کورونا وائرس کی ویکسین کے حوالے سے چہ مگوئیاں اور مختلف دعوے اپنے عروج پر ہیں اور ویکسین مخالف گروہ متعدد سوشل میڈیا پوسٹس میں کیے جانے والے دعوؤں کے ذریعے زیادہ مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔

ہم نے حال ہی میں کیے گئے چند ایسے دعوؤں کے حوالے سے حقائق جاننے کی کوشش کی ہے۔

'مائیکروچپ' کے بارے میں افواہیں کیا ہیں اور یہ کیوں سچ نہیں ہیں؟

سب سے پہلے ہم ایک ایسے جھوٹے دعوے کا ذکر کرتے ہیں جو دنیا بھر میں خاصا مقبول ہوا ہے۔

اس دعوے کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا دراصل اس لیے پھیلائی گئی ہے تاکہ انسانوں میں مائیکروچپس نصب کی جا سکیں اور یہ 'ٹریکیبل' ہوں گی یعنی ان کی لوکیشن کا تعین کیا جا سکے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سب کے پیچھے مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کا ہاتھ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گائے کے پیشاب سے کورونا کا علاج اور دیگر ’بےبنیاد‘ دعوے

’انڈیا کو کورونا وائرس کی سونامی کے لیے تیار رہنا چاہیے‘

کیا سائنسدان کورونا وائرس کی ویکسین ایجاد کر پائیں گے؟

تاہم ہمیں اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔

اس کے علاوہ جب ہم نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سے ان کا مؤقف جانا تو انھوں نے کہا کہ یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔

روس میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ نے رواں ہفتے کہا کہ نام نہاد 'گلوبلسٹس' نے ایک ایسے منصوبے کی حمایت کی ہے جس کے ذریعے 'خفیہ طور پر انسانوں میں چپس نصب کی جائیں گی اور یہ کام شاید کچھ عرصے بعد لازمی قرار دی جانے والی کورونا وائرس کی ویکسین کے ذریعے کیا جائے۔'

انھوں نے بل گیٹس کا نام تو نہیں لیا لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر راجر سٹون نے دعویٰ کیا بل گیٹس اور دیگر افراد 'وائرس کو لوگوں میں مائیکروچپ نصب کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں تاکہ یہ پتا لگایا جا سکے کہ آیا آپ کا ٹیسٹ ہوا ہے یا نہیں۔'یوگوو نامی ادارے نے 1640 افراد کی رائے شماری میں پایا کہ 28 فیصد امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ بل گیٹس ویکسین کو لوگوں میں مائیکروچپس لگانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ریپبلیکن پارٹی کے حامیوں میں یہ تعداد 44 فیصد تھی۔

ان افواہوں نے مارچ میں اس وقت زور پکڑا جب بل گیٹس نے ایک انٹرویو می کہا کہ 'ہمارے پاس کچھ ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ ہوں گے' جو یہ بتائیں گے کہ کون صحتیاب ہو چکا ہے، کون ٹیسٹ ہوچکا ہے، اور کسے ویکسین دی جا چکی ہے۔ انھوں نے مائیکروچپس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا۔

ان کا یہ کہنا تھا کہ ایک مضمون انٹرنیٹ پر پھیلنا شروع ہوگیا جس کی سرخی تھی: 'بل گیٹس کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے مائیکروچپس نصب کریں گے۔'

اس مضمون میں گیٹس فاؤنڈیشن کی فنڈنگ سے ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ تحقیق ایک ایسی خصوصی روشنائی کے متعلق تھی جس انجیکشن کے ساتھ ہی کسی شخص کو لگایا جا سکتا ہے اور اس میں کسی کے ویکسین ریکارڈ موجود ہوں گے۔

مگر یہ ٹیکنالوجی مائیکروچپ نہیں ہے بلکہ کسی غیر مرئی ٹیٹو کی طرح ہے۔ تحقیق میں شامل سائنسدان اینا جینکلینک کہتی ہیں کہ اسے اب تک متعارف نہیں کروایا گیا ہے تاہم اس سے لوگوں کو ٹریک نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی ڈیٹابیس میں کوئی ذاتی معلومات درج کی جائیں گی۔

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے: 'ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹس کا حوالہ محفوظ انداز میں گھر پر ٹیسٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اوپن سورس ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنانے کی کوششوں کی جانب اشارہ ہے۔'

بل گیٹس نے ویکسین کے بارے میں یہ نہیں کہا تھا!

