امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں گذشتہ پیر ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ایک سفید فام پولیس افسر کی جانب سے حراست کے دوران ’طاقت کے بے جا استعمال‘ کی وجہ سے ہلاکت ہوئی۔

اس واقعے کے بعد سے امریکہ کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں۔ جہاں شہریوں نے مظاہروں کے لیے سڑکوں کا رخ کیا ہے وہیں سوشل میڈیا پر بھی اس بارے میں مسلسل مہم چل رہی ہے اور مختلف ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

لیکن امریکہ میں سیاہ فام افراد پر پولیس کی جانب سے تشدد پر جو سب سے بڑی سوشل میڈیا مہم رہی ہے وہ ہیش ٹیگ ’بلیک لائیوز میٹر‘ (سیاہ فام زندگیاں اہم ہیں) ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وکیل: جارج فلائیڈ کو ’سوچ سمجھ کر قتل کیا گیا‘

امریکہ میں مظاہروں کے چھٹے روز پرتشدد واقعات میں اضافہ

جارج فلائیڈ کی موت پر امریکہ میں کالے گورے کی سیاست گرم

امریکہ میں بسنے والے پاکستانی اور انڈین شہری بھی اس بحث میں حصہ لے رہے ہیں لیکن ہیش ٹیگ بلیک لائیوز میٹر اب سرحدیں پار کر چکا ہے اور امریکہ سے باہر دیگر ممالک میں بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔

اس ٹرینڈ میں جہاں لوگ امریکہ میں سیاہ فام افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں وہیں ایسے افراد پر اپنے ممالک میں اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر ’منافقانہ رویے‘ تنقید کا نشانہ بھی بن رہے ہیں۔

صارف اسد سلطان نے پاکستان کے ٹوئٹر صارفین کے رویوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پاکستانی مسلمان ٹوئٹر صارف سیاہ فام امریکیوں سے اظہارِ یکجہتی کرتا ہے لیکن پاکستان میں احمدی برادری اور اہلِ تشیع افراد کے قتل اور ہندو لڑکیوں کا مذہب زبردستی تبدیل کروائے جانے پر مختلف جواز پیش کرتا ہے۔

انھوں نے اپنے تبصرے پر تنقید کے جواب میں اپنی بات پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ (ان لوگوں کو) یہ بتانا پڑے گا کہ وہ ایسے معاملے پر واویلا کر رہے ہیں جس سے وہ خود متاثر نہیں ہوتے لیکن ’جب اپنے ہاں ایسا کچھ ہوتا ہے تو اُس پر یا خاموش رہتے ہیں یا خوش ہوتے ہیں‘۔

ایک انڈین صارف نے اسی بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک انڈین ہونے کے ناطے شرمندگی ہوتی ہے جب امریکی اور کچھ انڈین بلیک لائیوز میٹر کی مہم میں اپنی آواز شامل کرتے ہیں۔ انڈیا اپنی اقلیتوں کے معاملے میں ناکام رہا ہے۔ ہم نے دلی کے فسادات میں دیکھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا تعصب اور نفرت کو ہوا دیتے رہے۔ امریکہ سے موازنہ کریں تو ہم پاکستان سے بس ذرا ہی بہتر ہیں۔‘

عائشہ محمد لکھتی ہیں کہ انڈیا میں بلیک لائیوز میٹر ٹرینڈ کر رہا ہے لیکن کشمیریوں کی زندگی اہم نہیں۔۔ قسمت کی ستم ظریفی

انڈیا سے اموتھا جیادیپ لکھتی ہیں ’مسلمانوں کی زندگی انڈیا میں کبھی اہم نہیں، دلتوں کی زندگی انڈیا میں کبھی اہم نہیں، عورتوں کی زندگی انڈیا میں کبھی اہم نہیں، مہاجرین کی زندگی انڈیا میں کبھی اہم نہیں۔ مگر بلیک لائیوز میٹر انڈیا میں ٹرینڈ کر رہا ہے۔ منافقت تمہارا نام ہے انڈیا‘۔

آصف خان نے بلیک لائیوز میٹر کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ اگر امریکہ میں لوگ جارج فلائیڈ کے لیے مظاہروں میں شامل ہو رہے ہیں تو ہم پاکستان میں کراچی اور بلوچستان میں لاپتہ افراد اور ماورائے عدالت قتل پر ایسا کیوں نہیں کرتے۔

زیدی نامی ایک صارف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’چاہے امریکہ ہو یا پاکستان ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ اپنی ذات، رنگ اور مذہب کی وجہ سے جان سے جاتے ہیں۔ دنیا میں کوئی جمہوری ملک اس کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہ پھر بھی ہر ایک نام نہاد جمہوری ریاست میں ہوتا ہے۔‘

صباء ملک نے کہا کہ ’آپ بلیک لائیوز میٹر کے بارے میں ٹویٹ کر سکتے ہیں اور اس سے پاکستان میں اقلیتوں، عورتوں اور ہم جنس پرست افراد کے ساتھ جو ہو رہا ہے، اُس پر فرق نہیں پڑے گا۔ آپ دونوں کر سکتے ہیں، لیا آپ کو سا سے مسئلہ ہے؟ مجھے ان فالو کر دیں۔‘

جارج فلائیڈ کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

مینیاپولس میں پیر یعنی 25 مئی کی شام کو پولیس کو ایک پاس ایک گروسری سٹور سے فون آیا جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ ایک شخص جارج فلائیڈ نے جعلی 20 ڈالر کے نوٹ کے ساتھ ادائیگی کی ہے۔

پولیس اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر انھیں پولیس گاڑی میں داخل کرنے کی کوشش کی جس سے وہ زمین پر گر پڑے اور انھوں نے پولیس کو بتایا کہ انھیں بند جگہ سے گھٹن اور گھبراہٹ ہوتی ہے کیونکہ وہ کلسٹروفوبک ہیں۔

پولیس کے مطابق انھوں نے جسمانی طور پر مزاحمت کی لیکن انھیں ہتھکڑی لگا دی گئی۔ واقعے کی ویڈیو میں یہ بات سامنے نہین آتی کہ تصادم کیسے شروع ہوا۔

بہر حال پولیس افسر ڈیرک چاون کے گھٹنے کے نیچے ان کی گردن نظر آئی جہاں سے جارج فلائیڈ کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ 'پلیز، میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں' اور 'مجھے مت مارو'۔

کاؤنٹی کے طبی معائنہ کار کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے پولیس افسر نے جارج فلوئیڈ کی گردن پر آٹھ منٹ 46 سیکنڈ تک گھٹنے ٹیکے تھے جس میں سے تقریباً تین منٹ بعد ہی فلائيڈ بے حرکت ہو گئے تھے۔

پولیس افسر چاون کے اپنا گھٹنا ہٹانے سے لگ بھگ دو منٹ قبل دیگر افسران نے جارج فلائیڈ کی دائیں کلائی کو نبض کے لیے چیک کیا لیکن انھیں نبض نہیں مل سکی۔ انھیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ایک گھنٹے بعد انھیں مردہ قرار دیا گیا۔

جارج فلوئيڈ کے ایک وکیل نے ڈیرک چاون پر دانستہ طور پر سوچ سمجھ کر قتل کرنے کا الزام لگایا ہے۔