امریکہ میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک گیر سطح پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اس کے باوجود کے کئی شہروں میں کرفیو نافذ ہے، مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ مظاہرین کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ گلیوں اور چوراہوں پر فوج تعینات کر دیں گے۔

سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کی ایک سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت اور اس کے نتیجے میں ملک میں پھیلنے والی بدامنی نے بہت سے ممالک میں کورونا وائرس کے مسئلے کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور اب اس ہلاکت سے متعلق خبریں شہ سرخیوں میں ہیں۔

اس صورتحال نے ان ممالک کو بھی ایک موقع فراہم کیا ہے جو اپنے شہریوں کے جمہوری حقوق کی پامالی کی وجہ سے امریکہ کی تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اور وہ موقع یہ ہے کہ سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے پسِ منظر میں وہ امریکہ کے ساتھ وہی برتاؤ کریں جو امریکہ ماضی میں ان کے ساتھ کرتا آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ہیکرز کے گروپ ’انانیمس کی واپسی‘

کیا صدر ٹرمپ امریکی ریاستوں میں فوج تعینات کر سکتے ہیں؟

وکیل: جارج فلائیڈ کو ’سوچ سمجھ کر قتل کیا گیا‘

ایسے ممالک میں جن میں چین، ایران، روس اور ترکی شامل ہیں، اس خبر کے حوالے سے ہونے والی کوریج اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ وہ امریکہ کو درپیش اس صورتحال سے بظاہر لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ وہ اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں کہ کیسے ایک واقعے نے معاملات کا رخ اچانک امریکہ کی جانب موڑ دیا ہے۔

اس رپورٹ میں ہم دیکھیں گے کہ چین، ایران، روس اور ترکی میں اس معاملے کی کس انداز میں کوریج ہو رہی ہے۔

چین

چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے امریکہ میں ہونے والے احتجاج پر امریکی حکومت کے ردعمل کا ہانگ کانگ میں ہونے والے احتجاج پر سامنے آنے والے حکومتی ردعمل سے موازنہ کیا ہے۔ گلوبل ٹائمز نے امریکہ کو یاد دلایا ہے کہ امریکی سیاستدان ہانگ کانگ میں ہونے والے مظاہروں کو ’جہموریت کا حسن‘ قرار دے رہے تھے۔

اخبار کے ایڈیٹر ہو ژی جن نے لکھا کہ ’ہانگ کانگ میں ایک سال تک افراتفری رہی لیکن فوج کو وہاں نہیں بھیجا گیا جبکہ مینیسوٹا میں تین روز کی بدنظمی کے بعد صدر ٹرمپ کھلے عام وہاں فوج بھیجنے اور اسلحہ استعمال کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘

گلوبل ٹائمز نے اپنی ویب سائٹ پر ٹوئٹر پیغامات کے ایسے سکرین شاٹس شائع کیے ہیں جن میں ہانگ کانگ کے ’فسادی (مظاہرین)‘ امریکی مظاہرین کو سڑکوں کو بند کرنے اور پولیس کے ہاتھ نہ آنے کی آن لائن تربیت دینے کی پیشکش کر رہے ہیں۔

اخبار نے لکھا کہ ’امریکہ ہانگ کانگ اور دنیا کے دیگر ممالک میں شہری مظاہروں کی حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے مگر اب امریکہ وہی کاٹ رہا ہے جو ماضی میں اس میں اس نے بویا تھا۔‘

امریکہ ہانگ کانگ میں جمہوریت کے حق میں مظاہروں کے معاملے میں چین پر کڑی تنقید کرتا رہا ہے۔ ہانگ گانگ میں یہ مظاہرے سنہ 2014 سے شروع ہوئے تھے۔ حال ہی میں چین کی جانب سے نیا سکیورٹی قانون بنانے کے منصوبے پر ہانگ کانگ میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔ اس سکیورٹی قانون کے حوالے سے ہانگ کانگ کے شہریوں میں خدشات ہیں کہ یہ ان کی شہری آزادیوں پر قدغن لگا دے گا۔

