خدیجہ بیگم ایک روہنگیا پناہ گزین ہیں جو میانمار میں تشدد سے بچ کر پناہ کی تلاش میں بنگلہ دیش پہنچی تھیں۔

اور پھر بنگلہ دیش سے ملائیشیا جانے کے لیے انھوں نے انسانی سمگلروں کو بھاری رقم ادا کی۔ انسانی سمگلروں نے انھیں سمندری راستے کے ذریعے ملائشیا پہنچانا تھا اور اس سفر میں خدیجہ کےساتھ درجنوں دیگر روہنگیا پناہ گزین بھی تھے۔

انھیں امید تھی کہ وہ ملائیشیا جا کر ایک نئی زندگی کا آغاز کریں گی لیکن ان کا یہ منصوبہ ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔

وہ اور ان کے ساتھی پناہ گزین اُس کشتی پر دو ماہ تک سمندر میں پھنسے رہے، اور اس دوران جو شخص ہلاک ہو جاتا اس کی لاش سمندر بُرد کر دی جاتی۔

خدیجہ بیگم یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’کسی کو نہیں معلوم کے کتنے لوگ ہلاک ہوئے۔ 50 بھی ہو سکتے ہیں یا اس سے زیادہ بھی۔

50 برس کی خدیجہ بیگم ان 396 روہنگیا مسلمانوں میں شامل ہیں جنھیں بنگلہ دیش کے ساحلی گارڈز نے اُس وقت بچایا جب ان کو ملائیشیا لے جانے والی کشتی دو ماہ تک سمندر میں پھنسے رہنے کے بعد واپس بنگلہ دیش کے ساحلِ سمندر پر آن لگی۔

یہ بھی پڑھیے

بنگلہ دیش مزید روہنگیاؤں کو قبول نہیں کرے گا

سوچی کو عالمی عدالتِ انصاف لے جانے والا شخص کون؟

بنگلہ دیش نے دو ماہ سے سمندر میں سفر کرتے روہنگیا پناہ گزینوں کو بچا لیا

خدیجہ بیگم نے ہلاکتوں کا اندازہ کشتی پر ہونے والے جنازوں کی بنیاد پر لگایا۔ ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ کشتی پر ہی ادا کی جاتی۔ اور جنازے کی امامت خدیجہ کے بیٹے کرتے تھے جو اس سفر میں ان کے ساتھ تھے۔

انسانی سمگلروں نے ان کو ملائیشیا پہنچانے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وہاں کبھی نہیں پہنچ پائے۔

خدیجہ بیگم کو میانمار میں تشدد سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کو اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے ’نسل کشی کی ایک واضح مثال' بتایا تھا۔

بنگلہ دیش نے ان جیسے لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دی تھی اور آج بنگلہ دیش دنیا بھر میں روہنگیا افراد کا سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ بن چکا ہے۔

بنگلہ دیش کے ’کوکس بازار میں تقریباً دس لاکھ روہنگیا مسلمان مقیم ہیں اور ان میں سے خدیجہ جیسے بعض پناہ گزین اپنی آنکھوں میں ملائیشیا جا کر بہتر زندگی بسر کرنے کا خواب سجائے ہوئے تھے۔'

لاشوں کو سمندر میں پھینک دیا گیا

لیکن خدیجہ کے لیے یہ سہانا سپنا ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گیا۔

خدیجہ یاد کرتی ہیں کہ کشتی کے عملے یعنی انسانی سمگلروں نے سفر کے دوران مسافروں سے بھری اس کشتی پر ہونے والی اموات کو چھپانے کی کوشش کی۔

’وہ لاشوں کو سمندر میں پھینکتے وقت کشتی کے دونوں انجن چلا دیتے تھے تاکہ لاشوں کے گرنے سے پانی میں پیدا ہونے والی آواز کوئی نہ سُن سکے۔‘

وہ مزید بتاتی ہیں اکثر لاشوں کو رات کے وقت سمندر میں پھینکا جاتا تھا۔

’میں یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ کشتی پر سوار کم از کم 14 سے 15 خواتین ہلاک ہو گئی تھیں۔‘

خدیجہ کشتی پر اپنے ساتھ بیٹھی ہوئی خاتون کی موت کے بارے میں سوچ کر آج بھی پریشان ہو جاتی ہیں۔

