وہ علاقہ جو اب مشرق وسطیٰ کہلایا جاتا ہے، وہاں آج سے تقریباً 3200 سال قبل ایک خوفناک تباہی آئی۔

اس تباہی نے اس خطے کی تمام معروف ریاستوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا جن میں بابل (موجودہ دور میں جنوبی عراق)، اشور (موجودہ دور میں شمالی عراق)، مصر، ہٹوسا (موجودہ دور میں مشرقی ترکی) اور قبرص سمیت کئی علاقے شامل تھے۔

یہ ریاستیں یا تو کرہ ارض سے مٹ گئیں یا پھر ایک ایسے تاریک دور سے گزریں جو کئی صدیوں تک ان پر سیاہی کی چادر تانے رہا۔ اس تباہی کو آج ہم ’برونز ایج کولیپس‘ یعنی تانبے کے دور کے خاتمے کی اصطلاح سے یاد کرتے ہیں۔

اور اس تباہی کے پیچھے جنگ، قحط، سیلاب اور دیگر فطری وجوہات کے علاوہ سب سے اہم وجہ ایک عالمی وبا تھی۔

یہ بھی پڑھیے

قرنطینہ کا تصور کہاں سے آیا؟

بائبل میں جس طاعون کا ذکر ہے، کیا وہ آنے والا ہے؟

کورونا وائرس مذہبی رسومات کی ادائیگی میں بھی حائل

اگرچہ ڈی این اے سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وبائی امراض سے انسانوں کا سب سے پہلا سامنا تقریباً 75 ہزار سل قبل افریقہ کے جنگلات میں ہوا تھا مگر یہ پہلا موقع تھا جب ایسے کسی مرض نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی گرفت میں لے لیا ہو۔

اس وقت تک اس خطے کے افراد زیادہ تر تجارت کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک تھے اور شاید اسی وجہ سے یہ وبا بے انتہا تیزی کے ساتھ پھیلی اور مصر سے لے کر ہٹوسا، اور پھر بابل تک کئی ہزار افراد اس وبا کے ہاتھوں اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے۔

آج کی طرح 3200 قبل آنے والی اس عالمی وبا نے بھی مذہب، نسل، ذات اور قومیت کی تفریق کیے بغیر لوگوں کو اپنے عتاب کا نشانہ بنایا۔

اس دور میں قبرص اور بابل اور مصر بھیجے گئے خطوط اور دستاویزات سے اُس تباہی کا نشان ملتا ہے جس نے بادشاہ و سپاہی، خاص و عام، فرعون یا غلام، کسی کو بھی نہیں بخشا۔

بابل کی قدیم سلطنت اکاد کی زبان اکادی میں اس وبا کو 'کسارو متانو' کا نام دیا گیا یعنی 'باندھ دینے والی بیماری'۔

اسی طرح جس شخص اور وہ علاقہ جہاں یہ بیماری پھیل جائے اسے 'لپٹُم' کا نام دیا گیا یعنی وہ جسے خدا کے قہر نے چھو لیا ہو۔

اسے 'مستحظ' کے نام سے بھی پکارا گیا یعنی وہ بیماری جو ایک شخص سے دوسرے کو پکڑ لے، اور اس کے لیے 'اکلتی الم' کے نام سے بھی یاد کیا گیا یعنی خدا کی خوراک، وہ زمین جسے ناراض خداؤں نے چھوا ہو۔

تاریخ میں اس وبا کے آغاز اور تفصیلات کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔

چند تحقیق کے مطابق وبا کی ابتدا انڈیا میں ہوئی اور مشرق وسطیٰ میں تجارتی قافلوں کے ذریعے مصر پہنچی جب وہاں پر فرعون اخیناتان کا دورِ حکومت (1353-1363 قبل مسیح) تھا۔

