دنیا کے طاقتور ترین ملک امریکا میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث معاشی و اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہونے کی وجہ سے بھوک و افلاس کا مسئلہ سنگین صورت حال اختیار کرتا جا رہا ہے۔

کورونا کی وبا سے گذشتہ چند ماہ میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دکانوں کے گرے ہوئے شٹر اور معاشی سرگرمیوں کے ٹھپ ہونے سے بہت سے لوگوں کو تاریک دن نظر آ رہے ہیں۔

امریکی شہری تہمینہ حق بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھیں اس المناک صورت حال کا سامنا ہے۔ وہ نیویارک کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے دو بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کے 70 سالہ والد جو 'لیموزین' چلاتے تھے کورونا وائرس میں مبتلا ہو کر مئی کی تین تاریخ کو چل بسے۔

تہمینہ نے بتایا کہ ان کے والد دل کے مریض تھے، ان کو ذیابیطس اور بلند فشار خون کی بھی شکایت تھی جس کی وجہ سے ان کے جسم کا مدافعاتی نظام بہت کمزور ہو چکا تھا۔ ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ وائرس نے ان کے پھیپھڑوں کو متاثر کیا تھا۔

شمالی امریکا میں خیراتی کام کرنے والے ادارے 'اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا' نے تہمینہ کے والد کی تجہیز و تدفین میں ان کی مدد کی۔ ان کا گزارہ اب خیرات میں ملنے والی خوارک پر ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا کے باعث قحط کے خطرے سے دوچار پانچ ممالک

وہ پانچ وبائیں جنھوں نے دنیا بدل کر رکھ دی

خوراک کی کثرت مگر یمن قحط کے دہانے پر کیوں؟

آن لائن ایپ ’زوم‘ پر بات کرتے ہوئے وہ مجھ سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر پا رہی تھیں۔ انھوں نے کہا ’تین چار ماہ پہلے تک میں لوگوں کے گھروں میں صفائی اور کھانا پکانے کا کام کر کے اپنی روزی کما لیتی تھی لیکن ہڈیوں میں انفیکشن (سوزش) ہونے سے میرے لیے کام کرنا ممکن نہیں رہا۔

'خدا کا کرم ہے کہ کچھ لوگ ہماری مدد کر رہے ہیں۔۔ ڈاکٹروں نے مجھے گھر سے باہر نکلنے سے منع کر دیا ہے کیونکہ مجھ کورونا وائرس لگنے کا زیادہ خطرہ ہے۔ خوارک کا انتظام کرنا ایک مسئلہ ہے۔‘

واضح طور پر ایسا لگ رہا تھا کہ تہمینہ اپنی مشکل بیان کرنے سے کترا رہی ہیں۔ یہ آسان نہیں ہوتا۔ ان کو یقین ہے کہ خدا ان کی مشکل آسان کرے گا۔ مسلم ہاوسنگ سروس نامی خیراتی ادارے کے اہلکار رضوان رضوی نے امریکی شہر سیئٹل سے بتایا کہ ’جنوبی ایشیائی لوگ خوارک کی کمی کے بارے میں بات کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔‘

'انھیں ہمیشہ یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ انھیں برداری یا کمیونٹی میں کن نظروں سے دیکھا جائے گا اور وہ نہیں چاہتے کہ کسی کو کچھ معلوم ہو۔'

تہمینہ گذشتہ پانچ ماہ سے اپنے فلیٹ کا 1375 ڈالرز کا کرایہ ادا نہیں کر پائی ہیں۔ ان کے مالک مکان نے ان پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ تہمینہ کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کہ وہ اگست کی 20 تاریخ کے بعد اپنے بچوں کو لے کر کہاں جائیں گی۔

نیویارک میں ایک سرکاری حکم کے مطابق اگست کی 20 تاریخ تک کرایہ نہ ادا کرنے کی وجہ سے کسی کرایہ دار کو بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔

گزشتہ آٹھ سے نو ہفتوں کے دوران امریکا میں تین کروڑ 60 لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ خدشہ ہے کہ بے روزگار لوگوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہے۔

سنہ 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق تین کروڑ 72 لاکھ افراد جن میں ایک کروڑ 12 لاکھ بچے شامل ہیں وہ ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جنھیں خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔ بھوک یا خوارک کی دستیابی میں غیر یقینی صورت حال کا امریکا میں یہ مطلب ہے کہ صحت مند زندگی گزارنے کے لیے مناسب خوراک میسر نہیں ہے۔

