سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے تشدد کو ہوا رینے کی کوشش کی ہے۔

صدر ٹرمپ کی یہ ٹویٹ امریکی ریاست منی سوٹا میں ایک سیاہ فام شخص جارج فلوئیڈ کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد شہر منی ایپلس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں سے متعلق تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی مشکل گھڑی میں ہم کنٹرول سنبھال لیں گے۔ اگر لوٹ مار شروع ہوئی تو فائرنگ بھی شروع ہوجائے گی۔‘

ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ عوامی دلچسپی کی وجہ سے صدر ٹرمپ کی اس ٹویٹ کو اب بھی رسائی حاصل ہے۔

یاد رہے کہ ٹوئٹر پر صدر ٹرمپ اس دوران منی ایپلس کے میئر جیکب فرے پر تنقید کر رہے تھے کہ انھیں ’چاہیے کہ شہر کے حالات کو قابو میں رکھیں ورنہ میں نیشنل گارڈ بھیج کر خود ہی کام کروا لوں گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

سیاہ فام شخص کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد امریکہ میں پرتشدد مظاہرے

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو حاصل قانونی تحفظ میں ترمیم کے حکمنامے پر دستخط کر دیے

’ممکنہ گمراہ کُن معلومات‘: ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی ٹویٹ پر وارننگ لیبل چسپاں کر دیا

یہ صدر ٹرمپ اور ٹوئٹر کے درمیان جاری کشیدگی کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گذشتہ روز ٹوئٹر نے ان کی ایک ٹویٹ پر وارننگ لیبل چسپاں کردیا تھا جبکہ جواب میں انھوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو حاصل قانونی تحفظ میں ترمیم کا حکم نامہ منظور کیا تھا۔

دوسری طرف منی ایپلس میں حالات پر قابو پانے کے لیے نیشنل گارڈ کے فوجی دستوں کو بلا لیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا کمپنیوں کو حاصل قانونی تحفظ میں تخفیف کا حکمنامہ

جمعرات کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو امریکہ میں حاصل قانونی تحفظ کو کسی حد تک ختم کرنے لیے ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔

اس ایگزیکٹیو آرڈر کی صدر سے منظوری کے بعد امریکہ میں سوشل میڈیا کے نگراں ادارے آن لائن پلیٹ فارمز بشمول فیس بک اور ٹوئٹر کے خلاف صارفین کا مواد بلاک کرنے یا اس میں ترمیم کرنے پر قانونی کارروائی کر سکیں گے۔

اس آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر الزام عائد کیا کہ انھیں ’لامحدود اختیارت‘ حاصل ہیں۔

اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس آرڈر کو جلد ہی قانونی پلیٹ فارمز پر چیلنج کر دیا جائے گا۔ اس ایگزیکٹیو آرڈر کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس ’سلیکٹیو سینسر شپ‘ میں ملوث ہیں۔

اس معاملے کی ابتدا بدھ کے روز اس وقت ہوئی تھی جب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے پوسٹل بیلٹ سے متعلق صدر ٹرمپ کی دو ٹویٹس پر فیکٹ چیک کا لیبل چسپاں کیا تھا۔

ٹوئٹر کے اس اقدام کو صدر ٹرمپ نے آزادی اظہار رائے کا گلہ گھوٹنے کا مرتکب قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ٹوئٹر امریکہ کے سنہ 2020 میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی آج کی جانے ایک ٹویٹ میں متنبہ کیا تھا کہ 'بڑا ایکشن ہونے والا ہے۔'

ایگزیکٹیو حکم نامے میں کیا ہے؟

ایگزیکٹیو آرڈر میں ’کمیونیکیشن ڈیسینسی ایکٹ‘ کی دوبارہ وضاحت کی گئی ہے۔ اس ایکٹ کے تحت فیس بک، ٹوئٹر، یو ٹیوب سمیت دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کو مخصوص صورتحال میں حاصل قانونی تحفظ کی تشریح کی گئی ہے۔

اس قانون کی شق 230 کے مطابق سوشل نیٹ ورکس کو صارفین کی جانب سے پوسٹ کیے جانے والے مواد پر موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا تاہم آن لائن پلیٹ فارمز فحش، متشدد اور ہراسانی پر مبنی مواد کو بلاک کر سکتے ہیں۔

اب ایگزیکٹیو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ اس شق کے تحت حاصل استثنا اس وقت نافذ العمل نہیں ہو سکتا جب سوشل نیٹ ورکس صارفین کی جانب سے پوسٹ کردہ مواد میں بذات خود ترمیم کرتے ہیں۔

مسودے میں کہا گیا ہے کہ ’دھوکہ دہی‘ کے انداز میں مواد کو بلاک کرنا اور ویٹ سائٹ کے قواعد و ضوابط میں درج وجوہات کے علاوہ کسی بھی اور وجہ سے مواد کو ویب سائٹ سے ہٹانے کو قانونی استثنا حاصل نہیں ہونا چاہیے۔

