گھر کے مرد کب کے ہتھیار ڈال چکے تھے۔ کچھ دنوں سے بلا کی خاموشی تھی۔ گویا کچھ ہونے کو ہے۔ سبھی چپ چپ تھے پھر اچانک سے خبر آئی کہ کیمپ کے باہر مسلح پہریدار آن پہنچے ہیں۔ یکایک سارے راستے بند ہو گئے اور پھر گولیوں کی گھن گرج سے کیمپ لرز اٹھا۔ یہ ستمبر کی 16 تاریخ تھی۔

مغرب کے بعد کی شفق ابھی باقی تھی مگر آج وہ آنے والی تاریک رات کی خبر لے کر آئی تھی۔ جمیلہ کا گھر مسجد سے چند قدم پر تھا۔ پہرے کی خبر سن کر دادا نے گھر کے سب لوگوں کو مسجد بھاگ جانے کا حکم کیا۔ رات ہونے کو تھی اور کیمپ کی بجلی کٹ چکی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

یروشلم سے آگے

میرے دل میرے مسافر۔۔۔۔

یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ

جوں جوں رات بڑھ رہی تھی گولیوں کی آواز قریب تر ہو رہی تھی۔ جمیلہ کے ذمے ایک ہی کام تھا، اور وہ یہ کہ وہ مسجد میں موجود بچوں کو بہلاتی رہے۔ کبھی کہانی اور کبھی لوری، کبھی جھوٹی تسلی اور کبھی سرحد کے اس پار کی ندی کے شفاف پانی میں تیرتی گلابی مچھلی کے شکار کے قصے۔

جب بچے سو جاتے تو جمیلہ مسجد سے باہر نکلتی، گھر کی طرف جاتی اور لاشوں کے بڑھتے انبار کو ٹاپتے، کراہتے زخمیوں کو پانی پلاتے اور جھوٹا دلاسا دیتے گھر سے پانی اور کھانا لے کر مسجد کی طرف دوبارہ چل پڑتی۔ واپسی تک کچھ اور لوگ دم توڑ چکے ہوتے اور لاشوں کے ڈھیر مزید بلند ہو چکے ہوتے۔

کرب کی اس فضا میں سبھی ساتھ چھوڑ رہے تھے۔ یہاں تک کے جمیلہ کے ٓانسو بھی کہیں دور جا چکے تھے۔ جمیلہ نہ ہی رو سکتی تھی اور نہ ہی چیخ ۔ نہ جانے وہ تین دن کیسے گزر گئے۔ جب اسرائیلی اور فلانجی فوجیں واپس لوٹیں تو تقریباً چار ہزار لوگ مارے جا چکے تھے۔ جمیلہ کے تو یہ سب اپنے تھے۔ پڑوسی، سہیلیاں، رشتے دار، سبھی تو قتل ہو گئے۔

میں جمیلہ سے ملنے ہی شتیلہ جا رہا تھا۔

فلسطینی پناہ گزینوں کا یہ کیمپ 1949 سے موجود ہے۔ وہ فلسطینی جو قیام اسرائیل کے بعد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور ان میں سے جو لبنان آئے، شتیلہ ان کے لیے بنائے گئے چند ایک کیمپوں میں سے ایک تھا۔ 1975 میں جب لبنان میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو ساتھی کبھی دشمن اور دوست کبھی قاتل بن بیٹھے۔ شتیلہ کیمپ بنیادی طور پر فلیسطینی کیمپ تھا اور خانہ جنگی کے دوران یہاں پر بھی فلسطینی تحریک آزادی کے حامی موجود تھے۔

1982 میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا اور فلسطینی تحریک آزادی کے حامیوں کو بڑی حد تک ملک بدر کر دیا گیا۔ پھر 14 ستمبر 1982 کو لبنان کے صدر بشیر الجمیل کو ایک بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا۔ اس قتل کو شتیلہ کے ساتھ اور شتیلہ میں ہونے والی فوج کشی کو اسرائیل نواز انتہا پسند تنظیم فلانجی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔

