رواں برس اپریل میں برطانیہ کی کار سازی کی صنعت لگ بھگ مکمل جمود کا شکار رہی۔

گذشتہ سال اپریل کے مقابلے رواں برس اس ماہ برطانیہ میں گاڑیوں کی مجموعی پیداوار 99.7 فیصد کم تھی۔

دوسری طرف پاما کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بھی گذشتہ ماہ کے دوران کاروں کی تیاری اور فروخت کا سلسلہ مکمل طور پر رُکا رہا۔

برطانیہ میں اس صنعت کی نمائندہ تنظیم ’سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز‘ نے کہا ہے کہ گاڑیوں کی تیاری میں اتنی کمی دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ دیکھنے میں آئی ہے۔

لگژری اور مہنگے ماڈلز کی صرف 197 کاریں فیکٹریوں سے تیار ہو کر سڑکوں تک پہنچیں اور ان میں صرف 45 کاروں کے گاہک برطانوی صارفین تھے۔

گاڑیوں کو تیار کرنے والے چند صنعت کاروں نے اپنی صنعتوں میں گاڑیوں کے بجائے طبی عملے کے لیے حفاظتی لباس اور دیگر طبی ساز و سامان کی تیاری کا کام شروع کر دیا۔

سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز کے چیف ایگزیکٹیو کائیک ہاؤز کا کہنا ہے کہ ’برطانیہ کی کار ساز فیکٹریوں کو اپریل میں بند رکھا گیا۔ اتنی کم تعداد میں گاڑیوں کی تیاری کے یہ اعداد و شمار حیران کُن نہیں بلکہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس صنعت کو کتنے بڑے چیلینج کا سامنا ہے، جس میں آمدن گذشتہ ماہ صفر تک پہنچ چکی ہے۔‘

برطانیہ کی کار ساز صنعت عموماً سالانہ چار لاکھ کاریں تیار کرتی تھی اور اس صنعت کے بند ہونے سے برطانوی معیشت کو پہنچنے والا نقصان 12.5 ارب پاؤنڈ کے لگ بھگ ہو گا۔

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

کورونا وائرس: آپ کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

کورونا وائرس: سماجی دوری اور خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

دنیا میں کورونا کہاں کہاں: جانیے نقشوں اور چارٹس کی مدد سے

کورونا کی وبا میں کس کا کاروبار چمکا اور کون ڈوبا؟

برطانیہ کی فیکٹریوں میں اپریل کے مہینے میں 830 انجن تیار کیے گئے، جن میں سے 781 برآمد کر دیے گئے۔ یہ تعداد گذشتہ برس اپریل کے مہینے کی پیداوار سے 99.5 فیصد کم تھی۔

مسٹر ہاؤز نے کہا ہے کہ کاریں تیار کرنے والی فیکٹریوں میں دوبارہ سے کام کا آغاز بتدریج ہو گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ برطانیہ میں انجن بنانے والی فیکٹریوں کی نصف تعداد رواں ہفتے سے اپنے کام کا دوبارہ آغاز کر دے گی۔

تاہم دوبارہ آغاز کے باوجود بھی پیداوار شاید کچھ زیادہ نہ ہو سکے کیونکہ فیکٹریوں کو سماجی فاصلے کی شرائط پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہو گا اور نئے اوقات کار پر بھی۔

سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز نے کاریں بنانے والی فیکٹریوں سے کہا ہے کہ فیکٹری کے مزدوروں کو ان کی حفاظت کے لیے پی پی ایز یعنی حفاظتی لباس مہیا کیے جائیں۔

کاریں تیار کرنے والوں سے یہ بھی توقع ہے کی جا رہی ہے کہ وہ ہر شفٹ کے لیے مخصوص ٹیمیں تشکیل دیں گے اور اپنی شراکت دار فیکٹریوں سے رابطہ کرتے وقت کم سے کم افراد سے تعلق رکھیں گے تاکہ وائرس پھیلنے کے امکانات کم کیے جا سکیں۔

پی پی ایز بنانے کا کام

اپنی معمول کی پیداوار کا کام روکنے سے پہلے چند فیکٹریاں میکلارن، بینٹلے اور رولز رائس جیسی لگژری اور مہنگی قسم کی گاڑیاں بنا رہی تھیں۔

