کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں ریستوران بند ہیں اور لوگ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے اس عمل کے بہت سے نتائج سامنے آ رہے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ چوہے کھانے کے نئے ذرائع کی تلاش اور اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے امریکہ کے ایک ادارے ’سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول‘ نے متنبہ کیا تھا کہ خوراک کی تلاش میں سرگرم چوہوں کے رویوں میں غیر معمولی جارحانہ رویہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

اس انتباہ میں بتایا گیا ہے کہ ریستوران بند ہونے کی وجہ سے چوہوں کو دستیاب خوارک میں کمی واقع ہوئی ہے، خاص کر ان علاقوں میں جہاں تجارتی سرگرمیاں زیادہ ہوتی تھیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عموماً چوہوں کا دارومدار اس ضائع ہونے والی خوراک اور کچرے پر ہوتا ہے جو تجارتی مراکز سے نکلتا ہے۔

تاہم اب یہ بھوکے چوہے خوراک کے نئے ذرائع کی تلاش میں ہیں۔ اور چونکہ وہ نئی جگہوں اور ذرائع کی تلاش میں ہیں اس لیے دنیا بھر میں اب ان کی سرگرمیاں بڑھ چکی ہیں اور وہ عموماً ایسی جگہوں پر نظر آ رہے ہیں جہاں پہلے نظر نہیں آتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

چرسی چوہے 540 کلو گرام منشیات ہڑپ کر گئے

زہریلے مینڈکوں کا دل کھانے والے آسٹریلوی چوہے

جانوروں کی تصاویر کا مقابلہ: ووٹ جھگڑالو چوہوں کے حق میں

اس کی ایک واضح مثال ریاست نیو اورلینز میں واقع فرنچ کوارٹر ہے۔ رواں برس فروری میں فرنچ کوارٹر ہزاروں سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، یہ سیاح فرنچ کوارٹر میں موجود ریستورانوں، شراب خانوں اور جاز کلبز میں آئے تھے۔

مگر چند ہی ہفتوں بعد کورونا کے باعث دیگر علاقوں کی طرح فرنچ کوارٹر میں بھی تمام سرگرمیاں منسوخ ہو گئیں اور شراب خانے اور ریستوران بند ہو گئے۔

اور وہاں موجود چوہے جو عموماً رات کے اوقات میں ہی نکلتے تھے اپنی اپنی پناہ گاہوں سے باہر نکل آئے بالکل اسی طرح جس طرح انھیں واشنگٹن اور نیویارک سمیت امریکہ کی دیگر ریاستوں میں مٹرگشت کرتے دیکھا گیا۔

سینٹرز فار ڈیزیز نے متنبہ کیا ہے کہ اسی بات کا قوی امکان ہے کہ شہروں میں چوہوں کے جارحانہ رویے سے متعلق شکایات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکہ میں رینگنے والے جانوروں کے ماہر رابرٹ کوریگن کہتے ہیں کہ ’چوہوں کے جارحانہ ہونے کا مرکز انسان نہیں بلکہ دوسرے چوہے ہوں گے۔ نئی جگہوں میں داخل ہونے کے لیے وہ دراڑوں اور خالی جگہوں کی تلاش میں ہوں گے۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسانوں پر حملہ نہیں کریں گے اور نہ انھیں کاٹیں گے۔‘

گوشت خوری

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث دنیا کی لگ بھگ ایک تہائی آبادی نے حالیہ مہینوں کے دوران اپنے رویہ بدلا ہے۔

بہت سے ممالک میں قرنطینہ کے نفاذ کی وجہ سے وہ کچرہ پیدا ہونا کم ہو گیا ہے جس سے حاصل ہونے والی خوراک پر چوہوں کا دارومدار تھا اور یہی وجہ ہے کہ چوہوں کے رویے میں بھی بدلاؤ آیا ہے۔

اپریل میں برطانیہ کی نیشنل ’پیسٹ ٹیکنیشیئنز ایسوسی ایشن‘ نے متنبہ کیا تھا کہ سکولوں، شراب خانوں، ریستورانوں، ہوٹلوں اور سیاحتی مقامات کی بندش اور عوام کی جانب سے سماجی فاصلہ اختیار کرنے کی روش کے چند ناپسندیدہ نتائج ہوں گے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق جب خوراک دستیاب نہیں ہو گی تو کیڑے مکوڑے اور رینگنے والے حشرات خالی عمارتوں سے خوارک کی تلاش میں باہر نکلیں گے۔

