مشرقی افریقہ کے ملک روانڈا میں نسل کشی میں ملوث ملیشیا کی مالی معاونت کے الزامات کا سامنا کرنے والے فلیسین کابوگا افریقہ اور یورپ میں اپنے مضبوط روابط کی وجہ سے 26 برس تک عالمی عدالت انصاف میں اپنے خلاف مقدمات کی کارروائی اور گرفتاری سے بچے رہے۔

84 سالہ کابوگا طویل عرصے تک ’انٹرنیشنل کریمنل ٹرائبیونل‘ کے ہاتھ نہ آئے اور اب جب بالآخر وہ رواں ماہ پیرس کے مضافات سے گرفتار ہوئے ہیں تو معلوم ہوا کہ ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے والا ٹرائبیونل ہی ختم ہو چکا ہے۔

انٹرنیشنل کریمنل ٹرائبیونل نے کابوگا پر نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں فرد جرم عائد کر رکھی تھی۔

فرانس میں ان کی گرفتاری اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے پراسیکیوٹر سرگئی بریمرٹز کی کوششوں سے ممکن ہوئی جنھوں نے ان کے خلاف تحقیقات شروع کر رکھی تھیں۔ پراسیکیوٹر سرگئی بریمرٹز ایسے جنگی جرائم کے مقدمات کو دیکھتے ہیں جن کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہو پایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

روانڈا نسل کشی کی یادداشتیں منظرِعام پر

جب 100 دنوں میں آٹھ لاکھ افراد کو قتل کیا گیا

روانڈا میں نسل کشی کے الزام میں سب سے زیادہ مطلوب ملزم فرانس میں گرفتار

اقوام متحدہ کے کریمنل ٹرائبیونل کے پراسیکیوٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں ایک سال پہلے سے علم تھا کہ کابوگا تین یورپی ملکوں، برطانیہ، بیلجیئم یا فرانس میں رہائش پذیر ہیں۔‘

فرانس کے حکام نے اس اپارٹمنٹ کا پتہ چلایا جہاں پر وہ رہائش پذیر تھے اور انھیں ایک صبح پانچ بجے ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد فلیسین کابوگا نے بتایا تھا کہ وہ اپنے بچوں کی معاونت سے اتنے عرصے تک قانون کی گرفت میں آنے سے بچے رہے تھے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ فلیسین کابوگا کے پانچ بچے ہیں جن میں سےدو بیٹیاں روانڈا کے اُس صدر کی بہویں تھیں جن کے طیارے کی تباہی کی وجہ سے روانڈا میں نسل کشی شروع ہوئی تھی۔ اس نسل کشی میں کم از کم آٹھ لاکھ افراد مارے گئے تھے۔

فرانس کے سکیورٹی اداروں نے فلیسین کابوگا کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے بچوں کی جاسوسی کی اور اس طرح پیرس کے مضافات میں اس اپارٹمنٹ تک پہنچ گئے جہاں وہ تیسری منزل پر واقع فلیٹ میں ایک جعلی نام کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔

فلیسین کابوگا کے پاس ایک افریقی ملک کا پاسپورٹ تھا۔ اس افریقی ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

لاک ڈاؤن گرفتاری میں مددگار

فرانس کی سپیشل پولیس کے سربراہ کرنل ایرک ایمروکس کے مطابق کورونا وائرس کی وبا نے فلیسین کابوگا کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وائرس کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کے کئی آپریشن معطل ہو چکے ہیں، ایسے میں سکیورٹی فورسز کے پاس وقت تھا کہ وہ اس کیس پر اپنی توجہ مرکوز کر سکتے۔

روانڈا میں سنہ 1994 میں 100 روز تک جاری رہنے والے نسل کُش فسادات میں ہوتو قبیلے کے شدت پسندوں نے تتسی قبیلے کے تقریباً آٹھ لاکھ افراد کو قتل کر دیا تھا۔ فلیسین کابوگا کا تعلق ہوتو قبیلے سے ہے اور انھوں نے چائے کے کاروبار سے دولت کمائی۔

ہوتو قبیلے سے تعلق رکھنے والی ملیشیا اقلیتی قبیلے تتسی سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ اپنے سیاسی مخالفوں کو قومیت کی تفریق کیے بغیر نشانہ بنا رہے تھے۔ امریکہ نے فلیسین کابوگا کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے پچاس لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔

