امریکہ کے سابق وزیرِ دفاع جنرل جیمز میٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے اختیارات کا ناجائز استمعال کرتے ہیں۔

جیمز میٹس استعفیٰ دینے کے بعد کافی عرصے تک خاموش رہے ہیں۔ اب انھوں نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر لوگوں میں تفریق پیدا کرنا چاہتے ہیں اور وہ خود کو ’ذمہ دار قائد‘ ثابت کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔

انھوں نے صدر ٹرمپ کے ان اقدامات پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے جو انھوں نے گذشتہ ہفتے امریکہ میں سیاہ فام شخص کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے اٹھائے ہیں۔ امریکی صدر نے مظاہرین کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے پُرتشدد احتجاج ختم نہ کیا تو وہ فوج طلب کر لیں گے۔

جواب میں صدر ٹرمپ نے جیمز میٹس کو ’بے جا اہمیت کا حامل جرنیل‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ جیمز میٹس اب جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس مستعفی ہو گئے

امریکہ: پُرتشدد مظاہروں میں ہلاکتیں، ٹرمپ کی فوج بلانے کی دھمکی

ٹوئٹر کا صدر ٹرمپ پر ’تشدد کو ہوا دینے‘ کا الزام

جیمز میٹس نے اس وقت وزارت دفاع سے استعفیٰ دیا تھا جب صدر ٹرمپ نے شام سے امریکی فوج کے انخلا کا حکم دیا تھا۔

وہ تب سے خاموش رہے ہیں لیکن بدھ کو اٹلانٹا میگزین کو دیے انٹرویو کے دوران انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو کڑے ہاتھوں لیا۔

اس کے ردعمل میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے جیمز میٹس کو برطرف کیا تھا۔

انھوں نے لکھا: ’مجھے ان کی سربراہی کا طریقہ یا ان کے بارے میں کچھ بھی پسند نہیں تھا۔ کئی لوگ اس سے اتفاق کرتے ہیں۔۔۔ شکر ہے اب وہ جا چکے ہیں۔‘

جیمز میٹس نے کیا کہا؟

اپنے انٹرویو کے دوران جیمز میٹس نے کہا کہ: ’ڈونلڈ ٹرمپ میری زندگی کے دوران پہلے ایسے صدر ہیں جو امریکی عوام کو متحد کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یا اس کا دکھاوا بھی نہیں کرتے۔۔۔ بلکہ وہ ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

’ہم اس کوشش کو گذشتہ تین سال سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم تین سال سے غیر ذمہ دارانہ قیادت کے اثرات جھیل رہے ہیں۔‘

جیمز میٹس نے امریکہ میں جاری نسلی امتیاز مخالف مظاہروں پر بھی بات کی۔ یہ مظاہرے سیاہ فام امریکی شہری جارج فلوئیڈ کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد شروع ہوئے۔

اس کی تحقیقات کے دوران چار افسران پر فرد جرم عائد ہوچکا ہے۔

گذشتہ کئی دنوں تک یہ مظاہرے پُرامن رہے لیکن کچھ شہروں میں انھوں نے پرتشدد رنگ اختیار کر لیا اور پھر وہاں کرفیو لگایا گیا۔

جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ ’ہمیں محض چند قانون توڑنے والوں کی وجہ سے (مسئلے سے) توجہ نہیں ہٹانی چاہیے۔‘

’ہزاروں افراد اس لیے احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں کہ وہ اقدار پر پورا اترنا چاہتے ہیں۔۔۔ ایک قوم کی طرح۔‘

جیمز میٹس ایک رٹائرڈ جرنیل ہیں جنھوں نے دسمبر 2019 میں استعفیٰ دیا تھا اور ان کے بارے میں خیال تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں۔ انھوں نے امریکہ میں مظاہروں کے دوران فوج استعمال کرنے کی مذمت کی ہے۔

’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ فوج کو حکم دیا جائے گا کہ کسی بھی صورت میں شہریوں کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کریں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ فوج کے استعمال سے سویلین اور فوج کے حلقوں کے درمیان تنازع پیدا ہوجائے گا۔

جیمز میٹس گذشتہ ہفتے ان واقعات کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ جب وائٹ ہاؤس کے قریب پُرامن مظاہرین کو آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوںسے منتشر کیا جا رہا تھا۔

صدر ٹرمپ نے پھر ایک تاریخی گرجہ گھر کے ساتھ تصویر بنوائی جسے آتشزدگی سے نقصان پہنچا تھا۔

دوسری طرف امریکی صدر نے متعدد مرتبہ سوال کیا ہے کہ آیا مظاہرین پُرامن تھے۔ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’لوگوں کو اس تاریخی عبادت گاہ کی طرف میرا چلنا پسند آیا تھا۔‘

دفتر خارجہ کے اہلکار کی برطرفی پر تحقیقات

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دفتر خارجہ کے سابق انسپیکٹر جنرل سٹیو لینک نے امریکی کانگریس کو بتایا ہے کہ وہ برطرف ہونے سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کو ہتھیار فروخت کرنے اور اس کے لیے ’قومی ایمرجنسی‘ کا جواز پیش کرنے کے خلاف تحقیقات کر رہے تھے۔

انھیں گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے برطرف کیا تھا اور وہ حالیہ مہینوں کے دوران برطرف ہونے والے چوتھے حکومتی نگران ہیں۔

کانگریس کے ڈیموکریٹ اراکین کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران سٹیو لینک نے کہا کہ وہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور ان کی اہلیہ کے خلاف دفتر خارجہ کے وسائل کے ناجائز استعمال پر بھی تحقیقات کر رہے تھے۔

یہ تحقیقات کانگریس کی خارجی امور کی کمیٹی کے ڈیموکریٹ اراکین نے شروع کروائی ہے۔

ریپبلیکن پارٹی کے ایک رکن، جو کانگریس کی اسی کمیٹی میں شامل ہیں، نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے اختیارات میں تھے جب انھوں نے سٹیو لینک کو برخاست کیا۔

روئٹرز کے مطابق سٹیو لینک نے دفتر خارجہ کے ساتھ اپنے سات سالہ ریکارڈ کا دفاغ کیا ہے۔

جبکہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ انھوں نے خود صدر کو تجویز پیش کی تھی کہ سٹیو لینک کو برخاست کیا جائے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے کوئی وجہ فراہم نہیں کی ہے۔