برطانوی وزیر اعظم کو پہلے ہی صحت عامہ اور معاشی بحرانوں کا سامنا ہے اور اس دوران وہ ایک نئے بحران کی زد میں آ گئے ہیں جس کی وجہ ان کے مشیرِ اعلیٰ ڈومینیک کمنگز ہیں، جنھوں نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنی اہلیہ اور بچے کے ساتھ گاڑی میں 400 میل کا سفر کیا۔

پیر کو ایک پریس کانفرنس میں ڈومینیک کمنگز نے کہا کہ وہ انگلینڈ کے شمال مشرقی شہر ڈرہم میں واقع اس گھر میں گئے تھے جو ان کے والدین کی ملکیت ہے اور ایسا کرنا ’مناسب‘ تھا۔

انھوں نے جب یہ سفر کیا تو اس وقت ان کی اہلیہ بیمار تھیں اور ڈومینیک کمنگز کا کہنا ہے کہ انھیں اور ان کی اہلیہ کو بچے کی دیکھ بھال سے متعلق ایک ’مشکل صورتحال‘ کا سامنا تھا۔

وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے مشیر کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے جو کیا وہ قانون اور ضوابط کے مطابق تھا۔

یہ بھی پڑھیے

لندن لاک ڈاؤن میں کیسا لگتا ہے؟

کورونا وائرس: ’بھائی کی لاش کو چھ دن تک فریزر میں رکھنا پڑا‘

کورونا وائرس کے خلاف دو محازوں پر لڑنے والی برطانوی نژاد پاکستانی ڈاکٹر

اپنے بیان میں ڈومینیک کمنگز نے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ لاکھوں لوگ مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں اور ہزاروں ہلاک ہو چکے ہیں۔ مجھے یہ بیان پہلے ہی دے دینا چاہیے تھا۔‘

انھوں نے اپنے فعل کی وضاحت تو کی لیکن معافی نہیں مانگی اور کہا کہ ان کا مستعفی ہونے کا ارادہ نہیں ہے۔

حکومت کے لیے بڑھتا ہوا بحران

کورونا وائرس سے یورپ میں سب سے زیاہ ہلاکتیں برطانیہ میں ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود اب تک حکومت کو بڑے پیمانے پر لوگوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔

جیسا کہ اکثر قومی بحرانوں کے دوران ہوتا ہے برطانیہ میں بھی لوگوں نے دلجوئی، یقین دہانیوں اور سہارے کے لیے حکومت کی طرف دیکھا ہے۔ تمام عوامی جائزوں میں ذاتی طور پر بورس جانسن اور ان کی کنزرویٹو حکومت دونوں کی شرحِ مقبولیت بہتر تھیں۔

لیکن ڈومینیک کمنگز سے متعلق اس بحران سے پہلے ہی مسائل کے آثار نظر آ رہے تھے۔ صحتِ عامہ کے کارکنوں کے لیے حفاظتی سامان کی فراہمی میں برطانیہ دوسرے یورپی ممالک کے مقابلے میں مشکلات کا شکار نظر آ رہا تھا۔ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی بڑے پیمانے پر صلاحیت حاصل کرنے میں بھی مسائل نظر آئے۔

اس کے علاوہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے متعلق منصوبہ بندی کو عوام کے سامنے بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم بورس جانسن زیادہ متاثرکن نظر نہیں آئے۔

ڈومینیک کمنگز کون ہیں؟

بورس جانسن کے ساتھ ڈومینیک کمنگز برطانوی سیاست میں سب سے اہم شخصیت ہیں۔ حالانکہ وہ غیر منتخب ہیں لیکن بڑے پیمانے پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی اور گذشتہ انتخابات میں بورس جانسن کی فتح کے پیچھے ان ہی کا دماغ کارفرما تھا۔ ڈومینیک کمنگز اس وقت وزیر اعظم کے مشیرِ اعلیٰ ہیں۔

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بوس جانسن کا کام بڑی بڑی تقریریں اور اعلانات کرنا ہے جبکہ منصوبہ بندی اور عملی جامہ پہنانے کا کام کمنگز کرتے ہیں۔

حکومتی امور میں ان کے اِس انتہائی بااثر اور اہم کردار کی وجہ سے اس وقت وہ توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں حالانکہ حکومت کے زیادہ تر مشیر نظروں سے اوجھل رہ کر کام کرتے ہیں۔