دوسری جانب ایک اور رائے یہ ہے کہ اس وبا کا آغاز کنعان (موجود اسرائیل اور فلسطین) کے علاقے میں 1800 قبل مسیح میں ہوا اور وہاں سے یہ وبا میسوپوٹیمیا (موجود عراق) کے شہروں میں پھیل گئی۔

اس دور سے ملنے والی دستاویزات میں کئی خطوط ہیں جو اُس وقت کے بادشاہوں نے اپنے خاندان کے افراد، اپنے وزرا، ریاست کے منتظمین اور سفیروں کو لکھے۔

ان خطوط میں لکھے گئے طرز بیان سے ہمیں نہ صرف ان قدیم ریاستوں کی سیاسی تاریخ بلکہ ان کے انتظامی امور، باہمی تعلقات اور مقامی روز مرہ کی زندگی کو بھی سمجھنے میں بہت مدد ملی ہے۔

ان ہی خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ سنہ 1170 قبل مسیح میں ماری سلطنت (موجودہ شام) کے بادشاہ زمری لم کو ان کے مشیر نے ایک خط میں 'مستحظ' یعنی لمس زدہ علاقوں میں داخل ہونے سے خبردار کیا اور یہ احکامات جاری کرنے کے درخواست کی کہ 'لمس زدہ' لوگ دوسرے علاقوں میں داخل نہ ہوں۔

خط لکھنے والے نے بتایا کہ وہ خود ایک 'لمس زدہ' علاقے سے جتنی تیز رفتاری سے گزر سکتا تھا، گزر گیا۔ اس نے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے متاثرہ علاقوں کے شہری دوسری آبادیوں میں پناہ لینے کی کوشش میں اس وبا کو مزید پھیلا سکتے ہیں۔

اس نے لکھا: 'خداؤں نے ہمارے شمالی علاقوں میں اپنا قہر برسا رکھا ہے اور اس وجہ سے میں نے بغیر کسی تاخیر کے ایک متبادل راستہ اختیار کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سے صحتمند لوگ لمس زدہ علاقوں کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ اس سے وبا کا پوری ریاست میں پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس لیے میرے آقا فوراً یہ حکم جاری کریں کہ لمس زدہ شہروں میں رہنے والے افراد غیر متاثرہ علاقوں میں نہ جائیں۔ اور اگر میرے آقا کو خود شمالی علاقوں کی طرف جانا پڑے تو ہم خیموں کو ترقال شہر تک محدود رکھیں اور لمس زدہ شہروں سے گریز کریں۔'

اسی طرح ایک اور خط میں بادشہ زمری لم کا ایک اور وزیر اسے لکھتا ہے: ’شاہی محل کی باندی عطازر پر خدا کا قہر اترا ہے۔ اس لیے میں نے اُس کو محل سے باہر بھیج دیا ہے۔ اب ریاست کے راہبِ اعظم کو آکر محل کو پاک کرنا چاہیے۔‘

اسی دور میں بابل کے ایک اور راہب نے اپنی پیشن گوئیوں میں لکھا: ’عنقریب ایک ایسی وبا پھیلے گی کہ بھائی اپنے بھائی کے گھر جانے سے گریز کرے گا۔‘

اُسی سال میسوپوٹومین ریاست کی آشوری سلطنت (موجودہ عراق) کے بادشاہ شمشی آداد نے بھی اپنے ایک خط میں اپنے بیٹے کو تاکید کی کہ وہ اپنی فوج کے لمس زدہ سپاہیوں کو باقی فوج سے الگ کر دے۔

ان دستاویزات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہزاروں سال قبل بھی لوگوں کو وبائی بیماریوں کے پھیلنے کی آگاہی تھی اور اس بات کا بھی احساس تھا کہ ان سے بچنے کے لیے علیحدگی اختیار کرنا ضروری ہے۔

مصر کے نوجوان اور شاید سب سے مقبول فرعون، نوجوان توتنخمون نے اپنی ریاست پر حکومت تقریباً 1330 قبل مسیح میں کی تھی۔ ان کے دور سے ملنے والے مشہور ستون میں مصر میں آنے والی تباہ کاریوں اور خداؤں کے قہر کا ذکر ہے۔

