وائٹ ہاوس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو سوشل میڈیا کی کمپنیوں سے متعلق ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کریں گے۔

اس آرڈر کا ذکر صدر ٹرمپ کی طرف سے سوشل میڈیا کی کمپنیوں کو بند کرنے کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا کہ آوازوں کی دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تازہ ترین تنازع منگل کے روز تب شروع ہوا جب ٹوئٹر نے پہلی مرتبہ صدر ٹرمپ کے دو ٹویٹس کے ساتھ ’فیکٹ چیک‘ کے لنک لگا دیے۔

اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جو اعلان یا دعویٰ صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کیا ہے، اس کے حقائق میں کوئی مسئلہ تھا اور اس موضوع پر بہتر معلومات عام طور پر موجود اور دستیاب ہیں جنھیں ٹوئٹر نے اپنے صارفین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ممکنہ گمراہ کُن معلومات‘: ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی ٹویٹ پر وارننگ لیبل چسپاں کر دیا

سائیکل چلاتی لڑکی پر ایوانکا ٹرمپ کی ٹویٹ انھیں مہنگی پڑ گئی

کیا امریکی صدر ٹرمپ انتخابات ملتوی کر سکتے ہیں؟

لیکن صدر ٹرمپ اس بات سے کافی ناراض ہوتے نظر آئے۔ انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’ریپبلیکنز کو لگتا ہے کہ سوشل میڈیا کی کمپنیاں قدامت پسند آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم انھیں ایسا کرتے رہنے دیں، اس سے پہلے ہی ان پر سخت قوائد نافذ کیے جائیں گے یا انھیں پوری طرح بند کر دیا جائے گا۔‘

ٹرمپ کا اعلان

وائٹ ہاؤس کی طرف سے فی الحال صدر ٹرمپ کے اس حکم کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ پارلیمان کی منظوری کے بغیر کیا امریکی صدر اس طرح کے اقدامات کر سکتے ہیں یا نہیں۔

بدھ کو صدر ٹرمپ ناسا کا سپیس لانچ دیکھنے کے لیے واشنگٹن سے فلوریڈا جانے والے تھے لیکن خراب موسم کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا اور پھر سے انھوں نے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا کی کمپنیوں پر شواہد پیش کیے بغیر تعصب کا الزام لگایا۔

ٹرمپ نے لکھا کہ ’ٹوئٹر نے دکھا دیا ہے کہ جو کچھ بھی ہم اس کے (اور دیگر سوشل میڈیا کے) بارے میں کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہے۔ بڑی کارروائی ہونے والی ہے۔‘

ایک دوسرے ٹویٹ کے آخر میں ٹرمپ نے یہ بھی لکھا کہ ’ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں 2020 کے انتخابات کے پیش نظر اپنی حیثیت کے مطابق جتنا کر سکتی ہیں اتنا سینسر کر رہی ہیں اور میں ایسا ہونے نہیں دوں گا۔ 2016 میں بھی انھوں نے کافی کوشیں کی تھیں پر منہ کی کھانی پڑی تھی۔ اس لیے اب وہ بالکل پاگل ہو گئے ہیں۔‘

کبھی ٹرمپ کا پسندیدہ سوشل میڈیا پلیٹفارم کہے جانے والے ٹوئٹر کے ساتھ ان کے اس تازہ تنازع نے پچھلے کچھ عرصے سے سوشل میڈیا کی کمپنیوں کے ساتھ جاری ان کی نوک جھوک کو پھر سے ہوا دی ہے۔

ٹرمپ کے ٹویٹ پر ٹوئٹر کی کارروائی

منگل کو صدر ٹرمپ نے دو ٹویٹس کی تھیں جن میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’میل(ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے) کیے جانے والے ووٹوں سے ووٹر فراڈ ہوتا ہے۔‘ حالانکہ اس کے حق میں انھوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

اس کے بعد ٹوئٹر نے ٹرمپ کے ٹویٹ کو غیر مصدقہ کہتے ہوئے اس کے نیچے ایک لنک لگا دیا تھا جس میں لکھا تھا۔ اس بارے میں حقائق پتا کریں۔‘

اس کے بعد صدر ٹرمپ کا غصہ ان کے آٹھ کروڑ فالوورز نے دیکھا۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں یہ تک لکھا کہ ’ٹوئٹر کھل کر آزادی اظہار کا دم گھوٹ رہا ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے منگل کو ہی فیس بک پر بھی ’میل ووٹنگ‘ کے بارے میں ایک پوسٹ لکھا تھا جس میں انہوں نے یہی دعوی کیا تھا، لیکن فیس بک نے اپنے صارفین کو ایسی کوئی وارننگ نہیں دی۔

امریکی نیوز چینل ’فاکس نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے بدھ کو فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے کہا کہ ’جو حکومت سینسرشپ کے بارے میں پریشان ہونے کا دعوی کرے اگر وہی سینسرشپ نافذ کرنے پر غور کرنے لگے تو یہ بات غلط ہے۔‘

امریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ

مارک زکربرگ کا پورا انٹرویو ابھی فاکس نیوز نے نشر نہیں کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ آج یعنی جمعہ کو نشر کیا جائے گا۔

ٹوئٹر نے حالیہ عرصے میں جعلی اکاؤنٹ چلانے والوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور اپنے پلیٹفارم کے استعمال کی شرائط کو پہلے سے سخت کر دیا ہے۔ ٹوئٹر پر اس طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں کہ اس پلیٹفارم کے ذریعے غلط معلومات پھیلانا آسان ہے کیونکہ ایسا کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا۔

ایپل، گوگل، فیس بک اور ایمازون جیسی کچھ دیگر بڑی امریکی کمپنیوں پر بھی اس طرح کے الزامات لگے ہیں کہ یہ اپنے صارفین کی پرائیویسی کا خیال نہیں رکھتیں۔ کچھ کیسس میں امریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ان کمپنیوں سے پوچھ گچھ بھی کر چکا ہے۔

ٹرمپ کے غصے سے بھرے ٹویٹس کے بعد بدھ کو سٹاک مارکیٹ میں ٹوئیٹر اور فیس بک کے شئیرز میں مندی دیکھی گئی۔ اس سارے معاملے پر ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کے حتمی ردعمل کے بارے میں بی بی سی کو فی الحال کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