لیبیا ایک مشکل گھڑی سے گزر چکا ہے لیکن اب بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اگلا مرحلہ ملک کے لیے کچھ بہتر ہوگا۔ سنہ 2011 میں سابق صدر معمر قذافی کی خوفناک موت واقع ہوئی اور اس دوران خانہ جنگی اور غیر ملکی مداخلت نے ملک کے ٹکڑے کر دیے۔

گذشتہ سال سے جنرل خلیفہ حفتر دارالحکومت طرابلس پر قابض ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنرل حفتر مشرقی لیبیا میں طاقتور ہیں جبکہ طرابلس مغرب میں واقع ہے اور یہاں سراج حکومت عالمی حمایت کے ساتھ موجود ہے۔

طرابلس کی حکومت کی حمایت کے لیے ترکی نے بھی مداخلت کی ہے۔ طرابلس کی حکومت کو اقوام متحدہ بھی مانتی ہے تو یہ فیصلہ اہم لگتا ہے۔ جنرل حفتر کے آدمی ہزاروں روسی فوجیوں کے ساتھ تاحال پیچھے ہٹے ہوئے ہیں۔

لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ لیبیا کے شہریوں کو وہ امن مل جائے گا جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر ہار ان کی ہی ہوگی۔

لیبیا میں تیل اور گیس کے ذخیرے پائے جاتے ہیں۔ اس سے ان کی تعلیم، صحت اور رہن سہن کی سہولیات جیسی تمام خواہشات پوری ہوسکتی ہیں۔ لیکن ان کے پاس اس میں سے کچھ نہیں اور نہ ہی وہ محفوظ ہیں۔

ایسے شہری جو بےگھر نہیں ہوئے انھیں کووڈ 19 کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن میں رکھا گیا ہے تاکہ وہ جنگی ہتھیاروں، ڈرونز اور جنگی طیاروں کا ہدف نہ بن سکیں۔ اس جنگ نے لیبیا کے اکثر ہسپتال اور کلینک تباہ کر دیے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس دوران مغربی لیبیا کے تقریباً دو لاکھ شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔

لیبیا کا مستقبل روشن ہوا کرتا تھا

چیٹم ہاوس نامی ایک تھنک ٹینک کے زیر احتمام انٹرنیٹ پر ایک گفتگو میں ہیومن رائٹس واچ کی حنان صالح نے کہا کہ ’آپ لیبیا کو ’احتساب سے پاک‘ سمجھ سکتے ہیں اور بدقسمتی سے حالات 2011 سے ایسے ہی رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کا شہریوں کے ساتھ رویہ بُرا رہا ہے۔ جنرل حفتر کے آدمی پُرتشدد واقعات میں زیادہ ملوث دکھائی دیے ہیں اور انھیں جنگی جرائم میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

ابھی یہ ماننا مشکل ہے لیکن جب کرنل قذافی کا تخت الٹایا گیا تھا تب مختصر عرصے کے لیے ایسا لگ رہا تھا جیسے لیبیا کا مستقبل روشن ہونے جا رہا ہے۔

2011 کے دوران میں اور برطانوی سفیر نے طرابلس میں موجود سفارت خانے کا دورہ کیا تھا جو تباہ ہو چکا تھا۔ اس پر ایک مشتعل گروہ نے حملہ کیا تھا اور آگ لگائی تھی۔ ایسا تب ہوا جب نیٹو کی فوج نے قذافی کی فورسز پر بمباری شروع کر دی تھی۔

ہم ایک جلے ہوئے فریم کے پاس سے گزرے جو 1920 کی دہائی کا بلیئرڈ ٹیبل ہوا کرتا تھا۔ ہم نے شہریوں کے اس جنون کی بات کی جو وہ انقلاب کے حوالے سے محسوس کرتے تھے۔ ان کی قسمت شام یا عراق جیسی نہیں جہاں فرقہ وارانہ اختلافات موجود ہیں۔ اور یہ کہ لیبیا کے وسیع سحرا میں تیل اور گیس کا خزانہ پایا جاتا ہے۔

شاید سیاحت بھی ممکن ہوسکتی ہے۔ لیبیا میں دو ہزار کلومیٹر وسیع ساحل سمندر ہیں جو بحیرۂ روم کے ساتھ موجود ہیں۔ یہاں آثار قدیمہ کے مراکز بھی موجود ہیں جنھیں رومی سلطنت سے جوڑا جاتا ہے اور یہ اٹلی کے مقامات سے کم نہیں۔

لیکن لیبیا تب ہی تباہ ہوچکا تھا اور آج، اس گفتگو کے 10 سال بعد بھی وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شام کا حکمران خاندان اندرونی مسائل کا شکار

لیبیا کی باغی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر کون ہیں؟

لیبیا میں خانہ جنگی کی نئی لہر کے بعد جی سیون اور اقوامِ متحدہ کی مذمت

قذافی کا تخت الٹنے والی ملیشیا کبھی الگ نہ ہوئی اور انھیں اپنی طاقت اچھی لگنے لگی۔

جب کرنل، ان کے بیٹے اور خاندان کے ساتھی جا چکے تھے تو پیچھے فعال ریاست نہیں بچی تھی۔ ایسے لوگ جنھوں نے اچھی نوکریاں حاصل کیں انھیں پتا لگا کہ حکومت کو چلانے کے لیے تمام ڈھانچہ ٹوٹ چکا ہے۔

لیبیا کے لوگ خود کو انقلابی سمجھتے تھے اور وہ طاقتور ممالک سے مدد مانگنے کے حق میں نہیں تھے۔ انھیں ملکوں نے ہتھیار فراہم کیے تھے اور ایک فضائی فورس بنا کر دی تھی جو اتنی اہم تھی کہ اس نے ان کی جیت کو یقینی بنایا۔

تاہم باہر کے لوگ سمجھ رہے تھے کہ اب وہ یہاں سے نکل سکتے ہیں کیونکہ کام ہوچکا ہے۔ قذافی کو ہٹانا ایک بات تھی لیکن ملک کی تعمیر نو میں مدد کرنا ایک دوسری بات۔

لیبیا کے ٹکڑوں کو دوبارہ گِر کر تباہ ہونے میں زیادہ وقت نہ لگ سکا۔ بڑے شہر خود میں ریاستیں بننے لگے۔

ملیشیا کا اپنا ایجنڈہ تھا اور وہ ہتھیار ڈالنے والے نہیں تھے۔ اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ سفارت کاروں نے یہ کوشش کی کہ وہ بات چیت اور مفاہمت کو فروغ دے سکیں لیکن ایسا نہ ہوسکا۔

بیرونی طاقتوں کی نظر لیبیا پر

سنہ 2014 تک جنرل حفتر اس تباہ حال زمین میں طاقتور بن کر ابھرے۔ انھوں نے بن غازی سے شر پسند اسلامی گروہوں کو نکالا۔ یہ مشرقی لیبیا کا دارالحکومت اور ملک کا دوسرا بڑا شہر مانا جاتا ہے۔

جنرل حفتر لیبیا میں مقبول تھے۔ یہ وہ جنرل تھے جن کا کرنل قذافی سے اختلاف ہوا تھا۔ جلا وطنی میں انھوں نے قذافی کا تخت الٹنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وہ اس وقت ورجینیا میں لینگلے کے اڈے پر موجود ہوا کرتے تھے۔ یہ اسی شہر میں واقع ہے جہاں امریکی انٹیلیجنس سی آئی اے کا صدر دفتر بھی ہے۔

لیبیا پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور اب یہاں دو حریف حکومتیں قائم ہوگئی تھیں۔

جنرل حفتر مشرق میں بن غازی سے حکومت چلاتے تھے اور ان کا مقصد مغرب میں طرابلس پر حملہ کر کے ملک کو متحد کرنا تھا۔ وہ فیض السراج کی اس حکومت کا تخت الٹنا چاہتے ہیں جسے عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔

لیبیا پر کس کی حکومت ہے؟

وزیر اعظم فیض السراج کو ان ممالک کی حمایت حاصل ہے

  • ترکی
  • قطر
  • اٹلی

جنرل خلیفہ حفتر کو ان ممالک کی حمایت حاصل ہے

  • متحدہ عرب امارات
  • اردن
  • مصر
  • روس
  • فرانس

یہ واضح تھا کہ عالمی طاقتیں خانہ جنگی میں شریک ہوجائیں گی۔ لیبیا ایک انعام ہے اور اس پر سب کی نظریں ہیں۔ یہاں افریقہ میں تیل اورگیس کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ اور اس کی آبادی 70 لاکھ سے بھی کم ہے۔

علاقائی اعتبار سے یہ یورپ کے سامنے ہے اور اس کے وسائل بحیرہ روم سے براہ راست درآمد کیے جا سکتے ہیں۔ خلیج میں قدرتی وسائل والے اس کے حریف اپنی سامان کی منتقلی کے لیے خطرناک سمندری راستوں کا استعمال کرتے ہیں۔

سب سے اہم یہ ہے جنرل حفتر کو روس، متحدہ عرب امارات اور مصر کی حمایت حاصل ہے۔

لیکن ترکی طرابس میں سراج حکومت کا اہم حامی ہے۔

امریکہ نے صدر ٹرمپ کی قیادت میں لیبیا سے متعلق مختلف اشارے دیے ہیں۔ انھوں نے مختلف وقتوں میں دونوں سراج اور جنرل حفتر کی حمایت کی ہے۔ امریکہ جہاد کرنے والے انتہا پسند گروہوں پر بمباری کرتا ہے جب بھی ان کی نشاندہی کر لیتا ہے۔

اب سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ شام میں خود کو قائم کرنے کے لیے شاید روسی صدر پوتن اپنے آپ کو لیبیا میں قائم کرنے جا رہے ہیں۔

لیبیا میں جاری جنگ نے شام کی سی صورتحال اختیار کر لی ہے۔ وہی عالمی طاقتیں اس ریاست کا مستقبل بھی طے کر رہی ہیں۔

لیبیا میں پراسکی جنگ کئی پہلوؤں سے شام میں پراکسی جنگ کا تسلسل بن گئی ہے۔ دونوں طرف شامی جنگجو اپنی صلاحیت استعمال کر رہے جو انھوں نے اپنے ملک میں تقریباً دہائی تک چلنے والی جنگ میں سیکھی ہے۔

یہ ممکن ہے کہ ترک صدر اردگان اور روسی صدر پوتن لیبیا میں اسی معاہدے کا استعمال کر رہے ہیں جن کی بنیاد انھوں نے شام میں ڈالی تھی۔

روسی فوجیوں جو جنرل حفتر کے ساتھ لڑ رہے ہیں ان کا تعلق پوتن کے ایک قریبی ساتھی کے گروہ ویگنر گروپ سے ہے۔ یہی روسی فوجی شام میں بھی لڑ چکے ہیں۔

یہ اہم ہے کہ جب طرابلس سے روس کا پیچھے ہٹا تو اسے ترکی فوجی ڈرونز نے تنگ نہیں کیا۔ روس نے بھی لیبیا میں جدید جنگی طیارے منتقل کیے۔

اگلی بڑی جنگ

جرمن ماہر تعلیم ولفرم لیچر کے مطابق صدر پوتن اور صدر اردگان یہ معاہدہ کر سکتے تھے کہ جنرل حفتر کی جارحانہ حکمت عملی ختم کر سکیں تاکہ وہ بچی کچی چیزوں کو آپس میں تقسیم کر لیں۔ انھوں نے لیبیا کی تباہ حالی پر ایک کتاب لکھی ہے جو حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔

انٹرنیٹ پر گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ: ’ہم دو عالمی طاقتوں کی بات کر رہے ہیں جو لیبیا میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کی رہی ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ طویل مدت تک یہی سلسلہ رہے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے ابہام رکھتے ہیں کہ لیبیا میں موجود طاقتیں یا اس ملک کے شہری اس معاہدے کو خاموشی سے تسلیم کر لیں گے۔

اگلی بڑی جنگ ترھونہ میں ہوسکتی ہے۔ یہ گاؤں دارالحکومت طرابلس سے بس 90 کلو میٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔

یہ جنرل حفتر کا گڑھ ہے، یہ القانیت نامی ملیشیا کے قبضے میں ہے جو ایسے افراد پر مشتمل ہے جو قذافی کی حکومت کی حمایت کیا کرتے تھے۔

طرابلس کی حکومت کی حمایت یافتہ فوج ترھونہ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ فورس قذافی کی مخالف رہ چکی ہے۔

سابقہ حکومت کے خلاف لڑائی اب بھی لیبیا کی نہ ختم ہونے والی جنگ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