شدید پانی کی کمی کی وجہ سے وہ خاتون پہلے تو تھوڑی بہک سی گئی تھیں اور اس کے بعد ان کا رویہ عیجیب و غریب سا ہو گیا تھا۔

کشتی کا عملہ انھیں کشتی کے اوپر والے حصے میں لے گیا جہاں خدیجہ کے مطابق ان کی موت واقع ہو گئی۔

’مجھے اس کی موت کے بارے میں سوچ کر ابھی بھی خوف آتا ہے۔ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے مر گئی۔‘

اس خاتون کے ساتھ اس کے چار بچے بھی تھے۔

’میرے بیٹے نے اس کی سب سے بڑی بیٹی، جس کی عمر صرف 16 برس تھی، کو اس کے ماں کے انتقال کی خبر دی تھی۔‘

یتیم بچے

خدیجہ خود چار بچوں کی ماں ہیں۔

خدیجہ بتاتی ہیں کہ ’اس خاتون کے باقی تین بچوں کو نہیں معلوم تھا کہ ان کی والدہ کو کیا ہوا ہے۔ وہ رو رہے تھے۔ ان کو اس حالت میں دیکھ کر میرا دل ٹوٹ گیا۔‘

’اس کی لاش کو فوراً سمندر میں پھینک دیا گیا تھا۔‘

خدیجہ سنہ 2017 میں بے گھر اور بے وطن ہو گئی تھیں جب میانمار کے رخائن علاقے میں ایک فوجی آپریشن میں ان کے شوہر اور ایک بیٹے کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ان کے گاؤں کو جلا دیا گیا تھا جس کے بعد وہ اپنے بچوں کے ساتھ بنگلہ دیش کے کوکس بازار میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئی تھیں۔

اپنی سب سے بڑی بیٹی کی شادی کرنے کے بعد اب ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے باقی بچوں کو بہتر زندگی دے سکیں۔

’ہماری زندگی بہت مشکل ہے۔ پناہ گزین کیمپ میں مجھے اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا تھا۔‘

سمندر کے راستے ملائیشیا جا کر بہتر زندگی بسر کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کے بارے میں سُن کر ان کا بھی وہاں جانے کا دل چاہا۔

زیوارت فروخت کرنے پر مجبور

خدیجہ نے ملائیشیا جانے کے لیے اپنے زیورات فروخت کر کے پیسوں کا انتظام کیا اور کشتی کا انتظام کرنے وانے سمگلروں کو لگ بھگ 750 امریکی ڈالر دیے۔

فروری کی ایک رات ان کو وہ فون کال موصول ہوئی جس کی وہ منتظر تھیں۔

وہ بتاتی ہیں ’جس شخص نے مجھے فون کیا اس نے مجھے تیکناف بس اڈے پر آنے کے لیے کہا۔‘

انھوں نے اپنے ارادے کو سب سے پوشیدہ رکھا اور خاموشی سے ایک چھوٹے سے بیگ میں پہننے کے کچھ کپڑے اور اپنے سونے کے زیورات پیک کر لیے۔

وہ مزید بتاتی ہیں: ’میں نے اپنے دوستوں اور پڑوسیوں کو بتایا کہ میں علاج کے لیے کیمپ سے باہر جا رہی ہوں۔‘

اپنے بیٹے اور بیٹی کو ساتھ لے کر گھر پر تالہ لگا کر وہ رات کے اندھیرے میں نکل گئیں۔

بس اڈے کے قریب انھیں ایک آدمی ملا جو انھیں اپنے ساتھ ایک فارم ہاؤس لے گیا جہاں پہلے سے ہی کئی سو لوگ موجود تھے۔

اس کے بعد انھیں کشتی پر منتقل کیا گیا جس نے بنگلہ دیش کے سینٹ مرین جزیرے اور میانمار کے اکیب ساحلی علاقے کے درمیان سے ہوتے ہوئے دھیرے دھیرے خلیج بنگال کی جانب بڑھنا شروع کیا۔

’میں کئی مہینوں سے منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ میں ایک بہتر زندگی چاہتی تھی۔ میں ایک نئے ملک میں ایک نئی زندگی کا خواب دیکھ رہی تھی۔‘

پیر پھیلانے تک کی جگہ نہیں تھی

دو دن بعد ان کو ایک دوسری کشتی میں منتقل کر دیا گیا جو کہ سائز میں بڑی تھی مگر لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ خدیجہ یاد کرتی ہیں کہ اس کشتی میں پیر پھیلانے تک کی جگہ نہیں تھی۔

