سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے حال ہی میں اپنائی گئی حقائق کی تصدیق (فیکٹ چیکنگ) کی پالیسی کو مزید موثر بنانے کے لیے چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی ٹویٹس پر انتباہ جاری کر دیا ہے۔

ٹوئٹر کی جانب سے یہ انتباہ چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ کی اس ٹویٹ پر جاری ہوا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’شاید یہ امریکی فوج ہو سکتی ہے جو (چین کے شہر) ووہان میں وبا لائی ہو۔‘

یہ ٹویٹس دو ماہ قبل کی گئی تھی تاہم ان پر انتباہ آج جاری کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی پوسٹل بیلٹ سے متعلق دو ٹویٹس پر اسی نوعیت کا انتباہ جاری کیا تھا جس کے بعد ردعمل میں امریکی صدر نے آج ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے سوشل میڈیا کمپنیوں کو امریکہ میں حاصل قانونی تحفظ میں تخفیف کے مسودے پر دستخط کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو حاصل قانونی تحفظ میں ترمیم کے حکمنامے پر دستخط کر دیے

’ممکنہ گمراہ کُن معلومات‘: ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی ٹویٹ پر وارننگ لیبل چسپاں کر دیا

ٹوئٹر کا سیاسی اشتہارات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان

جب ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی ٹویٹس کو فیکٹ چیکنگ کے انتباہ کی فہرست میں شامل کیا تھا تو انھوں نے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو ان کے مبینہ طور پر قدامت پسندوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔

امریکہ میں اس پیش رفت کے بعد چینی ترجمان کی ٹویٹس کو فیکٹ چیک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

رواں برس 12 مارچ کی ایک ٹویٹ میں امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مبہم اعلانات اور بیانات کی وجہ سے چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’شاید ہو سکتا ہے کہ امریکی فوج ووہان میں وبا پھیلانے کی ذمہ دار ہو۔‘

اس ٹویٹ کے اگلے دن ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے ایک مقالے کا لنک پوسٹ کیا جس میں ایسے شواہد کے ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا کہ وائرس امریکہ سے آیا ہے۔ اس آرٹیکل کو ٹویٹ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اسے پڑھیں، اور اس طرح ہزاروں لوگوں نے اسے پڑھا۔

انتباہ لگانے کا مقصد صارفین کو پوسٹ کیے گئے مواد کی درستگی کے بارے میں متنبہ کرنا ہے۔

اگر کوئی صارف اس انتباہی نشان کو کلک کرتا ہے تو عالمی ادارہ صحت کی اس بارے میں تحقیقات کی فہرست ظاہر ہو جاتی ہے جو یہ بتاتی ہیں کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں پھیلا ہے اور ایسے نظریات کی اہمیت کو کم قرار دیتی ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ اس وائرس کے بننے یا پھیلاؤ میں انسانوں کا کوئی عمل دخل ہے۔

روزنامہ دی نیویارک پوسٹ، جس نے یہ خبر سب سے پہلے شائع تھی، کا کہنا ہے کہ اس کے رپورٹرز نے ٹوئٹر پر دہرا معیار اپنانے کا الزامات عائد کیے تھے اور ان الزامات کے بعد ہی ٹوئٹر نے چینی ترجمان کی ٹویٹس پر یہ انتباہ جاری کیا ہے۔

ٹوئٹر کے ترجمان نے تاہم اس حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ مسٹر ژاؤ کی ٹویٹس میں’کووِڈ 19 کے بارے میں گمراہ کن مواد تھا اور اسی وجہ سے ان پر انتباہی لیبل لگایا گیا ہے تاکہ صارفین کو ’(اس خبر سے متعلق) اضافی سیاق و سباق دستیاب ہو۔‘

’بالآخر احتساب‘

اس حوالے سے جب وائٹ ہاؤس سے تنازع کی شروعات ہوئی تھیں تو ٹوئٹر کمپنی کے بانی جیک ڈورسی نے صارفین سے اپیل کی تھی کہ ’براہِ مہربانی ہمارے عملے کو اس تنازع سے آپ دور ہی رہنے دیں۔‘

ٹوئٹر کمپنی کے ڈائریکٹر انٹیگریٹی یول راتھ پر کئی قدامت پسندوں نے الزام لگایا ہے کہ صدر کی ٹویٹس پر فیکٹ چیکنگ کا انتباہ پوسٹ کرنے کے واقعے کے وہ ذمہ دار ہیں۔

ری پبلکن پارٹی کے کئی رہنماؤں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں یہ عندیہ دیا ہے کہ مسٹر راتھ صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کے بارے میں ’وائٹ ہاؤس میں نازی‘ اور اسی قسم کی کئی ایک بے عزتی کرنے والی ٹویٹس پوسٹ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

تاہم ٹوئٹر کمپنی نے کہا ہے اس کی فیکٹ چیکنگ کی فہرست میں شامل کیے جانے کے فیصلے میں کوئی ایک شخص ذمہ دار نہیں ہے۔

مسٹر ڈورسی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’ایک کمپنی کے طور پر ہر ایکشن کا کوئی نہ کوئی ایک ذمہ دار ہوتا ہے اور وہ میں ہوں۔‘ انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ بھی ’غلطیوں اور متنازع خبروں کی نشاندہی کرتے رہیں گے۔‘

’ہمارا کام متضاد بیانات کے نکتوں کو ایک دوسرے سے ملانا ہے اور متنازع اطلاعات کو اس طرح پیش کرنا ہے کہ صارفین خود ان کے بارے میں فیصلہ کریں۔ ہماری جانب سے مزید شفاف پالیسی اختیار کرنا زیادہ اہم ہے تاکہ لوگ صاف طور پر دیکھ سکیں ہم یہ اقدامات کیوں لیتے ہیں۔‘

اس بارے میں فیس بک کی پالیسی مختلف ہے۔

برطانوی سیاستدان سر نِک کلییگ فیس بک کے نائب صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فیس بک اس بات پر یقین نہیں رکھتا ہے کہ ’ہمارے جیسی ایک نجی ٹیک کمپنی سیاستدانوں کے ایک دوسرے کے بارے میں بیانات کی تصدیق کرے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کو اجازت ہونی چاہیے کہ وہ یہ سُن سکیں کہ سیاستدان کیا کہتے ہیں تاکہ وہ خود سے اپنی رائے قائم کر سکیں اور سیاستدانوں کا احتساب کر سکیں۔