا زیادہ ذکر تھا ایک تو فلم کے کسی کردار کی موت پر رونا جس سے دیکھنے والے کو جذباتی لگاؤ ہو گیا ہو یا پھر وہ کردار ان کی اصل زندگی کے کسی انسان کی طرح ہو جو اس دنیا سے چلا گیا ہو۔

ایک یوزر نے انہیں لکھا کہ انہیں 'کوکو' اس لیے پسند آئی کیونکہ ان کی اپنی دادی کا حال ہی میں انتقال ہوا تھا۔

دوسری عام بات کچھ کہانیوں کا حقائق پر مبنی ہونا تھا۔ جن میں 'لائف از بیوٹی فُل'، 'سوفیز چوائس'، ' سیوِنگ پرایئویٹ رایان' اور 'گریو آف دی فائر فلائیز' شامل ہیں۔

ایسی بہت سے تاریخی فلمیں ہیں جن میں انسانی تاریخ کے سیاح اسباق دکھائے گئے ہیں اور انہوں نے لوگوں کو بہت متاثر کیا ہے۔

لی کا کہنا تھا کہ جب انسانی تاریخ کے سیاہ ترین اسباق کی بات ہوتی ہے توآپ کے سامنے انسانیت کی بد ترین شکل سامنے آتی ہے لیکن اسی میں آپ کو انسانیت کی بہترین مثالیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اس میں دونوں ہی پہلو شامل ہیں آپ دکھی بھی ہوتے ہیں لیکن دوسرا پہلو دیکھ کر خوشی بھی محسوس ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ 80 کی دہائی میں خواتین کے مرکزی کرداروں والی فلمیں بھی فہرست میں شامل رہیں۔

کیون لی کا خیال ہے کہ ان کی ٹوئٹ پر اتنا زیادہ ردِ عمل کی ایک وجہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کل بہت سے لوگ تنہائی محسوس کر رہے ہیں اور ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اس دوران بالکل تنہا ہیں اور شاید ان کی ٹوئٹ کے تھریڈ میں محض اس لیے شامل ہوئے کیونکہ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ رابطہ بھی کرنا چاہتے تھے اور موجودہ ماحول کے سبب بہت سے لوگ اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کھل کر بات کر رہے ہیں۔