ایک غیر مسلح سیاہ فام افریقی-امریکی شہری کی منیا پولس کے پولیس افسر کے ہاتھوں قتل کے خلاف امریکہ بھر کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

امریکی ریاست منی سوٹا کے گورنر نے کہا کہ پولیس کی حراست میں جارج فلوئیڈ کی موت کا سانحہ 'بے قابو تباہی کے طور پر بالکل ہی دوسرا رخ اختیار کر گیا ہے۔'

نیویارک، اٹلانٹا اور دوسرے علاقوں میں پرتشدد بد امنی دیکھی جا رہی ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کو تھوڑے وقت کے لیے بند کر دیا گيا۔

ایک سابق مینیا پولس کے پولیس افسر کو موت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

سفید فام پولیس افسر ڈیریک چاون کو پیر کے روز فوٹیج میں 46 سالہ مسٹر فلوئيد کی گردن پر گھٹنا ڈال کر بیٹھے دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ان کے ساتھ تین دوسرے پولیس افسروں کو بھی برخاست کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

'ہم سیاہ فاموں کو ٹِپ نہیں دیتے'

کیا امریکی صدر نسل پرست ہیں، امریکہ میں بحث

'سیاہ فام کے قتل پر امریکی اہلکاروں پر مقدمہ نہیں ہوگا'

44 سالہ مسٹر چاون کو پہلی بار سوموار کو عدالت میں پیش کیا جانا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے 'انتہائی ہولناک چیز' قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے مسٹر فلوئیڈ کے اہل خانہ سے بات کی ہے جنھیں انھوں نے 'بہترین لوگ' بتایا ہے۔

خیال رہے کہ فلوئیڈ کے معاملے نے پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام امریکیوں کی ہلاکتوں کے خلاف غصے کو ایک بار پھر سے بھڑکا دیا ہے۔

احتجاجی مظاہرے کی تازہ ترین صورت حال

منی سوٹا سب سے مشتعل علاقہ رہا جہاں کے جڑواں شہر مینیاپولس سینٹ پال میں جمعے اور سنیچر کو شام آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو لگایا گیا۔

جمعے کو مظاہرین نے کرفیو کی خلاف ورزی کیا اور جگہ جگہ کاروں میں آگ لگا دی گئی۔ بعض جگہ تو آگ بجھانے والا عملہ بھی نہیں پہنچ سکا۔

ٹی وی فوٹیج میں منی پولس میں لوٹ پاٹ کے مناظر بھی دیکھے گئے جبکہ پولیس کی موجودگی وہاں کم ہی نظر آئی۔ منی پولس سٹار ٹریبیون کے مطابق نصف رات کے وقت تک ہی جاکر کہیں پولیس اور نیشنلہ گارڈز کی موجودگی نظر آئی۔

ریاست کے گورنر ٹم والٹز نے صبح کی بریفنگ میں ان واقعات کو 'بد نظمی، خطرناک اور پہلے کبھی نہ دیکھا جانے والا' قرار دیا۔

انھوں نے کہا ریاست کی تاریخ میں گارڈز کی تعیناتی تاريخ میں اب تک کی سب سے زیادہ تھی تاہم انھوں نے اعتراف کیا 'تاہم ان کی تعداد ہم سے کہیں زیادہ تھی۔' انھوں نے کہا کہ جو لوگ سڑکوں پر ہیں انھیں گھر پر رہنے کے حکم کی 'ذرہ برابر بھی پروا نہیں ہے۔'

دوسری جانب پینٹاگون نے فوج کو منی پولس میں ممکنہ تعیناتی کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔

جمعے کی شام بھیڑ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سامنے جمع ہو گئی اور اس نے مسٹر فلوئيڈ کی تصاویر اٹھا رکھی تھی اور وہ 'میں سانس نہیں لے پا رہا' کا نعرہ لگا رہے تھے یہ وہ آخری الفاظ تھے جو فلوئيڈ نے ادا کیے تھے۔ ایسے ہی الفاظ سنہ 2014 میں نیویارک میں ایک دوسرے سیاہ فام ایرک گارنر نے کہے تھے جب پولیس نے انھیں دبوچ رکھا تھا۔

اٹلانٹا کے بعض علاقوں میں لوگوں کی جان اور مال کی حفاظت کے پیش نظر ہنگامی صورت حال نافذ کر دی گئی ہے۔ جب لوگ امریکی میڈیا ہاؤس سی این این کے دفتر کے باہر یکجا ہوئے تو انھوں نے عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی اور ایک پولیس گاڑی کو آگ لگا دی۔

