ہم دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہوں، کووڈ 19 وبا کی وجہ سے زندگی ہر لحاظ سے بدل کر رہ گئی ہے۔ بہت سے ملکوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جارہی ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں لوگوں کی زندگی کس حد تک بدلی ہے اور اب حالت کیسے ہیں۔

کلاس روم

اساتزہ کے لیے سماجی دوری کی پابندی کرتے ہوئے سکولوں کو دوبارہ کھولنا ایک بہت بڑا چیلینج ہے۔

بہت سی کلاسز میں اب تبدیلی آرہی ہے اور والدین خصوصاً اپنے چھوٹے بچوں کے لیے پریشان ہیں کہ انھیں سکول میں کیسے دوسرے بچوں سے دور رکھا جائے گا۔

آئوریا کے علاقے میں چھوٹے بچوں کے دو سکول ابتدائی طور پر کھولے گئے ہیں تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ یہ کتنے محفوظ ہیں اور لاک ڈاؤن کے بعد دیگر سکول کھولے جاسکتے ہیں یا نہیں۔

پارک

آپ کو وہ دن یاد ہوں گے جب لوگ پارک میں چہل قدمی کررہے ہوتے تھے اور آپ کو آس پاس سائیکل اور دوڑ لگانے والے نظر آتے تھے لیکن اب، صورتحال بہت مختلف ہے۔

سیر و تفریح اور کھیل کود کی بہت سی جگہوں کو اب آہستہ آہستہ کھولا جارہا ہے۔

لیکن ساتھ ہی لوگوں کو سماجی دوری کا بھی خیال رکھنا ہے۔ بروکلن کے ڈومونو پارک میں لوگ گھاس پر پینٹ کی مدد سے بنائے گئے دائروں میں سماجی دوری کی پابندی کرتے ہوئے پکنگ منا رہے ہیں۔

کام

لاک ڈاؤن کے باعث جہاں زیادہ تر آبادی گھروں پر ہے وہیں لوگوں نے کام کرنے کے مختلف طریقے بھی نکالے ہیں: جیسا کہ ویڈیو کال۔ لیکن جیسے جیسے کاروبار کھل رہے ہیں ویسے ویسے لوگ عمارتوں کے اندر اپنے کام کرنے کے طریقے کار کو بھی تبدیل کررہے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں ایک پھولوں کی نمائش کے دوران حکام نے بولی لگنے والوں کے بیچ میں پلاسٹک کی سکرینیں لگائیں۔

یہ جگہ ملٹی فلورا وئیر ہاؤس کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ یہ جگہ پھولوں کی نمائش کے حوالے سے بہت مشہور ہے اور تین سو ملین پھولوں کی شاخیں پائی جاتی ہیں۔

شاپنگ

شاپنگ کے طور طریقوں میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اس وبا کے دوران آن لائن شاپنگ کی طرف لوگوں کا رجہان بہت بڑھ گیا ہے۔

جو سپر مارکیٹیں کھلی ہوئی ہیں وہاں لوگوں کو اندر آنے سے پہلے قطار میں کھڑا کیا جارہا ہے تاکہ دکان کے اندر سماجی دوری کی پابندی کی جاسکے۔ ہالینڈ کے شہر راٹرڈیم میں سوٹ کی ایک دکان میں گراہک اور دکاندار کے درمیان فاصلہ رکھنے کے لیے شیشے کی سکرین لگائی گی ہے۔

ریستوران

ریستوران میں جا کر کھانا بھی اب پہلے کی طرح نہیں ہوگا۔

تھائی لینڈ کے کھانے کے ہوٹلوں میں ٹیبلوں کے درمیان پلاسٹک کی شیٹ لگائی گئی ہیں تاکہ سماجی دوری کو برقرار رکھا جاسکے۔ زیادہ تر ہوٹلوں نے یا تو سیٹوں کے درمیان رکاوٹ لگائی ہے یا پھر ٹیبلوں کے درمیان سکرین لگائی ہیں۔

کنسرٹ

زندگی کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو موسیقی ایک ایسی چیز ہے جو اس میں آسانی نہیں تو آپ کے موڈ کو بہتر ضرور کردیتی ہے۔

جنوبی کوریا کے شہر گویانگ میں مشہور بینڈ کے- پاپ کے فنکاروں نے تین دن پر مشتمل ایک کانسرٹ منعقد کیا۔ لیکن سماجی دوری کی پابندی کرتے ہوئے شائقین نے یہ پورا کانسرٹ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر دیکھا۔

۔