توتنخمون کے والد اخیناتان کے دور حکمرانی کے آخری سالوں کی شاہی دستاویزات کے مطابق اسی وبا کے بارے میں ذکر ہے کہ اس وبا کا مرکز ثُمر نامی ایک شہر ہے جو کہ بابلوس (موجودہ لبنان کے قریب) کے نزدیک واقع ہے۔

ان دستاویزات میں بتایا گیا کہ 'ثُمر سے آنے والے کسی بھی شخص کو بابلوس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے اور اس وبا کی وجہ سے قافلوں میں خچروں کا بھی استعمال ممنوع کر دیا گیا ہے۔'

اگلے 300 سال تک یہ وبا وقفے وقفے سے ابھرتی رہی مگر 1400 قبل مسیح میں اس نے طوفان کی طرح پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کی ایک بڑی وجہ ان مختلف ریاستوں کی آپس میں جنگیں تھیں۔

اس وقت مشرق وسطیٰ میں دو بڑی طاقتیں تھیں۔ ایک مصر، اور دوسری ہیٹی سطنت۔

مصر کی سرحدیں موجودہ دور کے جنوبی فلسطین سے ملتی تھیں اور ہیٹی سلطنت کی سرحدیں موجود ترکی سے شمالی فلسطین تک تھیں۔

ان دونوں طاقتوں میں کئی مواقع پر جھڑپیں ہوئیں۔ 1325 قبل مسیح میں ہیٹی فوجیوں نے مصر کے ماتحت فلسطینی شہر عمقا پر حملہ کیا۔ عمقا شہر کے ساتھ جبیل کا شہر تھا جہاں اس وقت وبا آ گئی تھی۔

عمقا میں پکڑے گئے چند مصری فوجیوں میں وبائی مرض تھا جو وہ اپنے ساتھ لے کر ہیٹی سلطنت کے دارالحکومت ہٹوسا پہنچے جس نے نہ صرف وہاں تباہی پھیلائی بلکہ ہٹوسا کے مشرق میں واقع اگریت سلطنت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ہٹوسا میں اس وبا نے کم از کم اگلے 20 سال تک نہ صرف پوری ہیٹی ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا بلکہ مصر اور اگریت ریاست کے شہروں میں بھی موت کا رقص جاری رکھا۔

اس وبا سے ہونے والی اموات کی تعداد کا اضافہ لگانا تو مشکل ہے تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہاں کی نصف سے زیادہ آبادی اس وبا کا شکار ہوئی تھی۔

ہیٹی ریاست کے دو بادشاہوں، سپیلو لیوما (1358-1323 قبل مسیح) اور ارنوواندا (1323-1322 قبل مسیح) دونوں کی موت اسی وبا کے ہاتھوں ہوئی۔

ہیٹی راہبوں کی ایک تحریر میں وہ اپنے خداؤں سے ان الفاظ میں ماتم کرتے ہیں: 'اے میرے خدا، یہ کیسا قہر ہے، یہ ہمارے ساتھ تو نے کیا کر دیا؟ ایک وبا کو ہمارے شہروں میں پھیلا دیا، ہٹوسا کی زمین، تمام زمین میں اب صرف موت کا راج ہے۔'

اگریت اور ہیٹی ریاستوں کا خاتمہ ہو گیا اور اگلی کچھ صدیوں کے لیے مشرق وسطیٰ میں ایک اندھیرے وقت کا راج رہا۔

اسی طرح وبائی امراض کا جنگوں میں بھی استعمال دیکھنے میں آیا۔

ہیٹی ریاست کے مغرب میں واقعے ارزوا نامی ریاست تھی جس کا دارالحکومت اپسا تھا۔ یہ شہر یونانی دور میں ایفیسوس کے نام سے مشہور ہوا۔