مایوسی اور پریشانی کے عالم میں یہ رینگنے والے جانور اور چوہے اپنی ہی آبادی میں دوسرے چوہوں پر حملہ آور ہوں گے۔

کوریگن کا کہنا ہے کہ ’ایک بھوکا چوہا دوسرے چوہوں کے لیے جارحانہ رویہ اختیار کرے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ وہ مقامات جہاں چوہوں کو پہلے باآسانی خوراک دستیاب ہو جاتی تھی اب وہاں ایسا نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں گوشت خوری بڑھے گی کیونکہ جب بھوک بےتحاشہ بڑھ جاتی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ یعنی چوہے دیگر چوہوں کو مار کر ان کا جسم کھا جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ’وہ (چوہے) ایک دوسرے پر حملہ آور ہو رہے ہیں، ایک دوسرے کو مار رہے ہیں اور ایک دوسرے کو کھا رہے ہیں۔‘

رویہ تبدیل کرنے کے ماہر

انھوں نے مزید کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ بھوکے چوہے خوراک کی تلاش میں نکلیں اور ایسی جگہ پہنچ جائیں جہاں پہلے کبھی چوہے نہیں دیکھے گئے۔

انھوں نے کہا چوہے ’خوفناک چوپائے‘ ہیں جن میں یہ صلاحیت بدرجہ اُتم موجود ہے کہ وہ خوارک کے ذریعے کو تلاش کر لیتے ہیں اور ان کے نوکیلے دانت دروازوں، پلاسٹک اور نیٹس میں سوراخ کر سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’چوہے ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر جگہ کی مناسب سے اپنا رویہ تبدیل کر کے ماحول سے مطابقت بنا لیتے ہیں۔‘

تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شہروں میں ان کی تعداد بہت بڑھ جائے گی۔

کاریگن نے کہا درحقیقت یہ وہ وقت ہے جب چوہوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے نئی تیکنیکس اپنائی جائیں۔

چوہے بِن بلائے مہمان کیوں بن جاتے ہیں؟

آوارہ اور بھوکے چوہوں کا ایک گروہ تباہی مچا سکتا ہے، وہ مکانات اور املاک کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور بیماری پھیلا سکتا ہے۔

کوریگن کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کے گھر میں موجود ایسے کمرے تک پہنچ جائیں جہاں بچے ہوتے ہیں یا کسی ہسپتال یا نرسنگ ہوم میں۔

چوہے 55 قسم کی مختلف بیماریاں پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ ان سے کووڈ 19 کی وبا پھیل سکتی ہے یا نہیں۔

وہ گھر میں موجود بجلی کی تاروں اور لکڑی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جس سے گھروں میں آگ بھڑک اٹھنے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔

چوہوں کو گھروں سے کیسے دور رکھا جائے؟

اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ گھر میں موجود ریخوں اور دراڑوں کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ ایسے پائپس اور ان تمام ممکنہ جگہوں کو سِیل کر دیا جائے جہاں سے چوہے آپ کے گھر میں داخل ہو سکتے ہیں۔

گھر کے اندر ایسی جگہیں بہت کم ہونی چاہیں جہاں وہ چھپ پر بیٹھ سکیں، تو اپنے گھر کے ہر حصے کو اچھی طرح صاف ستھرا کریں۔

گھروں میں خوراک ایسے برتنوں اور برتنوں میں رکھیں جنھیں مضبوطی سے بند کیا جا سکے اور جن میں رینگنے والے کیڑے یا چوہے داخل نہ ہو سکیں۔

اور پھر بھی اگر وہ آپ کو اپنے گھر میں کہیں نظر آ جائیں تو پروفیسر کوریگن کا مشورہ یہ ہے کہ ان سے خود نمٹنے کے بجائے اس کام کے ماہر افراد سے رابطہ کیا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کورونا کے ستائے ہوئے چوہے اگر اچانک آپ کو اپنے گھر میں نظر آ جائیں تو ان سے نمٹنا کوئی ایسا کام نہیں ہو گا جو کہ آپ خود سے کر پائیں۔‘