امریکی بحریہ کے ایک سابق اہلکار ایران میں قید سے رہائی پانے کے بعد گھر واپس لوٹ رہے ہیں۔

مائیکل وائٹ کو گذشتہ برس ان الزامات پر سزا سنائی گئی تھی جن کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔ تاہم انھیں عارضی طور پر مارچ میں طبّی وجوہات کی بنا پر رہا کر کے سوئس سفارت خانے کے حوالے کیا گیا تھا۔

انھیں سنہ 2018 میں ایران کے شہر مشہد میں اپنی گرل فرینڈ سے ملنے کے لیے کیے جانے والے سفر کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کی رہائی اس روز عمل میں آئی ہے جب ایران کے وزیرِ خارجہ نے امریکہ سے ایک ایرانی ڈاکٹر کی رہائی کا اعلان کیا۔

تاہم ابھی امریکی حکام کی جانب سے ماجد طاہری کی رہائی کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایک تیسرے شخص سیروز اصغری جو کہ ایرانی سائنسدان ہیں اور امریکہ میں قید ہیں، انھیں رواں ہفتے کے آغاز میں امریکہ نے ایران بھیج دیا تھا۔

مزید پڑھیے

’امریکی ایجنٹ ایرانی حراست میں ہلاک نہیں ہوا‘

ایران نے ’دہری شہریت کے دسیوں جاسوس‘ گرفتار کر لیے

جنرل سلیمانی کا تابوت اور ایرانیوں کا ’تبرک‘

سیروز اصغری کا تعلق تہران سے ہے اور ان پر سنہ 2016 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی کہ انھوں نے ایک امریکی یونیورسٹی سے خفیہ معلومات چرانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن پھر نومبر میں انھیں ان الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔

اگرچہ امریکہ نے اب تک قیدیوں کے براہ راست تبادلے سے انکار کیا ہے تاہم یہ رہائی امریکہ اور ایران کے درمیان تعاون کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو مائیکل وائٹ کی رہائی کی تصدیق کی۔ انھیں سوئس جہاز پر ایران سے روانہ کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ بیرونِ ملک یرغمال بنائے گئے امریکیوں کی بحفاظت رہائی کے لیے کام کرنے کو کبھی نہیں روکیں گے۔

وائٹ کی والدہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'میرا بیٹا 683 دن سے ایران میں پاسدران انقلاب کے دستوں نے یرغمال بنا رکھا تھا اور میں ایک ڈراؤنے خواب میں جی رہی تھی۔ '

مسٹر وائٹ کی والدہ نے کہا کہ یہ ڈراؤنا خواب ختم ہو گیا ہے اور میرا بیٹا بحفاظت گھر لوٹ رہا ہے۔

صدر ٹرمپ اور رہائی پانے والے امریکی بحریہ کے اہلکار نے سویڈن کی حکومت کا تعاون کے لیے شکریہ ادا کیا ہے۔

ان کی عمر 48 برس ہے اور وہ ان کم ازکم چھ امریکیوں میں شامل ہیں جو ایران کے اندر قید ہیں یا پھر بیل پر باہر ہیں۔

مارچ میں سویڈن کے سفارتخانے کو ان کی حوالگی طبی بنیادوں پر کی گئی تھی جب بہت سے قیدیوں کو کورونا کی وبا کے پھیلنے کے خدشے کی وجہ سے رہا کیا گیا تھا۔

ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ 2018 میں گرفتاری سے پہلے بھی کئی مرتبہ انھوں نے ایران کا دورہ کیا تھا۔

جمعرات کو امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ وہ اور مائیکل کے اہلِ حانہ ان کی واپسی کے منتظر ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم ایران اور دنیا بھر میں موجود اپنے قید شہریوں کو اپنے پیاروں کے پاس گھر میں نہیں لے آتے۔

دسمبر میں امریکہ اور ایران نے غیر معمولی اقدام میں قیدیوں کا تبادلہ کیا۔

چینی امریکی محقق مسٹروانگ اور ایرانی سائینس دان مسعود سلیمانی کو رہائی ملی۔

امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ کیے جانے والے جوہرے معاہدے سے دستبرداری کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بمیں کیشدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

لیکن اس تناؤ میں رواں برس جنوری میں اور زیادہ اضافہ اس وقت ہوا جب امریکہ کی جانب سے ایران کے اعلیٰ کمانڈر جنرل سلیمانی کو عراق میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔

اس کے جواب میں ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