ڈومینیک کمنگز نے کیا غلط کیا؟

ڈومینیک کمنگز لاک ڈاؤن کے قواعد و ضوابط بنانے والے اہم ترین لوگوں میں سے ایک ہیں۔ یہ قواعد 23 مارچ سے نافذ ہوئے اور ان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی بھی شخص گھر سے باہر نہیں نکلے گا جو خود وائرس سے متاثر ہو یا اس کے گھر میں کوئی وائرس کی وجہ سے بیمار ہو۔

تاہم ڈومینیک کمنگز نے ایسا نہیں کیا۔

اس کے بجائے انھوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ گاڑی میں 400 کلومیٹر کا سفر کیا اور اپنے والدین کے گھر چلے گئے حالانکہ ان کی اہلیہ وائرس سے متاثر ہو چکی تھیں۔ اس کے علاوہ گاڑی میں ان کا چار سال کا بچہ بھی موجود تھا۔

ڈومینیک کمنگز کا دعویٰ ہے اور وزیر اعظم بھی ان کی حمایت کرتے ہیں کہ ان کا ایسا کرنا اس لیے جائز تھا کیونکہ وہ پریشان تھے کہ اگر وہ اور ان کی اہلیہ دونوں کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے تو ان کے بچے کی دیکھ بھال کون کرے گا۔

تاہم زیادہ تر سیاستدانوں اور ملک میں اس واقعے کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ اپنے اس عمل سے انھوں نے شاید قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کی لیکن یہ واضح طور پر لاک ڈاؤن کے جذبے اور روح کے خلاف ہے۔

اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

دو وجوہات کی بنا پر یہ بلا شبہ بورس جانسن کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا بحران ہے۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ لوگ بہت غصے میں ہیں۔ دو مہینے سے گھروں میں قید رہنے کہ وجہ سے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ عام لوگوں اور حکومت کے لیے قواعد مختلف ہیں۔

ہزاروں عام لوگوں نے اکثر بہت جذباتی انداز میں لکھ کر یا کہہ کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے قواعد کی وجہ سے وہ کس طرح اپنے مرتے ہوئے رشتے داروں سے ملنے سے محروم رہے یا ان کا آخری دیدار اور تدفین میں شرکت تک نہ کر سکے۔

غصے کے علاوہ لوگ حکومت کا تمسخر بھی اڑا رہے ہیں اور تضحیک بھی کر رہے ہیں۔ یہ سب اس لیے اہم ہے کہ اگر حکومت اپنا اختیار، ساکھ اور عوام میں اعتماد کھو بیٹھے تو یہ کیسے ممکن بنایا جائے گا کہ لوگ لاک ڈاؤن کے موجودہ قواعد اور نرمی سے متعلق آئندہ کسی بھی دوسرے منصوبے پر عمل کرنا جاری رکھیں گے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ کنزرویٹیو پارٹی کے ارکانِ پارلیمان پریشان ہیں۔ گذشتہ انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد سے اکثر ارکان کو بورس جانسن سے بہت امیدیں ہیں۔ تاہم کچھ ارکان میں اب شکوک بڑھ رہے ہیں۔

ڈومینیک کمنگز سے متعلق موجودہ بحران سے پہلے ہی کچھ حکمران جماعت کے ارکانِ پارلیمان یہ سوچ رہے تھے کہ بورس جانسن حکومتی امور چلانے کے مقابلے میں انتخابات جیتنے میں زیادہ بہتر ہیں۔

ان ارکان کو اب اپنے حلقوں میں عوامی تنقید کا سامنا ہے اور انھیں بڑی تعداد میں غصے سے بھری ای میل موصول ہو رہی ہیں۔ اس لیے یہ عوامی نمائندے اب دوبارہ سوچنے لگے ہیں کہ بورس جانسن اس کام کے لیے کتنے موزوں ہیں۔

یہاں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ بورس جانسن کو پارلیمان میں زبردست اکثریت حاصل ہے اور حکمران جماعت کے زیادہ تر ارکان کی کوشش ہو گی کہ وہ اپنے وزیر اعظم اور حکومت کی حمایت کریں۔

یہ ایسی حکومت نہیں ہے کہ کسی طرح اچانک گر جائے گی لیکن وزیر اعظم کی سیاسی سمجھ بوجھ اور صلاحیتوں کے بارے میں بد اعتمادی اور شک کے بیج بوئے جا چکے ہیں۔ کورونا وائرس نے ملک کو جس بحران میں مبتلا کر دیا ہے اس کی وجہ سے ان شکوک کے بڑھنے کا خدشہ تو بظاہر موجود ہے۔