وینزویلا کی حکومت نے برطانیہ کے مرکزی بینک (بینک آف انگلینڈ) کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے تاکہ اس 82 کروڑ ڈالر مالیت کا سونا واپس کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

یہ سونا وینزویلا پر امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کے بعد ضبط کیا گیا تھا۔

وینزویلا میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بینک آف انگلینڈ میں موجود کچھ سونا بیچ کر اسے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں استعمال کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا کی سب سے ’قیمتی‘ مرچ کی کہانی

آخر سونا ہی اتنا اہم اور قیمتی کیوں ہے؟

تیل کی قیمتوں میں کمی: کس کی جیت، کس کی ہار؟

وینزویلا کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر تیار ہے کہ سونے کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو براہ راست اقوام متحدہ کو بھیج دیا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ پیسہ کسی اور مقصد لیے استعمال نہ ہو۔

وینزویلا کیا تجویز کر رہا ہے؟

وینزویلا کا کہنا ہے کہ یہ رقم اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے (یو این ڈی پی) کو منتقل کر دی جائے تاکہ کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے درکار طبی سامان خریدا جا سکے۔

یہ قانونی رسہ کشی اس وقت شروع ہوئی ہے جب وینزویلا کا صحت عامہ یا پبلک ہیلتھ کا نظام ابتری کا شکار ہوا اور اس عالمی وبا سے نمٹنے کی اس کی صلاحیت کے بارے میں شک و شبہات ظاہر کیے جانے لگے۔

لندن میں 14 مئی کو قائم کیے جانے والے اس مقدمے کی دستاویزات کے مطابق وینزویلا کے مرکزی بینک نے یہ استدعا کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر یہ پیسہ منتقل کیا جانا چاہیے۔

وینزویلا کے مرکزی بینک کے وکیل سروش زائوالا کا کہنا ہے کہ ’جب لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوں، یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں ہے۔‘

اقوام متحدہ نے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ وینزویلا کی حکومت نے اقوام متحدہ سے رجوع کیا ہے کہ اس طرح کے طریقہ کار کے بارے میں سوچا جائے۔

بینک آف انگلینڈ سے جب برطانوی خبر رساں ادارے روائٹرز نے رابطہ کیا تو اس نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کر دیا۔

وینزویلا کا سونا برطانیہ میں کیسے؟

بینک آف انگلینڈ دنیا میں سونا ذخیرہ رکھنے کا دنیا کا دوسرا بڑا بینک ہے۔ یہاں چاہ لاکھ کے قریب سونے کی اینٹیں رکھی گئی ہیں۔ نیویارک کا فیڈرل بینک وہ واحد بینک ہے جس کے پاس اس سے زیادہ سونے کی اینٹیں جمع ہیں۔

سونا رکھنے کے لیے اس کی محفوظ تجوریاں سب سے بڑی ہیں اور یہ اس بات پر فخر کرتا ہے کہ اس کی تین سو بیس سالہ تاریخ میں اب تک چوری کی کوئی واردات نہیں ہوئی ہے۔

دنیا کے کئی مرکزی بینک اپنا سونا محفوظ رکھنے کے لیے یہاں جمع کراتے ہیں اور وینزویلا ان ہی ملکوں میں شامل ہے۔

وینزویلا کو اب سونا کیوں چاہیے؟

تیل کی دولت ہونے کے باوجود وینزویلا کی معیشت کئی برس سے ابتری کا شکار ہے۔ کرپشن، حکومت کی بری کارکردگی اور اقتصادی پابندیوں سے یہ صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔

وینزویلا میں تیل کے لیے علاوہ بہت کم چیزیں پیدا ہوتی ہیں اور درآمدات پر اس کا انحصار بہت زیادہ ہے جس کے لیے زر مبادلہ کی ضرورت رہتی ہے۔ تیل کی پیداوار میں شدید کمی ہو جانے کی وجہ سے وینزویلا کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑی تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

صدر نکولس مادورو کی حکومت نے ملک میں موجود سونا اپنے اتحادیوں ترکی، روس اور متحدہ عرب امارات کو پہلے ہی فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔

لیکن امریکہ مادورو کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور اس نے گذشتہ سال بینکوں، سرمایہ کاروں، تاجروں اور سہولت کاروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ مادورو کی حکومت کے ساتھ سونا، تیل یا کسی اور چیز کا کوئی لین دین نہ کریں کیونکہ یہ وینزویلا کے عوام کی امانت ہے۔

اطلاعات ک مطابق وینزویلا کی حکومت ایران کو سونا فروخت کرتی رہی لیکن اس کے باوجود وینزویلا کے مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے زرمبادلہ کے ذخائر اس سال کے شروع میں اتنے کم ہو گئے تھے جتنے تیس برس میں نہیں ہوئے۔

اس کو زر مبادلہ کی اشد ضرورت ہے اور بینک آف انگلینڈ میں جمع اپنے سونے کو بیچ کر پیسہ حاصل کرنا اسے ایک آسان حل نظر آتا ہے۔

بینک آف انگلینڈ کا اس ضمن میں مؤقف کیا ہے؟

وینزویلا نے سنہ 2018 میں پہلی مرتبہ بینک آف انگلینڈ سے رجوع کیا تھا۔ وینزویلا کے وزیر خزانہ سائمن زیرپا اور مرکزی بینک کے صدر کلیسٹو اورٹیگا لندن آئے تھے جہاں انھوں نے وینزولا کا سونا طلب کیا تھا۔

جنوری سنہ 2019 میں بینک آف انگلینڈ نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا تھا۔ بینک آف انگلینڈ نے صرف اتنا کہا تھا کہ وہ اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز سے اپنے تعلقات پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا۔

یہ فیصلہ مادورو کے سیاسی حریف یون گائڈو کی طرف سے صدر ہونے کا دعویٰ کرنے کے چند دن بعد سامنے آیا۔ یون گائڈو کا الزام ہے کہ سنہ 2018 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔

یون گائڈو کی حکومت کو فوری طور پر امریکہ اور برطانیہ سمیت پچاس ملکوں نے تسلیم کر لیا تھا جس نے بینک آف انگلینڈ سے وینزولا کا سونا واپس نہ کرنے کی درخواست کی تھی اور الزام عائد کیا تھا کہ یہ بدعنوان لوگوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔

برطانیہ کے امریکی امور کے وزیر ایلن ڈنکن کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ وینزویلا اور بینک آف انگلینڈ کے درمیان ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا تھا کہ بینک آف انگلینڈ جب سے اس بارے میں فیصلہ کرے گا تو وہ اس بات کو مد نظر رکھے گا کہ مادورو کی حکومت کو بہت سے ملک تسلیم نہیں کرتے اور یون گائڈو کو ملک کا سربراہ تسلیم کرتے ہیں۔

اسی دوران امریکی حکام جن کے لیے مادورو پہلو میں کانٹے کی طرح ہے وہ برطانوی حکام کو اس بات پر رضا مند کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ مادورو حکومت کو وینزویلا کے بیرونی اثاثے نہ دیے جائیں۔

بینک آف انگلینڈ نے گو اس سے زیادہ کبھی کچھ نہیں کہا کہ وہ اپنے کھاتہ داروں سے تعلقات کے بارے میں تبصرہ نہیں کرتا لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے وینزویلا پر لگی اقتصادی پابندیوں اور منی لانڈرنگ کے ضابطے اس کے فیصلے پر اثر انداز ہوئے ہوں گے۔

وینزویلا کی طرف سے اقوام متحدہ کو یہ رقم منتقل کیے جانے کی تجویز ان ہی ضابطوں سے بچنے کی کوشش ہے۔