اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو اپنے دفتر میں اقتدار کا نیا دور شروع کرنے کے کچھ دن بعد ہی اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کا سامنا ہے۔ اتوار کو یروشلم کی عدالت نے ان کے خلاف مقدمات کی سماعت کا آغاز کر دیا ہے۔

70 سالہ نیتن یاہو اسرائیل کی ملکی تاریخ میں پہلے سربراہ ہیں جو مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ تاہم وہ خود پر رشوت، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اسرائیل کے شہر یروشلم میں عدالت پہنچنے پر وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ان مقدمات کا مقصد کسی بھی طرح ان کی حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔ایک ہفتہ پہلے ہی انھوں نے ملک کے سربراہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’الزامات بےبنیاد ہیں یقین ہے سچائی سامنے آئے گی‘

’جوہری معاہدے کے بعد سے ایرانی شیر آزاد ہو گیا ہے‘

نیتن یاہو کا فلسطینی کے قاتل فوجی کے لیے معافی کا مطالبہ

یہ ایک غیر معمولی اتحادی حکومت ہے۔ اپریل میں ہونے والے اقتدار میں شراکت کے معاہدے کے بعد دائیں بازوں کی جماعت کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو مزید 18 ماہ کے لیے ملک کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے جبکہ ان کے سیاسی حریف بینی گانز 18 ماہ تک ڈپٹی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔

دونوں سیاست دانوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ متنازع منصوبے کے تحت یکم جولائی تک مقبوضہ مغربی کنارے کے حصے کو اسرائیل میں شامل کرلیں گے۔ فلسطینی سیاستدانوں نے اس قدم کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

وزیراعظم نے مخالفین کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ مقدمات کی وجہ سے اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو لیکوڈ پارٹی کے سربراہ ہیں جنھوں نے سب سے زیادہ طویل عرصے تک ملک پر حکمرانی کی ہے۔ وہ سنہ 2009 سے اب تک اقتدار میں ہیں، انھوں نے اس سے پہلے سنہ 1996 سے 1999 تک بھی اس عہدے پر کام کیا تھا۔

نیتن یاہو پر الزامات کیا ہیں؟

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر تین مقدمات، کیس 1000، کیس 2000 اور کیس 4000 میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

کیس 1000: اس مقدمے میں نیتن یاہو پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے کئی بیش قیمت تحائف بشمول شیمپین (شراب) اور سگار وصول کیے اور اس کے بدلے میں دولت مند دوستوں پر مہربانیاں کیں۔

کیس 2000: اس مقدمے میں بھی نیتن یاہو پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے مثبت کوریج کے بدلے میں ’یوڈیویٹ احروناٹ ’ نامی ایک اخبار کی سرکولیشن کو بڑھانے میں مدد کی پیشکش کی۔

کیس 4000: یہ نیتن یاہو کے خلاف سب سے سنگین کیس تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں نیتن یاہو پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے ساتھ ساتھ رشوت کا الزام بھی ہے۔ ان پر عائد الزام کے تحت نیتن یاہو نے ایسے ریگولیٹری فیصلوں کو فروغ دیا جن سے ایک صفِ اوّل کی ٹیلی کام کمپنی بیزِک کو رعایتیں حاصل ہوئیں جبکہ اس کے بدلے میں انھیں کمپنی کی ایک ویب سائٹ سے مثبت نیوز کوریج حاصل ہوئی، اور یہ سب کمپنی کا کنٹرول رکھنے والے شیئرہولڈر مسٹر شاؤل ایلووچ کے ساتھ معاہدے کے تحت ہوا۔

وزیرِ اعظم نے زور دیا ہے کہ ماہرین نے ان ریگولیٹری فیصلوں کی حمایت کی تھی اور یہ کہ انھیں اس کے بدلے میں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ جن شیئرہولڈر پر رشوت دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے انھوں نے بھی کوئی غلط کام کرنے کا انکار کیا ہے۔

وزیراعظم کیسے مقدمے کے دوران اپنی خدمات سرانجام دے سکتے ہیں؟

اسرائیلی قانون کے مطابق اگر کسی سربراہ پر جرم کے الزامات ہو تو اس کے لیے مستعفی ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس سے پہلے سابق اسرائیلی وزیراعظم یہود المرٹ نے اپنی پارٹی کا عہدہ سنہ 2008 میں اس وقت چھوڑ دیا تھا جب ان کے خلاف عائد بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات ہو رہی تھیں۔ لیکن تکنیکی طور پر وہ پھر بھی اگلے سال انتخابات تک ملک کے وزیراعظم ہی تھے۔ اور پھر ان انتخابات میں موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو اقتدار میں آئے تھے۔

اب اقتدار کی اس نئی ڈیل کے تحت ان کے سیاسی حریف بینی گانز ’متبادل وزیراعظم‘ ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب 198 ماہ کے بعد دونوں افراد اپنی پوزیشنز بدلیں گے تو تب نیتن یاہو وزیراعظم کے دفتر میں موجود ہوں گے اور وہ مسٹر گانز کے نائب ہوں گے۔

اسرائیل کے لیے اس مقدمے کے کیا معنی ہیں؟

مختصراً یہ کہ ملک کے وزیراعظم سب سے طاقتور عہدے کی ذمہ داری سھنبالے ہوئے ہیں اور بیک وقت وہ اپنے نام کو صاف کرنے اور نیک سے بچنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

اگرچہ اس قسم کی کسی بھی صورتحال سے حکومتی پالیسی پر کچھ اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے تاہم اپوزیشن رہنما یائیر لیپڈ نے اس کو شرمندگی اور قومی جذبے کے لیے خوفناک قرار دیا ہے۔

ادھر مسٹر نیتن یاہو اب بھی آنے والے مہینوں میں یہودی بستیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے وادی اردن کے منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ جو کہ یقینی طور پر فلسطینیوں کو مشتعل کرنے کا اقدام ہو گا۔

اس بارے میں اسرائیل میں رائے منقسم دکھائی دیتی ہے کہ آیا نیتن یاہو کو وزیراعظم کے عہدے پر رہنا چاہیے یا نہیں۔ لیکن ان کے حامی کہتے ہیں کہ وہ جمہوری طور پر منتخب ہوئے ہیں اور ان پر عہدہ چھوڑنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔

یہاں تک کہ اگر ان پر جرم ثابت ہو گیا تب بھی آخری اپیل تک وہ اپنا عہدہ قائم رکھ سکتے ہیں یعنی انھیں جرم ثابت ہوتے ساتھ ہی فوری طور پر مستعفی نہیں ہونا پڑے گا۔

سنہ 2009 میں سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود المرٹ کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ طویل قانونی عمل کی وجہ سے ان کی سزا کا آغاز سنہ 2016 میں ہوا تھا۔