امریکہ میں پولیس کی تحویل میں ہلاک ہونے والے سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی غیر سرکاری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی ہلاکت ایسفیکسیا (asphyxia) یعنی دم گھٹنے سے ہوئی۔

جارج فلائیڈ کے خاندان کی جانب سے ہائر کیے جانے والے ڈاکٹرز میں سے ایک نیویارک شہر کے سابق میڈیکل ایگزامینر مائیکل بیڈن کا کہنا تھا ’میرے خیال میں موت کی وجہ گردن پر دباؤ کی وجہ سے asphyxia یعنی دم گھٹنا ہے۔ جس نے دماغ کی طرف جانے والی آکسیجن کے راستے میں خلل ڈالا، اور کمر پر پڑنے والے دباؤ نے سانس لینے میں دقت پیدا کی۔‘

سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے رد عمل میں شروع ہونے والے مظاہروں کی چھٹی رات امریکہ کے مختلف شہروں میں پر تشدد واقعات رونما ہوئے۔

اس کی وجہ سے امریکہ کے تقریباً 40 شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا لیکن لوگوں نے بڑے پیمانے پر پابندیوں کو نظر انداز کیا جس کی وجہ سے ملک بھر میں تناؤ میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

نیو یارک، شکاگو، فلاڈیلفیا اور لاس اینجلس میں اینٹی رائٹ پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور مرچوں سے بھری گولیوں سے فائرنگ کی۔

مختلف شہروں میں پولیس کی گاڑیوں کو نذر آتش بھی کیا گیا اور متعدد دکانوں کو لوٹا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

وکیل: جارج فلائیڈ کو ’سوچ سمجھ کر قتل کیا گیا‘

سیاہ و سفید فام کی خلیج اور صدارتی انتخاب

جارج فلائیڈ کی موت پر امریکہ میں کالے گورے کی سیاست گرم

ٹوئٹر کا صدر ٹرمپ پر ’تشدد کو ہوا دینے‘ کا الزام

اندرونِ ملک ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تعینات کیے گئے امریکی نیشنل گارڈ نے اتوار کے روز کہا کہ ان کے پانچ ہزار اہلکار واشنگٹن ڈی سی سمیت 15 ریاستوں میں تعینات ہیں۔

خیال رہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں گذشتہ روز ایک بار پھر لوگوں کا ایک ہجوم وائٹ ہاؤس کے قریب جمع ہوا اور اس بار انھوں نے آتشزدگی کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا۔

نیشنل گارڈ نے مزید کہا کہ اس کے باوجود ’ریاست اور مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے سکیورٹی کے ذمہ دار ہیں۔‘

احتجاج کی تازہ ترین صورت حال کیا ہے؟

اتوار کے روز پولیس کی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کے متعدد واقعات رونما ہوئے۔ اینٹی رائٹ پولیس افسران آنسو گیس کے گولوں اور فلیش بینگ گرینیڈ سے ان کا جواب دیتے رہے۔

فلاڈیلفیا میں مقامی ٹی وی چینلز نے لوگوں کو پولیس کی گاڑیاں توڑتے اور کم از کم ایک دکان کو لوٹتے دکھایا ہے۔

کیلیفورنیا کے سینٹا مونیکا سے بھی لوٹ مار کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا: 'ابھی فلاڈیلفیا میں لا اینڈ آرڈر (کی صورت حال یہ ہے کہ) وہ دکانوں کو لوٹ رہے ہیں۔ ہمارے عظیم نیشنل گارڈ کو بلائیں۔'

منیاپولس میں جہاں جارج فلائیڈ نے اپنی جان گنوائی وہاں ایک لاری ڈرائیور کو گرفتار کیا گیا ہے جنھوں نے مبینہ طور پر سڑک پر کھڑی رکاوٹ کی خلاف ورزی کی تھی اور ایک بڑی شاہراہ پر یکجا مظاہرین کے ہجوم کی طرف تیزرفتاری سے گاڑی دوڑانے والے تھے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج میں گاڑی رکنے کے بعد درجنوں افراد کو گاڑی کے گرد دیکھا جا سکتا جو ڈرائیور کو اس کی سیٹ سے کھینچ رہے ہیں۔

معمولی چوٹ کے بعد ڈرائیور کو ہسپتال لے جایا گیا۔ اس کے علاوہ فوری طور پر دیگر ہلاکتوں کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

منی سوٹا کے گورنر ٹم والز نے کہا کہ ڈرائیور کا مقصد غیر واضح ہے۔ انھوں نے مزید کہا: 'سانحے کا نہیں ہونا اور بہت ساری ہلاکتوں کا نہ ہونا حیرت انگیز بات ہے۔'

کولوراڈو ریاست کے دارالحکومت ڈینور میں لوگوں نے پر امن طریقے سے احتجاج کیا۔ وہ زمین پر منھ کے بل لیٹے ہوئے تھے اور اپنے ہاتھوں کو پشت پر کر رکھا تھا اور 'میں سانس نہیں لے سکتا' کے نعرے لگا رہے تھے۔

اٹلانٹا، بوسٹن، میامی اور اوکلاہوما سٹی میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

فسادات کش پولیس کی جانب سے مظاہرین کے خلاف غیر متناسب قوت کے استعمال کی بھی اطلاعات ہیں۔

جارجیا کے اٹلانٹا میں اتوار کے روز کالج کے دو نوجوان طلبا پر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنے اور ایک ٹیزر فائر کرنے کے لیے دو پولیس افسروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