ایک مہنگی اور اعلیٰ معیار کی سپورٹس کار بنانے میں ایک ماہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

اگرچہ کاریں اور دیگر قسم کی گاڑیاں بننے کا کام رک گیا تھا تاہم اپریل کے مہینے میں فروخت ہونے والی 197 کاروں کی فِنیشنگ کا کام باقی تھا جسے اپریل میں مکمل کر کے خریداروں کے حوالے کر دیا گیا۔

اب جبکہ فیکٹریوں میں معمول کا کام بند پڑا ہے، اس صنعت میں کئی یونٹس نے اپنی صلاحیتوں کو ایک دوسرے مقصد یعنی میڈیکل سٹاف کی حفاظت کے لیے پی پی ایز (حفاظتی لباس) بنانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

چہرے محفوظ رکھنے والی ’فیس شیلڈ‘، وائز اور حفاظتی لباس کو تیار کرنا شروع کر دیا۔ رولز روئس اور میکلارن ان کمپنیوں میں سے تھیں جنھوں نے میڈیکل سٹاف کے لیے سامان اور مریضوں کے لیے وینٹیلیٹرز تیار کرنا شروع کر دیے۔

اگرچہ کاریں تیار کرنے کی صنعت اپنی پروڈکشن کے دوبارہ آغاز کی جانب پیشرفت کر رہی ہے تاہم مزدوروں کی یونینز کا کہنا ہے کہ اس صنعت کے اتنا کمزور ہو جانے کے بعد اسے ہنگامی بنیادوں پر حکومت کی جانب سے امداد کی ضرورت ہے۔

مزدورں کی ایک یونین ’یونائیٹ‘ کے اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری سٹیو ٹرنر نے کہا ہے کہ ’ہمیں فوری طور پر دنیا کی بہترین آٹو انڈسٹری کو اس بحران سے بچانے کی ضرورت ہے، اس کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ نوکریاں برقرار رہ پائیں اور اس صنعت کا الیکٹرک کاروں کی تیاری کی جانب سفر جاری رہ سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فرانسیسی اور جرمن حکومتیں اپنی گاڑیوں کی صنعتوں کو بچانے کے لیے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اپنی مینوفیکچرنگ فیکٹریوں کے مزدوروں کے ساتھ کھڑی ہو گئیں ہیں۔‘

سٹیو ٹرنر نے کہا ان دونوں ملکوں میں حکومتیں سرکاری امداد کے ذریعے ان صنعتوں کو بچانے کے لیے سامنے آئی ہیں تاکہ مقامی سپلائی سلسلے کو بھی برقرار رکھا جا سکے۔

یونائیٹ کے اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری نے کہا کہ ’برطانوی حکومت کو بھی اپنی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی چیمپیئن (آٹو انڈسٹری) پر فخر کرتے ہوئے اور یونینز کو اعتماد میں لیتے ہوئے ایک دیرپا، پائیدار اور مستقبل کی اعلیٰ معیار کی نوکریوں کی تخلیق کے لیے انھی حکومتوں جیسے اقدامات کرنے چاہییں۔‘

پاکستان میں ایک بھی کار تیار، فروخت نہ ہوسکی

گاڑیوں کی صنعت کی تنظیم پاما کے مطابق پاکستان میں اپریل کے دوران ایک بھی مسافر کار فروخت یا تیار نہیں ہوئی۔ یہ گذشتہ سال اپریل کے اعداد و شمار کے مقابلے 100 فیصد کی کمی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک میں محض 39 پِک اپس گاڑیاں، 36 ٹرک اور تین بسیں فروخت ہوسکیں۔ جبکہ اس شعبے میں بھی مقامی تیاری کا عمل رُکا رہا۔

ملک میں اپریل 2020 کے دوران کوئی موٹر سائیکل تیار نہیں جبکہ 2,783 موٹر سائیکلیں فروخت ہوئیں۔ اپریل 2019 کے مقابلے اس میں تقریباً 98 فیصد کمی ہوئی ہے۔