برطانیہ میں ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ شادیاں ہوتی ہیں اور ان پر دس ارب پاؤنڈ خرچ ہوتا ہے۔

لیکن اس بار یہ تقریبات تباہی کا شکار ہوئی ہیں اور اس کی وجہ کورونا وائرس کی عالمی وبا ہے۔

لوگ اس حوالے سے پریشان ہیں کہ اگر ان کی شادی منسوخ ہو گئی ہے یا وہ اسے ملتوی کرنے کا سوچ رہے ہیں تو ایسے میں ان کے کیا حقوق ہیں اور انھیں بکنگ کے بعد کس حد تک اخراجات واپس مل سکتے ہیں؟

کیا ماسک آپ کو کورونا وائرس سے بچا سکتا ہے؟

کووِڈ-19 کے خلاف نئے علاج کی آزمائش شروعات کے قریب

کیا آپ کو اب بھی سینیٹائزر نہیں مل رہے؟ جانیے ایسا کیوں ہے

کورونا وائرس کو سمجھنے کے لیے ’R‘ نمبر کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

کورونا وائرس: کیا سونگھنے اور چکھنے کی حس ختم ہونا مرض کی علامات ہیں؟

تو کیا ایسی صورتحال میں شادی کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے؟

تاحال شادیاں صرف غیر معمولی حالات میں ممکن ہوسکتی ہے۔

وزیراعظم بورس جانسن نے 23 مارچ کے لاک ڈاؤن کے وقت شادی کی تقریبات اور بچے کی پیدائش پر خرجہ گھروں کے امور پر پابندی لگا دی تھی اور یہ اب بھی عائد ہے۔

تاہم حکومت اب یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا وہ انگلینڈ میں چھوٹے پیمانے پر شادی کی تقریبات کی اجازت دینا شروع کرسکتے ہیں۔

یہ شاید جون سے شروع ہو جائے لیکن شادی کی بڑے پیمانے پر تقریبات کی اجازت شاید بعد میں مل پائے۔

سکاٹ لینڈ اور ویلز میں بھی شادی کی تقریبات کی اجازت نہیں۔

شمالی آئرلینڈ میں اس وقت شادی کرنے کی اجازت صرف ایسے جوڑوں کو حاصل ہے جن میں سے ایک فرد شدید علیل ہے۔ اور آٹھ جون سے گھر کے باہر کسی تقریب میں صرف 10 افراد شرکت کر سکیں گے۔

کچھ انگلش کاؤنسلز نے بھی شادی کے انعقاد کی اجازت کے لیے اختیارات مانگے ہیں۔ تاہم اجازت صرف تب ملے گی جب شادی کی خواہش رکھنے والے ان جوڑوں میں سے کوئی ایک بیمار ہوگا۔

اگر آپ کی شادی ہونے والی ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کی شادی کی تقریب نہیں ہو سکتی یا آپ کو لگتا ہے کہ وہ اس سے بہت مختلف ہو گی جیسا آپ نے سوچا تھا تو بہتر یہ ہے کہ آپ اسے منسوخ کرنے کے بجائے ملتوی کر دیں۔

کوئی اور تاریخ رکھ لیں اور آپ کی من پسند جگہ پر اس کے انتظامات کرنے والے سے پوچھیں کہ کیا ان کے لیے یہ ممکن ہو گا۔

وکیل ہنریتا ڈنکلی کہتی ہیں کہ جوڑوں کو ’یہ سمجھنا ہوگا کہ شادی کی جگہ کیسی ہے اور فی الحال انتظامات کرنے والے کن مشکلات سے دوچار ہیں۔‘

وہ خود تنازعات حل کرنے میں مہارت رکھتی ہیں اور ان کی اپنی شادی اگست میں متوقع ہے۔

کئی شادی ہالز اور انتظامات کرنے والوں کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ تنازعات کچھ اس طرح حل کرنے چاہیے جس سے سب کا فائدہ ہو۔

مثال کے طور پر اگر آپ کی شادی جمعے یا ہفتے کے روز یا سیزن کے دنوں میں ہونی تھی اور اب وہ ملتوی ہوچکی ہے لیکن شادی ہال والے آپ کو آپ کی پسند کی نئی تاریخ نہیں دے رہے تو بہتر ہوگا اگر آپ پیسوں میں معقول کمی کی بات کریں۔ یا پھر خود کو ملنے والی سروس بہتر بہتر طلب کریں۔

اگر میں شادی کے انتظامات منسوخ کرنا چاہوں تو؟

اصولی طور پر اگر آپ کی شادی ایسے وقتوں میں ہونی تھی جب ان پر پابندی تھی اور اب آپ اسے ملتوی نہیں کرنا چاہتے تو آپ کو پورے پیسے واپس لینے کا حق ہے۔

کمپٹیشن اینڈ مارکیٹس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کیسز میں:

