امریکی شہر مینیپولیس میں ایک سیاہ فام شخص کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد احجتاجی مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے ہیں۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جب کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پولیس کی گاڑیوں پینٹ سے نعرے لکھ دیئے۔

اس واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 46 برس کے جارج لوئیڈ گھٹی ہوئی آواز میں کہہ رہے ہیں کہ انھیں سانس نہیں آ رہی جب کہ ایک پولیس اہلکار ان کی گردن کو گھٹنے سے دبا رہا ہے۔

چار پولیس اہکاروں کو نوکریوں سے برطرف کی دیا گیا ہے جبکہ شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ سیاہ فام ہونے کا مطلب موت کی سزا نہیں ہونا چاہیے۔

اس واقع سے ایرک گارنر کی یاد تازہ ہو گئی ہے جو کہ اس حالت میں سنہ 2014 میں پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی ہلاکت سے پولیس کی بربریت کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا جس سے 'بلیک لائف میٹرز' (سیاہ فاموں کی زندگیاں بھی اہمیت رکھتی ہیں) نامی تحریک نے جنم لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

'سیاہ فام کے قتل پر امریکی اہلکاروں پر مقدمہ نہیں ہوگا'

'ہم سیاہ فاموں کو ٹِپ نہیں دیتے'

کیا امریکی صدر نسل پرست ہیں، امریکہ میں بحث

ہنگاموں میں کیا ہوا؟

شہریوں کی طرف سے احتجاج جس نے بعد میں پرتشدد صورت اختیار کر لی منگل کی سہ پہر کو شروع ہوا جب ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس چوک میں جمع ہو گئے جہاں یہ واقع پیر کی شام کو پیش آیا تھا۔

احتجاج کے منتظمیں نے شرکاء کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی اور کورونا وائرس کے پیش نظر سماجی فاصلوں پر بھی عملدرآمد کروانے کی کوشش کی۔ مظاہرین 'میں سانس نہیں لے سکتا' یا 'میں بھی اس کی جگہ ہو سکتا تھا' کہ نعرے لگا رہے تھے۔

مظاہرے میں شامل انیتا مرے نے امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران گھر سے نکلنے میں خوف محسوس ہو رہا تھا لیکن اس واقع کے بعد وہ کسی طرح گھر میں رہ سکتی تھیں۔

سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے اس شاہراہ پر جلوس نکالا جہاں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں اس سیاہ فام شخص کی موت واقع ہوئی تھی۔

پولیس کی گاڑیوں پر لوگوں نے پینٹ پھینکا اور پولیس سٹیشن کی عمارت پر سنگ باری کی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ، فلیش گرنیڈ اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو ایک شہری نے کہا کہ 'یہ بہت شرم کی بات ہے۔ پولیس کو یہ احساس کرنا چاہیے کہ یہ صورت حال ان کی اپنی پیدا کردہ ہے۔'

ایک اور شخص نے کہا کہ 'میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور میں نے اپنے ہاتھ ہوا میں بلند کر دیے لیکن اس کے باوجود پولیس نے مجھ پر آنسو گیس پھینکی۔'

پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے چلائی جانے والی ربڑ کی گولیوں سے ایک شخص کو معمولی زخم آئے ہیں۔

مینیپولیس پولیس کے چیف میڈاریا ایراڈونڈو نے کہا ہے کہ اب چار پولیس اہلکار ’سابق اہلکار‘ ہیں۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جارج فلویڈ کراہ رہے ہیں اور سفید فام پولیس اہلکار کو مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ’میں سانس نہیں لے پا رہا۔‘

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے کہا ہے کہ وہ پیر کی شام پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات کریں گے۔

مینیسوٹا پولیس کا کہنا ہے کہ 46 برس کے فلویڈ، جو ایک ریستوران میں سکیورٹی کے فرائص سرانجام دیتے تھے، کی پولیس کے ساتھ ’آمنا سامنے ہونے‘ کے بعد ایک ’طبی واقعے‘ میں موت ہو گئی۔

منگل کی دوپہر میئر جیکب فرے نے تصدیق کی کہ اس واقعے میں ملوث چاروں پولیس اہلکاروں کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

انھوں نے ٹویٹ میں لکھا: ’یہی صحیح ہے۔‘

اس سے قبل ایک پریس کانفرنس میں جیکب فرے نے اس واقعے کو ’مکمل طور پر اور سراسر غلط‘ قرار دیا۔

انھوں نے کہا ’میرے خیال میں جو میں نے دیکھا وہ ہر طرح سے غلط ہے۔ امریکہ میں سیاہ فام ہونے کا مطلب موت کی سزا نہیں ہونا چاہیے۔‘

جارج فلویڈ کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

مینیپولیس میں پیش آنے والے اس واقعے کی ابتدا کسی گاہک کی ایک دکان پر 20 ڈالر کے جعلی بل کے استعمال کرنے کی کوشش سے ہوئی۔

پولیس کے بیان کے مطابق اہلکاروں نے مشتبہ شخص کو اس کی کار میں دیکھا۔ انھیں بتایا گیا کہ وہ شخص، جس کی وقت تک شناخت نہیں ہوئی تھی، وہ ’نیلی رنگ کی گاڑی کے اوپر بیٹھا ہوا تھا اور نشے کی حالت میں دکھائی دے رہا تھا۔‘

