سیاہ فام امریکی شہری جارج فلآئیڈ کی پولیس کے ہاتھوں موت کے بعد سے جاری ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کی بربریت کی بہت سی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔

نیویارک کی ریاست کے علاقے بفلو میں دو پولیس اہلکاروں کو اس وقت برطرف کر دیا گیا جب انھیں ایک عمر رسیدہ شخص کو زمین پر گراتے ہوئے دیکھا گیا۔

نیویارک شہر میں پولیس کے بھاگتے ہوئے مظاہرین کے ساتھ زدوکوب کرنے کے مناظر کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی۔ جارج فلائیڈ کی المناک موت پر مینیاپولس میں یادگاری اجتماع کے منعقد ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی یہ اطلاعات موصول ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیے

وکیل: جارج فلائیڈ کو ’سوچ سمجھ کر قتل کیا گیا‘

کیا صدر ٹرمپ امریکی ریاستوں میں فوج تعینات کر سکتے ہیں؟

جارج فلائیڈ کی موت پر امریکہ میں کالے گورے کی سیاست گرم

قتل بڑا مسئلہ یا اس کے خلاف احتجاج، امریکہ میں بحث

جارج فلائیڈ کے آخری لمحات بھی عکس بند کیے گئے جن کے منظر عام پر آنے کے بعد امریکہ کے علاوہ دنیا کے کئی بڑے بڑے شہروں میں نسلی تعصب اور افریقی نژاد امریکی شہریوں سے پولیس کے ناروا سلوک کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔

فلائیڈ کی موت کے بعد سے گزشتہ آٹھ دنوں میں وسیع پیمانے پر ہونے والے مظاہرے زیادہ تر پر امن رہے لیکن کہیں کہیں تشدد اور لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے اور کئی شہروں میں کرفیو بھی لگانا پڑا۔

25 مئی جس دن جارج فلائیڈ کی موت واقع ہوئی اسی دن فینکس شہر میں ڈؤن جانسن نامی ایک شخص کی ہلاکت کی تفصیلات امریکی ریاست ایریزونا کی پولیس نے جاری کیں۔

پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ جانسن ایک سڑک پر کھڑی گاڑی میں جو ٹریفک بلاک کر رہی تھی ریاستی 'ٹروپر' پولیس کے ایک اہلکار کی گولی لگنے سے ہلاک ہوئے۔

پولیس کا مزید کہنا تھا کہ اس مشتبہ شخص کے ساتھ پولیس کی کھینچا تانی میں پولیس اہلکار نے اپنے سرکاری پستول سے گولی چلا دی جو مشتبہ شخص کو لگی۔

جانسن کے گھر والوں کو پولیس وائرلس پر ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اس واقعہ کی ویڈیو کی پیش کش کیے جانے کے بعد پولیس نے یہ بیان جاری کیا۔

ویڈیوز میں کیا ہے؟

بفلو میں پیش آنے والے واقعہ کی ویڈیو میں کرفیو پر عمل کرانے والے پولیس اہلکاروں کی طرف ایک 75 سالہ شخص آتا ہے۔ پولیس اہلکار اپنی طرف آتے ہوئے اس شخص کے قریب جا کر اس کو دھکا دیتے ہیں جس سے وہ گر جاتا ہے اور اس کا سر زمین سے ٹکراتا ہے۔

زمین پر گرے اس شخص کے کانوں سے خون رستا نظر آتا ہے۔ بعد میں اس شخص کو ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں یہ معلوم ہوا کہ انھیں سر میں شدید چوٹ آئی ہے۔

بفلو پولیس کے محکمے کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ شخص مظاہرین کے ساتھ کشمکش میں ٹھوکر لگنے سے گرا تھا جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر اور زیادہ شدید رد عمل سامنے آیا۔

پولیس کے ترجمان جیف رنالڈو نے بعد ازاں ابتدائی بیان کو ان پولیس افسران سے منسوب کیا جو اس واقعہ کی تفصیل سے آگاہ نہیں تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد جن دو پولیس افسروں نے اس شخص کو دھکا دیا تھا انھیں بغیر تنخواہ کے معطل کر دیا گیا تھا۔

اُسی دن شام کو نیویارک شہر میں ایک 'ڈلیوری' ڈرائیور کو کرفیو کا وقت شروع ہونے کے 27 منٹ بعد گرفتار کر لیا گیا باوجود اس کے کہ اس ڈرائیور کو ایمرجنسی عملے کے زمرے میں آنے کی وجہ سے کرفیو میں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت حاصل تھی۔