کووِڈ-19 کے خلاف نئے علاج کی آزمائش شروعات کے قریب

کورونا وائرس سے جڑی اصطلاحات کے معنی کیا ہیں؟

بچوں کو کورونا سے کتنا خطرہ ہے اور کیا وہ وائرس پھیلا سکتے ہیں؟

بھوک مٹانے کے ادارے |فیڈنگ امریکہ‘ کے اندازے کے مطابق تین کروڑ 72 لاکھ افراد کی تعداد 54 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس تعداد میں 18 کروڑ بچے شامل ہوں گے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ میں اس سال ہر چار میں سے ایک بچہ بھوک کا شکار ہو گا۔

امریکی ریاست ٹیکساس میں دس ہزار افراد خوارک تقسیم کرنے والے 'فوڈ بینکس' کے باہر قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ فلوریڈا میں ان فوڈ بینکوں سے خوراک کے حصول کے لگنے والی گاڑیوں کی قطاریں کئی میل طویل ہو جاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے 'فوڈ سٹامپ' پروگرام کے تحت تقسیم کی جانے والی خوراک انتہائی ناکافی ہے۔ فوڈ سٹامپ کا مقصد لوگوں کو غذائی امداد مہیا کرنا ہے جو وہ عام دکانوں سے حاصل کر سکتے ہیں۔

اس کے برعکس امریکی شہر وسکاسن کے علاقے سے ایسے مناظر بھی سامنے آئے ہیں جہاں گوالے ہزاروں گیلن دودھ ضائع کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ دودھ محفوظ کرنے والے پلانٹس کے بند ہونے سے انھیں دودھ کا خریدار نہیں مل رہا۔ فلوریڈا میں لوبیا اور پھلیوں کی کھڑی فصلوں پر ٹریکٹر چلا دیے گئے اور کیلی فورنیا میں فصلوں کی کاشت ہی نہیں گئی اور انھیں کھیتوں میں سڑنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔

اس طرح کی خبریں بھی آئی ہیں کہ دس ہزار حنزیر ایک دن میں مار دیئے گئے اور کروڑوں مرغیاں منی سوٹا میں تلف کر دی گئی کیونکہ ان کو کاٹ کر پیک کرنے والے پلانٹس بند پڑے تھے۔

بین الاقوامی امور کے ایک تھنک ٹینک سینٹر آف سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سڈیز (سی ایس آئی ایس) میں گلوبل فوڈ سکیورٹی کے پروگرام کی ڈائریکٹر کیلین والچ کا کہنا ہے کہ امریکی اس بات پر حیران اور شرمندہ ہیں کہ وہ ایک طرف تو خوراک ضائع یا تلف کر رہے ہیں اور دوسری طرف انھیں خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔

کیٹلن والچ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس وافر خوراک اور سبزیاں ہیں۔ ہمارے پاس گوشت پسند کرنے والے ملکوں کے لیے جانور موجود ہیں لیکن مسئلہ 'سپلائی چین' یا ان کو فراہم کرنے کے نظام کا ہے۔ امریکی حکومت نے 19 ارب ڈالرز کے کورونا وائرس کے خوراک کے امدادی پروگرام کے تحت کسانوں کو امداد دی ہے اور ڈیری اور گوشت کی تازہ پیداوار خرید کر لوگوں کی تقسیم کرنے کی بات کی ہے۔

حکومت کی طرف سے امداد کے باوجود لوگوں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ آئی سی این اے نامی امدادی ادارے جس کا تعلق پاکستان سے ہے اس کے اہلکار عبدالروف خان کا کہنا ہے ’وہ ایک عورت کے گھر گئے اور اس کو خوراک سے بھرا ایک ڈبہ دیا جس میں گوشت بھی شامل تھا۔‘

اس گھرانے کا تعلق انڈیا سے تھا اور شوہر کی نوکری ختم ہو گئی تھی۔ ’ایک بچی نے دروازہ کھولا اور چینخ مار کر اندر چلی گئی۔ میں نے اس کی ماں سے پوچھا کہ کیا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی۔' انھوں نے جواب دیا کہ تین مہینے سے ان کے گھر گوشت نہیں پکا۔ ان کی بیٹی خوشی پر قابو نہ رکھ سکی۔ یہ فیملی انتہائی مشکل وقت سے گزر رہی تھی لیکن وہ مدد کے لیے کسی کے پاس نہیں گئے۔‘