پولیس کے مطابق جب اس شخص کو گاڑی سے اترنے کا حکم دیا گیا تو اس نے پولیس اہلکاروں سے جسمانی مزاحمت کی۔

بیان کے مطابق پولیس اہلکار مشتبہ شخص کو ہتھکڑیاں لگانے میں کامیاب ہو گئے اور انھیں وہ طبی تکلیف میں مبتلا دکھائی دیے۔

ایک عینی شاہد کی جانب سے بنائی گئی اس ویڈیو میں اس شخص کو افسر نے زمین پر دبوچا ہوا ہے اور ایک موقع پر وہ کہتا ہے: ’مجھے مت مارو۔‘

عینی شاہدین نے آفیسر کو کہا کہ وہ اپنا گھٹنا شخص کی گردن سے ہٹا لیں کیونکہ وہ حرکت نہیں کر رہا تھا۔ ایک نے کہا ’اس کے ناک سے خون آ رہا ہے‘ جبکہ ایک اور نے التجا کی کہ ’اس کی گردن چھوڑ دو۔‘

سٹریچر اور پھر ایمبولینس میں ڈالنے سے پہلے وہ شخص بے حس و حرکت نظر آتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کسی ہتھیار کا استعمال نہیں کیا گیا جبکہ واقعے کی فوٹیج مینیسوٹا کے ادارہ برائے گرفتاری مجرمان (بیورو آف کریمنل ایپریہینشن) کے حوالے کر دی گئی ہے، جو اس واقعے کے تفتیش کر رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق منگل کے روز ایک پولیس سٹیشن کے باہر احتجاج میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

اخبار سٹار ٹریبیون کے ایک صحافی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ انھیں پولیس کی جانب سے فائر کی گئی ایک ربڑ کی گولی لگی۔

مقامی ٹی وی کے ٹی ایس پی کے ایک رپورٹر نے ٹویٹ کیا کہ مظاہرین نے پویس سٹیشن کے شیشے توڑ ڈالے۔

اس سے قبل پولیس نے جارج فلویڈ کی موت کے بارے میں ایک بیان میں کہا: ’جیسے کہ اضافی معلومات دستیاب کر دی گئی ہیں، یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایف بی آئی اس تفتیش کا حصہ بنے گا۔‘

منگل کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس چیف میڈاریا ایراڈونڈو نے کہا کہ تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر ’کسی کو قابو میں رکھنے کے بارے میں‘ فورس کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی کے مطابق مینیسوٹا پولیس افسران کو محکمے کی طاقت کے استعمال کی پالیسی کے تحت، مشتبہ شخص کی گردن پر گھٹنا ٹیکنے کی اجازت ہے، جب تک سانس کی نالی میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

ایف بی آئی کو اس واقعے کی تحقیقات میں شامل کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے چیف ایراڈونڈو نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ مقامی کمیونٹی سے ملنے والی ’اضافی معلومات‘ کے بعد کیا ہے جو ’زیادہ سیاق و سباق پیش کرتا ہے۔‘

ایف بی آئی مینیپولیس ڈویژن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ادارے کی تفتیش اس بات پر توجہ مرکوز رکھے گی کہ آیا پولیس افسران نے جان بوجھ کر اس فرد کو اس حق یا استحقاق سے محروم کیا جو امریکہ کے آئین یا قوانین کے تحت محفوظ ہے۔

تفتیش مکمل ہونے کے بعد ایجنسی اپنے نتائج منیسوٹا ریاست کے وکیل کے سامنے پیش کرے گی۔ مینیسوٹا کا ادارہ برائے گرفتاری مجرمان بیورو (آف کریمنل ایپریہینشن) جو زیادہ تر حراست میں ہونے والی اموات کی تفتیش کرتا ہے، ریاستی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنی تحقیقات جاری رکھے گا۔

منیسوٹا کی سینٹر ایمی کولبچر کی جانب سے جاری بیان میں واقعے کی مکمل اور تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا ’اس شخص اور اس کے خاندان کو انصاف ملنا چاہیے، ہماری کمیونٹی کو انصاف ملنا چاہیے، ہمارے ملک کو انصاف ملنا چاہیے۔‘

جولائی 2014 میں ایرک گارنر کی موت کے بعد ’میں سانس نہیں لے سکتا‘ امریکہ میں پولیس کے ظلم و ستم کے خلاف قومی نعرہ بن گیا۔

گارنر ایک غیر مسلح سیاہ فام، جنھیں پولیس نے کھلے سگریٹوں کی غیر قانونی فروخت کے شبے میں حراست میں لیا تھا، نے یہ جملہ 11 بار بولا۔ یہ 43 برس کے گارنر کے آخری الفاظ تھے جن کی موت پولیس آفیسر کے گلہ دبوچنے کی وجہ سے ہوئی۔

گارنر کی اس جان لیوا گرفتاری میں ملوث نیویارک پولیس کے اہلکار کو پانچ برس بعد اگست 2019 میں پولیس فورس سے نکال دیا گیا تاہم اس معاملے میں کسی آفیسر پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