امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلاباز ڈگ ہرلی اور باب بیہنکن نجی راکٹ کمپنی سپیس ایکس کے خلائی جہاز ڈریگن میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن پہنچ گئے ہیں۔

خلابازوں کا ڈریگن کیپسول بین الاقوامی خلائی سٹیشن سے پاکستانی وقت کے مطابق سات بج کر 16 منٹ پر منسلک ہوا۔ یہاں پہلے مرحلے میں اس میں کسی بھی فنی خرابی کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد خلاباز بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر روس اور امریکہ کے خلابازوں سے مل سکیں گے۔

دونوں خلابازوں نے سنیچر کے روز اس خلائی سفر کا آغاز کیا تھا اور ان کا بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک کا سفر لگ بھگ 19 گھنٹوں کا تھا۔

سفر کے دوران خلائی گاڑی نے شمالی چین اور منگولیا کی سرحد کے اوپر خلا میں 422 کلومیٹر کا سفر طے کیا۔

یہ مشن اس لیے بھی بہت اہم ہے کیونکہ سنہ 2011 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ اپنے خلابازوں کو آئی ایس ایس پر پہنچانے کے قابل ہوا ہے۔

یہ مشن خلا میں سفر کے نئے دور کی شروعات بھی ہے کیونکہ ناسا نجی سیکٹر سے آمدورفت کے لیے سروسز حاصل کرے گا۔

ایسا ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کے ذریعے ممکن ہو سکے گا۔

یہ تمام مرحلہ خودکار (آٹومیٹڈ) تھا یعنی خلائی گاڑی کو زمین سے ہی کنٹرول کیا جا رہا تھا اور دونوں خلابازوں کو اس دوران مداخلت کرنے کی ضرورت نہیں تھی تاہم انھوں نے اس حوالے سے تربیت ضرور حاصل کر رکھی تھی۔

سپیس ایکس میں گذشتہ برس ایک ڈمی یعنی خلا باز کا مصنوعی مجسمہ رکھا گیا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کمپنی کی جانب سے خلاباز بھیجے گئے ہیں۔

یہ ایک ٹیسٹ فلائیٹ ہے اور دونوں خلابازوں کے ذمے خلائی جہاز کے نظام کا جائزہ لینا اور زمین پر موجود انجینیئرز کو اس حوالے سے اپنی رائے سے آگاہ کرنا شامل ہے۔

سپیس ایکس اور ناسا جلد اگلے مرحلے کا آغاز کرنے والے ہیں جس میں چھ مزید راکٹ پروازیں عمل میں لائی جائیں گی جن میں سے سب سے پہلی پرواز اگست کے آخر میں خلائی سفر کا آغاز کرے گی۔

یاد رہے کہ فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر میں خراب موسم کی وجہ سے بدھ کے روز بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) کے لیے ان کی پرواز ملتوی کردی گئی تھی۔

تاہم اس مشن کے حوالے سے صارفین کے ذہنوں میں متعدد سوالات موجود ہیں جن کے جوابات بی بی سی نیوز کے مدیر برائے سائنس پال رینکون اس تحریر میں دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک نجی کمپنی ناسا کے خلا بازوں کو کیوں لانچ کررہی ہے؟

2000 کی دہائی کے اوائل سے ہی ناسا اپنے عملے کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر پہنچانے کی ذمہ داری دوسری کمپنیوں کو سونپنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ سنہ 2003 میں زمین پر واپسی کے دوران خلائی شٹل کولمبیا کے تباہ ہوجانے کے بعد امریکی خلائی ادارے نے ایسے متبادل خلائی جہاز کی تیاری پر کام شروع کر دیا جو انسانوں کو چاند پر لے جا سکے۔

بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک عملہ اور سامان پہنچانے کی ذمہ داری نجی کمپنیوں کو سونپنا اُس پروگرام کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے ایک ضروری قدم تھا۔

سنہ 2014 میں سپیس ایکس کے بانی ایلون مسک اور جہاز بنانے والی کمپنی بوئنگ کو ناسا کی طرف سے خلا بازوں کی آمدورفت کا کنٹریکٹ دیا گیا۔

سپیس ایکس کیا ہے؟

سپیس ایکس ایک امریکی کمپنی ہے جو حکومت کو اپنے فالکن نائن اور فالکن ہیوے راکٹ کے ذریعے کمرشل سروسز مہیا کرتی ہے۔

ایلون مسک نے اس کمپنی کی بنیاد سنہ 2003 میں رکھی اور اس کا مقصد خلائی ٹرانسپورٹ سروس کے اخراجات میں کمی کرنا تھا تاکہ مریخ پر آباد کاری کی جا سکے۔