خان کے مطابق ان کے خیراتی ادارے نے گذشتہ دو ماہ میں پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں کی مدد کی ہے۔ جن لوگوں کے پاس شہری دستاویزات نہیں ہیں ان کا حال اور بھی برا ہے کیونکہ ان کو حکومت سے بھی کوئی مدد نہیں مل سکتی۔

نیویارک میں غیر قانوی طور پر مقیم ایک 60 سالہ خاتون نے کہا کہ امریکہ میں کوئی مدد نہیں کرتا۔ ’سب میری کہانی سنتے ہیں اور صرف باتیں کرتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کا تعلق پاکستان کے شہر گوجرانوالہ سے ہے اور وہ 25 برس قبل گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے کے لیے امریکا آئیں تھیں اور اب وہ اکیلی رہتی ہیں۔

عبدالروف خان کا کہنا تھا کہ ’عام حالات میں مسجدوں میں افطار کا بندوبست کیا جاتا تھا جہاں ہر کوئی آ سکتا تھا۔ اب مساجد بند ہیں اس لیے افطاری کا بندوبست بھی نہیں کیا جا رہا۔‘

انھوں نے بتایا کہ خوراک تقسیم کرنے لیے ڈبوں میں نہ خراب ہونے والی غذائی اشیاء مثلاً کھجوریں، آٹا، چینی، نمک، پکانے کا تیل، چاول، دالیں، انڈے، سبزیاں اور پھل وغیرہ ضرورت مندوں کو فراہم کی جا رہی ہیں۔ خوراک تقسیم کرتے وقت اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ وہ پانچ افراد پر مشتمل ایک فیملی کی دو ہفتے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہو۔

تاہم پھر بھی خیراتی اداروں اور فوڈ بینکس پر لوگوں کا رش ہے۔

یاست پنسلوینا کے جنوبی مغربی علاقے میں 11 کاونٹیز میں کام کرنے والے خیراتی ادارے گیرٹر پٹس برگ کمیونٹی فوڈ بینک کے اہلکار برائن گولش کا کہنا ہے کہ ’ہمارے فوڈ بینک میں امدادی خوراک حاصل کرنے کے لیے آنے والوں کی تعداد میں پانچ سو فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔‘

ایک ویب سائٹ کے مطابق پورے امریکہ میں دو سو کے قریب فوڈ بینک کام کرتے ہیں جو ہر برس چار اعشاریہ تین ارب ڈالرز کا کھانے فراہم کرتے ہیں۔

برائن کا کہنا تھا کہ صرف مارچ اور اپریل کے دو ماہ کے دوران وہ عام حالات میں پانچ سے چھ لاکھ ڈالرز خوراک کی تقسیم پر خرچ کرتے تھے لیکن اس برس مارچ اور اپریل میں انھوں نے 17 لاکھ ڈالرز خرچ کیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اس کا مطلب ہے ہم نے گزشتہ دو ماہ میں گیارہ لاکھ ڈالرز زیادہ خرچہ کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سال میں انھیں ایک کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ ڈالرز خوراک کی خریداری پر خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں۔'

اسی طرح 'فیڈنگ ساوتھ فلوریڈا نامی تنظیم کو طلب میں چھ سو فیصد اضافے کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے اعلان کردہ دو اعشاریہ تین کھرب ڈالر کی مالی امداد سے لوگوں کو مدد حاصل ہو سکے گی جب یہ پیسہ عوام کو ملانا شروع ہو جائے گا۔

آئی سی این اے کے اہلکار عبدالروف خان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کو امدادی رقوم کے چیک نہیں ملے ہیں اور آئن لائن پر یہ اطلاع ہی ملتی ہے کہ وہ زیر التوا ہیں۔ امدادی تنظیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ برائن کا کہنا ہے 'ابھی تک ان کے پاس مناسب ذخیرہ ہے لیکن سپلائی نظام میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ہمارے بہت سے آڈر منسوخ ہو گئے ہیں۔'

خان نے بتایا کہ عطیات دینے والے مخیر مسلمان بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ امریکا کے بڑے حصوں کے کھلنے کے ساتھ ہی یہ امیدیں بھی پیدا ہو چلی ہیں کہ حالات معمول پر آ جائیں گے اور معیشت تیزی سے بحال ہو جائے گی۔

کیٹلن والش کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات پر تشویش ہے کہ غذایت فراہم کرنے والی خوراک لوگوں کی پہنچ میں نہیں رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ 'مشکل وقت میں اکثر لوگ خرچے کم کرنے کے راستے تلاش کرتے ہیں اور خوراک پر کم پیسہ خرچ کرتے ہیں۔'