شتیلہ کے نام سے میں کچھ عرصے سے آشنا تھا۔ گو کہ کیمپ پر ہونے والی ’فوج کشی‘ کے وقت میں بہت چھوٹا تھا، مگر شکاگو میں طالب علمی کے دنوں میں فلسطینی طلبا و طالبات سے کافی رسم و راہ تھی اور انھی کے ذریعے شتیلہ کے بارے میں جاننے کا موقع ملا۔ مگر علمی آشنائی اور عملی تعارف میں 20 برس گزر گئے۔

وہ جنوری 2020 کے دن تھے اور میں شامی پناہ گزینوں سے ملاقات کرنے بیروت آیا تھا۔ بیروت میں مقیم کچھ فلسطینی تھیٹر فنکاروں سے میری علیک سلیک تھی اور انھی کی وساطت سے شتیلہ جانے کا موقع مل رہا تھا۔

صبح کے تقریباً نو بجے ٹیکسی آئی۔ میری ایک طالبہ، ہیلی، بھی شتیلہ میں تحقیقی کام کی غرض سے میرے ساتھ تھی۔ کچھ ٹوٹی پھوٹی عربی میں میں نے ڈرائیور سے گزارش کی کہ ہمیں شتیلہ کے علاقے جانا ہے۔ منھ ہی منھ میں وہ کچھ بولا، اور میں نے وہی کیا جو زباں سے نابلد، مگر اپنے آپ کو تیس مار خان سمجھنے والا ہر شخص کرتا ہے، یعنی اثبات میں سر ہلا دیا۔

ڈرائیور نے پھر کچھ پوچھا اور اس بار میں نے مزید دلیری میں عربی جھاڑنے کا سوچا اور ’نعم، نعم‘ بھی کہنا شروع کر دیا۔ وہ پوچھتا رہا، ہم بھی اپنے تئیں جواب دیتے رہے۔ بقول فیض صاحب، میرے ضبط حال سے روٹھ کر ۔۔۔، پھر وہ بھی خاموش ہو گیا، اور میں نے اپنے آپ کو تھپکی دی کہ گویا یہ بازی ہم جیت گئے۔

سفر شروع ہوا اور کچھ دیر بعد ڈرائیور نے ہمیں ایک مصروف سڑک پر اتار دیا۔ یہاں گاڑیاں اپنی دنیا میں مگن، سڑک پر پیدل چلنے والوں سے بےنیاز اپنی دنیا میں چلی جا رہی تھیں۔ رزق کی تلاش میں مرد و زن اپنی اپنی دکان سجا رہے تھے۔

میں نے ایک فلاحی ادارے کے مہتمم سے بات کر رکھی تھی اور انھی کے توسط سے ہمیں شتیلہ کا دورہ کرنا تھا۔ گو مجھے اس بات کا پورا یقین تھا کہ ہمیں وہ فلاحی ادارہ ڈھونڈنے میں کافی دیر لگ جائے گی، مگر میری عربی کی ناتواں کاوش شاید کاتب تقدیر کو پسند آئی کہ ہم دو منٹ ہی میں فلاحی ادارے کے دفتر کے سامنے تھے۔ ادارہ جس کا نام بیت الاطفال تھا، بنیادی طور پر ننھے فلسطینی بچوں اور بچیوں کی تعلیم کا بندوبست کرتا تھا۔ اس ادارے کے زیر نگرانی کئی سکول تھے جن کا مقصد ننھے بچوں اور بچیوں کو معیاری تعلیم دینا تھا۔

75 سالہ قاسم آئینہ اس پورے ادارے کے مہتممِ اعلیٰ تھے۔ ہمیں بےحد شفقت اور محبت سے ملے۔ قاسم کا گاؤں لبنانی سرحد سے صرف چند میل کے فاصلے پر تھا۔ آج وہی کھیت اور ندیاں جن کے گرد قاسم کے آباؤاجداد نے پوری عمر گزاری، اسرائیل کا حصہ ہیں اور قاسم کو اس بستی میں قدم رکھنے کی اجازت بھی نہیں۔ جب بھی قاسم کا دل گھبراتا ہے، وہ لبنان کی سرحد کے پاس چلے جاتے ہیں اور سرحد کے اس پار اگنے والے زیتون کے درختوں سے گھنٹوں بات کرتے ہیں اور جیسے آنے والی ہوا سے پوچھتے ہوں کہ ’وہ شہر جو ہم سے چُھوٹا ہے ، وہ شہر ہمارا کیسا ہے‘۔

