امریکہ میں درجنوں شہروں میں پھیلتے پرتشدد مظاہروں کے بعد ’انانیمس‘ نامی ہیکرز کا گروپ ایک مرتبہ پھر منظرِ عام پر آ گیا ہے۔

ایک وقت تھا کہ یہ گروپ سرخیوں میں ہی رہتی تھی اور اس کے سائبر حملوں کے نشانے پر وہ لوگ ہوتے تھے جنھیں وہ ’ناانصافیاں‘ کرنے کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔

تاہم کئی سال قدرے خاموش رہنے کے بعد اب جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے ساتھ ساتھ انانیمس بھی سامنے آگیا ہے اور تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ مینیاپولس کی پولیس کے ’کئی جرائم‘ کا پردہ فاش کریں گے۔

تاہم یہ ثابت کرنا کافی مشکل ہے کہ اس گروپ نے کیا کیا ہے یا ان کا طریقہ کار کیا ہے۔

انانیمس کون ہیں؟

انانیمس گروپ میں نہ کوئی مرکزی شخصیت ہے اور نہ ہی کوئی قیادت۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک ’لیجن‘ یعنی گروہ ہیں۔

مرکزی کمانڈ کے بغیر کوئی بھی شخص گروہ کا حصہ ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ گروہ کے اراکین کی آپس میں ترجیحات کافی مختلف ہوسکتی ہیں اور تنظیم کا کوئی واحد ایجنڈا نہیں ہے۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت سے متعلق یہ بھی پڑھیے

جارج فلائیڈ کی ہلاکت: تمام برطرف پولیس اہلکاروں کے خلاف نئی دفعات عائد

سیاہ فام امریکیوں سے اظہار یکجہتی، پاکستان اور انڈیا میں ’منافقانہ رویوں‘ پر بحث

ٹرمپ کی تنقید کی زد میں آنے والی تنظیم ’اینٹی فا‘ کیا ہے؟

جارج فلائیڈ کی موت پر امریکہ میں کالے گورے کی سیاست گرم

کیا صدر ٹرمپ امریکی ریاستوں میں فوج تعینات کر سکتے ہیں؟

مگر عام طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہیکرز کا ایک گروہ ہیں جو کہ ’اختیارات کا ناجائز استعمال‘ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔ اس کام کے لیے وہ ویب سائٹس ہیک کرتے ہیں اور کچھ کو انٹرنیٹ سے اتار دیتے ہیں۔

ان کا نشان گائے فاکس ماسک ہے جو کہ ایلن موور کے افسانے ’وی فار وینڈیٹا‘ کی وجہ سے مشہور ہوا جس میں ایک انقلابی کرپٹ فاشسٹ حکومت کو گراتے ہوئے یہ ماسک پہنتا ہے۔

ماضی میں گروپ کیا کر چکا ہے؟

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے سلسلے میں متعدد سائبر حملوں کا ذمہ دار انونیمس تنظیم کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ پہلے تو مینیاپولس کی پولیس کی ویب سائٹ کچھ دیر کے لیے ناکارہ بنا دی گئی تھی۔

اس کے لیے شک کیا جا رہا ہے کہ ڈی ڈی او ایس اٹیک کا استعمال کیا گیا۔ یہ حملہ قدرے غیر پیچیدہ ہوتا ہے اور حملے میں کسی بھی ویب سائٹ پر اتنی معلومات بھیجی جاتی ہیں کہ وہ ڈیٹا سنبھال نہیں سکتی اور کام کرنا بند کر دیتی ہے بالکل اسی طرح کہ اگر بہت سے لوگ کسی ویب سائٹ سے ایک ہی چیز خریدنے لگیں تو وہ کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔

اس کے علاوہ محکمہِ پولیس سے منسلک ای میل ایڈریسز اور پاس ورڈز کی ایک فہرست بھی گردش کر رہی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اسی تنظیم نے لیک کیا ہے۔

مگر اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ پولیس کے کمپیوٹرز ہیک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی کی ویب سائٹ کے صفحے کو جارج فلائیڈ کی یاد گار بنا دیا گیا اور اس پر گروپ کا نشان لگایا گیا۔

انانیمس کے بارے میں

انانیمس کے اعلانِ جنگ کا مطلب کیا ہے؟

سائبر حملہ: انانیمس گروپ کی تردید

دولتِ اسلامیہ کے اکاؤنٹس کی جاسوسی

ٹوئٹر پر غیر مصدقہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پولیس کے ریڈیوز پر گانے بجنے لگے ہیں اور ان کا مواصلات کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ گروپ کی جانب سے ہیک کرنے کے بجائے اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ مظاہرین نے کچھ ریڈیوز حاصل کر لیے ہوں اور وہ ان کے ذریعے مواصلات روک رہے ہوں۔

اس کے علاوہ تنظیم کے اراکین صدر ٹرمپ کے خلاف ایک پرانے سول عدالتی کیس سے متعلق الزامات پھیلا رہے ہیں جس میں مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی مدعی نے الزام واپس لے لیا تھا۔

کیا گروپ کی واپسی پر یقین کیا جا سکتا ہے؟

بی بی سی کے نیویارک میں نامہ نگار نِک برائنٹ کا کہنا ہے کہ حالیہ مظاہرے امریکہ میں نسلی امتیاز کے حوالے سے مارٹن لوتھر کِنگ کی موت کے بعد شاید شدید ترین ہیں۔

اس تناظر میں تنظیم سے منسلک ایک فیس بک پیج پر کہا گیا ہے کہ ’محکمہِ پولیس کے کئی اور جرائم کا پردہ فاش کیا جائے گا‘۔

مگر اسی پیج پر یو ایف اوز اور چین کے دنیا پر حاوی ہونے کے بارے میں ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں ایک آواز ماضی کی خبروں پر بات کر رہی ہے۔

تاہم مینیاپولس کی پولیس کی ویب سائٹ بند ہونے کے بعد اس پیج کو کافی زیادہ توجہ ملی۔

کیا گروپ انانیمس نے ماضی میں بھی ایسے کام کیے ہیں؟

گروپ کی پہلی بڑی کارروائی چرچ آف سائنٹولوجی کے خلاف 2008 میں تھی جس میں انھوں نے اس چرچ کی ویب سائٹ کو ناکارہ بنا دیا تھا، پرینک کالز کی تھیں، اور خالی فیکس بھیجیں تاکہ ان کی مواصلات متاثر ہوں۔

اس کے بعد انھوں نے عالمی مالی بحران، عرب سپرنگ، ’اوکیوپائی وال سٹریٹ‘، سب کی ہی حمایت کی ہے۔ جب سونی نے اپنے پلے سٹیشن کے کریک کے خلاف کارروائی شروع کی تو انھوں نے سونی کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

انھوں نے اس طرح کئی تحریکوں کی حمایت کی ہے اور دنیا بھر میں اسٹیبلشمنٹ مخالف ریلیاں نکالی ہیں۔ تاہم گذشتہ کئی برسوں میں وہ مرکزی میڈیا سے دور ہی رہے ہیں۔