کیا کینیا نے کابوگا کو چھپائے رکھا؟

فلیسین کابوگا کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کینیا سمیت شمالی افریقہ کے کئی ممالک میں چھپے رہے تھے۔ کینیا پر الزام لگتا رہا ہے کہ اس کے طاقتور سیاستدان ماضی میں کابوگا کی گرفتاری کی کوششوں کو ناکام بناتے رہے ہیں۔

سنہ 2006 میں ’انٹرنیشنل کریمنل ٹرائبیونل فار روانڈا‘ نے کہا تھا کہ ایسی شہادتیں موجود ہیں کہ فلیسین کابوگا یا تو کینیا میں رہائش پذیر ہیں یا انھوں نے کینیا کا دورہ کیا ہے، جہاں سے وہ اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔

تین برس بعد ایک امریکی سفیر نے الزام عائد کیا تھا کہ کینیا کی حکومتیں کابوگا کو کریمنل ٹرائبیونل کے حوالے کرنے سے انکار کرتی رہی ہیں۔

تاہم کینیا نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ فلیسین کابوگا کے کینیا میں اثاثے موجود ہیں۔ سنہ 2005 میں فلیسین کابوگا کی بیوی جوزفین موکازتونی نے ایک جائیداد تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جس کی ملکیت میں ان کا بھی حصہ تھا لیکن ان کی کوشش ناکام رہی تھی۔

اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کی روشنی میں ’سپینش ولا‘ کے نام سے مشہور جائیداد کو حکومتی قبضے میں لے لیا گیا تھا۔

فلیسین کابوگا کون ہیں؟

کابوگا سنہ 1994 کی نسل کشی سے پہلے روانڈا کے سب سے امیر شخص تصور کیے جاتے تھے۔ انھوں نے اپنی دولت چائے کے کاروبار سے بنائی تھی۔ کابوگا کے اس کے علاوہ بھی متعدد کاروبار تھے۔

وہ حکمران جماعت ’ایم آر این ڈی‘ کے قریب سمجھے جاتے تھے اور ان کی صدر یونل ہیبی آریمانا سے رشتہ داری بھی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ وہ اس ہوتو نسل کے انتہا پسند گروہ کی مالی معاونت کرنے والوں میں شامل تھے جس نے نسل کشی کا ارتکاب کیا جبکہ وہ اس گروہ کو منظم کرنے میں مرکزی کردار رہے تھے۔

وہ اس نجی ریڈیو سٹیشن ’آر ٹی ایل ایم‘ کے مالکوں میں سے تھے جس نے ہوتو قیبلے کو تتسی قبیلے کے خلاف بھڑکایا۔ فلیسین کابوگا کی کنییا میں موجودگی کے حوالے سے میڈیا میں خبریں آتی رہتی تھیں لیکن اس کا کبھی کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

کہا جاتا ہے کہ کابوگا نے کئی بار اپنی گرفتاری کی کوششوں کو ناکام بنایا۔

کینیا کی پولیس نے 19 جولائی 1997 میں جب روانڈا میں نسل کشی کے سات ملزمان کو گرفتار کیا، فلیسین کابوگا مبینہ طور پر ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کی مدد سے پولیس کے چھاپے سے کچھ دیر پہلے ہی وہاں سے فرار ہو گئے تھے۔

ایسے صحافیوں جنھوں نے فلیسین کابوگا کا پیچھا کرنے کی کوشش کی ان کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سنہ 2003 میں ایک فری لانس رپوٹر ولیئم مونوہی اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے۔ مردہ صحافی کے بھائی جوزفٹ جیچوکی نے بھائی کی موت کے بعد بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کا بھائی ایف بی آئی کے ہمراہ کابوگا کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارنے والا تھا۔

پولیس کا مؤقف تھا کہ مونوہی نے مونو اکسائیڈ گیس کے ذریعے خودکُشی کی تھی جبکہ ان کے بھائی کا کہنا تھا کہ انھوں نے مردہ خانے میں اپنے بھائی کی لاش کو دیکھا تھا اور اس کے سر پر گولی لگنے کا زخم تھا۔ اس کے علاوہ اس کے فلیٹ میں بھی خون بہنے کے شواہد موجود تھے۔

