برطانیہ کے سائنسدان ایک ایسے علاج کی آزمائش شروع کرنے والے ہیں جس کے بارے میں انھیں امید ہے کہ وہ کووِڈ-19 سے شدید ترین متاثر افراد کی بھی صحت میں بہتری لائے گا۔

سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ جن افراد میں مرض سب سے زیادہ شدت سے ظاہر ہوا ہے، ان میں ٹی سیلز کہلانے والے مدافعتی خلیے بہت کم تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

ٹی سیلز کا کم جسم سے انفیکشن کا صفایا کرنا ہوتا ہے۔

یہ طبی آزمائش اس بات کی جانچ کرے گی کہ کیا ٹی سیلز کی تعداد میں اضافہ کرنے والی انٹرلیوکین 7 نامی دوا مریضوں کی صحتیابی میں مدد دے سکتی ہے یا نہیں۔

اس تحقیقی مطالعے میں فرانسس کرِک انسٹیٹیوٹ، کنگز کالج لندن، اور گائز اینڈ سینٹ تھامس ہسپتال کے سائنسدان شامل ہیں۔

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

مدافعتی نظام بہتر بنا کر کیا آپ کووِڈ 19 سے بچ سکتے ہیں؟

کورونا وائرس سے جڑی اصطلاحات کے معنی کیا ہیں؟

بچوں کو کورونا سے کتنا خطرہ ہے اور کیا وہ وائرس پھیلا سکتے ہیں؟

کیا پاکستان اجتماعی مدافعت کے ذریعے کورونا پر قابو پا سکتا ہے؟

ماہرین نے کووِڈ-19 سے متاثرہ 60 افراد کے خون میں موجود مدافعتی خلیوں کا جائزہ لیا اور پایا کہ ان میں ٹی سیلز کی تعداد میں بظاہر کمی ہوئی تھی۔

فرانسس کرِک انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ایڈریان ہے ڈے نے کہا کہ یہ دیکھ کر ’زبردست حیرت‘ ہوئی کہ مدافعتی خلیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

’یہ خلیے ہماری حفاظت کرنا چاہ رہے ہیں مگر وائرس کچھ ایسا کر رہا ہے جیسے ان کے پیروں کے نیچے سے قالین کھینچ رہا ہو، کیونکہ ان کی تعداد میں ڈرامائی انداز میں کمی ہوئی ہے۔‘

خون کے ایک مائیکرو لیٹر کے قطرے میں صحت مند بالغ افراد میں 2000 سے 4000 تک ٹی سیلز ہوتے ہیں جنھیں ٹی لیمفوسائٹس بھی کہا جاتا ہے۔

جن لوگوں کے کووِڈ-19 کے لیے ٹیسٹ کیے گئے ان میں بس 200 سے 1200 تک ہی خلیے موجود تھے۔

’بے حد حوصلہ افزا‘

محققین کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے ان کے لیے ’فنگرپرنٹ ٹیسٹ‘ کی راہ ہموار ہوئی ہے جس سے خون میں ٹی سیلز کی تعداد کا پتا لگا کر پہلے پہل یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرض کس کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

مگر انھوں نے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مخصوص علاج کے امکان پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

گائز اینڈ سینٹ تھامس ہسپتال کے ڈاکٹر منو شنکر ہری نے کہا کہ انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں وہ کووِڈ-19 کے جن مریضوں کو دیکھ رہے ہیں، ان میں سے 70 فیصد ایسے ہیں جن میں ٹی سیلز کی تعداد 400 سے 800 فی مائیکرولیٹر ہے۔ ’جب ان کی طبعیت بہتر ہونے لگتی ہے تو ان میں ان خلیوں کی تعداد بھی بڑھنے لگتی ہے۔‘

انٹرلیوکن 7 پہلے ہی سیپسز (بیکٹیریل انفیکشن) کے حامل مریضوں کے ایک چھوٹے گروہ پر آزمائی جا چکی ہے اور اس کے بارے میں ثابت ہوا کہ یہ ان مخصوص خلیوں کی پیداوار بڑھا سکتی ہے۔

اس آزمائش میں یہ ان مریضوں کو دی جائے گی جن میں ٹی سیلز کی تعداد کم ہے اور جو تین دن سے زیادہ انتہائی نگہداشت میں گزار چکے ہیں۔

ڈاکٹر منو شنکر کہتے ہیں: ’ہمیں امید ہے کہ [جب ہم ان خلیوں کی تعداد بڑھائیں گے] تو وائرل انفیکشن جسم سے صاف ہوجائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انتہائی نگہداشت کے ڈاکٹر کے طور پر وہ ان مریضوں کو دیکھتے ہیں جو شدید بیمار ہیں اور علامات کو زائل کرنے والے علاج کے علاوہ ہمارے پاس اس مرض کے خلاف کوئی براہِ راست علاج موجود نہیں ہے۔ اس لیے برطانیہ بھر میں انتہائی نگہداشت کے ڈاکٹروں کے لیے ایسے کسی علاج کی طبی آزمائش نہایت حوصلہ افزا علامت ہے۔‘

اس تحقیق نے اس مخصوص انداز پر بھی روشنی ڈالی ہے جس انداز میں یہ مدافعتی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے۔ پروفیسر ہے ڈے کا کہنا ہے کہ یہ معلومات بہت اہم ہوں گی۔

’جس وائرس نے اس مرض کو جنم دیا ہے وہ زمین کا چہرہ بدل دینے والی ہنگامی صورتحال ہے۔ یہ وائرس منفرد ہے، یہ وائرس مختلف ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔‘

وہ کہتے ہیں: ’لیکن ٹی سیلز کی تعداد میں کمی کی حتمی وجہ ہمیں اب بھی معلوم نہیں ہے۔ یہ وائرس کچھ بہت ہی منفرد کام کر رہا ہے، اور مستقبل کی تحقیق کو یہ جانچنا چاہیے کہ یہ وائرس کیسے ان اثرات کو پیدا کر رہا ہے۔ اور اس تحقیق کو فوراً شروع ہونا چاہیے۔‘