شمالی ایران میں پولیس نے ایک شخص کو اپنی 14 سالہ بیٹی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کے اس واقعے کے بعد ملک بھر سے شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے۔

مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق 14 سالہ رومینا اشرفی اپنے 35 سالہ بوائے فرینڈ کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھیں۔ ان کا خاندان ان دونوں کی شادی کے خلاف تھا۔

یہ بھی پڑھیے

وزیرستان میں لڑکیوں کا قتل: پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا

تین برس میں 2000 سے زیادہ خواتین ’غیرت‘ کے نام پر قتل

غیرت کے نام پر قتل:’پاکستانی سیاستدان مصلحتوں کا شکار‘

غیرت کے نام پر قتل اور ریپ کے بارے میں قوانین منظور

قبائلی جرگے خواتین کے حقوق کے محافظ؟

اطلاعات کے مطابق پولیس نے ان دنوں کو تلاش کر کے لڑکی کو اس کے اہلہ خانہ کے ساتھ گھر بھیج دیا تھا جبکہ اطلاعات کے مطابق لڑکی نے حکام سے کہا تھا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے۔

گذشتہ جمعرات کو جب وہ رات کو سو رہی تھی تو مبینہ طور پر اس کے والد نے اس پر حملہ کر دیا۔

خبر رساں ادارے گلِخبر ڈاٹ آئی آر کے مطابق والد نے درانتی سے بیٹی کا 'سر دھڑ سے الگ' کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق ُاس کے بعد والد ہاتھ میں درانتی لیے گھر سے باہر نکل آیا اور اپنے ہاتھوں سے بیٹی کی جان لینے کا اعتراف بھی کیا۔'

بدھ کو متعدد مقامی اخباروں میں رومینا کے قتل کی خبر پہلے صفحے پر تھی۔ ابتکار نامی اخبار کی سرخی تھی 'والدین کا غیر محفوظ گھر' خواتین کے تحفظ کے لیے ملک میں موجود قانون کی ناکامی کو اجاگر کر رہی تھی۔

اس کے علاوہ فارسی ہیش ٹیگ رومینا اشرفی پچاس ہزار سے زیادہ مرتبہ استعمال کیا جا چکا ہے۔ اس واقعے کی روشنی میں ایرانی معاشرے میں موجود پدر شاہی کی روایات کی سوشل میڈیا پر زبردست مذمت کی جا رہی ہے۔

ایران کی سوسائٹی فار پروٹیکٹنگ ویمینز رائٹس کی سیکریٹری شاہندوخت مولاوردی نے لکھا 'رومینا غیرت کے نام پر قتل کی پہلی شکار ہے اور نہ آخری۔'

انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ 'ایسے قتل معاشرے میں ہوتے رہیں گے جب تک قانون کے ساتھ ساتھ مقامی اور عالمی برادری ان کی روک تھام نہیں کرتی۔'

ایران میں اسلامی قانون کے تحت غیرت کے نام پر بچوں کا قتل یا ان پر تشدد کرنے والا شخص اگر باپ یا گھر کا کوئی فرد ہو تو اس کے خلاف کارروائی میں نرمی برتی جاتی ہے۔

اگر کسی شخص کو اپنی بیٹی کے قتل کا مجرم پایا جاتا ہے تو اسے تین سے دس برس کے درمیان سزا ہو سکتی ہے۔ جبکہ قتل کے دوسرے معاملوں میں موت کی سزا اور خون بہا رقم کی ادائیگی جیسی سزائیں ملتی ہیں۔

ایران میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل سے متعلق کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ تاہم امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق گزشتہ برس ایسے معاملے خاص طور پر دیہی اور قبائلی علاقوں سے سامنے آتے رہے۔