سپیس ایکس وہ پہلی نجی کمپنی ہے جس نے خلا پر متعدد راکٹ بھیجے ہیں اور کمپنی کے تیار کیے گئے راکٹ بار بار استعمال کیے جا سکتے ہیں حالانکہ عموماً ایسا نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے

ناسا کا دس سال بعد انسانوں پر مبنی خلائی مشن بھیجنے کا اعلان

امریکہ: انسان کے خلائی سفر کے دور میں واپسی

سپیس ایکس سیاحوں کو چاند کے گرد چکر لگوائے گی

سپیس ایکس باقاعدگی سے خلا میں انٹرنیشنل سپیس سٹیشن پر سامان لے جاتی رہی ہے اور اب یہ خلا باز لے کر جائے گی۔

ایلون مسک کی کمپنی عام انسانوں کو لے جانے کے لیے بھی ایک بڑا خلائی جہاز بنا رہی ہے جس کا نام ہے سٹارشپ۔ اس جہاز سے مریخ پر نو آبادکاری شروع کی جا سکتی ہے۔

ایلون مسک کون ہیں؟

جنوبی افریکہ میں پیدا ہونے والے ایلون مسک نے اپنی کمپنی پے پال کو ای بے کو فروخت کر کے 160 ملین ڈالر کمائے تھے۔

انھوں نے سپیس ایکس کی بنیاد رکھی جس کے پیچھے انسانوں کو خلائی سفر کے قابل بنانے کی خواہش تھی۔ وہ اس کے علاوہ گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے بھی بانی اور سی ای او ہیں۔

ایلون مسک نے تیز رفتار ٹرانسپورٹ سسٹم ہائپر لوپ کی بھی بنیاد رکھی ہے، یہ منصوبہ برق رفتار زیر زمین سفر کے سسٹم پر کام کر رہا ہے۔

ایلون مسک کی رنگین شخصیت کی وجہ سے مارول کی سیریز آئرن مین فلم میں ٹونی سٹارک کا کردار ان سے متاثر ہو کر لکھا گیا، جسے سنیما سکرین پر اداکار رابرٹ ڈاونے جونیئر نے ادا کیا۔

ایلون مسک تنازعات کا حصہ بھی رہے ہیں۔ ان کی ٹویٹس کی وجہ سے انھیں مقدمات کا سامنا رہا ہے جس وجہ سے انھیں اپنی کمپنی ٹیسلا سے چیئرمین کے عہدے سے جبری طور پر استعفیٰ دینا پڑا، تاہم وہ اب بھی ٹیسلا کے سی ای او ہیں۔

یہ لانچ اتنا ضروری کیوں ہے؟

سپیس شٹل کی سنہ 2011 میں ریٹائرمنٹ کے بعد سے ناسا اپنے خلا بازوں کو لانچ کرنے کے لیے روس کو سینکڑوں ملین ڈالر دے رہا ہے۔

فلوریڈا سے سپیس ایکس کے کریو ڈریگن کا لانچ امریکی سرزمین سے نو برسوں میں پہلا ایسا لانچ ہوگا، اس وجہ سے یہ پروجیکٹ، خلائی سفر کے میدان میں امریکی وقار کو بحال کرنے میں بھی مدد کرے گا۔

یہ اس لیے بھی تاریخی ہے کیونکہ خلا بازوں کو پہلی بار ایک پرائیویٹ کمپنی خلا میں بھیج رہی ہے۔

کریو ڈریگن کیا ہے؟

کریو ڈریگن وہ سپیس کرافٹ یا خلائی جہاز ہے جو سنیچر کو خلا بازوں کو انٹرنیشنل سپیس سٹیشن لے کر گیا ہے۔

یہ پرانے خلائی جہاز ڈریگن کی جدید شکل ہے جو سپیس ایکس خلا میں سامان لے جانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

کریو ڈریگن میں سات لوگوں کے سفر کرنے کی جگہ ہے لیکن ناسا اپنی پروازوں میں صرف دو خلا بازوں کو لے کر جائے گا اور باقی جگہ ضروری اشیا کے لیے استعمال ہو گی۔

پچھلے خلائی جہازوں کے برعکس کریو ڈریگن میں پہلی بار ٹچ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔

خلا میں جانے والے خلا باز کون ہیں؟

باب بینکن اور ڈگ ہرلی ناسا میں کام کرنے والے انتہائی تجربہ کار خلا باز ہیں۔ ان دونو ں کو سنہ 2000 میں اس مشن کے لیے چنا گیا اور یہ دو دو بار خلا کا سفر کر چکے ہیں اور دونوں ٹیسٹ پائلٹ کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔

ہرلی اب تک 28 دن اور 11 گھنٹے خلا میں رہ چکے ہیں جبکہ ان کے ساتھی بینکن 29 دن اور 12 گھنٹے خلا میں گزار چکے ہیں۔ ان دونوں کی بیویاں بھی خلا باز ہیں۔

یہ خلا باز وہاں جا کر کیا کریں گے؟

کسی بھی سپیس کرافٹ کو خلا بازوں کی آمدورفت کے لیے استعمال کیے جانے سے پہلے متعدد ٹیسٹ اور جانچ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے مسافر محفوظ ہوں گے۔

سپیس ایکس کی طرف سے کیا گیا یہ لانچ اسی سلسلے کی آخری کڑی ہے یعنی کہ کامیاب لانچ اس بات کی ضمانت دے گا کہ یہ خلائی جہاز اب خلا بازوں کو لے جانے کے لیے تیار ہے۔

بنکن اور ہرلی اب کریو ڈریگن کے ماحولیاتی کنٹرول سسٹم کو ٹیسٹ کریں گے اور اس کے ڈسپلے اور جہاز کی سمت تعین کرنے والے تھرسٹرز کو بھی چیک کریں گے۔

اس کے علاوہ انٹرنیشنل سپیس سٹیشن تک کے سفر کے دوران اس جہاز کے خودکار ڈاکنگ سسٹم کا بھی معائنہ کیا جائے گا۔ یہ دونوں خلا باز انٹرنیشل سپیس سٹیشن کے ممبر بھی بنیں گے۔

دونوں خلا بازوں کی واپسی ایک کیپسول میں پیرا شوٹ کے ذریعے بحر اوقیانوس میں ہوگی اور انھیں لینے کے لیے ایک بحری جہاز گو نیویگیٹر وہاں موجود ہو گا۔

کیا اس لانچ میں غلطی یا حادثہ ہو سکتا ہے؟

کریو ڈریگن میں خودکار ’ان ایبورٹ سسٹم‘ موجود ہے۔ اس سسٹم کا مقصد ایمرجنسی یا خطرے کے دوران مشن کو خود بخود ختم کر دینا ہے۔

اگر خلائی جہاز کے اڑنے یا 'لفٹ آف' کے وقت اس میں یا اس سے جڑے راکٹ میں کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو خلائی جہاز اندر موجود خلا بازوں کو پیرا شوٹ کے ذریعے جہاز سے بحفاظت باہر نکال دے گا۔ سپیس ایکس اس ٹیکنالوجی کو اس سال جنوری میں ٹیسٹ کرچکا ہے۔

خلا بازوں نے کیا پہنا

بینکن اور ہرلی نے جو سپیس سوٹ پہنے وہ پچھلے خلائی ملبوسات کی نسبت بہت مختلف ہیں۔

سپیس شٹل کے دور میں نارنجی رنگ کے بھاری بھرکم کپڑِے اور ہیلمٹ خلا بازوں کے لیے عام تھے لیکن اس بار سپیس ایکس نے جو نئے سوٹ متعارف کروائے ہیں وہ سفید رنگ کے ہیں اور نہ تو پہلے جتنے موٹے ہیں اور نا ہی اتنے بھاری۔ ان سوٹس کے ساتھ دیے گئے نئے ہیلمٹ تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے بنائے گئے ہیں۔

یہ ملبوسات کسی سائنس فکشن فلم میں نظر آنے والے کپڑوں جیسے دکھائی دیتے ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انھیں ہالی ووڈ کے کاسٹیوم ڈیزائنر ہوزے فرنینڈز نے ڈیزائن کیا ہے، جنھوں نے بیٹ مین، ایکس مین اور تھور جیسی فلموں کے لیے ملبوسات تیار کیے ہیں۔

اس لانچ کے بعد کیا ہو گا؟

اگر کریو ڈریگن کا مشن کامیاب ہوتا ہے تو سپیس ایکس اس طرح کے چھ مزید مشن انٹرنیشنل سپیس سٹیشن بھیجے گا جو کہ ناسا کے ساتھ ان کے ڈھائی بلین ڈالر معاہدے کا حصہ ہیں۔

طیارہ بنانے والی کمپنی بوئنگ کے ساتھ بھی ناسا کا معاہدہ ہے جو کہ چار بلین ڈالر کا ہے جس کے مطابق کمپنی اپنے سی ایس ٹی ون ہنڈرڈ سٹارلائنر خلابازوں کو لے جانے کے لیے استعمال کرے گی۔