  • ایک کاروبار آپ کو منع کرتا ہے
  • لاک ڈاؤن کا مطلب ہے کاروبار آپ کو سروس فراہم نہیں کرسکتا
  • آپ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تقریب نہیں رکھ سکتے

اس میں الگ بات یہ ہے کہ ممکن ہے ابھی سے ایک کاروبار کو آپ کی وجہ سے نقصان ہوا ہے، جیسے شادی کے کھانے کی تیاری یا کپڑوں کی فٹنگ۔

اس کے نتیجے میں شادی ہال یا منتظم آپ کے بکنگ کے پیسوں کا تمام یا کچھ حصہ اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ لیکن صارفین کے حقوق کے قانون کے مطابق اس صورت میں انھیں تمام اخراجات کی تفصیل دینا ہوگی۔

اگر آپ کی شادی ہونے والی ہے اور آپ کو تکنیکی اعتبار یہ تقریب رکھنے کی اجازت ہے تو چیزیں پیچیدہ ہوسکتی ہیں۔

کسی کاروبار سے اپنے معاہدے میں چھوٹے پرنٹ میں موجود اصول یا تقریب منسوخ ہونے یا تاریخ تبدیل ہونے کے حوالے سے ہدایات پڑھیے۔ پھر ان سے پوچھیں کہ وہ کیا سہولیات فراہم کر سکتے ہیں۔

صارفین کے حقوق کے قانون کے مطابق ایسے اصول جن کا اطلاق اب ممکن نہیں انھیں غیر منصفانہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ بے شک اگر آپ نے پہلے ان کی حامی بھری ہو۔

بکنگ کے لیے ادا کردہ رقم کل قیمت کا چھوٹا سا حصہ ہوتی ہے جو اکثر ’واپس نہیں کی جاتی‘۔

کیا میں شادی کی انشورنس لے سکتا ہوں؟

اکثر شادی کی انشورنس میں ’حکومتی احکامات‘ کی شرط شامل نہیں ہوتی۔ تو یہ مشکل ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے شادی کو ہونے والے نقصان کی بھرپائی ہوسکے۔

شادی کی انشورنس دینے والی کچھ کمپنیاں کچھ حالات میں بھرپائی کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر جان لیوس نے کہا ہے کہ وہ نقصان کی بھرپائی کریں گی اگر سختیوں کی وجہ سے آپ کی شادی نہیں ہوسکتی۔

اور آپ انھیں بتا سکتے ہیں کہ آپ نے شادی ہال اور منتظمین سے اپنے پیسے واپس لینے کی کوشش بھی کی ہے۔

اکثر کمپنیاں اب شادی کے حوالے سے نئی پالیسی فروخت نہیں کر رہیں۔ تو اس کا اطلاق طرف موجودہ معاہدوں پر ہوتا ہے۔

اگر ایسا نہیں ہے تو آپ رقم وصول کرنے کے لیے انتظامیہ کے پاس اپنی درخواست دائر کرسکتے ہیں یا کریڈٹ کارڈ کمپنی کی مدد سے اس سپلائر سے پیسے واپس لینے کی درخواست کر سکتے ہیں جس نے سروس فراہم نہیں کی۔ صارفین کے حقوق کے آیکٹ کا سیکشن 75 یہ کہتا ہے۔

اگر آپ نے ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی کی ہے تو آپ چارج بیک سکیم سے ری فنڈ حاصل کر سکتے ہیں۔

کیا شادی ملتوی کرنے پر شادی ہال زیادہ پیسے مانگ سکتے ہیں؟

کسی بھی کاروبار کو یہ اجازت نہیں ہے کہ عالمی وبا کا فائدہ اٹھائے۔ مطلب وہ اپنی مرضی سے قیمتیں بڑھا نہیں سکتے۔

قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ کچھ جوڑوں کا کہنا ہے کہ شادی ملتوی ہونے کے بعد ہال ان سے زیادہ پیسے مانگ رہے ہیں اور یہ اس قیمت سے زیادہ ہے جو وہ نئے صارفین سے مانگ رہے ہیں۔ اسے مناسب خیال نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ 2021 میں ہونے والی تقریبات کی قیمت ابھی سے زیادہ ہوں گی کیونکہ مہنگائی یا شرح زر بڑھ چکی ہوگی۔ اس سے مراد ہے اشیا اور سروسز کی قیمتیں زیادہ ہوچکی ہوں گی۔ اس سے ان کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔

برطانوی حکومت نے عالمی وبا کے دوران منافع خوری جیسے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی ہے۔ صارفین ایک فارم پُر کر سکتے ہیں اگر انھیں لگتا ہے کہ کسی کاروبار نے ان کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔

اگر وہ ’پکڑا‘ جاتا ہے جس سے آپ کا معاہدہ طے پایا تھا تو کچھ انشورنس کمپنیاں آپ کو آپ کی رقم ادا کر سکتی ہیں۔