اس سے قبل جمعے کو ہی سی این این کے ایک رپورٹر کو منی پولس کے مظاہرے کو پیش کرنے کے دوران پہلے گرفتار کر لیا گیا پھر انھیں چھوڑ دیا گیا۔

جمعے کو جب عمر جیمنیز لائو پروگرام پیش کر رہے تھے تو انھیں ہتھکڑیا پہنا کر لے جایا گيا۔ ان کے کیمرہ مین اور پروڈیوسر کو بھی حراست میں رکھا گیا بظاہر اس لیے کہ انھیں جب وہاں سے ہٹنے کے لیے کہا گیا تو وہ ہٹے نہیں۔ بہر حال ان پر کوئی مقدمہ دائر کیے بغیر چھوڑ دیا گا۔

منی سوٹا کے گورنر ٹم والٹز نے معافی مانگی ہے اور اس واقعے کو ناقابل قبول کہا ہے۔ سی این این کا کہنا ہے کہ گرفتاری سے آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

پہلے کیا ہوا؟

جارج فلوئیڈ کی ہلاکت سے متعلق وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گرفتار پولیس اہلکار ڈیریک چاؤین ہلاک ہونے والے سیاہ فام شخص کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھے ہوئے ہیں جس سے انھیں سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

جارج فلوئیڈ کی پولیس حراست کے دوران ہلاکت کے بعد ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپلس میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور پولیس کی مقامی لوگوں کی ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ شہر میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے شہر میں امریکی نیشنل گارڈز کو تعینات کیا گیا تھا۔

کاؤنٹی پراسیکیوٹر مائیک فری مین کا کہنا ہے کہ گرفتار پولیس اہلکار، ڈیریک چاؤین، کو قتل کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گرفتار اہلکار سے پولیس تفتیش جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث دیگر تین پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی مختلف الزامات کے تحت کارروائی ہو گی، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

فری مین کا کہنا تھا کہ استغاثہ کو جیسے ہی شواہد پیش کیے گئے انھوں نے فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پہلے ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی پولیس افسر پر اتنی جلدی فرد جرم عائد کی گئی ہو۔

جارج فلوئیڈ کے اہلخانہ اور وکلا کی جانب سے این بی سی نیوز کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس گرفتاری کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر ایسا کرنے میں بہت تاخیر کی گئی ہے۔

جارج کے اہلخانہ کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار پولیس افسر پر تھرڈ ڈگری کے بجائے فرسٹ ڈگری قتل کا مرتکب قرار دیے جانا چاہیے تھا۔ انھوں نے اس واقعے میں ملوث دیگر پولیس اہلکاروں کی جلد از جلد گرفتاری کا مطالبہ بھی گیا ہے۔

سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے بعد مظاہرے

ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپلس میں گذشتہ کئی روز سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کے تناظر میں شہر کے میئر اور سیاسی قیادت پر تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں منی ایپلس جیسے عظیم شہر کے ساتھ یہ ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ میئر جیکب فرے کو چاہیے کہ شہر کے حالات کو قابو میں رکھیں ورنہ میں نیشنل گارڈ بھیج کر خود ہی کام کروا لوں گا۔‘

مظاہرین نے منی ایپلس کے ایک پولیس سٹیشن میں توڑ پھوڑ کی تھی۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکار اس تھانے میں آگ لگنے کے بعد وہاں سے بھاگ رہے تھے۔ خیال ہے کہ جارج کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ملوث اہلکار اسی تھانے میں کام کرتے تھے۔

بدھ کے روز پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل پھینکے جبکہ دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات بھی سامنے آئے تھے۔

شکاگو، لاس اینجلس اور میمفس میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔

جارج کی ہلاکت نے پولیس کی جانب سے سیاہ فام افراد کے قتل کے واقعات پر غم و غصے کے ایک مرتبہ پھر ہوا دی ہے۔

صورتحال کو دیکھتے ہوئے منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز نے جمعرات کو ریاست کے نیشنل گارڈ کے دستوں کو شہر تعینات کر دیا تھا۔گورنر نے اس صورتحال کو ’ایمرجنسی‘ قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دن قبل لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور آتش زدگی نے کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا جو اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھیں۔

انھوں نے مظاہرین سے پُرامن رہنے کا مطالبہ کیا تھا۔

منی ایپلس کے میئر جیکب فرے نے بدھ کو اس پولیس اہلکار کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی تھی جنھیں جارج پر حملہ کرتے ہوئے ویڈیو میں دیکھا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری میں ملوث چار پولیس اہلکاروں کو پہلے ہی نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

جارج کا واقعہ بھی ایرک فارنر سے ملتا جلتا ہے۔ ان پر 2014 میں پولیس نے تشدد کیا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بعد پولیس کی بربریت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے تھے اور بلیک لائیوز میٹر کی مہم نے زور پکڑا تھا۔

