مغربی انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ کئی سالوں تک سعودی عرب میں برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 اور دیگر مغربی جاسوس ایجنسیوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کرنے والے ایک اعلیٰ سعودی اہلکار اور ان کے اہلِ خانہ کو سعودی حکام نشانہ بنا رہے ہیں۔

مغربی ممالک میں القاعدہ کا ایک بڑا بم حملہ ناکام بنانے میں مدد کرنے والے ڈاکٹر سعد جبری تین سال قبل کینیڈا فرار ہوگئے تھے۔ یہ ملک کے ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے سعودی عرب میں طاقتور شخصیات کے خلاف آپریشن سے قبل تھا۔ اب ڈاکٹر جبری کے سب سے بڑے بیٹے کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر جبری کے بچوں کو سعودی حکام نے یرغمال بنا لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہزادہ فیصل بن عبداللہ بھی سعودی حکام کے زیر حراست ہیں: ہیومن رائٹس واچ

سعودی عرب نے کوڑوں کی سزا ختم کر دی

کیا سعودی عرب کے حالات واقعی اتنے خراب ہیں؟

جمال خاشقجی کی منگیتر نے ان کے خاندان کی معافی کو رد کر دیا

خالد جبری کا کہنا ہے کہ ’21 سالہ عمر اور 20 سالہ سارہ کو 16 مارچ کو اغوا کیا گیا تھا۔ انھیں علی الصبح 20 گاڑیوں میں 50 سیکیورٹی اہلکار ان کے بستروں سے نکال کر لے گئے تھے۔‘

اس کے بعد ریاض میں ان کے گھر کی مکمل تلاشی لی گئی، کیمروں کے میموری کارڈ نکالے گئے، اور دونوں بہن بھائی کو ایک حراستی مرکز میں رکھا گیا۔

خالد جبری کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی اور بہن کے خلاف کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی اور ان کے گھر والوں کو گرفتاری کی کوئی وجہ نہیں دی گئی۔ خالد نے بی بی سی سے کینیڈا سے بات کی جہاں وہ اور ان کے والد خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں یہ بھی نہیں پتا کہ وہ زندہ ہیں یا مر گئے ہیں۔‘

خالد جبری کا ماننا ہے کہ ان کے بھائی اور بہن کو اس لیے پکڑا گیا ہے تاکہ ان کے والد کو اس بات پر مجبور کیا جا سکے کہ وہ واپس سعودی عرب آئیں جہاں انھیں فوراً گرفتار کر کے جیل بھیج دیا جائے گا۔

خالد کا دعویٰ ہے کہ ’وہ ان کے بارے میں جو مرضی جھوٹ بنا سکتے ہیں مگر وہ بے قصور ہیں۔‘

ڈاکٹر جبری کے خاندان کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کے سلسلے میں سعودی حکام نے بی بی سی کو کوئی جواب نہیں دیا۔

سعدالجبری کون ہیں؟

کئی سالوں تک سعد جبری کو شہزادہ محمد بن نائف کا قریبی ترین ساتھی مانا جاتا تھا۔ محمد بن نائف سعودی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ اور القاعدہ کو ملک میں شکست دینے کے ذمے دار مانے جاتے ہیں۔ سعد الجبری سعودی عرب کے ’فائیو آئیز‘ (امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، اور نیوزی لینڈ) کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات کا مرکز بھی تھے۔

ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک سابق مغربی انٹیلیجنس افسر کا کہنا ہے کہ ان کا یہ کردار 2010 میں سینکڑوں جانیں بچانے میں انتہائی اہم تھا۔

یمن میں القاعدہ نے ایک انتہائی طاقتور بم پرنٹر انک کارٹیریج کے اندر چھپا کر امریکی شہر شکاگو جانے والے ایک کارگو طیارے میں پہنچا دیا تھا۔ مگر سعودی انٹیلیجنس کا ایک جاسوس القاعدہ کے اندر موجود تھا جس نے مخبری کر دی اور سعودی حکام نے یہ معلومات ایم آئی 6 کو دیں یہاں تک کہ یہ بھی بتا دیا کہ کس ڈبے میں بم ہے۔

برطانوی انسدادِ دہشتگردی پولیس نے پھر ایک برطانوی ہوائی اڈے پر اس بم کو ناکارہ بنا دیا۔ اگر وہ بم شکاگو جا کر پھٹتا تو سینکڑوں لوگ مر جاتے۔

ایک اور مغربی انٹیلجنس افسر کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر الجبری نے سعودی انسدادِ دہشتگردی کاوشوں کو بدل کر رکھ دیا تھا۔

’انھوں نے اسے تشدد کے ذریعے اقبالِ جرم پر مبنی پیشے سے بدل کر جدید فورینزکس اور کمپیوٹر کی مدد سے ڈیٹا مائننگ پر منحصر بنا دیا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے ساتھ کام کرنے والوں میں وہاں بہت سے لوگ ٹھیک نہیں تھے مگر ڈاکٹر الجبری وہاں پر سمجھدار ترین لوگوں میں سے ایک تھے۔‘

خاموش گو ڈاکٹر الجبری کے پاس ایڈنبرا یونیورسٹی سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں پی ایچ ڈی تھی اور وہ ایک کابینہ کے وزیر کے عہدے تک پہنچے۔ وزارتِ داخلہ میں وہ میجر جنرل کا درجہ رکھتے تھے۔

مگر 2015 میں سب کچھ بدل گیا۔ شاہ عبد اللہ وفات پا گئے اور ان کے بھائی شاہ سلمان نے تخت سنبھال لیا۔ شاہ سلمان نے اپنے نوجوان ناتجربہ کار بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو وزیرِ دفاع بنا دیا۔

اس کے بعد محمد بن سلمان نے سعودی فورسز کو یمن میں جانے کے لیے کہا اور اس اقدام کی ڈاکٹر الجبری نے مخالفت کی۔ آج پانچ سال بعد بھی سعودی عرب یمن سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

2017 میں اپنے والد کی حمایت کے ساتھ محمد بن سلمان نے ملک میں طاقتور شخصیات کو پکڑ لیا اور ولی عہد محمد بن نائف کی جگہ لے لی۔

آج محمد بن نائف گرفتار ہیں، ان کے اثاثے منجمد ہیں اور ان کے لیے کام کرنے والوں کو اپنے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اسی دوران ڈاکٹر الجبری کینیڈا بھاگ گئے۔ مگر مغربی انٹیلیجنس کے سابقہ حکام سمجھتے ہیں کہ محمد بن سلمان ابھی بھی اُن کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

ان اہلکاروں میں سے ایک کا کہنا ہے: 'وہ ایک آزاد، بنیاد پرست اور اپنے خلاف عوامی قوت جمع کرنے کی طاقت رکھنے والے شخص کو برداشت نہیں کر سکتے۔'

ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ سعودی حکام سے 'کسی غیر جانبدار مقام' پر ملنے کی ان کی کوششیں ناکام رہی ہیں اور اب انھوں نے عوام کے سامنے آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کے بیٹے خالد کا کہنا ہے کہ 'اشارے موجود ہیں کہ ڈاکٹر سعد کو طرح طرح کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور (کینیڈین) حکام اسے سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔'

وہ کہتے ہیں ’ہمیں اس میں دھکیلا گیا۔ ہم محبِ وطن ہیں۔ ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔ ہم سعودی عرب کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتے مگر عمر اور سارہ کو اس طرح اغوا کرنا کھلی غنڈہ گردی ہے۔‘