چینی حکام ان مظاہرین کو ’فسادی‘ قرار دیتے ہیں جبکہ امریکہ ان مظاہرین کی مکمل سپورٹ کرتا ہے اور چین کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ مظاہرین کے حقوق کا خیال کرے اور ان کی آواز کو سنے۔

چین میں ٹوئٹر پر پابندی ہے مگر وہاں ٹوئٹر ہی کی طرز کے ایک اور پلیٹ فارم ’ویبو‘ پر امریکہ میں ہونے والے مظاہروں پر خوب تبصرے ہو رہے ہیں۔ ویبو پر مکمل ریاستی کنٹرول ہے۔

ایک تھریڈ میں مظاہرے کے دوران صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کے بنکر میں پناہ لینے کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ ’آپ تو عوام کے ووٹوں سے امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ہیں، آپ عوام سے ڈر کیوں رہے ہیں۔‘ اس پیغام کو 85 ہزار صارفین نے پسند کیا ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’ہانگ کانگ میں نظر آنے والے مناظر اب امریکہ میں بھی نظر آ رہے ہیں۔‘

ایران

دنیا میں چند ہی ایسے ممالک ہوں گے جن کے امریکہ سے تعلقات اتنے کشیدہ ہیں جتنے ایران کے ہیں۔

سنہ 1979 میں ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے تعلقات کشیدہ ہیں اور امریکہ نے ایران پر سخت نوعیت کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد احتجاج کے شروع ہوتے ہی ایران کی نیوز ایجنسی ’فارس‘ نے ایک مضمون شائع کیا جس میں امریکہ پر زور دیا گیا کہ وہ عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے سیاہ فام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

اس مضمون میں لکھا ہے کہ ’امریکہ دوسرے ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کا نشانہ بناتا ہے لیکن وہ اپنے ملک میں اور مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی مسلسل پامالیوں کوتسلیم نہیں کرتا۔‘

ایران کا سرکاری میڈیا وزیر خارجہ جواد ظریف کی اس ٹویٹ کی بھی خوب کوریج کر رہا ہے جس میں انھوں نے امریکی پولیس کی سیاہ فام شہریوں سے روا رکھنے جانے والے سلوک کا موازنہ ایران پر عائد پابندیوں کے تناظر میں کیا ہے۔

تاہم ایران کے شہر مشہد میں جارج فلائیڈ کی یاد میں منعقد کی جانے والی ایک تقریب کے بعد ٹوئٹر پر نئی بحث کا آغاز ہوا ہے جس میں چند صارفین ایران کے رہنماؤں پر دوغلی پالیسیاں روا رکھنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ایران میں بھی ٹوئٹر پر پابندی عائد ہے۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’اب جارج فلائیڈ کی یاد میں موم بتیاں جلائی جا رہی ہیں لیکن جب کچھ لوگوں نے یوکرین کے طیارے کے حادثے میں مرنے والے افراد کی یاد میں موم بتیاں جلائیں تھیں تو ایرانی حکام نے انھیں گرفتار کر لیا تھا۔‘

چند صارفین نے گذشتہ نومبر میں ایران میں ہونے والے مظاہروں پر ایرانی حکومت کے ردعمل کا امریکہ میں مظاہروں پر امریکی حکومت کے ردعمل کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گذشتہ نومبر ایران میں ہونے والے مظاہروں میں 300 افراد پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے۔

روس

روس کے ذرائع ابلاغ میں بھی امریکہ پر منافقت کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

روس کے صحافی دیمتری کزیلوف نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں کہا کہ اگر یہ سب کچھ روس میں ہو رہا ہوتا تو امریکہ اور کئی دوسرے ممالک روس پر ’نئی پابندیاں‘ عائد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہوتے۔

جب سے روس نے یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا کا الحاق اپنے ساتھ کیا ہے تب سے امریکہ نے روسی حکام اور کئی کاروباروں پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