مظاہرے کیسے شروع ہوئے؟

امریکہ میں مظاہرے منگل کی شب شروع ہوئے تھے۔ شہر میں سینکڑوں افراد اس مقام پر کھڑے ہو گئے جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔

منتظمین نے مظاہرے کو پُرامن رکھنے کی کوشش کی اور مظاہرین سے سماجی فاصلے کی ہدایات پر عمل کرنے کی بھی استدعا کی۔ اسی دوران مظاہرین کی جانب سے ’میں سانس نہیں لے پا رہا‘ اور ’یہ میرے ساتھ بھی ہو سکتا تھا‘ کے نعرے لگانا شروع کیے۔

بدھ کی شب مظاہرے کے دوسرے روز مظاہرین کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ اس ہجوم نے پولیس کی جانب پتھر اور آنسو گیس کے شیل برسانا شروع کر دیے۔

اس روز پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ پیش آئی۔ اہلکاروں نے پولیس سٹیشن کے اردگرد ایک انسانی ڈھال بنانے کی کوشش کی تاکہ مظاہرین اس میں داخل نہ ہو سکیں۔

اب تک کیا ردعمل آیا ہے؟

جارج فلویڈ کے بھائی فلونیس فلویڈ نے جمعرات کو سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے ملوث افسران کو سزائے موت دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں کبھی دوبارہ اپنے بھائی کو حاصل نہیں کر سکوں گا۔ ہم انصاف چاہتے ہیں۔‘

آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ انھوں نے یہ کہا کہ جن افسران نے ’میرے بھائی کو دن کے اجالے میں ہلاک کیا‘ انھیں گرفتار کیا جائے اور وہ ’سیاہ فام افراد کے قتل دیکھ دیکھ کر اب تھک چکے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم ہے مظاہرین میں غصہ کیوں ہے۔

’میں لوگوں کو اس وقت روک نہیں سکتا کیونکہ انھیں تکلیف پہنچی ہے۔ وہ اسی درد کو محسوس کر سکتے ہیں جس سے میں گزر رہا ہوں۔‘

منی ایپلس کی پولیس کے سربراہ نے جارج کی ہلاکت سے پہنچنے والے درد اور صدمے کے لیے معافی مانگی ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی مذمت کرتے ہوئے اس ہلاکت کو نسلی امتیاز قرار دیا ہے جبکہ مظاہرین سے پُرامن رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ جارج کی ویڈیو دیکھ کر کافی مایوس ہوئے۔ ’وہ چاہتے ہیں کہ انصاف کیا جائے۔‘

جسٹن بیبر، بیانسے سمیت شوبز اور کھیلوں کی دنیا کے کئی ناموں نے اس واقعے کی اظہارِ افسوس کیا ہے۔

جارج فلوئیڈ کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

پیر کے روز پولیس اہلکار ان اطلاعات پر کارروائی کلر رہے تھے کہ جعلی پیسے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ وہ جارج کی گاڑی کے قریب پہنچے تھے۔

پولیس کے مطابق انھیں گاڑی سے نکلنے کا کہا گیا تھا، انھوں نے اہلکاروں سے مزاحمت کی اور اس طرح انھیں ہتھکڑی لگا دی گئی۔ پولیس کے بیان میں ان میں ظاہر ہونے والی طبی تکلیف کا بھی ذکر ہے۔

واقعے کی ویڈیو میں یہ دکھایا نہیں گیا کہ تنازع کیسے شروع ہوا۔

ایک سفید فام افسر کو دیکھا جاسکتا ہے جو اپنے گھٹنے سے جارج کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ اس موقع پر جارج کہتے ہیں کہ ’پلیز، میں سانس نہیں لے پا رہا‘ اور ’مجھے مت مارو۔‘

شہر کے حکام نے چاروں پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کر لی ہے۔ ان میں سے مقامی میڈیا نے ڈیریک چاؤین پر الزام لگایا ہے کہ وہ جارج کا گلا گھونٹ رہے تھے۔

پولیس کے یونین کا کہنا ہے کہ ملوث اہلکار تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔ ’فیصلے پر پہنچنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ ہمیں پوری ویڈیو دیکھنی ہوگی اور طبی معائنہ کار کی رپورٹ کا انتظار کرنا ہوگا۔‘

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق 44 سالہ پولیس اہلکار ڈیریک چاؤین ماضی میں تین پولیس شوٹنگز میں ملوث رہ چکے ہیں۔ ان کے 19 سالہ کریئر میں ان کے خلاف 17 شکایات درج کرائی جاچکی ہیں۔