شہر کے علاقے ویلیم برگ میں مظاہرین پر پولیس کے ہلے کے دوران ایک شخص کے زمین پر گرنے کے مناظر کی بھی ویڈیو بنائی گئی۔

ایک اور ویڈیو میں ایک شخص جس کے سر سے خون بہہ رہا تھا اس کو زمین پر گرے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس شخص کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔

حکام کا ردعمل کیا ہے؟

نیویارک کے گورنر اینڈیو کومو نے جمعرات کو پولیس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلاجواز طاقت کا استعمال نہیں کرتے اور اگر انھوں نے ایسا کیا ہے تو غلط کیا ہے۔

نیویارک شہر کے میئر بل ڈی بلسیو نے کہا کہ حکام بہت تحمل اور صبر سے کام لے رہے ہیں۔

لیکن دونوں شخصیات نے گزشتہ رات سامنے آنے والی ویڈیوز کی مذمت کی ہے۔ گورنر اینڈریو کومو نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بفلو میں پیش آنے والے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صریحاً بلاجواز اور انتہائی شرمناک تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'پولیس کو قانون نافذ کرنا چاہیے اس کا بےجا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔'

درین اثنا میئر ڈی بلسیو نے کہا کہ انھوں نے ڈلیوری ڈرائیور کی گرفتاری کی ویڈیو دیکھ کر محکمۂ پولیس سے شکایت کی ہے۔

ان واقعات کا پس منظر کیا ہے

یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب جارج فلائیڈ کی موت پر شروع ہونے والے مظاہروں پر قابو پانے کے لیے امریکہ کے درجنوں شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

فلائیڈ جن کی عمر 46 سال تھی وہ مینیاپولس شہر میں 25 مئی کو مبینہ طور پر جعلی نوٹوں سے سگریٹ خریدنے کی ایک شکایت کے بعد تحقیق کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعہ کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کو گرفتار کرنے کے لیے ایک پولیس اہلکار ان کی گردن پر اپنا گھٹنا ٹیکے بیٹھا ہے جبکہ وہ کراہ رہے ہیں کہ ان کا دم گھٹ رہا ہے۔

اس واقعہ کے بعد سے امریکہ میں ملک گیر سطح پر عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے علاوہ دنیا کے دیگر ملکوں مثلاً آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ میں بھی احتجاجی اجتماعات ہوئے ہیں۔ لندن شہر میں ہونے والے ایک مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شہر کے مرکزی حصہ میں جلوس نکالا۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں کورونا وائرس کی وبا کے خوف سے ایک عدالت نے شہر میں عوامی اجتماع کی اجازت نہیں دی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی اس مظاہرے میں شرکت کی توقع تھی۔

'بلیک لائیوز میٹر'

فلائیڈ کی موت سے پہلے پیش آنے والے واقعات میں ریاست مزوری کے شہر فرگوسن میں مائیکل براؤن اور نیویارک شہر میں ایرک گارنر کی ہلاکت کے واقعات شامل ہیں۔ ان واقعات کی وجہ سے حالیہ برسوں میں 'بلیک لائف میٹر' یعنی سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی اہم ہیں، نامی تحریک نے زور پکڑا تھا۔

بہت سے لوگوں کے خیال میں فلائیڈ کی موت پر شدید عوامی رد عمل کی ایک وجہ سالہا سال سے امریکی معاشرے میں پائے جانے والا ’معاشی عدم مساوات اور نسلی امتیاز‘ ہے۔

جمعرات کو بھی کرفیو کے باوجود درجنوں شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ان احتجاجی مظاہروں کے بعد فلائیڈ کی یاد میں لوگ آٹھ منٹ اور 46 سیکنڈ تک خاموش کھڑے رہے جتنی دیر پولیس اہلکاروں نے جارج فلاائڈ کو زمین پر دبوچے رکھا تھا۔

جارج فلائیڈ کے وکیل نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نسلی تعصب کی وبا فلاائڈ کی موت کی وجہ بنی۔

شہری آزادیوں کے علمبردار ریورنڈ ال شارپٹن نے انھیں خراج عقدیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ لوگ کھڑے ہو جائیں اور کہیں کہ 'میری گردن سے گھٹنا ہٹاؤ۔'