قاسم کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہے، اور وہ یہ کہ لوگ پناہ گزینوں کو ایک انسان جانییں، کوئی خلائی مخلوق نہیں، کوئی اچھوت نہیں، بلکہ ایک جیتا جاگتا انسان، جو کہ محبت، خواہش، امید، غم اور خوشی کا مرکب ہے۔

قاسم نے ہمیں جانے کتنی بار بتایا کہ نہ تو انہیں یہودیوں سے کسی قسم کی نفرت ہے، اور نہ ہی وہ انتہا پسند مسلمانوں، جو کہ یہودی تباہ کاری اور خودکش حملوں میں یقین رکھتے ہیں، کے حامی ہیں۔ قاسم کا ایمان انسانیت ہے، اور وہ اس دنیا کے لیے کوشاں ہیں جہاں مذہبی، لسانی اور فرقہ وارانہ تفریق سے یکسر قطع نظر انسان کو انسان سمجھا جائے گا!

قاسم صاحب نے بتایا کہ سکولوں کی حالت پہلے سے ابتر ہے، اس کی دو وجوہات تھیں۔ اول تو یہ کہ امریکہ اور اقوام متحدہ، جو کہ ایک عرصے سے فلسطینی پناہ گزینوں کی سرکاری تنظیم انروا(UNRWA) کی امداد کیا کرتے تھے، امریکی صدر ٹرمپ کی نئی پالیسیوں کے تحت ایسا کرنے سے اب قاصر ہیں۔

اگر کوئی امداد کر رہا ہے تو وہ ناروے اور شمالی یورپ کی دوسری ریاستیں ہیں، برادر عرب اور مسلمان ملک سعودی اور امریکی خداؤں کے ٓاگے سر جھکائے فلسطینی پناہ گزینوں کو کب کے بھول چکے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ لبنان نے فلسطینی پناہ گزینوں کے کام کرنے پر بہت سی پابندیاں عائد کر دی ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے لوگ اب سوال کرتے ہیں کہ آخر پڑھائی کا کیا فائدہ؟

قاسم سے گفتگو بہت دیر چل سکتی تھی، مگر ہمیں اس بات کا احساس تھا کہ ان کا وقت قیمتی ہے، اور ابھی ہمیں شتیلہ کا دورہ بھی کرنا تھا۔ ہم نے قاسم سے اجازت چاہی۔ انھوں نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ہمیں شتیلہ روانہ کر دیا۔ شتیلہ کچھ زیادہ دور نہ تھا، مگر یہ جگہ میری توقعات کے برعکس نکلی۔

میں کچھ عرصے سے شامی پناہ گزینوں کے ساتھ کام کر رہا تھا اور ان کی خیمہ بستیوں سے آشنا تھا مگر شتیلہ میں کوئی خیمہ نہ تھا۔ سیمنٹ سے بنے گھر ایک دوسرے کے اوپر تلے یوں براجمان تھے جیسے کسی ٹرک پر بوریاں لدی ہوئی ہوں۔ در، دیوار اور سیمنٹ کے اس جنگل تلے سورج کی ایک کرن بھی زمین کو نہ چھوتی تھی۔

چھوٹی چھوٹی سی راہداریاں بھول بھلیاں کھیلتی کبھی دائیں مڑ جاتیں اور کبھی بائیں۔ اگر کہیں سورج کی کرن آنے کی جرات بھی کرتی تو برقی تاروں کے گچھے یہ امر ناممکن بنا دیتے۔ زمین پر پانی اور سر پر ننگی تاروں سے بچتے بچاتے ہم شتیلہ کے عین وسط میں آن پہنچے۔

یہاں گھروں کے درمیان چھوٹے بڑے ٹھیلے تھے جن میں روزی کی تلاش میں اور لبنانی قوانین کی گرفت سے مجبور، پیر و جواں، صاف پانی بیچنے اور خریدنے میں مصروف تھے۔ دوسری طرف راہداریوں میں کسی حجام کی دکان تھی اور کہیں پر مسجد اور نانبائی ایک ہی دیوار میں برابر کے حصے دار تھے۔

