آسٹریلیا کے علاقے نیو ساؤتھ ویلز میں ایک شخص کی جنسی خواہش کی تسکین کے لیے رچایا گیا ڈرامہ بلاآخر ایک سال بعد اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

نیو ساوتھ ویلز کے علاقے میں رہنے والے گرفین نامی ایک شخص نے فیس بُک پر اس سارے ڈرامے کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس کو سرانجام دینے کے لیے دو افراد کی خدمات پیسوں کے عوض حاصل کی تھیں۔

گرفین اپنی ایک جنسی خواہش کی تسکین چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ دو مسلح افراد اچانک ان کے گھر میں داخل ہوں اور انھیں نیم برہنہ حالت میں رسی سے باندھ کر جھاڑو کی مدد سے انھیں ہلکی ہلکی ضربیں لگائیں۔

فیس بُک پر انھیں دو ایسے افراد مل بھی گئے جنھوں نے پیسوں کے عوض ایسا کرنے کی حامی بھر لی۔

تاہم پورے منصوبے میں گڑبڑ اس وقت ہوئی جب تیز دھار آلے سے مسلح یہ افراد گرفین کے گھر کی بجائے کسی اور کے گھر میں داخل ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

’سیکس ڈول‘ جو بات بھی کر سکتی ہے

سیکس سکینڈل جس نے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا

انفلوئنسرز کو ’سیکس کے بدلے ہزاروں پاؤنڈز کی پیشکش‘

تاہم جب ان افراد کو اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ فوراً ہی گھر سے باہر نکل گئے۔

یہ سنہ 2019 کا واقع ہے۔ اس واقعے کی رپورٹ ہوئی اور عدالتی کارروائی بھی۔ تاہم اب آسٹریلیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں افراد کو تیز دھار آلے کے ساتھ (غلط) گھر میں داخل ہونے کے مقدمے میں بری کر دیا گیا ہے۔

اس مقدمے میں جج نے کہا کہ اس واقعے سے منسلک حقائق انتہائی غیر معمولی ہیں۔

جج نے عدالت میں بتایا کہ گرفین نے دونوں افراد سے وعدہ کیا تھا کہ اگر انھوں نے اُن (گرفین) کی جنسی اشتہا کو ان کی مرضی کے مطابق سرانجام دیا تو انھیں اس کے عوض پانچ ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔

تاہم فیس بُک پر معاملات طے پا جانے کے بعد گرفین اس گھر سے 50 کلومیٹر دور ایک اور گھر میں منتقل ہو گئے اور اپنے نئے ایڈریس کے متعلق ان دونوں افراد کو آگاہ کرنا بھول گئے۔

جن دو افراد کو معاوضہ دے کر بلایا گیا تھا وہ گرفین کے پرانے پتے پر چلے گئے۔ اُس گھر میں رہائش پذیر نئے مکین نے جب صبح صبح باورچی خانے کی روشنی جلتی دیکھی تو وہ سمجھے کہ ان کے پڑوسی، جو روزآنہ ان کے گھر آتے تھے، کافی بنانے کے لیے باورچی خانے میں موجود ہوں گے۔

ان دونوں افراد نے جب گرفین کو نام لے کر پکارا تو گھر میں مقیم شخص نے اپنے کمرے کی لائیٹ آن کی۔ انھوں نے دیکھا کہ دو اجنبی تیز دھار آلہ خنجر اٹھائے ان کے بستر کے قریب کھڑے ہیں۔ یہ دونوں افراد خنجر صرف اس لیے ساتھ لائے تھے تاکہ پورے ڈارمے کو گرفین کی مرضی کے مطابق حقیقت کا رنگ دیا جا سکے۔

مقامی اخبارات میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق جب ان دونوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انھوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا ’معاف کرنا دوست اور ہاتھ ملا کر گھر سے نکل گئے۔

بعدازاں انھوں نے گرفین سے رابطہ کیا اور ان کے نئے گھر پہنچ گئے۔ ان کے ہاتھوں میں خنجر دیکھ کر گرفین نے انھیں خنجر گاڑی میں واپس رکھ کر آنے کو کہا۔

اس کے بعد میزبان (گرفین) نے ان دونوں کو ناشتہ تیار کر کے کھلایا۔ تاہم اسی دوران وہاں پولیس پہنچ گئی اور ان کی گاڑی سے خنجر برآمد کر کے انھیں گرفتار کر لیا۔

جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ان دونوں افراد نے یہ کام بُری نیت سے کیا تھا یا وہ کسی کو تکلیف پہنچانا چاہتے تھے۔

جج کا کہنا تھا کہ وہ خنجر صرف اس ڈرامے کو حقیقی رنگ دینے کے لیے لے کر گئے تھے۔

ان میں سے ایک شخص کی شناخت ٹرینس لیوری کے نام سے ہوئی ہے۔ ٹرینس کے وکیل کا عدالت میں کہنا تھا کہ یہ ایک تجارتی معاہدہ تھا جس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ نیم برہنہ کر کے اور ہاتھ پاؤں باندھ کر چھڑی سے ضربیں لگانا ہوں گی۔