’وہاں خواتین اور بچوں والے خاندان تھے۔ میرے خیال سے اس کشتی پر 500 سے زیادہ افراد سوار تھے۔ وہ کشتی جنوبی ایشیا میں استعمال ہونے والی عام سنمدری کشتیوں سے بڑی تھی لیکن یقیناً اس میں اتنے سارے لوگوں کو لے جانے کی گنجائش نہیں تھی۔‘

کشتی کا عملہ بالائی منزل میں ٹھہرا ہوا تھا، خواتین کو درمیان والی منزل جبکہ مردوں کو کشتی کے نیچے والے حصے میں رکھا گیا تھا۔

کشتی کو چلانے والے برما کے تھے، وہی ملک جہاں سے روہنگیا مسلمان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

خدیجہ بتاتی ہیں ’میں شروع میں بہت ڈری ہوئی تھی۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ہمارا مستقبل کیا ہو گیا لیکن ہم مطمئن ہو گئے تھے اور میں دوبارہ خواب دیکھنے لگی تھی۔‘

بیت الخلا میں ہلاکت

کشتی میں پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان تھا۔ خدیجہ نے دو مہینے میں صرف دو بار غسل کیا وہ بھی سب کے سامنے اور سمندر سے پانی کھینچ کر۔

کشتی میں دو لکڑیوں کی پیٹیوں کے درمیان سوراخ کر کے عارضی بیت الخلا بنایا گیا تھا۔

خدیجہ بتاتی ہیں ’ملائیشیا جانے کے لیے سفر شروع کرنے کے چند روز بعد ہی ایک بچہ بیت الخلا کے اس سراغ سے نکل کر سمندر میں جا گرا اور ہلاک ہو گیا۔‘

’میں نے وہاں جتنی بھی اموات دیکھیں ان میں یہ سب سے پہلی تھی۔‘

ملائیشیا پہنچنا

سات دن کے سفر کے بعد جس میں خراب موسم کے باعث سمندر کی لہروں پر کشتی چلتی تھی، مسافروں کو آخر کار ملائیشیا کا ساحل دکھائی دیا۔

یہاں وہ امید کر رہے تھے کہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں پر انھیں منتقل کیا جائے گا تاکہ وہ زمینی راستے پر جا سکیں لیکن وہاں کوئی کشتی نہیں آئی۔

کورونا وائرس کی وجہ سے ملائیشیا کے سمندر پر سخت سکیورٹی تھی۔ ساحلی گارڈز ماضی کے مقابلے زیادہ جلدی جلدی پہرا دینے آتے تاکہ ان کے ملک میں کوئی غیرقانونی طریقے سے داخل نہ ہو سکے۔

کورونا وائرس کی وبا نے خدیجہ کی ساری امیدوں کو چکنا چور کر دیا تھا۔

سمندر کا پانی پینا

کشتی پر کھانے اور پینے کے پانی کی قلت کی وجہ سے انھیں واپسی کا رُخ کرنا پڑا۔

ملائیشیا جانے کے راستے میں انھیں دن میں دو بار کھانے کے لیے چاول دیے جاتے تھے، کبھی کبھی چاولوں کے ساتھ دال بھی دی جاتی تھی اور ایک گلاس پانی۔

’پہلے انھوں نے دو وقت کی بجائے دن میں ایک بار کھانا دینا شروع کیا، پھر دو دن میں ایک بار صرف سادے چاول۔ اس کے ساتھ کچھ بھی نہیں۔‘

پینے کے پانی کی قلت اب برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ خدیجہ بتاتی ہیں مجبور ہو کر بعض پناہ گزینوں نے سمندر کا پانی پی لیا۔

خدیجہ مزید بتاتی ہیں ’لوگ اپنی پیاس بجھانے کے لیے اپنے کپڑے سمندر کے پانی میں بگھو لیتے تھے اور پھر ان کپڑوں سے ٹپکی بوندیں ان کے منھ میں گر جاتی تھیں۔‘

دوسرا موقع

چند روز بعد تھائی لینڈ کے ساحل پر سمگلروں نے ایک چھوٹی سے کشتی کے ذریعے کھانے پینے کی بعض اشیا کا انتظام کیا۔

لیکن جب وہ ملائیشیا جانے کی ایک اور کوشش کی تاک میں تھے تو برما کی بحریہ نے ان کی موجودگی کا اندازہ لگا لیا۔ انھوں نے کشتی کے کپتان اور عملے کے تین افراد کو گرفتار کر لیا لیکن بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا۔

خدیجہ سوچتے ہوئے بتاتی ہیں ’مجھے لگتا ہے انھوں نے آپس میں کوئی ڈیل کر لی تھی۔‘

ان کی ملائیشیا میں اترنے کی دوسری اور آخری کوشش بھی ناکام ہو گئی۔

کشتی پر بغاوت

کشتی پر سوار سبھی لوگوں کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کہیں نہیں جا رہے ہیں۔

’ہم سمندر کے اندر ہی ادھر سے ادھر جا رہے تھے، بغیر اس امید کے ہم کبھی ساحل سمندر تک پہنچ بھی پائیں گے۔ لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ ہم خود سے یہ سوال کر رہے تھے کہ آخر ہم اتنے دن کیسے زندہ رہ سکتے ہیں۔‘

تو ایک دن کشتی پر سوار لوگوں کا ایک گروپ اوپر کشتی کے عملے کے پاس گیا اور ان سے گزارش کی کہ وہ کشتی کو کسی بھی ملک لے جائیں چاہے وہ بنگلہ دیش ہو یا میانمار۔‘

عملے نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا .

ان کو بتایا گیا کہ ایسا کرنا خطرناک ہے۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو انھیں گرفتار کیا جاسکتا ہے اور کشتی بھی ضبط ہو سکتی ہے۔

کشتی خلیج بنگال میں بغیر کسی منزل کے چلتی رہی اور اسی درمیان عملے پر ریپ اور استحصال کے الزامات کی کہانیاں بھی بازگشت کرنے لگیں۔

خدیجہ بتاتی ہیں ’حالات بے قابو ہو رہے تھے۔‘

’میں نے سنا کہ عملے کے ایک رکن پر حملہ ہوا اور اس کو ہلاک کر دیا گیا۔ بعد میں اس کی لاش کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔‘

عملے میں 10 برمی افراد تھے جو کہ 400 پناہ گزینوں کو سنبھال رہے تھے۔

’انھیں یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کے لیے اتنے سارے لوگوں کے ساتھ لڑائی لڑ کر جیتنا مشکل ہو گا۔‘

عملے نے چھوٹی کشتیوں کو کرائے پر لینے کے لیے مزید رقم کا مطالبہ کیا تاکہ ان مسافروں کو ساحل سمندر لے جایا جا سکے۔ سب نے مل کر مزید 1200 ڈالر دے دیے۔

چند روز بعد ایک چھوٹی کشتی ان کے پاس آئی۔

کشتی دیکھتے ہی کشتی کا کپتان اور عملے کے دیگر رکن اس پر کود گئے تاکہ وہ وہاں سے بھاگ سکیں۔

کشتی پر باقی بچے پناہ گزینوں نے عملے کے جو دو رکن کشتی پر رہ گئے تھے ان کی مدد سے کسی طرح سے کشتی کا رخ بنگلہ دیش کی جانب موڑ لیا۔

سب کچھ کھو گیا

خدیجہ بتاتی ہیں ’دو مہینے بعد جب میں نے پہلی بار ساحل سمندر دیکھا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔‘

وہ ایک بار پھر واپس بنگلہ دیش آ گئے تھے۔

دو ہفتے قرنطینہ میں گزار کر خدیجہ واپس پناہ گزین کیمپ میں آ گئی ہیں۔ وہاں آ کر انھیں معلوم ہوا کہ ان کے رہنے کی جگہ اب کسی اور خاندان کو دے دی گئی ہے۔

انھیں اس بات کی بالکل بھی کوئی امید نہیں کہ واپس میانمار میں وہ اپنی اس سرزمین پر جا پائیں گیں جہاں وہ کبھی کھیتی باڑی کرتی تھیں۔

اب وہ ایک بہت چھوٹی سی جگہ میں اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ رہتی ہیں۔

خدیجہ کہتی ہیں ’میں نے اپنے ایک خواب کے لیے سب کچھ گنوا دیا۔ ایسی غلطی کبھی نہ کرنا۔‘

(اس کہانی میں استمعال ہونے والے خاکے ہماری ساتھی لو یانگ نے بنائے ہیں)