ہر طرف سے گولیائی برسائی گئیں لیکن عبدالرحمن بدر اطمینان سے وہاں موجود رہے۔

پھر اچانک ایک دشمن کھڑکی توڑ کر داخل ہوا۔ عبدالرحمن نے گھوم کر اس سپاہی کا سامنا کیا تاکہ اپنے گروہ کو بچا سکیں۔ انھوں نے نشانہ لیا اور بندوق چلائی لیکن۔۔۔ ان کی سکرین اس وقت سیاہ ہوگئی۔

ان کا کمپیوٹر خاموشی سے اور اچانک خود ہی بغیر متنبہ کیے بند ہوگیا۔

عبدالرحمن پریشان ہوگئے۔ جو گیم وہ کھیل رہے تھے اس نے پہلے کبھی ایسے مسائل پیدا نہیں کیے تھے۔

وہ نیچے جھکے اور اپنے کمپیوٹر کے اندر دیکھا۔ وہ اپنے کمپیوٹر کو کھلا رکھتے تھے اور یہ ان کے بیڈروم میں نظر آتا تھا۔ جبلت میں انھوں نے کمپیوٹر کے ایک پرزے کو ہاتھ لگایا اور بُرا بھلا کہہ کر جلدی سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔ گرافک کارڈ اتنا گرم تھا کہ اس سے ان کی انگلیاں جل گئیں۔

شیفیلڈ کے 18 سالہ نوجوان کو اس وقت اس بات کا احساس نہ ہوا کہ یہ ہلکی سی چوٹ کرپٹو کرنسی کی چوری (کرپٹو جیکنگ) کی وجہ سے لگی تھی۔

کرپٹو جیکنگ ایک غیر قانونی عمل ہے جس میں کسی کی اجازت کے بغیر ان کے کمپیوٹر سے بِٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں چوری کی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شانگلہ میں کرپٹوکرنسی فارم کہاں سے آیا

کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن: ’ہاوِنگ‘ کا عمل کیا ہے؟

کرپٹو کوئین: وہ خاتون جس نے اربوں لوٹے اور غائب ہو گئی

چینی ڈیجیٹل کرنسی امریکی ڈالر کے لیے کیسے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے؟

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کے چار کروڑ 70 لاکھ صارف ہیں۔ لیکن یہ یقین سے کہنا مشکل ہے کیونکہ وہ گمنام رہتے ہیں۔ صارفین ان ورچوئل سکوں یا کرپٹو کوائنز کو جمع کرنے کے لیے ’مائننگ‘ کا پیچیدہ عمل استعمال کرتے ہیں۔ اس سے ان کا کمپیوٹر ریاضی کی پیچیدہ مشقوں سے دوچار ہوتا ہے۔

کرپٹو جیکنگ کے عمل میں ہیکرز اپنے شکار سے وائرس والی فائل ڈاؤن لوڈ کرواتے ہیں جو زبردستی ان کے کمپیوٹر سے کرپٹو کرنسی کی مائننگ کرواتی ہے۔ یہ رقم ہیکرز وصول کر کے انھیں کرپٹو کرنسی کی منڈیوں میں خرچ کر سکتے ہیں یا عام کرنسی میں تبدیل کروا لیتے ہیں۔

کرپٹو جیکنگ کے حملوں سے متاثرہ افراد کا بجلی کا بِل بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف وائرس زدہ کمپیوٹر کی کارکردگی سست ہوجاتی ہے بلکہ اس سے ہارڈ ویئر کو بھی ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔

گذشتہ ہفتے یورپ بھر میں کم از کم ایک درجن سپر کمپیوٹرز کو اس لیے بند کرنا پڑا تھا کیونکہ ہیکرز نے ان پر کرپٹو جیکنگ کا حملہ کیا تھا۔

عبدالرحمن بدر کہتے ہیں کہ انھیں اس حوالے سے علم نہیں کہ ہیکرز ان کے کمپیوٹر میں کیسے داخل ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاید انھوں نے غلطی سے تین ہفتے قبل وائرس والی فائل ڈاؤن لوڈ کی ہوگی جس نے ان کا ہاتھ جلا دیا۔

انھوں نے اس دوران اپنے کمپیوٹر کے ساتھ عجیب چیزیں ہوتی ہوئی دیکھیں۔

’جب میں اپنے کمپیوٹر کو بند کرتا تھا تو سکرین سیاہ ہوجاتی تھی لیکن میں اس میں موجود پنکھے کو پھر بھی حرکت کرتا سن سکتا تھا۔ اور جب میں واپس آتا تھا تو یہ مین ڈیسک ٹاپ سکرین پر کھلتا تھا اور اس سے پہلے کوئی لاگ اِن پیج یا کچھ اور نہیں آتا تھا۔‘