آٹھ برس بعد ایک اور صحافی، جان ایلن نامو کا کہنا تھا کہ کینیا میں ایک سرکاری ذریعے نے اسے جان بوجھ کر فلیسین کابوگا کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی تھیں۔ اس صحافی کا کہنا ہے کہ حکام اس سے اس لیے ناراض تھے کہ انھوں نے فلیسین کابوگا کے کینیا کے بینک اکاؤنٹ کے حوالے سے خبر دی تھی۔ اس اکاؤنٹ کے ذریعے وہ اپنی کاروباری ادائیگیاں کرتے تھے۔

موت کی دھمکیاں ملنے کے بعد اس صحافی کو اپنے خاندان کے ہمراہ روپوش ہونا پڑا تھا۔

فلیسین کابوگا کی گرفتاری کے بعد اسی صحافی جان ایلن نامو نے بی بی سی ’گریٹ لیک سروس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں سے فلیسین کابوگا گرفتار ہوئے اس سے واضح ہے کہ دنیا بھر سے لوگوں کی مدد سے وہ اتنے لمبے عرصے تک قانون کی گرفت سے بچے رہے۔

فلیسین کابوگا کی تلاش

روانڈا میں نسل کشی کے بعد کابوگا سوئٹزر لینڈ فرار ہو گئے تھے لیکن انھیں وہاں رہنے کی اجازت نہیں ملی جس کے بعد وہ وہاں سے کانگو کے دارالحکومت کنساشا کے راستے واپس افریقہ میں داخل ہوئے۔

کریمنل کورٹ کے پراسیکیوٹربریمرٹز کے مطابق کابوگا کو برونڈی اور مڈغاسکر میں بھی دیکھا گیا تھا۔

فلیسین کو سنہ 2007 میں جرمنی میں دیکھا گیا تھا جہاں وہ آپریشن کرانے کی غرض سے گئے تھے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس کے پیٹرک باؤدن کا کہنا ہے کہ یہ سوچنا محال ہے کہ وہ کسی کی مدد کے بغیر فرانس میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہوں۔

ہیومین رائٹس واچ نے ایسی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے کہ فلیسین کابوگا اتنے عرصے تک کِس کِس کی مدد سے قانون کی پہنچ سے بچے رہے ہیں۔

فرانس کے جس علاقے سے کابوگا کو گرفتار کیا گیا ہے، وہاں کی ’ہوم اونرز ایسوسی ایشن‘ کے اولیور اولسن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مسٹر کابوگا بہت محتاط تھے اور اگر کوئی انھیں ہیلو کہتا تو وہ انتہائی دھیمی آواز میں جواب دیتے۔

اولیور اولسن نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے پہلے کابوگا اکثر واک کے لیے جاتے تھے۔

کابوگا اب پیرس کی سنٹرل جیل لاسانتے میں قید ہیں اور اس وقت تک وہیں رہیں گے جب تک انھیں آئی آر ایم سی ٹی کے حوالے نہیں کر دیا جاتا۔

پراسیکیوٹر بریمرٹز کا کہنا ہے کہ مسٹر کابوگا کو آئی آر ایم سی ٹی کے حوالے کرنے میں چند مہینے لگ سکتے ہیں اور ان کا ٹرائل شروع میں ایک سال سے زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔

کابوگا کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے موکل چاہیں گے کہ اُن کے مقدمے کی سماعت فرانس میں ہی ہو۔

نسل کشی میں بچ جانے والوں کی ایسوسی ایشن ’روانڈا وڈوز‘ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ قانونی ضابطوں پر عمل درآمد سے انصاف کی فراہمی میں تعطل پیدا نہیں ہو گا۔

کابوگا کی گرفتاری کے بعد رونڈا وڈوز کی لیڈر ولیری مکابائیر کا کہنا ہے کہ ’نسل کشی میں بچ جانے والا ہر شخص خوش ہے کہ کابوگا گرفتار ہوئے ہیں، ہر کوئی اس خبر کا منتظر تھا۔ یہ اچھی بات ہے کہ اب اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔‘