امریکہ میں ایک نہتے سیاہ فام شخص کی پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد مختلف شہروں میں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود مظاہرے جاری ہیں جبکہ مقتول کے وکلا کا الزام ہے پولیس نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ قتل کیا ہے۔

یاد رہے کہ ایک سفید فام سابق پولیس افسر ڈیرک چاؤن پر ایک 46 سالہ سفید فام امریکی جارج فلائیڈ کو قتل کرنے کا الزام ہے اور پیر یکم جون کو انھیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ڈیرک چاؤن پر تھرڈ ڈگری قتل کے الزام عائد کیا گیا ہے کہ تاہم وکیل بینجمن کرم نے سی بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ یہ فرسٹ ڈگری قتل تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا ارادہ تھا۔۔۔۔ انھوں نے تقریباً نو منٹ تک اس شخص کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھا، وہ سانس لینے کے لیے بھیک مانگ رہا تھا منت سماجت کر رہا تھا۔

میناپولس کے سابق پولیس اہلکار ڈیرک چاؤن کو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کئی منٹ تک مقتول فلوئڈ کی گردن پر اپنے گھٹنے رکھے۔ تب بھی جب فلئڈ نے انھیں بتایا کہ وہ سانس نہیں لے پا رہے۔

ڈیرک سمیت تین پولیس افسران معطل کر دیا گیا ہے۔

فلاڈیلفیا سے لوٹ مار کے واقعات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ٹی وی پر نظر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اتوار کو مشتعل نوجوانوں نے پولیس کی متعدد گاڑیوں کو تباہ کیا اور کم ازکم ایک سٹور میں لوٹ مار کی۔

مغربی علاقے سے پرتشدد واقعات کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ پولیس کی گاڑیوں کو نذرِ آتش بھی کیا گیا۔

امریکہ کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ ہے۔

صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ کی اور کہا کہ ’فلاڈیلفیا میں لا اینڈ آڈر، ابھی وہ سٹورز کو لوٹ رہے ہیں۔ ہمارے نیشنل گارڈز کو بلائیں۔‘

ان مظاہروں میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔

نیشنل گارڈز ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکہ کی ریزرو ملٹری فورس ہے۔ اس کی جانب سے اتوار کو کہا گیا تھا کہ اس کے پانچ ہزار اہلکار 15 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں متحرک ہیں۔

مزید کہا گیا کہ ریاست اور مقامی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں سکیورٹی کی ذمہ دار ہیں۔

مزید پڑھیے

قتل بڑا مسئلہ یا اس کے خلاف احتجاج، امریکہ میں بحث

سیاہ فام شخص کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد امریکہ میں پرتشدد مظاہرے

اب تک کیا ہوا ہے؟

امریکہ میں ایک نہتے سیاہ فام شخص کی پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد مختلف شہروں میں مظاہرے جاری ہیں جبکہ گرفتار پولیس افسر پر قتل کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

ریاست کے گورنر کا کہنا ہے کہ اب وہاں مظاہرے کسی بھی طرح اس ہلاکت کی مخالفت تک محدود نہیں ہیں۔

گورنر ٹم والز نے کہا ہے کہ پوری ریاست کے نیشنل گارڈز کو متحرک کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہے ہیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ملٹری پولیس یونٹس کو بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔

سیاہ فام شخص کی ہلاکت یہ واقعہ منیپولس میں پیش آیا اور اس واقعے کے تناظر میں تین روز سے مظاہرے ہو رہے ہیں۔

سنیچر کی رات مظاہرین نے ایک پولیس سٹیشن کو بھی آگ لگا دی تھی۔

پیر کے روز پیش آنے والے اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں گرفتار جارج فلائیڈ پولیس والے سے یہ التجا کرتے نظر آئے کہ ان کا دم گھٹ رہا ہے لیکن پولیس افسر ٹس سے مس نہ ہوا۔

ان کی ہلاکت کے بعد ملک کے محتلف شہروں میں مظاہروں کا آغاز ہوا جو اب بھی جاری ہیں۔

جمعے کی رات کو مشتعل مظاہرین کی پولیس سے نیویارک، ایٹلانٹا اور پورٹ لینڈ میں جھڑپیں ہوئیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس میں کچھ حد تک لاک ڈاؤن تھا۔