’میرا کمپیوٹر درحقیقت سلیپ موڈ پر نہیں جا رہا تھا۔‘

’حیران اور شرمندہ‘

جب ان کا ہاتھ جلا تو اس کے باوجود وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ وہ ہیکنگ کا شکار ہوئے ہیں۔ انھوں نے یہ غیر ارادی طور پر دریافت کیا۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ ’میں ایک پروگرام کے ساتھ کھیل رہا تھا جو کمپیوٹر کی حرکات کی مانیٹرنگ کرتا ہے۔ ہر چیز صحیح لگ رہی تھیں لیکن میں نے اسے غلطی سے ساری رات کے لیے چلتا چھوڑ دیا۔‘

’جب میں نے اگلی بار دیکھا تو مجھے پتا چلا کہ میرا کمپیوٹر بڑی تعداد میں معلومات ایک عجیب ویب سائٹ کو بھیج رہا ہے جو میں نے کبھی نہیں کھولی تھی نہ اس کے بارے میں کبھی سنا تھا۔‘

یہ ویب سائٹ کرپٹو کرنسی مونیرو جمع کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔

’میں حیران اور شرمندہ ہوا کیونکہ میں اپنا کمپیوٹر محفوظ رکھنے پر فخر محسوس کیا کرتا تھا۔ یہ پریشان کن تھا کہ میرے کمپیوٹر پر ایک ایسا پروگرام چل رہا تھا جس کا مجھے عمل بھی نہیں تھا۔

’ایک شخص خفیہ طور پر اس سے کرپٹو کی مائننگ کر رہا تھا، میرا ہارڈ ویئر تباہ کر رہا تھا اور میری بجلی چوری کر رہا تھا۔‘

عبدالرحمن جیسے سینکڑوں بلکہ ہزاروں اور متاثرین ہوسکتے ہیں جو ان ہیکرز کے ڈیجیٹل بٹوے بھر رہے ہیں۔

سائبر سکیورٹی کمپنی پالو آلٹو نیٹ ورکس کے الیکس ہنچلیف کہتے ہیں کہ ’کرپٹو جیکنگ کے حملے پہلے سے زیادہ چلاکی سے کیے جانے لگے ہیں۔ اس میں اپنا رویہ چھپانے کے لیے خاص طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔‘

’سائبر مجرم زیادہ سے زیادہ متاثرین کے کمپیوٹر ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پی سی، سرور، کلاؤڈ سروس، موبائل یا دیگر سمارٹ ڈیوائسز جیسے جتنے زیادہ کمپیوٹر ہوں گے، مائننگ اتنی ہی چھپ کر اور توجہ حاصل کیے بغیر ہو سکے گی۔‘

’کرپٹو جیکنگ‘ میں اضافہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو جیکنگ کا خطرہ کرپٹو کرنسی کی قیمت گِرنے یا بڑھنے کے ساتھ کم زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ پالو آلٹو نیٹ ورکس کی ایک تحقیق کے مطابق ان حملوں میں گذشتہ وقتوں کے مقابلے اضافہ ہوا ہے۔

ڈیجیٹل سکیورٹی کمپنی پروف پوائنٹ کے رائن کلیمبر کہتے ہیں کہ: ’یہ ہیکرز کے لیے اتنا منافع بخش نہیں جتنا پہلے ہوا کرتا تھا۔ اس لیے کرپٹو مائنرز انٹرنیٹ پر عجیب جگہوں پر نمودار ہو رہے ہیں تاکہ متاثرین کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہوسکے۔ مثال کے طور پر کبھی کبھار ہم اسے مفت پروگرامز کے کوڈ میں چھپا دیکھتے ہیں۔‘

سکیورٹی کے امور کے ماہر کہتے ہیں کہ کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کو چوکنا رہنا چاہیے اور اپنے کمپیوٹر میں تبدیلیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ جیسے کارکردگی میں سست روی یا ترتیبات میں بدلاؤ۔

اس سلسلے میں کمپیوٹر میں سکیورٹی سافٹ ویئر رکھنا ایک بہتر خیال ہوگا۔ وائرس کی تشخیص کے لیے باقاعدگی سے کمپیوٹر کو سکین کرنا چاہیے۔