صحافی دیمتری کزیلوف نے سوال اٹھایا کہ واشنگٹن ساری دنیا کو بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ انھیں کس طرح زندگی گزارنی چاہیے لیکن اس کے اپنے ملک میں ’تشدد اور بربریت‘ کے مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔ صحافی نے مزید کہا کہ امریکہ کورونا وائرس سے اپنے شہریوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا ہے اور وائرس سے دنیا بھر میں سب سے زیاہ اموات بھی امریکہ میں ہوئی ہیں۔

ایک ٹی وی پروگرام میں امریکہ اور چین کی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں ملکوں میں مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی اور سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی جاتی رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر پابندی کا حوالہ دراصل صدر ٹرمپ کے اس ایگزیکٹیو آرڈر کا ہے جس میں انھوں نے سوشل میڈیا کو دیے گئے قانونی تحفظ کو ختم کیا ہے۔

روس کے ’چینل ون رشیا‘ کی شام کی خبروں میں اسی طرح کا نکتہ اٹھایا گیا ہے۔ پروگرام میں کہا گیا کہ امریکہ مظاہروں سے نمٹنے کے لیے اسی طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے جیسے ترکی اور مصر نے مظاہرین کو روکنے کے لیے استعمال کیے۔ تاہم ماضی میں امریکہ ان ہتھکنڈوں کو ’جرم‘ تصور کرتا رہا ہے۔

ترکی

ترکی کے ایک حکومت نواز اخبار ’یانی سفک‘ نے اپنے صفحہ اول پر امریکہ میں ہونے والے احتجاج کو ’ایفرو امریکن سپرنگ‘ کا نام دیا ہے۔ حکومت کے ایک اور حامی اخبار نے شہ سرخی لگائی کہ ’میں سانس نہیں لے سکتا، بغاوت پھیل رہی ہے۔‘

ترکی کے اخبارات میں صدر طیب اردوگان کے اس ٹوئٹر پیغام کو رپورٹ کیا گیا جس میں انھوں نے جارج فلائیڈ کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ موت ’نسل پرستی اور فسطائیت کی طرز پر ہوئی ہے۔‘

ترکی میں حکومت کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ترکی میں احتجاج کے دوران پولیس کے رویے اور امریکہ میں پولیس کے رویے کا تقابلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’امریکہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت رہا ہے۔‘

ترکی میں سنہ 2013 میں جب حکومت نے غازی پارک میں تعمیرات کا منصوبہ بنایا تھا تو بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے۔ امریکہ نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ترکی کی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ لوگوں کے اکٹھے ہونے کے حق کو تسلیم کرے۔

البتہ ترک حکومت کے حامی اکاؤنٹس سے جاری ہونے والے امریکہ مخالف پیغامات پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں صدر اردوگان کے حامیوں پر منافقت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ایک مقبول تقریری فورم ’ایکسی سوزلک‘ میں ایک صارف صدر اردوگان کو یاد دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’آپ اس ملک کے صدر ہیں جہاں ایک بچہ سر میں آنسو گیس کا شیل لگنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔‘ سنہ 2013 کے مظاہروں میں تیرہ سالہ برکن ایلون آنسو گیس شیل سر میں لگنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔

چند ٹوئٹر صارفین نے ترکی کے دوہرے معیار کو یہ کہہ کر واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے لیکن اپنے ملک میں کردوں کے ساتھ جو رویہ روا رکھا جاتا ہے اس پر چپ سادھ لیتا ہے۔

صحافی نورچن بیسل نے ایک پیغام میں کہا کہ ’میرے وطن کے نسل پرستوں جو آج امریکہ میں نسل پرستی کے مخالف ہیں، دن کیسا گزر رہا ہے۔ اگر آپ امریکہ کی مذمت مکمل کر چکے ہیں تو میں آپ کو ماردین لیے چلتا ہوں۔‘ اس کے ساتھ انھوں نے ایک رپورٹ شیئر کی جو ماردین میں ایک اجتماعی قبر کے حوالے سے ہے جس سے چالیس لوگوں کی لاشیں ملی ہیں۔