کیمپ کے عین وسط میں ایک عمارت کی دیوار پر سینکڑوں پوسٹر چسپاں تھے۔ کسی حصے پر قرآنی آیات تھیں اور کسی پر تنظیمِ آزادی فلسطین کے ان ارکان کی تصاویر جو اب اس دنیا میں نہیں۔ عمارت گو سادہ سی تھی مگر اس کا کیمپ کے عین وسط میں ہونا، اور پھر اس کے اردگرد سیاسی بینر اور پوسٹروں کی اس قدر تعداد ایک عجیب سی بات تھی۔

اپنے ہمراہی میزبان سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ دراصل فلسطینی شہدا کی ایک یادگار ہے۔ عمارت کے اندر گئے تو سنگ مرمر کے بے شمار کتبے اور ان پر رکھے تازہ پھول اس بات کی دلیل تھی کہ ابھی اپنوں کے ٓانسو تھمے نہیں۔ سنگ مرمر کی دیوار پر ہزاروں نام تھے۔ یہ خیال آیا کہ یہ صرف نام نہیں بلکہ زندگیوں کے اندر جھانکنے کے چھوٹے چھوٹے دریچے اور روزن ہیں۔ ہر نام کے پیچھے کیا کیا کہانیاں، کیا کیا خواب پوشیدہ ہیں، کیا کیا محبتیں پنہاں ہیں؟

میں خوابوں کی اس مقتل گاہ میں خاموشی سے کھڑا ان ناموں کے دریچوں سے تاریخ کے اس پار جھانکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ گو ان میں بہت سے وہ تھے جو شتیلہ میں ہونے والے ’قتل عام‘ میں لقمۂ اجل بن گئے مگر اس کے بعد میں ہونے والی باہمی جنگوں کے بہت سے مقتول بھی یہاں دفن تھے۔ ان باہمی جنگوں میں مدمقابل فلسطینی اور اسرائیلی نہیں، بلکہ مختلف کیمپوں کے فلسطینی ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار تھے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ مدفون کسی کے لیے شہید اور کسی کے لیے دہشت گرد ہیں۔

مجھے اپنے وطن کی تاریخ یاد آ گئی۔ 1971 میں جنھیں ہم نے دشمن کہا، وہ بنگلہ دیش کے مسیحا بنے۔ جنھیں ہم اپنی طرف سے جہنم رسید کر آئے، کسی اور کی نظر میں وہ بہشتی ٹھرے۔ اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ حق کی جنگ کیا ہوتی ہے؟ میں نے فاتحہ پڑھی، اور دعا کی کہ وہ پرنم آنکھیں، کہ جن کے ہاتھوں نے یہ تازہ پھول بیسیوں برس بیت جانے کے بعد، ان مرمریں قبروں پر سجائے ہیں، خدائے بزرگ و برتر، انھیں صبر دے۔

ابھی شتیلہ میں ہمیں ایک ضروری کام اور کرنا تھا اور وہ یہ کہ ہمیں ایک سکول کا دورہ کرنا تھا۔ قاسم نے ہمارے لیے اس سکول کا دورے کا انتظام پہلے ہی کر رکھا تھا۔ تین منزلہ اس صاف ستھرے سکول کی دہلیز پار کی تو ایک عجیب کیفیت نے آن جکڑا۔ سورج کی کوئی کرن تو وہاں نہ پہنچتی تھی مگر اچانک امید کی ایک بے نام سی کرن نے دل کو ایک دلاسا دیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ شاید میرا وہم ہے، میں دہلیز پار کر گیا۔

مسکراتی ہوئی جمیلہ ہماری منتظر تھی۔

جمیلہ کی ہمت کی داد یا پھر اس پر رشک کی طاقت لفظوں میں ممکن نہیں۔ روزمرہ کے کاموں میں جمیلہ انگریزی کا استعمال کم ہی کرتی ہیں، مگر اس روز آہستہ آہستہ اور ہر لفظ سوچ کر لفظوں کا وہ گلدستہ جو جمیلہ نے ترتیب دیا وہ کسی منجھے ہوئے لکھاری کی تخلیق سے کم نہیں۔ جمیلہ خود ایک کیمپ میں پیدا ہوئی تھیں۔ان کے دادا فلسطین کے شہر حیفا کے رہنے والے تھے اور 1947 میں اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

