امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق معروف امریکی کمپنی مائیکرو سافٹ نے اپنی ایم ایس این ویب سائٹ کے لیے درجنوں صحافیوں کی جگہ خودکار نظام کے استعمال کا منصوبہ بنایا ہے جس کے ذریعے خبروں کو منتخب اور شائع کیا جائے گا۔

خبر رساں اداروں کی کہانیوں کو نئے انداز میں کہنے، ان کے انتخاب کا کام اور ان پر شہ سرخیاں لگانے کا کام اب تک ایم ایس این کی سائٹ کے لیے صحافی کیا کرتے تھے۔

سیئٹل ٹائمز کی خبر کے مطابق اب یہ سارے کام مصنوعی ذہانت کے تحت انجام دیے جائیں گے۔

مائیکرو سافٹ نے کہا کہ یہ تجربہ ان کے کاروبار کا جائزہ لینے کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چینی مصنوعی ذہانت سے طاقت کے توازن کو ’خطرہ‘

چین کا عسکری مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال

جذبات جانچنے والی ٹیکنالوجی پر پابندی کا مطالبہ

امریکہ کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تمام دوسری کمپنیوں کی طرح ہم اپنے کاروبار کا مستقل طور پر جائزہ لیتے ہیں۔

’اس کے نتیجے میں کچھ جگہوں پر سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے اور وقتاً فوقتاً دوسری جگہوں پر تعیناتی کی جا سکتی۔ یہ فیصلے موجودہ وبائی بیماری کا نتیجہ نہیں ہیں۔‘

مائیکروسافٹ کچھ دوسری ٹیکنالوجی کمپنیوں کی طرح اپنی ویب سائٹ کے مواد کے لیے خبر رساں اداروں کو پیسے دیتی ہے۔

لیکن کون سی خبریں کہاں اور کس طرح پیش کی جائيں گی اس کے لیے وہ روایتی طور پر صحافیوں کو رکھتی رہی ہے۔

سیئٹل ٹائمز کی خبر کے مطابق جون کے آخر تک تقریباً 50 کنٹریکٹ نیوز پروڈیوسرز اپنی ملازمت سے محروم ہوجائیں گے لیکن فی الوقت صحافیوں کی ایک ٹیم باقی رہے گی۔

ان میں سے ایک صحافی نے اخبار کو بتایا کہ: ’یہ سوچنا ہی حوصلہ شکن ہے کہ مشینیں ہماری جگہ لے سکتی ہیں لیکن ایسا ہی ہو رہا ہے۔‘

برطرف کیے جانے والے کچھ صحافیوں نے متنبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت شاید اداریے کے سخت رہنما خطوط سے پوری طرح واقف نہیں ہوسکتی اور نامناسب خبریں شائع کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

دی گارڈین کی خبر کے مطابق ملازمت سے محروم ہونے والوں میں سے 27 کا تعلق برطانیہ کے پی اے میڈیا سے ہے جن کے ذریعے انھیں ملازمت ملی تھی۔

اخبار میں مذکور ایک صحافی نے کہا کہ: ’میں اپنا سارا وقت یہ پڑھنے میں لگاتا ہوں کہ آٹومیشن اور اے آئی کس طرح ہماری تمام ملازمتیں لے لیں گی اور اس نے میری ہی ملازمت لے لی۔'

مائیکروسافٹ ان بہت سی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے جس نے اخراجات کم کرنے کے لیے نام نہاد روبوٹ جرنلزم کا تجربہ کیا ہے۔

گوگل بھی اس قسم کے منصوبوں پر یہ سمجھنے کے لیے سرمایہ کاری کر رہا ہے کہ آخر یہ کس طرح کام کر سکتا ہے۔