راکٹ کمپنی سپیس ایکس آنے والے چند گھنٹوں میں ناسا خلابازوں ڈگ ہرلی اور باب بیہنکن کو ایک بار پھر سے مدار میں بھیجنے کی کوشش کرے گی۔

فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر میں خراب موسم کی وجہ سے بدھ کے روز بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) کے لیے ان کی پرواز ملتوی کردی گئی تھی۔

اس کے باوجود سنیچر کو بھی ان کے لیے کسی بہت سازگار ماحول کی پیش گوئی نہیں ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ حالات ممکنہ طور پر ایک بار پھر سے ویسے ہی ہوں گے۔

دونوں خلا بازوں کو مدار میں لے جانے کے لیے گرینچ مین ٹائم کے حساب سے 19:22 کا وقت طے کیا گیا ہے۔

ہرلی اور بیہنکن کے مشن پر بہت زیادہ توجہ دی جارہی ہے کیونکہ سنہ 2011 کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب امریکہ اپنے خلابازوں کو آئی ایس ایس پر پہنچانے کے قابل ہوگا۔

خیال رہے کہ ناسا کا شٹل سنہ 2011 میں ریٹائر ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ناسا کا دس سال بعد انسانوں پر مبنی خلائی مشن بھیجنے کا اعلان

امریکہ: انسان کے خلائی سفر کے دور میں واپسی

سپیس ایکس سیاحوں کو چاند کے گرد چکر لگوائے گی

یہ اس لحاظ سے بھی پہلا موقع بھی ہوگا جب امریکی خلائی ایجنسی اپنے عملے کو مدار میں منتقل کرنے کے لیے کسی نجی کمپنی کا استعمال کر رہی ہے۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جم برائڈنسٹائن نے کہا کہ اگر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس قدر توجہ کی وجہ سے خلابازوں کو زمین سے لے جانے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ غلط ہیں۔

انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا: 'ہم اس وقت لانچ کریں گے جب ہم تیار ہوں گے۔ میں آپ کو بتاؤں کہ صدر (ڈونلڈ ٹرمپ) اور نائب صدر (مائیک پینس) کو ناسا اور سپیس ایکس کی ٹیم پر فخر تھا کہ (بدھ کے روز) صحیح وجوہات کی بنا پر صحیح کال دی تھی۔'

برطانیہ میں آسمان کا مشاہدہ کرنے والوں کا خیال ہے کہ سنیچر کا موسم اس شٹل کو سر سے گزرتے ہوئے دیکھنے کے لیے بہت سازگار نہیں ہے۔ لفٹ آف کے بعد پہلی بار اس کا گزر اس وقت ہوگا جب موسم بہت ہلکا ہوگا۔ یعنی برطانیہ کے معیاری وقت کے مطابق 20:40 کے فوراً بعد۔ جبکہ دوسری بار اس کا گزر 22:15 پر ہوگا جب موسم قدرے بہتر ہوگا لیکن یہ خلائی گاری جنوب مغرب میں افق پر بہت نیچے سے گزر رہی ہوگی۔

پہلی لانچنگ مقررہ وقت سے محض 16 منٹ قبل روک دی گئی تھی۔ اس دن ہوا میں دن بھر بجلی کی کافی سرگرمی تھی اور کنٹرولرز نے نتیجہ اخذ کیا کہ فلائٹ کے ساتھ آگے بڑھنا عقلمندی نہیں ہوگی۔

التوا کے لمحے سے قبل ہرلی اور بیہنکن اپنے ڈریگن کیپسول میں فالکن راکٹ کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے جس میں ان کے نیچے بوسٹر ایندھن بھرا جا رہا تھا۔

مایوسی اس بات پر ہوئی کہ الٹی گنتی بھی آسانی سے چل رہی تھی اور انجینئروں کے سامنے کوئی تکنیکی مسئلہ بھی نہیں تھا اور خلائی گاڑیاں پرواز کے لیے بترین حالت میں تھیں لیکن پھر بھی پرواز نہیں کرسکیں۔

سنیچر کو بھی بالکل اسی طرح کے معمولات کی پیروی کی جائے گی۔ خلاباز لانچ کے مقررہ وقت 15:22 ای ڈی ٹی یعنی گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق 19:22 سے تقریبا تین گھنٹے پہلے پیڈ کی طرف روانہ ہوں گے۔ سپیس ایکس کی 'کلوز آؤٹ' ٹیم ان کیپسول نشستوں میں انھیں بٹھانے میں ان کی مدد کرے گی اور اس کے بعد کنٹرولرز پرواز سے قبل کی جانچ پڑتال کریں گے۔

ناسا خلاباز نیکول مان نے کہا کہ ان کے ساتھی مزید تاخیر کے امکانات سے پریشان نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا: 'زندگی میں بہت سی چیزیں ہیں جن پر آپ کا قابو نہیں ہوتا اور موسم ان میں سے ایک ہے۔۔۔ آپ کو صرف لچیلا رہنے کی ضرورت ہے۔ جن چیزوں پر آپ کا قابو نہیں ان چیزوں پر توانائی ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور پھر آپ وہ کام کریں جو آپ کو کرنے کی ضرورت ہے: تیاری کریں، اور پھر جب اگلے لانچ کا وقت آئے تو آپ تیار ہوں۔'

اگر لانچ اپنے وقت پر ہوتی ہے تو پھر اس کے آگے ہرلی اور بیہنکن کے سامنے آئی ایس ایس تک پہنچنے کے لیے تقریباً 19 گھنٹے کا سفر ہے۔ وہ اس وقت کو ڈریگن کیپسول پر سوار ہو کر سسٹمز کو آزمانے کے لیے استعمال کریں گے جس میں مینوئل فلائٹ بھی شامل ہے۔ انھیں طویل سفر پر جانے سے قبل کچھ نیند لینے کی بھی ضرورت ہوگی۔

ان دونوں سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ وہ زمین پر واپس آنے سے قبل وہاں ایک سے چار ماہ کے درمیان رہیں گے۔

ٹیک ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس نے ناسا کے ساتھ 2.6 بلین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے تاکہ خلائی سٹیشن کے لیے عملے سے پُر چھ پروازیں فراہم کرے۔ ان میں سے پہلی اگست کے آخر میں شیڈول ہے اگر ہرلی اور بیہنکن کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آتا۔

بوئنگ کمپنی نے بھی ایسا ہی ایک معاہدہ کیا ہے لیکن یہ اپنے پروگرام کو بروئے کار لانے مین سپیس ایکس سے تقریبا ایک سال پیچھے ہے۔