سائنسدانوں نے لیبارٹری میں کیچڑ پر تجربوں کے دوران ایک حیران کن دریافت کی ہے۔

سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم یہ جاننے کی کوشش کر رہی تھی کہ سرخ سیارے پر آتش فشاں چٹانوں کی بجائے کیچڑ کو کیسے اگلتا ہے۔

برطانیہ میں ایک لیبارٹری جس میں مریخ جیسا ماحول تیار کیا گیا ہے، وہاں جب کیچڑ پر تجربہ کیا گیا تو یہ ابلے ہوئے ٹوٹھ پیسٹ کی طرح حرکت کرنے لگا اور بعض حالات میں یہ سیال اچھلنے لگا۔

یہ کیچڑ امریکی ریاست ہوائی کے مشہور آتش فشاں کلوایا سے نکلنے والے لاوے سے مشابہت رکھتا تھا۔ سائنسدانوں کی یہ نئی دریافت مریخ پر پہلے ہونے والی تحقیقات کے کچھ نتائج کو پیچیدہ بنا دے گی۔

یہ بھی پڑھیے

مریخ پر آکسیجن کی مقدار کا کیا معمہ ہے

مریخ پر ’کیوروسٹی‘ کے دو ہزار دن

مریخ پر میتھین گیس زندگی کی علامت ہو سکتی ہے

چیک اکیڈمی آف سائنسز انسٹیٹیوٹ آف جیوفزکس کے ڈاکٹر پیٹر بروز کا کہنا ہے کہ اب جب آپ خلا سے کچھ چیزوں کو دیکھیں گے آپ یہ سمجھ نہیں سکیں گے کہ یہ آتش فشاں لاوا چٹانوں کا لاوا ہے یا کیچڑ بہہ رہا ہے۔

'جب تک کوئی جیالوجسٹ اصالتاً مریخ پر موجود نہ ہو اور ہتھوڑا مار کر یہ معلوم نہ کرے، اس وقت یہ بتانا مشکل ہو گا۔

ڈاکٹر بروز ایک عرصے سے مریخ پر بہنے والے کیچڑ کے حوالے سے شکوک و شبہات رکھتے تھے اور کئی برسوں تک یہ مریخ پر نظر آنے والی مخروطی شکلوں کی تعریف کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

بالآخر ڈاکٹر بروز نے مریخ پر نظر آنی والی مخروطی شکلوں کی تعریف کو تسلیم کر لیا اور یہ سوچنے لگے کہ اگر کیچڑ سطح سے ابلتا ہے تو اس کا انتہائی سرد موسم میں اس کا رویہ کیسا ہو گا۔

ڈاکٹر بروز اسی سوال کے ساتھ برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی میں ڈاکٹر منیش پٹیل کی ٹیم کے پاس گئے جس کے پاس ایسی لیبارٹری کی سہولت موجود ہے جو مریخ جیسے ماحول کو پیدا کر سکتی ہے۔

برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی کی لیبارٹری میں ایسے آلات کو ٹیسٹ کیا جاتا ہے جنھیں خلائی ایجنسی کے مریخ پر جانے والے روور پر نصب کیا جانا مقصود ہوتا ہے۔

تحقیق کار ہمیشہ اپنی لیبارٹری کے چیمبر کو صاف ستھرا رکھنے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہیں لیکن کیچڑ پر ہونے والے اس تجربے کے دوران کیچڑ کا سیال ریت والی ڈھلوان سے بہنے لگا۔

زمین پر کیچڑ کا ردعمل کچھ ایسا ہوتا ہے جیسے پلیٹ پر ڈالی گریوی کا، لیکن مریخ پر کیچڑ کا رویہ یکسر مختلف ہوتا ہے اور وہ آتش فشاں مادے کی طرح بہنے لگتا ہے۔

اس کی وجہ زمین پر کرہ ہوائی کا دباؤ ہے جو زمین کی قدر کا صرف ایک فیصد ہوتا ہے اور وہ پانی کو بخارات میں تبدیل کر کے اس اڑا لے جاتا ہے اور پھر ابلنے کے بعد منجمد ہو جاتا ہے۔

اس سیال کی بیرونی تہہ منجمد ہو جاتی ہے لیکن اس کا اندرونی حصے میں سیال اپنی شکل میں موجود رہتا ہے۔

ڈاکٹر پٹیل کہتے ہیں کہ بیرونی سطح تو جم جاتی ہے لیکن اس کے اندر موجود سیال کسی بھی کمزرو جگہ سے نکل آتا ہے اور بہنے لگتا ہے۔ ڈاکٹر پٹیل کہتے ہیں کہ یہ اوپر نیچے لہر دار دھاروں کی طرح ہوتا ہے اور فرق صرف یہ ہے کہ اس کے اندر پگھلی ہوئی چٹان کے بجائے پگھلا ہوا کیچڑ ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کی ٹیم نے اپنے ابتدائی تجربات کے نتائج سائنسی جریدے، نیچر جیوسائنس میں بیان کیے ہیں۔ لیکن بعد میں ہونے والے تجربات کو ابھی تک نیچر جیوسائنس میں رپورٹ نہیں کیا گیا۔

ان تجربات میں کم دباؤ کے ماحول میں کیچڑ بہت تیزی سے ابلنے لگا اور سطح پر ایسے اچھل رہا تھا جیسے وہ ہوا میں تیر رہا ہو۔

ڈاکٹر بروز کہتے ہیں کہ سائنسدانوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب وہ سیاروں پر جسمانی عوامل کو دیکھتے ہیں تو وہ کبھی کبھار ایسے نتائج بھی سامنے آتے ہیں جن کی توقع نہیں کی جا رہی ہوتی ہے۔

اب کوئی جیولوجسٹ مریخ پر پہنچ کر ہی یہ معلوم کر سکے گا کہ بہنے والا مادہ کیچڑ ہے یا چٹان کا لاوا۔