گھر بار چھوڑتے ہوئے کچھ اور سامان تو نہیں لے کر جا سکے مگر اپنے گھر کی چابی اٹھا لی۔ حیفا کے اس چھوٹے سے آشیانے کے داخلی دروازے کی چابی جمیلہ کے نئے کیمپ کے گھر میں واضح اور نمایاں طور پر لٹکائی گئی تھی تاکہ ہر بچے، جوان اور بوڑھے کو یاد رہے کہ حقیقتاً گھر کہاں ہے، اور اگر جلدی میں واپس جانا پڑ جائے تو معلوم تو ہو کہ گھر کی چابی کہاں رکھی ہوئی ہے۔

جمیلہ کے دادا صرف اپنے ساتھ اس گھر کی چابی ہی نہیں لائے تھے، بلکہ اگلی نسل کے لیے حیفا کی ندی کے شفاف پانی کی داستانیں بھی سنبھال کر لائے تھے اور ہر روز ان داستانوں کو یوں بیان کرتے کے اس ٹھنڈے پانی کی مٹھاس جمیلہ اور ان کے بھایئوں کہ منہ کو تر کر جاتی۔ جمیلہ یہی کہانیاں سنتی بڑی ہوئیں مگر ابھی وہ سکول ہی میں تھیں کہ لبنان کو خانہ جنگی کو قہر نے آن دبوچا۔

فلسطینی اور ان کے حامی ایک طرف اور لبنانی عیسائی دوسری طرف۔ مگر وقت کے ساتھ یہ جنگ مذہبی بنیادوں کو چھوڑ کر علاقائی، فرقہ واریت اور سیاسی آمیزش کا ایسا مرکب بن گئی کہ دوست کبھی دشمن، اور دشمن کبھی مسیحا بن بیٹھا۔

جمیلہ پہلے تو تل الزعتر کے کیمپ میں کچھ عرصہ رہیں اور پھر 1982 میں شتیلہ منتقل ہو گئیں۔ اس وقت جمیلہ کی عمر تقریباً 13 برس تھی۔ ان کے دادا اب بوڑھے ہو چکے تھے اور گھر کا نظم و نسق ان کے والد کے ہاتھ میں تھا۔

جمیلہ کے والد بہت دور اندیش تھے۔ جب لبنان کے عیسائی صدر بشیر الجمیل کو قتل کر دیا گیا اور خطرہ پیدا ہوا گیا کہ اب سبھی فلسطینی انتقام کی زد میں ٓائیں گے، تو شتیلہ کے بہت سے مردوں نے سوچا کہ کیوں نہ مصالحت کی ابتدا کریں۔ جمیلہ کے والد مصالحت کے خلاف ہر گز نہ تھے، مگر جلد بازی میں کیے گئے فیصلوں سے خائف تھے۔

کافی بحث کے بعد اکثر مردوں نے جمیلہ کے والد کے مشورے کو رد کر دیا اور شتیلہ کے باہر بڑھتی ہوئی فلانجی فوج سے مذاکرات کرنے چلے گئے۔ ان نوجوانوں کی مائیں، اور ان کی نوبیاہتا بیواییں آج بھی ان فلسطینیوں کی راہ تک رہی ہیں۔

شتیلہ کے ’قتل عام‘ نے جہاں دنیا میں کچھ دل والوں کے ٖضمیر کو جھنجوڑا، وہاں جمیلہ اور ان جیسے بہت سے بچوں کو یکایک جوان کر دیا۔ اگلی نسل کی تعلیم اور تربیت اب جمیلہ اور ان جیسے نوجوانوں کی ذمہ داری تھی۔