فلائیڈ کیس نے سیاہ فام امریکیوں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکتوں پر امریکی غم و غصے کو تازہ کر دیا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے غم و غصہ کی یہ لہر برسوں سے جاری سماجی و معاشی عدم مساوات اور الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی مایوسی کی عکاسی کرتی ہے۔ اور یہ بات صرف مینیاپولس تک ہی محدود نہیں ہے۔

ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والے احتجاج کے بعد سے اب تک سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایک سفید فام پولیس اہلکار پر مینیاپولس میں 46 سالہ مسٹر فلوئیڈ کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

سفید فام 44 سالہ پولیس افسر ڈیرک چاون کو پیر کے روز بعد میں عدالت میں پیش ہونا ہے۔

یہ معاملہ فرگوسن میں مائیکل براؤن، نیو یارک میں ایرک گارنر اور دیگر افراد کے بڑے معاملے کی طرح ہے جس کے بعد 'بلیک لائیوز میٹر' کی تحریک چل پڑی تھی۔

شمالی امریکہ کے نمائندے اینتھنی زرچر کا تجزیہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین سال تک نسبتاً پر امن اور خوشحالی ملک کی صدارت کی ہے۔ انھوں نے جن بحرانوں کا سامنا کیا ان مین سے زیادہ تر ان کی اپنی ہی پیدا کی ہوئی تھیں اور انھوں نے ان کا مقابلہ اپنے حامیوں کو ساتھ لے کر اپنے مخالفین کی مذمت کرتے ہوئے کیا۔

اب ٹرمپ کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو کسی ڈرامے کی کتاب کی تقسیم کے لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔

امریکی معیشت ایک مہلک وبائی مرض سے دوچار ہے۔ مینیاپولس کے ایک پولیس افسر کے ہاتھوں جارج فلوئیڈ کی ہلاکت نے پورے ملک میں نسلی بدامنی کو ہوا دی ہے۔

عوام غیر یقینی صورت حال سے دوچار اور خوف زدہ ہونے کے ساتھ بہت زیادہ ناراض ہے۔

یہ ایسے حالات ہیں جو انتہائی باصلاحیت قائدین کی صلاحیتوں کو بھی جانچتے ہیں۔ تاہم ان کی وجہ سے صدر کو سمندر میں کھو جانے کا خطرہ ہے۔

عوام سے اتحاد اور پرامن رہنے کی ان کی اپیل کو ٹوئٹر پر ان کے نام لینے اور لڑاکے پن کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ پیغام کا نظم و ضبط جو اس وقت ایک قابل قدر وصف ہے وہ ان کا خاصہ نہیں ہے۔

موجودہ بحران سے قوم کو نکالنے کا کوئی آسان طریقہ نہیں ہوسکتا ہے۔ براک اوباما کی نپی تلی سنجیدگی سے بھی فرگوسن کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو سکی تھی اور اسی طرح رچرڈ نکسن کے امن و امان کے احکامات ویتنام کے دور کی بدامنی پر قابو پانے میں ناکام رہے تھے۔

اس وبائی مرض کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی اور معاشرتی تباہی کے درمیان خشک سیاسی منظر نامے میں فلائیڈ کی موت کسی آسمانی بجلی کی طرح گری ہے۔

اگرچہ صدر خود ہی آگ میں گھی نہیں چھڑک رہے ہیں تو بھی ان کے لیے اس جنگل کی آگ پر قابو پانا مشکل ہوگا۔

جارج فلائیڈ کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

مینیاپولس میں پیر یعنی 25 مئی کی شام کو پولیس کو ایک پاس ایک گروسری سٹور سے فون آیا جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ ایک شخص جارج فلائیڈ نے جعلی 20 ڈالر کے نوٹ کے ساتھ ادائیگی کی ہے۔

پولیس اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر انھیں پولیس گاڑی میں داخل کرنے کی کوشش کی جس سے وہ زمین پر گر پڑے اور انھوں نے پولیس کو بتایا کہ انھیں بند جگہ سے گھٹن اور گھبراہٹ ہوتی ہے کیونکہ وہ کلسٹروفوبک ہیں۔

پولیس کے مطابق انھوں نے جسمانی طور پر مزاحمت کی لیکن انھیں ہتھکڑی لگا دی گئی۔ واقعے کی ویڈیو میں یہ بات سامنے نہین آتی کہ تصادم کیسے شروع ہوا۔

بہر حال پولیس افسر ڈیرک چاون کے گھٹنے کے نیچے ان کی گردن نظر آئی جہاں سے جارج فلائیڈ کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ 'پلیز، میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں' اور 'مجھے مت مارو'۔

کاؤنٹی کے طبی معائنہ کار کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے پولیس افسر نے جارج فلوئیڈ کی گردن پر آٹھ منٹ 46 سیکنڈ تک گھٹنے ٹیکے تھے جس میں سے تقریباً تین منٹ بعد ہی فلائيڈ بے حرکت ہو گئے تھے۔

پولیس افسر چاون کے اپنا گھٹنا ہٹانے سے لگ بھگ دو منٹ قبل دیگر افسران نے جارج فلائیڈ کی دائیں کلائی کو نبض کے لیے چیک کیا لیکن انھیں نبض نہیں مل سکی۔ انھیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ایک گھنٹے بعد انھیں مردہ قرار دیا گیا۔

جارج فلوئيڈ کے ایک وکیل نے ڈیرک چاون پر دانستہ طور پر سوچ سمجھ کر قتل کرنے کا الزام لگایا ہے۔