قومی انڈر 19 کرکٹرز حیدر علی ،  روحیل نذیر، اور محمد حریرہ کو لاک ڈاؤن میں رمضان کرکٹ کی یاد ستانے لگی ہے۔

حیدر علی کا کہنا ہے کہ اس سال نائٹ کرکٹ کو بہت مس کررہے ہیں، رمضان کی راتوں میں مخصوص ٹیپ بال کرکٹ ہماری گلیوں کی پہچان ہے، نائٹ میں ٹیپ بال کرکٹ سے ہماری کھیل میں دلچسپی بڑھی، چھکے اور چوکے پر آوٹ ہوتا تھا، جس سے گراونڈ اسٹروکس کھیلنے کی عادت بنی، فٹ ورک بہتر بنانے میں ٹینس بال کرکٹ سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔

روحیل نذیر کے مطابق ٹیپ بال کرکٹ سے بیٹنگ اور بولنگ  کے ساتھ کیپنگ میں بھی بہت مدد ملتی ہے، ٹینس بال میں وکٹ کے پاس کھڑے ہونا پڑتا ہے، اس سے گیند کو پکڑنے میں مشکل ہوتی ہے اور بہت  توجہ سے کیپنگ کرنا پڑتی ہے، روحیل نذیر کے مطابق  ٹیپ بال سے جب ہارڈ بال کرکٹ میں آتے ہیں تو پریشر میں پرفارم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

محمد حریرہ کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میں رمضان کرکٹ کے ٹورنامنٹس بہت سنسنی خیز ہوتے ہیں، کراوڈ کی ایک بہت بڑی تعداد نائٹ کرکٹ پر موجود ہوتی ہے، ہر میچ میں پرفارمنس دینا پڑتی ہے۔ اب لاک ڈاون کی وجہ سے سب کچھ ختم ہوچکا ہے۔