جمیلہ کو ان کے والد اور ان کے دادا نے دو نصیحتیں کی تھیں۔ ایک تو یہ کہ فلسطینوں کی بقا بندوق میں نہیں بلکہ قلم اور کتاب میں ہے اور دوسری یہ کہ حیفا کی ندی کے شفاف پانی کی مٹھاس کا حق ہر فلسطینی بچے کا ہے، وہ داستانیں جو جمیلہ کے دادا نے جمیلہ کو سنائیں، اگلی نسل تک منتقل کرنا اب جمیلہ کی ذمہ داری تھی۔

جمیلہ نے ان دونوں نصیحتوں کو اپنی زندگی کے لیے مشعل راہ جانا۔ غربت اور شدید مشکلات کے باوجود جمیلہ نے ایم اے کیا اور پھر فلسطینی بچوں کی تعلیم کے مختلف اداروں سے منسلک ہو گئیں۔ اب وہ بیت الاطفال کے مرکزی سکول کی منتظم اعلیٰ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ شتیلہ میں پہلے ہی بہت آبادی تھی، مگر جب سے شام کے حالات خراب ہوئے ہیں، بہت سے فلسطینی جو پہلے شام منتقل ہو گئے تھے، اب حالات بگڑنے کے بعد شتیلہ آ گئے ہیں۔ ہر گھر میں جہاں پہلے ہی جگہ کی شدید تنگی تھی، اب مزید دقت ہے۔

دوسری جانب سے لبنانی حکومت مالی مشکلات کا شکار ہے اور اگر پہلے کچھ تھوڑی بہت امداد ملتی بھی تو وہ اب جاتی رہی۔ نتیجتاً، اب بجلی، پانی، صفائی اور دیگر سہولیات سبھی کچھ فلسطینی پناہ گزینوں کو خود کرنی پڑتی ہیں۔ کبھی تو یہ سہولیات میسر ہو جاتی ہیں، اور کبھی شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بہت سے فلسطینی نوجوانوں نے خود بجلی اور پانی کا کام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، مگر وہ تکنیکی مہارت نہیں رکھتے، جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ آئے دن حادثات ہوتے رہتے ہیں، جمیلہ نے بتایا کہ ہمارے ٓانے سے چند ہی دن پہلے چھ نوجوان برقی کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

کافی دیر تک ہم جمیلہ کی باتیں سنتے رہے، اور سوچتے رہے کہ خدارا یہ کون سی مٹی سے بنی ہے کہ اس قدر تکلیف، مشکل اور ظلم کے باوجود مسکرا کر ہر بات کر رہی ہے۔ جمیلہ کے لہجے میں نہ تو کرختگی تھی اور نہ ہی ناامیدی، بلکہ لہجے میں ایک الہامی سی امنگ اور امید تھی۔

مجھے اس بات کا احساس تھا کہ جمیلہ مصروف ہیں اور ہم ان کے کام میں مخل ہو رہے ہیں۔ میں نے اجازت چاہی تو جمیلہ نے ہم سے کہا کہ کیا ہم سکول کے بچوں سے ملنا چاہیں گے۔ اب اس کا انکار تو ممکن نہ تھا۔ ہم لوگ جمیلہ کے ساتھ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر کی منزل پر ٓا گئے۔ یہاں پر سورج کی کرنوں کا داخلہ ممنوع نہ تھا۔

ایک چھوٹے سے کمرے میں تقریباً درجن بھر بچے اپنی استانی کے ساتھ مصروف تھے۔ بچوں کی عمر پانچ اور چھ سال کے لگ بھگ ہو گی۔ استانی صاحبہ سے جمیلہ نے ہمارا تعارف کروایا اور پھر بچوں کو ہمارے بارے میں بتایا۔ بچے ہمیں دیکھ کر کھکھلا اٹھے۔

ایک چھوٹی سی بچی نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہماری آمد سکول کے لیے باعثِ افتخار ہے، میرا دل بھر آیا، جی چاہا کہ اس ننھی سی پری کو گلے لگا کر کہوں کہ نہیں بیٹا، باعث شرف تو تم سب ہو۔ استانی کے کہنے پر بچوں نے پہلے عربی اور پھر انگریزی میں ہمارے لیے نظمیں گایئں۔

