گذشتہ رات رواں برس کا دوسرا چاند گرہن پاکستان سمیت براعظم ایشیا، یورپ، آسٹریلیا اور افریقہ میں دیکھا گیا۔

رواں برس کا پہلا چاند گرہن دس جنوری کو ہوا تھا۔

سوا تین گھنٹے سے زیادہ وقت رہنے والا یہ چاند گرہن پاکستانی وقت کے مطابق رات دس بج کر 45 منٹ پر شروع ہوا اور اس کا اختتام رات دو بج کر چار منٹ پر ہوا۔ جمعے کو لگنے والے گرہن کے عروج کا وقت 12 بج کر 24 منٹ تھا۔

گذشتہ رات ہونے والا یہ چاند گرہن ’پینمبرل‘ گرہن ہے۔ یعنی زمین کے مرکزی سائے کے باہر کا حصہ چاند پر پڑا جس سے چاند کی چمک ماند پڑ گئی۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا بھر سے سپر مون کے دل موہ لینے والے نظارے

2020 کا پہلا چاند گرہن پاکستان میں دیکھا جا سکے گا

سپر مون میں ’سپر‘ کیا ہے اور دنیا بھر میں وہ کیسا نظر آیا

سینیئر سائنسدان وینکیٹس وارن کے مطابق ’اس طرح کے گرہن کا اثر بہت زیادہ نہیں نظر آتا۔ چاند پر صرف ہلکی سی پرچھائی پڑتی نظر آتی ہے، یعنی چاند کی چمک دمک کچھ ماند پڑتی نظر آئی۔ زمین کا سایہ چاند کے صرف 58 فیصد حصے کو ہی کوور کرتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ گرہن اتنی آسانی سے نظر نہیں آتا۔ یہ صرف اسی صورت میں نظر آتا ہے کہ اگر چاند گرہن کا اثر پورا ہو، آسمان بالکل صاف ہو اور آپ اسے بہت غور سے دیکھیں، تب جا کر آپ کو چاند کے شمالی اور جنوبی حصوں کی چمک میں کچھ فرق نظر آتا ہے۔

’پینمبرل‘ کا مطلب کیا ہے؟

وینکیٹس وارن کے مطابق پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دو طرح کے سائے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی چیز جو روشنی کو روکتی ہے اس سے دو طرح کے سائے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک سایہ جو سیاہ اور گھنا ہوتا ہے، اسے ’امبرل‘ سایہ کہتے ہیں۔ دوسرا وہ جو ہلکا اور پھیلا ہوا ہوتا ہے، اسے ’پینمبرل‘ کہتے ہیں۔

ان دونوں کے درمیان فرق ہے اور وہ یہ کہ اگر آپ امبرل حصے میں کھڑے ہیں تو روشنی کا پورا ذریعہ ڈھک جائے گا لیکن اگر آپ پینمبرل حصے میں کھڑے ہیں تو روشنی کا پورا ذریعہ کوور نہیں ہو گا۔

رواں ماہ سورج گرہن بھی ہو گا

رواں ماہ یعنی 21 جون کو سورج گرہن کا نظارہ بھی کیا جا سکے گا۔

سنہ 2020 میں مجموعی طور پر چار چاند گرہن جبکہ دو سورج گرہن ہوں گے۔ ان میں سے ایک چاند گرہن اس سال کے آغاز میں دس جنوری کو ہوا تھا اور دوسرا گذشتہ یعنی پانچ جون کو ہوا ہے۔

گذشتہ رات ہونے والے چاند گرہن کے بعد پانچ جولائی اور تیس نومبر کو بھی چاند گرہن دیکھا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ ایک سورج گرہن 21 جون کو ہو گا اور دوسرا 14 دسمبر کو۔

چاند گرہن کب ہوتا ہے؟

سورج کے گرد گردش کے دوران زمین، چاند اور سورج کے درمیان اس طرح آ جاتی ہے کہ چاند زمین کے سائے سے چھپ جاتا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب سورج، زمین اور چاند اپنے اپنے مدار میں ایک دوسرے کی بالکل سیدھ میں ہوں۔

پورے چاند کی رات میں جب سورج اور چاند کے درمیان زمین آ جاتی ہے تو اس کا سایہ چاند پر پڑتا ہے۔ اس سے چاند کا وہ حصہ جس پر سایہ پڑتا ہے اندھیرے میں رہتا ہے۔

جب ایسے میں زمین سے چاند کو دیکھتے ہیں تو وہ حصہ ہمیں سیاہ نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے چاند گرہن کہتے ہیں۔