مائیکروسافٹ کے ارب پتی مالک پر ویکسین کے متعلق جھوٹی افواہوں سے متعلق کئی الزامات لگتے رہے ہیں۔

حال میں برطانیہ کے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا گیا: 'بل گیٹس تسلیم کرتے ہیں کہ ویکسین بلاشبہ سات لاکھ لوگوں کو ہلاک کر دے گی۔' اس میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک سازشی مفروضوں کے ماہر ایلکس جونز کی ویڈیو بھی منسلک کی گئی ہے۔

45 ہزار سے زائد ری ٹویٹس اور لائیکس رکھنے والی یہ ٹویٹ جھوٹی ہے اور اس میں بل گیٹس کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں گیٹس عمر رسیدہ لوگوں میں ویکیسین کے مؤثر ہونے اور ان کے منفی اثرات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

وہ ایک ایسی فرضی صورتحال پیش کرتے ہیں جس میں منفی اثرات سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ 'اگر 10 ہزار میں سے ایک شخص میں منفی اثرات ہوں تو اس طرح سات لاکھ لوگ اس سے متاثر ہوں گے۔'

انھوں نے یہ 'تسلیم' نہیں کیا ہے کہ ویکسین سے سات لاکھ لوگ ہلاک ہوں گے۔

بل گیٹس کے متعلق سازشی مفروضے اطالوی پارلیمان تک پہنچ چکے ہیں جہاں ایک آزاد رکنِ پارلیمان نے مطالبہ کیا کہ بل گیٹس کو انسانیت کے خلاف جرائم پر انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں طلب کیا جائے۔

وبا سے منافع؟

وبا سے منافع؟

اٹلی میں ویکسینیشن کے خلاف ایک سخت مہم چلائی جا رہی ہے۔

فیس بک پر سات لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھی جانے والی ایک اطالوی ویڈیو کے کیپشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ وبا 'ایجاد' کی گئی ہے۔

اس کلپ کے پیچھے سٹیفانو مونٹاناری کی آواز ہے۔ یہ فارماکولوجی کی تعلیم رکھنے والے ایک اطالوی محقق ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ حقیقی مقصد سب لوگوں کو ویکسین دلوانا ہے۔

وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ وبا 'تب تک باقی رکھی جائے گی' جب تک کہ ایسی کوئی ویکسین نہیں آ جاتی جو 'کچھ لوگوں کی پہلے سے بھری جیبوں میں مزید پیسے اور کرپشن نہیں لے آتی۔'

وہ ویڈیو کے اختتام پر کہتے ہیں: 'یہ سنسنی خیز جھوٹ ہے، مگر بہت ہی کامیاب جھوٹ۔'

لیکن ان کے اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں کہ یہ پوری وبا ایک ڈرامہ ہے۔ یہ سچ ہے کہ جو بھی دواساز کمپنی اس کی ویکسین بنائے گی وہ ممکنہ طور پر اس سے منافع کما سکتی ہے مگر یہ تصور بہت ہی دور کی کوڑی ہے کہ منافع کے لیے وبا پیدا کی جائے گی۔

گائے کے گوبر سے ویکسین

انڈیا میں فیس بک پر ایک میم بہت شیئر کیا جا رہا ہے جس میں 'کورونا سے لڑنے کے لیے ایک حیرت انگیز دوا' اور 'گائے کے گوبر سے ویکسین' کا پرچار کیا جا رہا ہے۔

ان میں سے کچھ پوسٹس (جن میں سے ایک پوسٹ 1000 مرتبہ شیئر کی جا چکی ہے) میں اخبار احمد آباد مرر کے صفحہ اول سے ایک خبر کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ گائے کے دودھ، مکھن، گھی، گوبر اور پیشاب سے حاصل کردہ ایک دوائی کی آزمائش کی جا رہی ہے۔

ہندو مذہب میں گائے کو مقدس تصور کیا جاتا ہے اور کچھ ہندو گروہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گائے کا پیشاب پینے سے وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت بڑھا سکتا ہے۔ ہم نے اس بارے میں پہلے بھی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔

مگر اس نظریے کی حمایت میں کوئی بھی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہیں اور احمد آباد مرر میں جس آزمائش کا ذکر کیا گیا ہے اس میں گائے کے گوبر کو ویکسین یا حفاظتی دوا کے طور پر آزمانے کی بات نہیں کی گئی ہے۔

مضمون میں ایک ڈاکٹر کا حوالہ دیا گیا ہے: 'گائے کے پیشاب میں ایسی طبی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو کووِڈ-19 کا علاج کر سکتی ہیں۔'

درحقیقت اس وقت تک کورونا وائرس کا کوئی بھی علاج موجود نہیں ہے۔

ہم نے انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ سے وابستہ ماہرِ حیاتیات اور شعبہ تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر رجنی کانت سے گائے کے پیشاب اور گوبر کے بحیثیت علاج استعمال کے بارے میں سوال کیا۔

انھوں نے کہا: 'ہمارے پاس ایسے کوئی ٹھوس ثبوت یا مطالعے موجود نہیں جو ہمیں بتائیں کہ یہ کووڈ 19 کے خلاف مؤثر ہیں۔ ہمارے پاس ایسا دعویٰ کرنے کے لیے ثبوت موجود نہیں۔'

انڈیا کی وزارتِ زراعت کے ایک شعبے راشٹریہ کامدھینو آیوگ نے تصدیق کی ہے کہ گائے کے پیشاب، گوبر، مکھن، گھی اور دودھ سے کووڈ کے علاج کے لیے آزمائش کی جائے گی لیکن ویکسین کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اضافی رپورٹنگ بشکریہ لورا گوٹزی، شروتی مینن، اولگا روبنسن اور شایان سرداری زادہ