ان دونوں ریاستوں میں عرصے سے اختلافات تھے اور ہیٹی ریاست میں وبا کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے ہیٹی فوجیوں نے اس مرض کو ارزوا کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا۔

ارزوا نے ہیٹی ریاست پر حملہ کیا تو ہیٹی حکمرانوں نے وبا سے متاثرہ خچر اور بھیڑوں کو ارزوا کی سرحدوں پر بھیجنا شروع کر دیا حالانکہ اس وقت وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے تمام ریاستوں نے اپنی سرحدوں سے باہر بھیڑوں اور خچروں کے تجارتی کاروانوں میں استعمال کرنے پر پابندی نافذ کی ہوئی تھی۔

ہیٹی ریاست سے ملنے والی اس دور کی دستاویزات میں درج ہے کہ بھیڑوں اور خچروں کے ساتھ وبا سے متاثرہ ایک لڑکی کو بھی بھیجا گیا اور اس کے ہاتھ میں ایک تعویز تھا جس پر درج تھا: 'اس تحریر کے ساتھ یہ منحوس بیماری بھی اسے پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لے۔'

اس قدیم دور کے جوہری میزائل کے جواب میں ارزوان کے لوگوں نے بھی وبا سے متاثرہ بھیڑ اور خچر ہیٹی شہروں میں بھیجے اور ان کے ساتھ یہ دعا بھیجی کہ خدا اس قہر کو ہیٹی شہروں تک محدود رکھے۔

قوموں کے نام بدل گئے ہیں، زبانیں بدل گئی ہیں، مذہب اور خدا تبدیل ہو گئے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ آج کے دور میں بسنے والے انسان بھی ماضی کی قوموں سے مختلف نہیں ہیں۔

ان قدیم دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ آج سے تین ہزار سال قبل کے لوگ بھی وبا کے متعدی ہونے سے آگاہ تھے اور انھیں اس ضرورت کا بھی احساس تھا کہ متاثرہ افراد کو صحتمند افراد سے علیحدہ رکھنا چاہیے۔

قدیم تاریخ کے معروف سکالر رابرٹ بگز نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بلاشبہ قدیم قوموں میں طبی علم میں جادو کا اہم کردار تھا لیکن اس کے باوجود 'ماری ریاست میں ملنے والی تحریروں کے مطابق کسی بھی مرض کے علاج کے لیے جادو کا استعمال نہیں کیا گیا۔'

'ایڈون سمتھ پاپیرس' کے نام سے مشہور مصر میں لکھی گئی 3700 سال پرانی مشہور زمانہ طبی تحریر جسے دنیا کی قدیم ترین طبی تحریر بھی کہا جاتا ہے، اس میں بھی صرف 13 منتروں کے علاوہ باقی تمام نسخوں میں مرض کی تشخیص اور علاج کے لیے منطق اور تجرباتی عقل کا استعمال کیا گیا ہے۔

صرف یہی نہیں، بلکہ اس تحریر میں متعدی امراض سے بچنے کے لیے تانبے کے برتن استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے ملتی جلتی تجویز دور جدید میں کووڈ 19 کے حوالے سے بھی دی گئی ہے اور تحقیق کے مطابق یہ وائرس شیشے اور فولاد کی سطح پر زیادہ دیر تک اپنا اثر برقرار رکھ سکتا ہے لیکن تانبے پر چند گھنٹوں میں بے اثر ہو جاتا ہے۔

اس تاریخ اور ان دستاویزات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یونان کے مشہور زمانہ طبیب بقراط اور گیلن پہلے طبی ماہر نہیں تھے جنھوں نے طب کے مطالعے کو مذہب اور توہم پرستی سے الگ کیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے تحریروں میں قدیمی مصر اور میسوپوٹومیا کے طبی علم کا تسلسل نظر آتا ہے۔

سید عرفان مزمل مشرق وسطیٰ اور زمانہ قدیم کی تاریخ کے محقق ہیں اور ان پر لکھتے ہیں۔