ہیوسٹن وہ علاقہ ہے جہاں جارج فلوئیڈ پلے بڑھے تھے۔

ایک 19 سالہ لڑکے نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے اس حوالے سے کفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے سوال یہ ہے کہ کتنے اور، مزید کتنے اور؟ میں ایسے مستقبل میں جینا چاہتا ہوں جہاں ہم ہم آہنگی سے رہیں اور ہم ظلم و ستم کا شکار نہ ہوں۔

گورنر ولز نے کہا کہ مینیسوٹا میں ہمارے بڑے شہر مینپولس اور سینٹ پال حملوں کی زد میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ منیپولس میں اس وقت صورتحال شہریوں پر حملے ہونے، خوف پیدا ہونے اور ہمارے عظیم شہر کے خراب ہونے والی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جمعے کی رات ہونے والے تشدد نے اس کا مذاق اڑایا ہے کہ یہ بظاہر’جارج فلائیڈ کی موت کے بارے میں تھا یا یا عدم مساوات یا ہماری مختلف کمیونٹیز میں تاریخی صدمے کے بارے میں۔

ان کے اور دیگر عہدیداروں کے خیال میں بہت سے پرتشدد مظاہرین ریاست سے باہر سے آئے تھے اور انھوں نے مسئلہ پیدا کیا تاہم ان کی جانب سے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں فراہم کی گئیں۔

اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ مسٹر فلوئیڈ کی موت نے امریکیوں کو ’خوف، غصے اور غم سے بھر دیا ہے۔‘

انھوں نے فلوریڈا سے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا تھا کہ میں ناراض ہجوم کو غلبہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ ایسا نہیں ہوگا۔‘

انھوں نے وائٹ ہاؤس کے تحفظ کے لیے امریکی خفیہ سروس کی تعریف کی تھی لیکن کہا تھا کہ اگر مظاہرین اس کی حدود کی خلاف ورزی کرتے تو ’انتہائی شیطانی کتوں، اور انتہائی بدترین ہتھیاروں سے استقبال کیا جاتا۔‘

صدر ٹرمپ نے ’منظم گروہوں‘ پر تشدد کا الزام لگایا۔

مظاہروں کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال

منیسوٹا سب سے زیادہ غیر مستحکم خطہ ہے جہاں جمعے اور ہفتے کی شام کو منیپولیس اور سینٹ پال کے جڑواں شہروں کے لیے کرفیو کا حکم دیا گیا ہے۔

جمعہ کے روز مظاہرین نے کرفیو کی خلاف ورزی کی گئی، املاک کو آگ لگائی گئی اور بڑے پیمانے پر لوٹ مار دیکھنے کو ملی۔ ان مناظر کی تصاویر ٹی وی سکرینز پر دکھائی دیں۔

نیشنل گارڈ کے سینکڑوں فوجی، ایک ریزرو فوج جسے امریکی صدر یا ریاستی گورنرز ہنگامی صورتحال میں مداخلت کرنے کے لیے طلب کرسکتے ہیں رات گئے حرکت میں آئی۔

مینیسوٹا کے عہدیداروں نے بتایا کہ جمعے کے روز دسیوں ہزار افراد باہر نکلے اور وہ ہفتہ کی رات مزید بدامنی کی توقع کر رہے ہیں۔

اس کے نتیجے میں، گورنر والز نے کہا کہ وہ ریاست میں دستیاب نیشنل گارڈ کے تمام فوجیوں کو جن کی اطلاعات کے مطابق تعداد 13،000 تک ہے تاریخ میں پہلی مرتبہ ان فسادات کا جواب دینے کے لیے متحرک کررہے ہیں۔

پینٹاگون نے کہا ہے کہ اگر مطالبہ کیا گیا تو کچھ امریکی فوجی یونٹس مینیسوٹا کی مدد کے لیے چوکس ہیں۔

منیپولیس میں سیاہ فام برادری اور پولیس کے مابین بہت پہلے سے تناؤ کی کیفیت رہی ہے۔

ایک اور سیاہ فام شخص فیلینڈو کاسٹائل کو سنہ 2016 میں ان مظاہروں کے مرکز کے قریب ٹریفک رکنے کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس واقعے نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی تھی۔

افریقی نژاد امریکی بھی معاشرتی اور معاشی عدم مساوات کا شکار ہیں۔

اٹلانٹا کے علاقے جارجیا جہاں عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی گئی لوگوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کچھ علاقوں کے لیے ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا گیا۔

میئر کیشا لانس باٹمز نے ایک پیغام میں کہا کہ یہ احتجاج نہیں ہے۔ یہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا جذبہ نہیں ہے۔ آپ ہمارے شہر کو بدنام کررہے ہیں۔ آپ جارج فلائیڈ کی زندگی کو بدنام کررہے ہیں۔

نیو یارک کے برکلن ڈسٹرکٹ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں آگ لگی اور پولیس کی گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ متعدد افسر زخمی ہوئے اور متعدد مظاہرین کی گرفتاریاں بھی ہوئیں۔

پورٹ لینڈ کے میئر اوریگون نے لوٹ مار آتشزدگی اور پولیس چوکی پر حملے کے دوران ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے۔

مقامی وقت کے مطابق چھ بجے تک فوری طور پر کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور یہ آٹھ بجے دوبارہ شروع ہوگا۔

صورتحال یہاں تک کیسے پہنچی؟

پیر کی رات ، پولیس کو پڑوس کے ایک گروسری سٹور کا فون آیا جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ جارج فلائیڈ نے جعلی 20 ڈالر کے نوٹ کے ساتھ ادائیگی کی ہے۔

افسران نے جواب دیا اور جب وہ زمین پر گرا تو انہیں پولیس کی گاڑی میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی جب انھیں یہ کہتے ہوئے کہ وہ بند جگہوں سےخوف کا شکار ہو جاتا ہے۔

پولیس کے مطابق اس نے افسروں کے سامنے مزاحمت کی اور اسے ہتھکڑی لگائی گئی۔

واقعے کی ویڈیو میں یہ نہیں پتہ چلتا کہ تصادم کیسے شروع ہوا۔

جب مسٹر چاؤن کے گھٹنے اس کی گردن پر تھے تو مسٹر فلائیڈ کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ پلیز میں سانس نہیں لے پا رہا اور ’مجھے مت مارو۔‘

کاؤنٹی کے طبّی معائنہ کار کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پولیس افسر نے مسٹر فلائیڈ کی گردن پر آٹھ منٹ 46 سیکنڈ تک گھٹنے ٹیکے تھے۔ اس دوران تقریباً تین منٹ بعد مسٹر فلائیڈ بے سدھ ہو گئے تھے۔

مسٹر چاؤن کے گھٹنا ہٹانے سے تقریباً دو منٹ قبل دوسرے افسران نے فلائیڈ کی دائیں کلائی کو نبض کے لیے چیک کیا اور وہ بھی اسے تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ انھیں اسپتال لے جایا گیا اور ایک گھنٹے بعد انھیں مردہ قرار دیا گیا۔

مسٹر چاؤن کے خلاف فوجداری شکایت میں شامل ابتدائی پوسٹ مارٹم میں ’ گلا گھونٹنے‘ کے ثبوت نہیں ملے۔

طبّی معائنہ کار کے جائزے کے مطابق مسٹر فلائیڈ کو دل کی حالت اور ساتھ ممکنہ طور پر ان کے جسم میں نشے کا اثراور پھر انھیں افسر کی جانب سے روکے جانا ان کی موت کی وجہ بنا۔

مسٹر فلائیڈ کے اہل خانہ اور ان کے وکیل بینجمن کرمپ نے اس کا خیر مقدم تو کیا ہے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ یہ دیر سے کیا گیا اقدام ہے۔

مقتول کے اہل خانہ نے کہا کہ وہ قتل کے مزید سنگین الزامات کے ساتھ ساتھ اس میں ملوث تین دیگر افسران کی گرفتاری بھی چاہتے ہیں۔

ہنیپن کاؤنٹی کے پراسیکیوٹر مائک فری مین نے کہا کہ وہ دوسرے افسران کے لیے ’الزامات کی توقع‘ کرتے ہیں لیکن وہ مزید تفصیلات پیش نہیں کریں گے۔