مسودے کے مطابق فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن اس بات کی وضاحت کرے گا کہ کس طرح کے مواد کو دھوکہ دہی سے ہٹانا خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں (سوشل میڈیا کمپنیاں) کی شرائط و ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس آرڈر کے تحت سوشل میڈیا سائٹس کو دیے جانے والے حکومتی اشتہارات پر نظر ثانی کی جائے گی جبکہ وائٹ ہاؤس میں ایک ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو صارفین کی سوشل میڈیا سے متعلق شکایات وصول کرے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا کیا کہنا ہے؟

اس ایگزیکٹیو آرڈر میں ٹوئٹر کا نام بارہا استعمال کیا گیا ہے تاہم جب ٹوئٹر انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے موقف دینے سے انکار کر دیا۔

اسی طرح یوٹیوب کی جانب سے بھی کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔

بدھ کے روز امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے فیس بک کے چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ ایک ایسی حکومت نے لیے جو سینسرشپ کے حوالے سے فکر مند رہتی ہے اس کے لیے ایسا کرنا کوئی مناسب اقدام نہیں ہے۔

’میں صرف اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ بھی آن لائن کہتے ہیں فیس بک کو ان کی کہی ہوئی بات کی سچائی پر ثالث کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ نجی کمپنیاں، خاص کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اس پوزیشن میں بالکل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ سچائی کا فیصلہ کریں۔

کنزرویٹیو پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک تھنک ٹینک نے متنبہ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ ایگزیکٹیو آرڈر کے نتائج ہوں گے۔

کاٹو انسٹیٹیوٹ سے وابستہ میتھیو فینے کا کہنا ہے کہ ’کنزرویٹیوز کی سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف اس مہم کے اظہار آزادی رائے پر تباہ کُن اثرات ہوں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس ایگزیکٹیو آرڈر کے مسودے کا متن بہت ’ناقص‘ ہے مگر یہ آئندہ کے صدارتی الیکشن میں سیاسی مشہوری دلوا سکتا ہے۔

اس معاملے کی شروعات کب ہوئی؟

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے گذشتہ بدھ کو پہلی مرتبہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک سلسلہ وار ٹویٹ پر ’فیکٹ چیک کا لیبل چسپاں کر دیا تھا۔

’فیکٹ چیک‘ یعنی حقائق کی جانچ کا لیبل ایسی ٹوئٹر پوسٹس پر چسپاں کیا جاتا ہے جن میں مبینہ طور پر غلط یا گمراہ کُن معلومات فراہم کی گئی ہوں۔

صدر ٹرمپ کا اپنی ٹویٹس میں کہنا تھا ’میل اِن بیلٹس‘ یعنی ڈاک کے نظام کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالنا (یا پوسٹل بیلٹ) درحقیقت دھوکہ دہی سے کچھ کم نہیں ہو گا۔

اس ٹویٹ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میل باکس لوٹ لیے جائیں گے، بیلٹ (ووٹ) جعلی ہوں گے اور یہاں تک کہ غیر قانونی طور پر پرنٹ آؤٹ ہوں گے اور دھوکہ دہی سے دستخط کیے جائیں گے۔ کیلیفورنیا کے گورنر لاکھوں لوگوں کو (پوسٹل) بیلٹ بھیج رہے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’کوئی بھی شخص جو کسی بھی ریاست میں رہتا ہے اس سے قطع نظر کہ وہ کون ہے اور وہاں تک کیسے پہنچا ہے، اسے ایک (پوسٹل بیلٹ) ملے گا۔ اس کے بعد پیشہ ور افراد ان تمام لوگوں کو بتائیں گے کہ کیسے اور کس کو ووٹ دینا ہے۔ بیشتر (ووٹ ڈالنے والے) افراد ایسے ہوں گے جنھوں نے کبھی ووٹ ڈالنے کے بارے میں سوچا ہی نہیں ہو گا۔۔ یہ ایک دھاندلی زدہ الیکشن ہو گا۔ ہرگز نہیں!‘

صدر ٹرمپ کی اس سلسلہ وار ٹویٹ کے نیچے ٹوئٹر کی جانب سے انتباہ پر مبنی ایک لیبل چسپاں کر دیا گیا اور ادارے کی جانب سے ایک وضاحتی نوٹ بھی لکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران صدر ٹرمپ نے ’میل اِن بیلٹ‘ کی صداقت کے بارے میں متعدد غیر مصدقہ دعوے کیے ہیں۔

ٹوئٹر کی جانب سے امریکی صدر کی ٹویٹ کے نیچے چسپاں کیے گئے لیبل میں صارفین کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ ’میل اِن بیلٹس سے متعلق حقائق کی جانکاری یہاں سے حاصل کریں۔‘

اس لیبل میں لنک فراہم کیا گیا ہے جہاں اس معاملے سے متعلق متعدد خبریں موجود ہے جبکہ یہ نوٹ بھی لکھا گیا ہے حقائق جانچنے والوں کو اس طرح کے کوئی شواہد نہیں ملے کے پوسٹل بیلٹ انتخابات میں فراڈ کا ایک ذریعہ ہے۔

ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی ٹویٹ پر کہا ہے کہ یہ ٹویٹ ’ووٹنگ کے عمل کے بارے میں ممکنہ طور پر گمراہ کُن معلومات‘ پر مشتمل ہے۔