ایک بچے نے اپنا کھانا اور کیک مجھے لا کر دیا اور اصرار کیا کہ میں کھاؤں، چاہتا بھی تو نہ نہیں کر سکتا تھا۔ معلوم ہوا کہ کلاس میں کسی بچی کی سالگرہ تھی، اور اس بچے نے تھوڑا سا کیک بچا لیا تھا، غالباً گھر لے کر جانا چاہتا تھا، مگر اپنے درمیان ایک مہمان دیکھ کر اس کے لیے یہ بات ممکن ہی نہ تھی کہ مہمان بنا کھائے چلا جائے۔ میرا انکار اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ جونھی میں نے کیک کھایا اس بچے کی باچھیں کھل گئیں۔

چونکہ سالگرہ کا دن تھا، اس لیے سبھی نے سالگرہ کا وہ گیت گایا جو ہر زبان میں بھلا لگتا ہے ۔ کچھ بچے تو ساتھ ساتھ جھومنے بھی لگے۔ یہ معصوم سی خوشی اتنی دلکش تھی، کہ میں بھی بچوں کے ساتھ گانے لگا۔

ایسے میں سب سے دلکش منظر تب دیکھنے میں آیا جب ایک چھوٹی بچی جو کہ ذہنی طور پر معذور تھی، اسے استانی صاحبہ نے گود میں اٹھا لیا اور اس طرح سے اس محفل میں شامل کیا کہ اس کی باچھیں کھل گئیں۔ ہماری آنکھوں میں آنسو تو آئے، مگر انھیں ابھی مقید رہنا تھا، کہ کہیں اس معصوم بچی کو کہیں یہ نہ لگے کہ اس کی معذوری کسی طرح سے ہمارے دل پسیج رہی ہے اور ہم اس پر ترس کھا رہے ہیں۔

میری ذہنی کشمکش سے کوسوں دور، وہ بچی اپنی دنیا میں مگن، ہیپی برتھ ڈے کا گیت گا رہی تھی اور استانی کے بازوؤں کا سہارا لئے جھومے چلی جا رہی تھی اور اس بچی کی مسکراہٹ اور اس کی کھکھلاتی ہنسی نے گویا سبھی دکھ دھو ڈالے۔

ہم اب جانے کو تھے کہ ایک چھوٹے سے بچے نے عربی میں جمیلہ سے پوچھا کہ ہم کہاں سے ہیں۔ اتنی عربی تو مجھے ٓاتی تھی، اس لیے اس بچے کا سوال سمجھ گیا۔ میں نے بتایا کہ میں کہاں سے ہوں ۔ جمیلہ نے پھر ہر بچوں سے کہا کہ وہ اپنا نام بتائیں اور یہ بتائیں کہ وہ کہاں سے ہیں۔

سب سے پہلے ایک بچی جس کا نام ریم تھا، پراعتماد انداز میں کھڑی ہوئی اور بولی میں ریم ہوں، اور میں حیفا سے ہوں۔ حیفا؟ میں کچھ سمجھ نہ سکا۔ حیفا تو سرحد کے اس پار اسرائیل میں تھا۔ اور ریم کے پردادا وہاں سے آئے تھے۔ اس کے دادا اور والد دونوں ہی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے، انھوں نے تو حیفا کبھی دیکھا تک نہ تھا۔

میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ریم کے برابر بیٹھا ننھا عمار کھڑا ہو گیا۔ عربی میں بااعتماد انداز میں کڑک کر بولا، میرا نام عمار ہے، اور میں حیفا سے ہوں۔ پھر آمنہ کی باری ٓائی، پھر سامر، فاطمہ اور محمد بولے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ہر لہجہ پرامید اور پراعتماد تھا۔

میں ابھی ان بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ آخری باری استانی کی گود میں موجود بچی کی آ گئی۔ فخر سے سر اٹھا کر بولی، میرا نام زینب ہے اور میں حیفا سے ہوں۔ اس سے پہلے کہ میں پھر اپنی سوچ کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتا، زینب نے میری طرف دیکھا اور مسکرا دی کہ جیسے کہہ رہی ہو،

’گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے، گھر تو آخر اپنا ہے‘۔